میر دل سے شوقِ رخِ نکو نہ گیا ۔ میر

فرخ منظور

لائبریرین
دل سے شوقِ رخِ نکو نہ گیا
جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا

ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک
سر سے سودائے جستجو نہ گیا

سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
لیکن اے داغ دل سے تُو نہ گیا

دل میں کتنے مسودے تھے ولے
ایک پیش اس کے روبرو نہ گیا

سبحہ گرداں ہی میرؔ ہم تو رہے
دستِ کوتاہ تا سبو نہ گیا

میر تقی میر
 
یہ غزل کوئی تیس سال قبل پڑھی تھی ۔کیا کمال غزل ہے میر صاحب کی ۔آج اچانک ایک شعر سے داغ دہلوی یاد آگئے ۔
ہوش و حواس و تاب و تواں داغ کھو چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
شادآباد رہیں ہمارے فرخ منظور بھائی
 

فرخ منظور

لائبریرین
یہ غزل کوئی تیس سال قبل پڑھی تھی ۔کیا کمال غزل ہے میر صاحب کی ۔آج اچانک ایک شعر سے داغ دہلوی یاد آگئے ۔
ہوش و حواس و تاب و تواں داغ کھو چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
شادآباد رہیں ہمارے فرخ منظور بھائی
بہت عنایت عاطف بھائی۔ میرے خیال میں اس شعر کا پہلا مصرع یوں ہے۔
ہوش و حواس وتاب و تواں داغ جا چکے
 
Top