دنیا بھر میں مراسمِ عزاداری (۱۴۳۴ ہجری)

حسان خان

لائبریرین
اُدے پور (راجستھان، بھارت) میں بوہرہ اسماعیلی شیعہ عزاداری کرتے ہوئے۔۔۔ یہ آپس میں گجراتی اور عربی/فارسی ملی ایک زبان استعمال کرتے ہیں جسے یہ لوگ لسان الدعوۃ کہتے ہیں۔کراچی میں بھی یہ آباد ہیں اور یہاں شاید چار بوہری مساجد بھی ہیں۔ :)
juloos-13.jpg

juloos-10.jpg

juloos-2.jpg

juloos-11.jpg

juloos-12.jpg


مڈغاسکر کے شہر ماجونگا میں بوہرہ مسلمانوں کی عزاداری
IMG_1362.JPG

IMG_1367.JPG

IMG_1371.JPG

IMG_1351.JPG

IMG_1385.JPG

SAM_0780.JPG
 

حسان خان

لائبریرین
افغانستان میں عزاداری۔۔۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق افغانستان کی 15 فیصد آبادی شیعہ ہے جو وسطی افغانستان میں پائی جاتی ہے۔ یہ لسانی طور پر زیادہ تر فارسی بولنے والے ہزارہ ہیں، اور انہی ہزارہ شیعوں کی ایک کمیونٹی کوئٹہ میں بھی آباد ہے جو آئے دن فرقہ وارانہ جماعتوں جیسے لشکرِ جھنگوی کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔ ہزارہ کے علاوہ افغانستان کے فارسیوان اور قزلباش لوگ بھی شیعہ ہیں۔

قزلباش کمیونٹی پاکستان میں بھی ہے۔ ہمارے جنرل یحیی خان قزلباش شیعہ گھرانے میں ہی پیدا ہوئے تھے، اور روئداد خان نے اپنی کتاب Pakistan - A Dream Gone Sour میں لکھا ہے کہ اُن کی مادری زبان بھی فارسی تھی۔

1391090418104099_PhotoL.jpg

13910904181039286_PhotoL.jpg

13910904181038349_PhotoL.jpg

13910904181040974_PhotoL.jpg

13910904181041771_PhotoL.jpg

13910904181044255_PhotoL.jpg

201211241556134203.jpg

201211241556133505.jpg

201211241556133411.jpg
 

حسان خان

لائبریرین
ایران کا شہر گرگان۔۔ یہاں فارسی، گرگانی اور ترکمن آباد ہیں۔ اور یہاں کی عزاداری کی خاص روایت یہ ہے کہ یہاں عاشورا کی رات کو لکریاں جلائی جاتی ہے۔
13910905121522857_PhotoL.jpg

13910905121526888_PhotoL.jpg

13910905121535654_PhotoL.jpg

1391090512152244_PhotoL.jpg

13910905121527701_PhotoL.jpg

13910905121533998_PhotoL.jpg

1391090512153829_PhotoL.jpg

13910905121537248_PhotoL.jpg

13910905121524466_PhotoL.jpg

13910907135255669_PhotoL.jpg

13910907135248997_PhotoL.jpg

13910907135305716_PhotoL.jpg

13910907135258262_PhotoL.jpg

902491_orig.jpg

902431_orig.jpg

902432_orig.jpg

902426_orig.jpg

902427_orig.jpg

899331_orig.jpg

899332_orig.jpg
 

حسان خان

لائبریرین
شیعہ مسلمانوں کے مقدس شہر کاظمین (عراق) میں ایامِ محرم
13910830213740844_PhotoL.jpg

کاظمین کا وہ روضہ جہاں امام موسی کاظم اور امام محمد تقی مدفون ہیں
1391083021373994_PhotoL.jpg

13910830213732906_PhotoL.jpg

13910830213733906_PhotoL.jpg

13910830213735578_PhotoL.jpg

13910830213738234_PhotoL.jpg

13910830213741719_PhotoL.jpg
 

حسان خان

لائبریرین
مشرقی آذربائیجان (ایران) کے شہر عجب شیر کی تصاویر۔۔ آگ اسلام سے قبل بھی ایران میں مقدس عنصر رہا ہے، اس لیے عجب نہیں کہ ایرانیوں کی باغی عجمی روح کربلا کی شبیہ سازی کے لیے بھی آگ کا بکثرت استعمال کرتی ہے۔
13910905192539857_PhotoL.jpg

