درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

قیصرانی نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 1, 2006

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ستارہ ایک

    ستارہ ایک چلو آسماں سے ٹوٹ گیا
    پیالہ حادثہء ناگہاں سے ٹوٹ گیا
    سفر کی آخری منزل پہ جانے والےگئے
    چلا تھا ساتھ کہاں پر کہاں سےٹوٹ گیا
    سمجھ میں کیوں نہیں آتا یہ کیا معمہ ہے
    یقیں کا رشتہ اچانک گماں سے ٹوٹ گیا
    جو دل کے غار میں تعویذ لکھ کے رکھتا تھا
    اُسی کا رابطہ تسبیح خواں سے ٹوٹ گیا
    رہیں گی تم سے خیالات میں ملاقاتیں
    بحال سلسلہ ہوگا جہاں سے ٹوٹ گیا
    میں تم سےکہہ نہیں پائی تھی ماجرا دل کا
    کہ واسطہ ہی مکیں کا مکاں سے ٹوٹ گیا
    خزاں کے آنے سے پہلے یہ کیا ہوا نیناں
    ہزار رشتہء گل گلستاں سے ٹوٹ گیا
     
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جسے ڈبو کے گیا تھا

    جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں
    لہر وہ کھاتی رہی پیچ و تاب پانی میں
    کبھی تو تارِ رگِ جاں بھی چھیڑ کر دیکھو
    بجانے جاتے ہو اکثر رباب پانی میں
    تری نگاہ بہت ہے مرے لئے ساقی
    نہ گھول مجھ کو بنا کر شراب پانی میں
    خبر چھپی ہے جو لڑکی کی وہ نئی تو نہیں
    اُتر گئی تھی جو ہو کر خراب پانی میں
    پھر اپنی آگ بجھانے کوئی کہاں جائے
    لگائے آگ اگر ماہتاب پانی میں
    گہر ہمارے بھی نیناں کے دیکھ لو آکر
    تما م سیپ نہیں لا جواب پانی میں
     
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مرجھائےہوئے جسم

    مرجھائے ہوئے جسم سجا کیوں نہیں دیتے
    سورج سے بچانےکی ردا کیوں نہیں دیتے
    کَن اکھیوں سےدیکھوگے فضاؤں میں کہاں تک
    تم سوکھی زمینوں کو د عا کیوں نہیں دیتے
    کٹیا میں پلٹ آئے گی سنیاس اٹھائے
    تم اپنی پجارن کو پتا کیوں نہیں دیتے
    ویران روش کو بھی سجاوٹ کی طلب ہے
    تم شاخ گلابوں کی لگا کیوں نہیں دیتے
    لہروں میں کو ئی شور نہ گرداب میں گرمی
    سوئی ہوئی ندی کو جگا کیوں نہیں دیتے
    جب رنگ اٹھالے تو برش روک نہ پائے
    فنکار کو وہ شکل دکھا کیوں نہیں دیتے
     
  4. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    رات بھر دیکھے

    رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم
    لالہ رُو بھیگے کناروں پہ سلگتے موسم
    رات کے خالی کٹورے کو لبا لب کرکے
    کس قدرخوشبو چھڑ کتے ہیں بہکتے موسم
    شام ہوتی ہے تو پھر گیت جگا دیتے ہیں
    پائلوں میں کسی گھنگھرو کے کھنکتے موسم
    شوخ بوندوں کی طرح جا کے اٹک جاتے ہیں
    جسم کی کوری صراحی پہ چمکتے موسم
    کیا پتہ کب یہ کسی شاخ کو بنجر کردیں
    نرم مٹی کو سکھا کر یہ سسکتے موسم
    زرد پتوں میں کسی یاد کےجامن کے تلے
    کھیلتے رہتے ہیں بچپن کےچہکتے موسم
    باندھ کے پر کہیں لےجائیں گے مجھ کو نیناں
    خواب میں اُڑتے پرندوں سےگزرتے موسم
     
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اداسیوں کےعذابوں سے پیار

    اداسیوں کےعذابوں سے پیار رکھتی ہوں
    نفس نفس میں شبِ انتظار رکھتی ہوں
    یہ دیکھ کتنی منور ہے میری تنہائی
    چراغ، بامِ مژہ پر ہزار رکھتی ہوں
    نہ چاند ہے نہ ستارہ نہ کوئی جگنو ہے
    نصیب میں کئی شب ہائےتار رکھتی ہوں
    کہاں سے آئےگا نیلے سمندروں کا نشہ
    میں اپنی آنکھ میں غم کا خمار رکھتی ہوں
    مثالِ برق چمکتی ہوں بے قراری میں
    میں روشنی کی لپک بر قرار رکھتی ہوں
    جلی ہوئی سہی دشتِ فراق میں لیکن
    کسی کی یاد سے دل پُر بہار رکھتی ہوں
     
