درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

قیصرانی نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 1, 2006

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ٹوٹے پر چڑیاں

    درختوں سے ہرے پتے
    ہوا کیوں نوچ لیتی ہے۔۔۔!
    وہ ان چڑیو ں کے ٹوٹے پَر
    کہاں پر بیچ دیتی ہے۔۔۔!
    انھیں جو مول کوئی لے
    دکھوں سے تول کوئی لے
    اگر دل میں یہ چبھ جائیں۔۔۔
    تو گہرے نقش کھب جائیں
    اگر ہم وقت سے چھپ کر
    کہیں بے وقت ہو جائیں
    اور ان چڑیوں کی صورت ۔۔۔
    وقعت اپنی ہم بھی کھو جائیں
    تو کیا پھر بھی
    لگا تار ایسے سناٹوں کی گہری دھول
    یہاں اُڑ اُڑ کر آئے گی!
    تو کیا پھر سوکھی سوکھی ٹہنیوں کی کوکھ میں
    غمناک سانسوں کو
    وہی بپتا سنائے گی!
    ہرے پتوں کی ہر کونپل
    جو اپنی خشک آنکھوں میں
    نمی کے پھول چنتی ہے
    ٹپک کر بوند کی مانند
    رشتے توڑ جائے گی!
    ہم اپنی سسکیاں چل کر
    کسی خندق کی گہرائی میں
    جاکر دفن کر آئیں!
    ہوا کے تیز ناخن بھی تراش آئیں
    تو پھر ان ٹوٹے پَر چڑیوں کو بھی
    پرواز آئے گی
    ہماری بےصدا باتوں میں بھی
    آواز آئےگی ۔ ۔ ۔ !!!
     
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    کب تم مجھ کو یاد کروگے؟

    وقت کے الجھے الجھے دھاگے
    جب دل توڑ کے چل دیں گے
    پگڈنڈی پر پیلے پتے تم کو تنہا دیکھیں گے
    پیڑوں کےسینے پر لکھے
    نام بھی ہوجائیں تحلیل
    اور ہوا بھی سمت کو اپنی کر جائے تبدیل
    بھینی بھینی خوشبو ہم کو
    ہر اک گام پکارے گی
    کر کے یخ بستہ جب ہم کو
    برف اس پار سدھارے گی
    دھوپ صداؤں کے سکے
    جب کانوں میں کھنکائے گی
    گرجا گھر کی اونچی برجی
    چاند کا چہرہ چومے گی
    بارش، مسکانوں کے موتی
    پتھر پر جب پھوڑے گی
    اور برستی بوندوں کے
    دھاروں پر دھارے جوڑے گی
    گرم گرم، انگاروں جیسے
    آنسو آنکھ سے ابلیں گے
    دل کے ارماں
    اک مدت کےبعد تڑپ کر نکلیں گے
    جب احساس کی دنیا میں پھر
    اور نہ گھنگھرو چھنکیں گے
    صرف خموشی گونجے گی تب
    آنے والے موسم کی
    کھڑکی پر دستک بھی نہ ہوگی
    کوئی سریلی رم جھم کی
    شام کے سناٹے میں بدن پر
    کوٹ تمہارا جھولے گا
    یادوں کا لمس ٹٹولے گا
    گھور اداسی چھولے گا
    اونچی اونچی باتوں سے تم
    خاموشی میں شور کروگے
    گیت پرانےسن کر
    ٹھنڈی سانسیں بھر کر
    بھور کروگے
    اس پل شب کی تنہائی میں
    اپنے دل کو شاد کروگے
    بولو ۔ ۔ ۔ مجھ کو یاد کروگے ۔ ۔ ۔ ؟؟؟
     