13910905192540638_PhotoL.jpg

13910905192542998_PhotoL.jpg

13910905192546169_PhotoL.jpg

13910905192546935_PhotoL.jpg

13910905192549294_PhotoL.jpg

1391090519255091_PhotoL.jpg

13910905192551669_PhotoL.jpg
 

mfdarvesh

محفلین
حسان خان

ایک بات تو مجھے یہ سب دیکھ کے پتہ چلی ہے کہ لہولہان اور تشدد صرف پاکستان میں ہوتاہے باقی ساری دنیاتو امن ہی ہے، ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم بہت خونخوار ہو گئے ہیں؟
یہاں کی زنجیریں تو اللہ کی پناہ

اور ایک سوال آپ سے ہے
کہ کیا عزاداری ثواب کے لیے کی جاتی ہے یا اس کا تعلق فقط ثقافت سے ہے؟
 
میرے بھائی ثقافت اور شریعت میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ ہمارا اسلام ہمیں ثقافت سے منع نہیں کرتا۔ مگر ایک حد کے اندر۔ اس حد کے اندر جو شریعت نے مقرر کر دی ہے۔میں یہاں فتوی لگانے نہیں آیا۔ مگر ایک بات کہنی ہے کہ اگر ہم کوئی کلچر پسند کرتے ہیں تو یہ بھی دیکھ لیں کہ اس کے اندر شریعت سے ٹکراؤ تو نہیں۔ میں ایک سنی حسینی ہوں۔ چراغاں کریں مگر اپنے آپ کو مارنا یا سینہ کوبی یہ چیزیں سخت منع ہیں۔ محفلیں کرنا بھی کوئی عیب نہیں۔ مگر یہ چیز اچھی نہیں کہ شہداء کے سر نیزے پہ چڑہائے ہوئے ہیں۔ کربلا کی مٹی وغیرہ اپنے اوپر مل رہے ہیں۔ اور دوسری چیزیں جو چند تصاویر میں تھیں۔۔ ویسے تصاویریں اچھی تھیں۔ اگر آپ دوسروں کی بھی تصاویر لگاتے تو زیادہ مزہ آتا۔ برا مت منایئے گا۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ایران کے شہر اہواز میں شامِ غریباں
th_img_th_img_P1997.jpg

th_img_th_img_P1996.jpg

th_img_th_img_P1992.jpg

th_img_th_img_P1991.jpg


th_img_th_img_P1988.jpg



th_img_th_img_P1994.jpg


مشہد میں امام علی رضا کے روضے پر شامِ غریباں

th_img_7.jpg

th_img_8.jpg

th_img_10.jpg


th_img_17.jpg



ں کو بھی چاہیے کہ وہ یوں موم بتیاں جلا کر شامِ غریباں منایا کریں۔ ۔

پاکستان (تمام صوبوں یا شہروں کا نہیں معلوم تاہم کراچی) میں بھی موم بتیاں جلائی جاتی ہیں تاہم شام غریباں پر نہیں بلکہ شب عاشور۔ شب عاشور شہر بھر میں تمام مساجد میں لوگ جاتے ہیں اور موم بتیاں اور اگر بتیاں بھی جلاتے ہیں ۔ شام غریباں کے موقع پر چراغ گل رکھے جاتے ہیں (شاید اس سیاق و سباق میں کہ یزید اور اس کی فوج کے ظلم و ستم کے سبب غم دکھ اور تکلیف کا حد سے گزر جانے اور اس کڑے وقت کا احساس ہے کیونکہ اس وقت محبوب خدا کے خانوادے کو تین دن کی بھوک اور پیاس اور پانی بند کردینے کے بعد شہید کر دیا گیا تھا بلاتفریق جوان، بزرگ اور بچوں کے، خواتین کے سروں سے چادریں چھین لی گئی تھیں اور خیموں کو آگ لگا دی گئی تھی۔
 

حسان خان

لائبریرین
حسان خان

ایک بات تو مجھے یہ سب دیکھ کے پتہ چلی ہے کہ لہولہان اور تشدد صرف پاکستان میں ہوتاہے باقی ساری دنیاتو امن ہی ہے، ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم بہت خونخوار ہو گئے ہیں؟
یہاں کی زنجیریں تو اللہ کی پناہ

لوگ جیسے خود ہوتے ہیں ویسے ہی اپنے مذہب کو شکل دیتے ہیں۔ چونکہ ایران اور آذربائجان کی 95 فیصد سے زیادہ آبادی خواندہ ہے، وہاں کا پڑھا لکھا طبقہ نفاست پسند ہے، اس لیے ایران اور آذربائجان میں آپ کو یہ وحشت نظر نہیں آئے گی۔ پاکستان میں تو ہم جیسے ہیں، وہ آپ کے سامنے ہے، لہذا یہاں کے لوگوں کے مذہبی جذبات کا اظہار بھی 'پاکستانی' انداز میں ہی ہوگا۔