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دل سےمت روٹھ مرے

    دل سےمت روٹھ مرے دیکھ منالے اس کو
    کھو نہ جائے کہیں سینے سے لگا لے اس کو
    وہ مسافر اسے منزل کی طرف جانا تھا
    اس لئے کردیا رستے کے حوالے اس کو
    مدتوں وجد میں رہتے ہوئے دیوانے کو
    ہوش آیا ہے تو ہر بات سنالے اس کو
    کس لئے اب شبِ تاریک سے گھبراتی ہوں
    خود ہی جب بخش دیئے سارے اجالے اس کو
    کچھ ضروری تو نہیں آپ کو سب کچھ مل جائے
    جو ملے کیجئے دامن کے حوالے اس کو
    نیلگوں جھیل میں ہے چاند کا سایہ لرزاں
    موجِ ساکت بھی کوئی آئے سنبھالے اس کو
    اپنے بے سمت بھٹکتے ہوئے نیناں کی قسم
    کتنے خوش بخت ہیں سب دیکھنے والے اس کو
     
  7. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اب کےٹس سےمس نہیں ہونا

    اب کے ٹس سے مس نہیں ہونا ہوا کے زور پر
    بے دھڑک لکھے وہ ان پتوں پہ رائے بے حساب
    نیلمیں نیناں میں جلتے بجھتے ہیں نیلے چراغ
    خالی کمرے میں چلے آتے ہیں سائے بے حساب
     
  8. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جانےکہاں پہ دل ہےرکھا!

    آج کا دن بھی پھیکا پھیکا
    کھڑکی سےچھپ کرتکتا ہے
    میں ہاری یا وہ ہے جیتا
    روز کا ہی معمول ہے یہ تو
    کل بھی بیتا آج بھی بیتا
    درد بھی ویسا ہی بلکل ہے
    تھوڑا تھوڑا ، میٹھا میٹھا
    چولھا، چوکا، جھاڑو، پونچھا
    سب کچھ کر بیٹھی تب سوچا
    ہر شے پونچھ کے جھاڑ کے دیکھا
    جانےکہاں پہ دل ہے رکھا ۔۔۔!!!
     
  9. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    کوئی اگر مر جائے تو

    کڑی دھوپ میں چلتےچلتے
    سایہ اگر مل جائے ۔۔۔ تو !
    اک قطرےکو ترستےترستے
    پیاس، اگر بجھ جائے ۔۔۔ تو !
    برسوں سے خواہش کےجزیرے
    ویراں ویراں اُجڑے ہوں
    اور سپنوں کےڈھیر سجا کر
    کوئی اگر رکھ جائے ۔۔۔ تو !
    بادل ،شکل بنائیں جب
    نیل آکاش پہ رنگوں کی
    اُن رنگوں میں اس کا چہرہ
    آکے اگر رُک جائے ۔۔۔۔ تو !
    خاموشی ہی خاموشی ہو
    دل کی گہری پاتالوں میں
    کچھ نہیں کہتے کہتے گر
    کوئی سب کہہ جائے ۔۔۔ تو !
    زندہ رہنا سیکھ لیا ہو
    سارے دکھوں سے ہار کے جب
    بیتے سپنے پا کےخوشی سے
    کوئی اگر ۔۔۔ مرجائے ۔ ۔ ۔ تو ۔۔۔ !!!
     
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دو سیاہ آنکھیں

    بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
    تمہارے چہرے میں کھوگئی ہیں
    تمہاری آواز چلتے چلتے
    یہ چاہتی ہیں کہ اب عبادت
    صبح ہو یا شام ہو مگر ہو
    تمہارا چہرہ ۔۔۔ تمہارا چہرہ
    جو نیلگوں لہر میں ڈبودے
    مجھے ڈبو دے، مجھے ڈبو دے
    مرے بدن کے تمام کانٹے چنے
    اور اپنے بھی پاؤں رکھ دے
    وفا کے ٹھنڈے سے پانیوں میں
    محبتوں کی روانیوں میں
    بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
    تمہارےچہرے میں کھو گئی ہیں ۔۔۔ !!!
     