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    فقط اک پھول

    پرندے لوٹتے دیکھے
    تو یہ دھوکا ہوا مجھ کو
    کہ شاید جستجو میری
    یا کوئی آرزو میری
    ترے در سے پلٹ آئی
    مجھے تنہا بیاباں سے گزرتے لگ رہا ہے ڈر
    جدائی کے شجر کی اب حفاظت
    بس سے باہر ہے
    یہ پانی آنکھ سے گرتا
    اگر سیلاب ہو جائے
    یہ پیلی دھوپ، مہکی رُت
    سراب و خواب ہوجائے
    تو پھر اس تشنہ روش میں
    پھوٹتی کلیوں کے سب نغمے
    سنانے کو ترستی خواہشیں
    ناکام ٹہریں گی
    مثالِ رفتگاں، جاتے ہوئے مہکے ہوئے لمحے
    خزاں کے زرد پتوں کے لئے ہی قرض لے آؤ
    مسلسل جو اُداسی پر اداسی
    یوں برستی ہے
    کہیں مرجھا نہ دے
    سرسبز اس شاخِ محبت کو
    تعلق کی بھی میری جان
    اک میعاد ہوتی ہے
    پھر اس کے بعد ۔ ۔ ۔
    ہر بندھن سے جان آزاد ہوتی ہے
    خزاں کی جیت سے پہلے
    ذرا یہ دھیان کرلینا
    کہ سینے میں، مرا دل ہے
    فقط اِک پھول ۔ ۔ ۔ !!!
     
  4. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    تمہاری یاد

    سونی سونی
    خالی خالی
    اک سرمئی حویلی میں
    راگ۔ ۔ ۔
    ستار نے چھیڑا ہے
    اک جلتی مشعل لے کر
    شب ۔ ۔ ۔ ملنےکو آئی ہے
    فانوسوں کی چھن چھن ،چھن میں
    جھلمل جھلمل چاندنی پر
    رقص ہوا کا جاری ہے
    سوکھی چنبیلی کی اک بیل
    خستہ ستون سے لپٹی ہے
    اور تھرکتی لَو کا رنگ
    لےکر لاکھوں ننھے دیپ
    دل کے طاق پہ
    جل اُٹھے ہیں
    آئی جیسے ۔ ۔ ۔
    تمہاری یاد ۔ ۔ ۔ !!!
     
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پہلی خوشی

    میلہ ہے بستی میں دو دن
    رات بھی ناچے جھومے دن
    جھولے والے دور دور سے لائے ہیں تہوار
    کھٹ مٹھےجذبوں سے مہکا مہکا ہے بازار
    شیشے کے صندوق میں
    چوڑی والا خواب سجا کر لایا
    اپنی چونچ میں اک طوطے نے
    جانے کس کا حال دبایا
    رس گنے کا ٹپ ٹپ کر کے
    رستا جائے مشینوں سے
    اونٹوں کے کوہانوں پر
    موتی کی جھالر ٹنکی ہوئی
    سبک قدم میلے کی جانب
    ٹھمک ٹھمک کر چلتے ہیں
    دودھیا ناریل جیسا چاند
    اترے گا میدان میں آج
    آوازوں کی بین پہ جوگن
    ناچ ناچ کے ہوگی ماند
    اب کے برس بھی
    ململ کا یہ لہراتا دھانی آنچل
    اُڑتا ہے مجھ سے بھی تیز
    آج کناروں میں اس کے
    اک ریشم جیسی پھسلن ہے
    لہراتا سُر ۔ ۔ ۔
    پگڈنڈی پر کس تیزی سے دوڑا ہے
    جیسے ملنے آئے گی
    پھر مجھ سے وہ
    پہلی خوشی ۔ ۔ ۔ !!!
     