کہ کیا عزاداری ثواب کے لیے کی جاتی ہے یا اس کا تعلق فقط ثقافت سے ہے؟

دیکھیے، شیعہ مذہبی تعلیمات میں عاشورا خالصتا مذہبی موقع ہے لہذا اصولا تو یہ 'ثواب' کے لیے ہونی چاہیے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے چیزوں سے مذہبی عنصر کم ہو کر ثقافتی عنصر غالب ہوتا جاتا ہے۔ عزاداری بھی اب ایران کی ثقافت کا ایک جز ہے جس میں مذہبی و غیر مذہبی عناصر دونوں شامل ہیں۔ اکثر لوگ تو بے شک ابھی بھی ثواب کے لیے شریک ہوتے ہیں۔ لیکن غیر مذہبی لوگوں کے لیے اس کا تعلق فقط قومی ثقافت سے ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
میرے بھائی ثقافت اور شریعت میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ ہمارا اسلام ہمیں ثقافت سے منع نہیں کرتا۔ مگر ایک حد کے اندر۔ اس حد کے اندر جو شریعت نے مقرر کر دی ہے۔میں یہاں فتوی لگانے نہیں آیا۔ مگر ایک بات کہنی ہے کہ اگر ہم کوئی کلچر پسند کرتے ہیں تو یہ بھی دیکھ لیں کہ اس کے اندر شریعت سے ٹکراؤ تو نہیں۔ میں ایک سنی حسینی ہوں۔

بے شک، ثقافت اور شریعت دو مختلف چیزیں ہیں، اس لیے میں نے ابھی تک شریعت کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ کیونکہ ایمانداری کی بات ہے، مجھے اس کی ایک فیصد بھی فکر نہیں کہ آیا کسی کی شریعت اس کی اجازد دیتی ہے یا نہیں، کیونکہ شریعت کا لفظ ہی میری ذاتی زندگی میں بے معنی ہے۔ آپ بے کہا آپ سنی حسینی ہیں، سن کر بہت خوشی ہوئی۔ لیکن میں تو بے دین مولائی حسینی ہوں۔ میرے لیے تو اس خوبصورت مذہبی اظہار کا کسی چیز سے ٹکراؤ نہیں ہو رہا۔ بلکہ میرا تو خود دل چاہ رہا ہے کہ زنجیر لے کر عزاداری کی صف میں شامل ہو جاؤں۔

مگر اپنے آپ کو مارنا یا سینہ کوبی یہ چیزیں سخت منع ہیں۔۔۔ مگر یہ چیز اچھی نہیں کہ شہداء کے سر نیزے پہ چڑہائے ہوئے ہیں۔ کربلا کی مٹی وغیرہ اپنے اوپر مل رہے ہیں۔

ارے تو بھیا جی، آپ کو یہ چیزیں منع ہے تو مت کیجیے۔ جو کرتا ہے انہیں کرنے دیجیے۔ معاملہ ختم :)

ویسے تصاویریں اچھی تھیں۔ اگر آپ دوسروں کی بھی تصاویر لگاتے تو زیادہ مزہ آتا۔ برا مت منایئے گا۔

بہت شکریہ جناب۔ ویسے دوسروں کی تصاویر سے کیا مراد ہے؟ مجھے تو جو ملتی گئی ہیں میں وہ لگاتا رہا ہوں۔
اور میں نے برا بالکل بھی نہیں مانا۔ :)
 

حسان خان

لائبریرین
پاکستان (تمام صوبوں یا شہروں کا نہیں معلوم تاہم کراچی) میں بھی موم بتیاں جلائی جاتی ہیں تاہم شام غریباں پر نہیں بلکہ شب عاشور۔ شب عاشور شہر بھر میں تمام مساجد میں لوگ جاتے ہیں اور موم بتیاں اور اگر بتیاں بھی جلاتے ہیں ۔

اصل میں ہمارے ملک کی مجموعی فضا میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف اتنا تعصب موجود ہے کہ صرف منفی چیزیں ہی منظرِ عام پر آتی ہیں، اورساری مثبت اور خوبصورت چیزیں پسِ پردہ رہ جاتی ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے یہ روایت اتنی نمایاں نہ ہو، لیکن پھر بھی حیرت ہے مجھے اس طرح کی موم بتی جلانے والی روایت کراچی میں کہیں نظر نہیں آئی۔ :(
 

ساجد

محفلین
اصل میں ہمارے ملک کی مجموعی فضا میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف اتنا تعصب موجود ہے کہ صرف منفی چیزیں ہی منظرِ عام پر آتی ہیں، اورساری مثبت اور خوبصورت چیزیں پسِ پردہ رہ جاتی ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے یہ روایت اتنی نمایاں نہ ہو، لیکن پھر بھی حیرت ہے مجھے اس طرح کی موم بتی جلانے والی روایت کراچی میں کہیں نظر نہیں آئی۔ :(
حیران کُن بات لکھی ہے آپ نے۔
 
Top