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دریائےنیل

    اپنا رستہ ڈھونڈنا اکثر
    اتنا سہل نہیں ہوتا ہے
    لوگوں کے اس جنگل میں
    چلنا سہل نہیں ہوتا ہے
    یہ تو کوئی جگنو ہے جو
    لے کر روشن سی قندیل
    کبھی کبھی
    یوں راہ بنائے
    جیسے ہو دریائےنیل ۔۔۔۔ !!!
     
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پگلی

    سپنے بنتے نیناں پر
    ہونٹ جب اپنے رکھ دوگے
    دھیرے دھیرے سرگوشی میں
    کانوں سے کچھ کہدوگے
    اور میں۔۔۔
    آنکھیں موندے موندے
    کروٹ اپنی بد لوں گی
    گہری نیند کو شوخ ادا سے
    چپکے چپکے کھولوں گی
    آنچل میں چہرے کو چھپا کر
    کَن اَکھیوں سے دیکھوں گی
    چاند کی چوڑی سے کرنیں
    چھن چھن،چھن چھن ٹوٹیں گی
    جھیل سی ٹھہری دھڑکن اُس دَم
    دھک دھک ،دھک دھک بولے گی
    اور تم بھی۔ ۔ ۔
    دھیرے سے ہنس کر
    مجھ کو کہدوگے
    پگلی ۔ ۔ ۔ !!!
     
  13. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    سنہرا لہجہ

    نیلگوں فضاؤں میں
    شور ہے بپا دل میں
    شدتوں کے موسم کی
    چاہتیں سوا دل میں
    حبس ہے بھرا دل میں
    میں اداس گلیوں کی
    اک اداس باسی ہوں
    بادلوں کے پردے سے
    واہموں کو ڈھکتی ہوں
    خوشبوئیں گلابوں کے جسم سے نکلتی ہیں
    روشنی کی امیدیں کونپلوں پہ چلتی ہیں
    پھر بہار آنے سے پہلے ٹوٹ جاتی ہیں
    چوڑیاں بھی ہاتھوں میں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں
    جسم کے شگوفوں میں رنگ چھوڑ جاتی ہیں
    بس سنہرے لہجےکی
    روشنی ہے لو جیسی
    ہونٹ سے پرے دل میں
    کام کی دعا ایسی
    کس کو یہ خبر لیکن
    اِس سنہرے لہجے میں
    کھارے کھارے پانی سا
    بدگمانیوں سے پُر
    زہر،ایسا گھل جائے
    جس سے ایک دم سارا
    سنہرا لہجہ۔ ۔ ۔
    دھل جائے ۔ ۔ ۔ !!!!
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پتھر کی لڑکی

    اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
    تو اپنے پیکر کی سبز رت پر
    بہت سی کائی اگایا کرتی
    بہت سے تاریک خواب بنتی
    تو میں اذیت کی ملگجی
    انگنت اداسی کے رنگ چنتی
    اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
    میں اپنے پلو میں سوگ باندھے
    کسی کو ان کا پتہ نہ دیتی
    اجالے کو ٹھوکروں میں رکھتی
    خموشیوں کے ببول چنتی
    سماعتوں کے تمام افسون
    پاش کرتی۔ ۔ ۔
    میں کچھ نہ سنتی
    دہکتی کرنوں کا جھرنا ہوتی
    سفر کے ہر ایک مرحلے پر
    میں رہزنوں کی طرح مکرتی
    وہم اگاتی،گمان رکھتی
    تمہاری ساری وجاہتوں کو
    میں سو طرح پارہ پارہ کرتی
    نہ تم کو یوں آئینہ بناتی
    اگر ۔ ۔ ۔ میں پتھر کی لڑکی ہوتی۔۔۔!!!
     