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    سوندھی خوشبو

    سوندھی مٹی کی یہ صراحی
    قطرہ قطرہ گونج رہی ہے
    بھیگی بھیگی شبنم کی
    رم جھم کرتی جھنکاروں سے
    جب بھی کوئی پیاس بجھانے
    اوک میں پانی بھرتا ہے
    جانے کیسے چوری چوری
    پار، سمندر کرتا ہے
    سوندھی سوندھی خوشبو
    اس کی روح کے پار اُترتی ہے
    دور۔ ۔ ۔ بہت ہی دور
    جزیروں میں جو تارے گرتے ہیں
    ان کی یاد میں پگڈنڈی پر
    سبک روی سے چلتی ہے
    دھوپ چھاؤں میں سال، مہینے
    پنچھی بن کر اُڑتے ہیں
    آنکھ، پرونے لگتی ہے
    کچھ نتھرے لمحے صراحی سے
    پینے والے میں تتلی کے پَر
    خود سے اُگ آتے ہیں
    نیلے پانی کی ٹھنڈک سے
    آنکھیں مندنے لگتی ہیں
    دل کہتا ہے
    قطروں کی ان لاوارث آوازوں کو
    کانچ کے دریا کی تہہ میں
    اک ڈوبنے والی کشتی پر
    پھر سے بٹھا کر دور
    اُسی ساحل تک جاکر پہنچائیں
    جس کی ریت کی سوندھی خوشبو
    سب کو پاگل کرتی ہے ۔ ۔ ۔ !!!
     
  7. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    کبھی تم بھی

    کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا
    رہا دل کہاں ،کبھی کھوجنا
    کبھی اُڑتے پنچھی دبوچنا
    کبھی خود کھرنڈ کو نوچنا
    کبھی جب شفق میں ہنسی کھلے
    کسی نین جھیل میں خوں ملے
    تو اداس چاند کو دیکھنا
    کوئی رخ اکیلے ہی ڈھونڈنا
    یہ رُتیں جو دھیرے سے چھوتی ہیں
    ہمیں خوشبوؤں سے بھگوتی ہیں
    یہ رُتیں نہ پھر کبھی آئیں گی
    یہ جو روٹھ روٹھ کے جائیں گی
    یہ رُتیں انوکھا سرور ہیں
    کہ یہ پاس ہو کے بھی دور ہیں
    انھیں تم دُعاؤں میں ڈھلنے دو
    انہیں آسمان کو چلنے دو
    سنو ہوک جب کسی کونج میں
    اِنھیں سرد ہواؤں کی گونج میں
    تو اداس چاند کو دیکھنا
    کبھی تم بھی ۔ ۔ ۔
    ہم کو ہی سوچنا ۔ ۔ ۔ !!!
     
  8. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    تنہائیوں‌کی دھوپ

    مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں چلنے کی عادت ہے
    کوئی بھی کیفیت دل میں زیادہ دیر کب اتری
    وہی تو جانتا ہے
    منتظر تھی کب سے میں اس کی
    سوالِ خامشی کے گرم میلوں کی دوپہروں میں
    وہ آنکھیں جانتی ہیں
    دیر تک اس بند مٹھی میں
    میں اس بہتے ہوئے پانی کو
    روکے رہ نہیں سکتی
    خراشیں دُکھ رہی ہیں
    پانی پڑتے ہی جلن کچھ اور بھی ہوگی
    جنوں کے حرف یکدم آنسوؤں کا اوڑھ کر چہرہ
    ٹپک کر چیختی چنگھاڑتی لہریں بہاتے ہیں
    خدا جانے میں اپنی دھوپ کی پگڈنڈیوں کے موڑ
    اندھیروں کے تعاقب میں کیوں ایسے دوڑ کر اتری
    کہ ٹھاٹھیں مارتا پانی
    مری آنکھوں کی ساری سرخ اینٹیں توڑ کر نکلا
    یہ آنکھیں جانتی تھیں پانی پڑتے ہی
    جلن، کچھ اور بھی ہوگی
    وہی یہ جانتا تھا
    منتظر اس کی تھی میں کب سے
    وہی اک پیاس تھی
    جو خشک ہونٹوں پر بنی سسکی
    اسی پانی کی
    اس کو بھی بہت دن سے ضرورت تھی
    کسی سائے بنا اس نے کبھی
    چلنا نہیں سیکھا
    کسی بھیگی اداسی کا بھی کوئی
    پل نہیں چکھا
    سو میں نے بخش دی وہ بھی
    جو گھر میں ٹین کی چھت تھی
    مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں
    جلنےکی عادت تھی
    مجھے تنہائیوں کی دھوپ میں
    چلنے کی عادت ہے ۔ ۔ ۔ !!
     
