دنیا بھر میں مراسمِ عزاداری (۱۴۳۴ ہجری)

حسان خان

لائبریرین
میں اس دھاگے میں تصاویر شیئر کرنے سے قبل کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ میں سنی والدین کا ایک بے عقیدہ بیٹا ہوں، اس لیے ان تصاویر کا مقصد اپنے فرقے کی تبلیغ کرنا نہیں ہے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ مجھے شیعیت نے بے حد متاثر کیا ہے، اور ثقافتی طور پر میں شیعیت کے بہت زیادہ نزدیک ہوں۔ لہذا اسلام کے تمام تہواروں اور رسومات میں عزاداری کے مراسم میں مجھے سب سے زیادہ جاذبیت نظر آتی ہے۔ اور میرا ان تصاویر کو شئیر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اپنے اس مشترکہ ورثے کے خوبصورت پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے اور دکھایا جائے کہ مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں یہ مراسم کس طرح منائے جاتے ہیں۔ کسی کو چاہے پسند ہو نا ہو، رثائی ادب اور مراسمِ عزاداری دنیا کی مسلم ثقافت کا اہم جز رہے ہیں، اور میرے نزدیک ثقافت مذہب سے بالاتر چیز ہے۔ اس لیے لطفا اس دھاگے سے فتوے باز ملا اور شیعوں سے چڑنے والے حضرات دور رہے ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
باکو (آذربائجان) میں عزادارانِ امام حسین رحیمہ خانم مسجد کا رخ کرتے ہوئے:
FDB42A6E-4622-48F5-99BB-0EB3A6996DBC_w974_n_s.jpg
 

حسان خان

لائبریرین
جمہوریہ آذربائجان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا شیعہ اکثریتی ملک ہے۔ یہاں کی آبادی آذری ترکوں پر مشتمل ہے اور یہ 150 سال قبل تک ایران کا حصہ تھا۔ ایران اور عراق کی نسبت آذربائجان سیکولر ملک ہے جو 70 سال تک سوویت یونین کا حصہ رہا ہے۔ لوگوں کا رہن سہن، لباس اور طرزِ معاشرت بہت حد تک مغربی طرز کا ہے۔ کافی اچھا ملک ہے، پاکستان کا قریبی دوست بھی۔ ۱۹۱۸ میں آذربائجان نے روسی سلطنت سے آزادی کا اعلان کر کے مسلم دنیا کی سب سے پہلی سیکولر ریاست تشکیل دی تھی اور برطانیہ سے بھی پہلے عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا تھا۔ لیکن دو سال بعد ہی بولشیوکوں نے ملک پر دوبارہ قبضہ کر کے سوویت یونین میں داخل کر لیا۔ آذربائجان کو دوبارہ مکمل آزادی 1991 میں ملی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
تبریز (ایرانی آذربائجان)۔۔۔ یہ بھی آذری ترکوں کا شہر ہے۔ اور ایران میں ترک، جو کہ کل آبادی کا 35 فیصد ہیں، اپنی کٹر شیعیت کے لیے مشہور ہیں۔ ایران کو شیعہ اکثریتی ملک بنانے والے بھی آذری ترک یعنی صفوی تھے۔
13910905215013263_PhotoL.jpg
 
Top