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    چاندنی کے ہالے میں

    چاندنی کے ہالے میں
    کس کو کھوجتی ہو تم
    چھپ کے یوں اداسی میں
    کس کو سوچتی ہو تم
    بار بار چوڑی کے
    سُر کسے سناتی ہو
    شور سے صدا کس کی
    توڑ توڑ لاتی ہو
    بزم میں بہاروں کی
    کھوئی کھوئی لگتی ہو
    دوستوں کے مجمع میں
    کیوں اکیلی رہتی ہو
    موج موج بہتی ہو
    آنسوؤں میں رہتی ہو
    جھالروں سے پلکوں کی
    ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہو
    بلبلے کی صورت میں
    پھوٹ پھوٹ جاتی ہو
    دھند سے لپٹ کر کیوں
    سونی راہ تکتی ہو
    کھڑکیوں سے برکھا کو
    دیکھ کر بلکتی ہو
    سارے سپنے آنکھوں سے
    ایک بار بہنے دو
    رات کی ابھاگن کو
    تارہ تارہ گہنے دو
    ماضی، حال، مستقبل
    کچھ تو کورا رہنے دو
    پُل کے نیچے بہنے دو
    آنسوؤں کی یہ ندیاں
    وقت چلتا جائے گا
    بیت جائیں گی صدیاں
    بےحسوں کی بستی میں
    بےحسی کو رہنے دو
    دل تو پورا پاگل ہے
    اس کو پورا رہنے دو
    یہ جو کہتا رہتا ہے
    اس کو بھی وہ کہنے دو
    اس کو کورا رہنے دو
    تم یہ کورا رہنے دو ۔ ۔ ۔!!!
     
  16. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    خوشبو

    کل ملبوس نکالا اپنا
    ہلکا کاسنی رنگت کا
    دھڑ سے کھول کے دل کے پٹ کو
    خوشبو سن سن کرتی آئی
    جیسے نیل کنارے پر
    لہراتا اک چنچل آنچل
    جیسے سرد اماوس میں
    کُرتا جھلمل تاروں کا
    جیسے سرخ گلابوں کی
    رم جھم کے پھندنے کلیاں
    جیسے رات کی رانی
    بن کے جھالر سر سر کرتی ہو
    جیسے چمبیلی چمپا کے
    گہنے ہاتھوں سے لپٹیں
    جیسے سبزے پر مخمل کی
    گرگابی کے نگ دمکیَں
    جیسے بوگن ویلیا کے سب
    گرتے ہوئے گھنگھرو چھنکیں
    جیسے ہار سنگھار کا ریشم
    نارنجی چہرے کو پونچھے
    جیسے بنفشے کی مسکانیں
    درد اُدھیڑیں سیون سیون
    جیسے سدا بہار کے چھلے
    پہنے کوئی انگلی میں
    جیسے نرگس نیلے پیلے
    ڈورے ڈالے نیناں میں
    لیکن رجنی گندھا کی
    سوکھی سوکھی شاخ پہ اٹکی
    ایک کلی نے یاد مجھے
    وہ سوندھی سی پہنائی ہے
    جس کی قبر کو
    گیندے کی چادر سے
    ہم نے ڈھانپا تھا ۔ ۔ ۔ !!!
     
  17. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    گہر ساز

    سنہرے بالوں کی نرم خوشبو
    جو شبنمی موتیوں سے میں نے
    سلگ سلگ کر اتار دی ہے
    اداسیوں کے چمکتے جھمکوں کی آب کتنی سنوار دی ہے
    جلا کے کندن کا ہار کی ہے
    میں شوخ گردن کے گرد اب تک
    تمھارا ریشم سا لمس لے کر
    ہزاروں گرہیں بنا رہی ہوں
    نجانے کب سے بلا رہی ہوں
    بہت ہی وہمی
    بہت ہی سہمی
    مجھے گہر ساز توڑ دےگا
    سوال یہ سرسرا رہا ہے!
    اور ایسا اک دن اگر ہوا تو
    تمہاری مندری کے تن کا ہیرا
    تمہاری سونا تو چاٹ لے گی۔ ۔ ۔ !!!
     