  9. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ناریل کا پیڑ

    ساحل کے پاس تنہا
    اک پیڑ ناریل کا
    اک خواب ڈھونڈھتا ہے
    یادوں میں بھیگا بھیگا
    آنچل سے نیلے تن میں
    آکاش جیسے پیاسے
    سیپوں کے ٹوٹے پھوٹے
    خالی پڑے ہیں کاسے
    وہ ریت بھی نہیں ہے
    جس پر لکھا تھا تم نے
    ساگر سکوت میں ہے
    لہریں بھی سو رہی ہیں
    اک قاش بے دلی سے
    بس چاند کی پڑی ہے
    کومل سی یاد کوئی
    تنہا جہاں کھڑی ہے
    اُس ناریل کے نیچے ۔ ۔ ۔ !!!
     
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ماں

    بڑا محروم موسم ہے
    تمہاری یاد کا اے ماں
    نجانےکس نگر کو چھوڑ کر
    چل دی ہو مجھ کو ماں!
    شفق چہروں میں اکثر ڈھونڈتی رہتی ہوں
    میں تم کو
    کسی کا ہاتھ سر پہ ہو
    تو لگتا ہے تم آئی ہو
    کوئی تو ہو
    جو پوچھے
    کیوں ترے اندر اداسی ہے
    مرے دل کے گھروندے کی صراحی
    کتنی پیاسی ہے
    مجھے جادوئی لگتی ہیں
    تمہاری قربتیں اب تو
    مری یادوں میں رہتی ہیں
    تمہاری شفقتیں اب تو
    کبھی لگتا ہے
    خوشبو کی طرح مجھ سے لپٹتی ہو
    کبھی لگتا ہے یوں
    ماتھے پہ بوسے ثبت کر تی ہو
    کوئی لہجہ، ترے جیسا
    مرے من میں اتر جائے
    کوئی آواز ۔ ۔ ۔
    میری تشنگی کی گود بھر جائے
    کوئی ایسے دعائیں دے
    کہ جیسے تان لہرائے
    کسی کی آنکھ میں
    آنسو لرزتے ہوں مری خاطر
    مجھے پردیس بھی بھیجے
    لڑے بھی وہ مری خاطر
    مگر جب لوٹتی ہوں
    ساری یادیں لے کے آنچل میں
    تو سایہ تک نہیں ملتا
    کسی گنجان بادل میں
    کوئی لوری نہیں سنتی ہوں میں
    اب دل کی ہلچل میں
    تمہاری فرقتوں کا درد
    بھر لیتی ہوں کاجل میں
    کہیں سے بھی دعاؤں کی
    نہیں آتی مجھےخوشبو
    مری خاطر کسی کی آنکھ میں
    اترے نہیں آنسو
    محبت پاش نظروں سے
    مجھے تم بھی تکا کرتیں
    مدرز ڈے پر کسی تحفے کی
    مجھ سے آرزو کرتیں
    سجا کر طشت میں چاندی کے
    تم کو ناشتہ دیتی
    بہت سے پھول گلدا نوں میں
    لا کر میں سجا دیتی
    کوئی موہوم سا بھی سلسلہ
    باقی کہاں باہم
    کہ اب برسیں مرے نیناں
    تمہاری دید کو چھم چھم
    دلاؤں ایک ٹوٹے دل سے
    چاہت کا یقیں کیسے!
    مری ماں ۔ ۔ ۔ آسمانوں سے تجھے
    لاؤں یہاں کیسے!
    نجانےکون سی دنیا میں جا کے
    بس گئی ہو ماں
    بڑا محروم موسم ہے
    تمہاری یاد کا ۔ ۔ ۔ اےماں ۔ ۔ ۔ !!!

    اختتام
     
  11. تیشہ

    تیشہ محفلین

    مراسلے:
    21,892
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive

    یہ موضوع وکی پر منتقل ہو گیا ہے۔ ابھی اس پر مزید کام کو مندرجہ ذیل وکی کے لنک سے آگے جاری کیجئے گا

    درد کی نیلی رگیں
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر