فرخ منظور

لائبریرین
دمبدم ساقی و مطرب کو صدا دیتے ہیں​
موسمِ گُل میں ہم اِک دھوم مچا دیتے ہیں​
​
جنسِ دل آپ گراں سمجھے ہیں اِک بوسے پر​
دھیان اتنا نہیں کیا لیتے ہیں کیا دیتے ہیں​
​
ہم وہ بسمل ہیں کہ ٹھنڈے نہیں ہوتے جب تک​
دامنِ زخم سے قاتل کو ہوا دیتے ہیں​
​
نزع میں ہوں مری بالیں سے نہ اٹھیے للہ​
آپ کس وقت میں بندے کو دغا دیتے ہیں​
​
کون سنتا ہے تری جوشِ جنوں میں ناصح​
خضر بھی آئیں تو ہم راہ بتا دیتے ہیں​
​
صاف قلقل سے صدا آتی ہے "آمیں!، آمیں!"​
اپنے ساقی کو جو ہم رند دعا دیتے ہیں​
​
یہ نئے طور کا انصاف ہے اُن کے گھر میں​
غیر کرتے ہیں خطا ہم کو سزا دیتے ہیں​
​
ہم بھی تا صبح لیے جائیں گے بوسے شبِ وصل​
گالیاں دیکھیں تو وہ تا بہ کجا دیتے ہیں​
​
چاندنی راتوں میں اکثر ترے در پر آ کر​
تجھ کو آواز ہم اے ماہ لقا دیتے ہیں​
​
جب میں روتا ہوں تو اللہ رے ہنسنا اُن کا​
قہقہوں میں مرے نالوں کو اڑا دیتے ہیں​
​
خط کے آنے سے نہ کچھ حُسن پہ حرف آئے گا​
ہم نوشتہ تجھے، اے مہر لقا، دیتے ہیں​
​
روبرو اُن کے صبا کی جو غزل گاتا ہے​
چٹکیوں میں وہ مغنّی کو اڑا دیتے ہیں​
​
(میر وزیر علی صبا لکھنوی)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top