  18. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بغیر انجام کی منزل

    بہت گہرا کنواں ہے
    اور۔ ۔ ۔ زنگ آلود میرا ڈول
    بہت محتاط ہو کر
    تہہ میں اس کو میں نے ڈالا تھا
    مگر میں کیا بتاؤں۔ ۔ ۔
    اب کی بار اس نے بھرا ہے کیا
    بہت سے گرم گرم آنسو
    بہت ہی خشک خشک آہیں
    نہایت اَن چھوئی خواہش
    بہشتی منظروں کے خواب
    کسی کی مسکراہٹ
    کھوکھلی سی
    پھیکی پھیکی سی
    کسی کے مطلبی حیلے
    سلگتے زخم کے ٹیلے
    چبھن کی کرچیاں
    اُجڑی ہوئی کچھ بستیاں بے آب
    وہ نیلے اور زہریلے
    دہکتے درد کی ٹیسیں
    کئی سوکھے ہوئے تالاب
    وہاں شاید ہے اک صحرا
    جہاں اگتا نہیں جنگل
    وہیں ہم پھینک آتے ہیں
    اٹھا کر اپنی ہر مشکل
    نہیں فرصت کہ یہ سوچیں
    کبھی تھک ہار کر ہی
    پیاس کی شدت مٹانے کو
    کوئی ٹوٹے ہوئے پتوں کی مانند
    اڑ کے آ جائے
    یہ بنجر پن کہیں اس کی
    لگن کو توڑ نہ جائے
    وہ شاید چاند کے سائے کے پیچھے
    پھر نہ جائے گا
    کسی آہٹ میں پائے گا
    ستاروں سی کوئی جھلمل
    بغیر انجام کی منزل۔ ۔ ۔ !!!
     
  19. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    آخری خواہش

    ندی کنارے خواب پڑا تھا
    ٹوٹا پھوٹا، بےسد ھ ‘ بیکل
    لہریں مچل کر اس کو تکتیں
    سانجھ سویرے آ کر پل پل
    سیپی چنتے چنتے میں بھی
    جانے کیوں چھو بیٹھی اس کو
    یہ احساس ہوا کہ اُس میں
    روح ابھی تک جاگ رہی ہے
    ہاتھ کو میرے اس کی حرارت
    دھیرے دھیرے تاپ رہی ہے
    تب آغوش میں اس کو اُٹھایا
    اک اوندھی کشتی کےنیچے
    تھوڑا سا رکھا تھا سایہ
    نرم سی گیلی ریت کا میں نے
    بستر ایک بچھایا
    سانس دیا ہونٹوں سے اس کو
    تب کچھ ہوش میں آیا
    پھر اکھڑے اکھڑے جملوں میں
    اس نے یہ بتلایا
    پھینک گئے ہیں اس کو اپنے،
    سنگی ساتھی بھائی
    سن کر اس کی پوری کہانی
    دیر تک مجھ کو سانس نہ آئی
    آخری خواہش مجھ کو دے کر
    نیناں میں چاہت کو سمو کر
    نیند ہمیشہ کی جا سویا
    اپنے دکھ کو مجھ میں بویا
    پلک پلک، موتی بنتی ہوں
    سارے بدن کو پھونک چکی ہوں
    لیکن میری روح بچی ہے
    دور اسی ندیا کے کنارے
    آج بھی بیٹھی سوچ رہی ہے
    شاید سیپیاں چنتےچنتے
    کوئی مجھے چن کر لے جائے
    ٹھنڈی ریت پہ خواب بچھائے
    میرے بند پپوٹے چھو کر
    شاید وہ اوجھل ہوجائے
    گہری گہری جھیل کی تہہ سے
    کبھی نہ باہر آ نے پائے ۔ ۔ ۔ !!!
     
  20. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے

    مسافر تم ذرا سوچو
    یہ اجلی دھوپ جاتے پل
    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے!
    گلابی پھول کھلتے پل
    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے!
    گھنیری شام اپنی زلف کے سائے میں چھپتی ہے
    سمندر، بند آنکھوں سے
    اگر اپنے پپوٹوں میں کبھی لبریز ہوتا ہے
    اگر سوچوں کی لہریں
    رفتہ رفتہ ٹوٹ جاتی ہیں
    تو قسمت کے سرابوں پر
    اڑی رنگت کے چھینٹوں پر
    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے!
    وہ مدھم چاند
    کیوں خنجر لیئے چھپ چھپ کے چلتا ہے
    محبت چاندنی بن کر
    جب اس کے دل میں رہتی ہے
    تو پتھر ہاتھ میں پا کر
    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے !
    بہت پر خار ہیں رستے
    بہت بیزار ہیں رستے
    جدائی کی فصیلوں سے
    گزرتے بادلوں کی بجلیوں کو
    بھول بیٹھے ہیں
    جنھیں تم بھول بیٹھے ہو
    وہ اب واپس نہ آئیں گے
    کبھی واپس نہ آئیں گے
    وہ واپس آ نہیں سکتے
    شگوفے کھل رہے ہیں پھر
    کوئی رت بھی نہیں نیلی
    کسی ناسور لمحے پر
    نہیں یہ آنکھ اب گیلی
    اک استفسار باقی ہے
    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے ۔ ۔ ۔ ؟
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر