درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

قیصرانی نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 1, 2006

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    زلف کو صندلی جھونکا

    زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا
    جسم ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح ڈولے گا
    بادشاہوں کی طرح دل پہ حکومت کرکے
    وہ مجھے تاش کے پتوں کی طرح رولے گا
    جنبش لب سے بھی ہوتا ہے عیاں سب مطلب
    وہ مری بات ترازو میں مگر تولے گا
    کسی برگد کی گھنی شاخ سے دل کا پنچھی
    میری تنہا ئی کو دیکھے گا تو کچھ بولے گا
    چاند پونم کا سرکتی ہوئی ناگن کی طرح
    نیلگوں زہر مرے خون میں آ گھو لے گا
    اڑ گیا سوچ کا پنچھی بھی وہاں سے نیناں
    کوئی سنسان بنیرے پہ نہیں بولے گا
     
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    سب اختیار اس کا ہے

    سب اختیار اس کا ہے کم اختیار میں
    شاید اسی لئے ہوئی بے اعتبار میں
    پھرتی ہےمرے گھر میں اماوس کی سرد رات
    دالان میں کھڑی ہوں بہت بےقرار میں
    تھل سےکسی کا اونٹ سلامت گزر گیا
    راہِ وفا میں رہ گئی مثل غبار میں
    انگلی میں رہ گئی ہے انگوٹھی گِھسی ہوئی
    لاؤں کہاں سے اب وہی نقش و نگار میں
    جی چاہتا ہے رات کے بھرپور جسم سے
    وحشت سمیٹ لوں تری دیوانہ وار میں
    پارس نے دفعتاَ مجھے سونا بنا دیا
    قسمت سے آج ہوگئی سرمایہ دار میں
    نیلے سمندروں کا نشہ بڑھ نہ جائےگا
    موتی نکال لاؤں اگر بے شمار میں
    میں ضبط غم کی آخری حد تک گئی مگر
    ہر شخص کی نگاہ میں ہوں سوگوار میں
    نیناں مجھے بھی دیکھ رتیں اوڑھ اوڑھ کر
    قو س قزح کبھی ہوں کبھی اشک بار میں
     
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اُس نے نرم کلیوں کو

    اُس نےنرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے
    تازگی بہاروں کی چھین لی اداؤں سے
    بھیج اپنے لہجے کی نرم گر م کچھ تپش
    برف کب پگھلتی ہے چاند کی شعاؤں سے
    پاؤں میں خیالوں کے راستے بچھائے ہیں
    آج ہی چرانے ہیں پھول اس کے گاؤں سے
    دور دور رہتی ہے ایک غمزدہ لڑکی
    ہجر توں کی راہوں سے وصل کی سراؤں سے
    تیرے جسم کی خوشبو شام کی اداسی میں
    موتیئے کے پھولوں نے چھین لی ہواؤں سے
    پیار کی کہانی میں سچ اگر ملے نیناں
    عمر باندھ لیتی ہیں لڑکیاں وفاؤں سے
     
  4. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    نرم گرم شاموں کو

    نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
    دل پہ لکھے نامو ں کو بھول بھول جاتی ہوں
    بھیجنےکسی کو ہو ں پھول ، کا رڈ، تصویریں
    میں ضروری کاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
    روشنی ہو ، رعنائی، رنگ ہو کہ خوشبو ہو
    سب حسیں مقاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
    صاف استعاروں کو مستند اشاروں کو
    پیار کے سلاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
    سیب اور چیری تو روز لے کے آتی ہوں
    اپنے سندھڑی آموں کو بھول بھول جاتی ہوں
    دل کے راستے آکر بس گئے ہیں نیناں میں
    اَن گِنت پیاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
     
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    چھلکا چھلکا رہتا ہے

    چھلکا چھلکا رہتا ہے درد سے بھرا ساون
    پیار کے لئے لمحہ بھول جانے کو جیون
    خوش جمال نے کیسی آگ میں جلا یا ہے
    میں تو جیسے بھٹی میں تپ کے ہوگئی کندن
    جو چھپا ہے زلفوں کی کالی کالی بدلی میں
    ڈس نہ لے کہیں اس کو پاس جاکے یہ ناگن
    دھل گئی دھنک ساری بارشوں کی جھڑیوں میں
    جھلملا گیا تیرے روپ انوپ کا آنگن
    رات دن سویروں سا خواب جلتا رہتا ہے
    شام رنگ جنگل میں، میں ہوں اور مرا ساجن
    آ بھی جاکہ پانی پر پھر شکارے بہتے ہیں
    مانجھی گیت گاتے ہیں سوگوار ہے برہن
    آئینے میں اک چہرہ با ت کر نے آتا ہے
    دیکھنے کو بیٹھی ہوں بن سنور کے جب درپن
    ہوچکے ہیں بوسیدہ نرم سانس کے ڈورے
    اب بکھرنے والی ہے جو پروئی تھی دھڑکن
    رات بھیگتی ہے جب آرزو کے ڈیرے پر
    کیسی کھنکھناتی ہے تیر ی یاد کی جھانجھن
    روح کے دریچوں میں ہجر بس گیا جب سے
    آکے لے گیا پیتم مجھ سے میرا تن من دھن
    درد کی حویلی میں چاندنی کہاں نیناں
    اب یہاں اندھیرا ہے بند ہیں سبھی روزن
     
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مرےگھر میں محبت

    مرےگھر میں محبت خوبصورت شام آنے دے
    سنہری ریت کے صحراؤں کا پیغام آنے دے
    طواف اس پر بھی تو واجب ہے نیناں کعبہء دل کا
    ٹہر جا تو اسے بھی اس طرف دو گام آنے دے
     
  7. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    وہ مور پنکھ سے

    وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا
    سلگتی آگ سے ز ندہ نکلنے جائے گا
    رکی رکی ہے پتنگوں کی سانس آج کی رات
    تھرکتی شمع پہ اب کون جلنے جائے گا
    دلوں کےسب در و دیوار توڑ کر یہ وقت
    محل کو اور کھنڈر میں بدلنے جائے گا
    خزاں جب آئے گی تو پھول پھول کا جوبن
    کہاں بہار کے سانچے میں ڈھلنے جائے گا
    ہمیں کو آگ لگا کے چلا گیا ہے کہیں
    کہا تھا جس نے مرے ساتھ جلنے جائےگا
    تمام چاند ستاروں کے دن معین ہیں
    اندھیرا ان کو بھی آخر نگلنے جائے گا
    بہت دنوں سے یہ آنسو رکے تھے نیناں میں
    سمندر آج نگینے اگلنے جائے گا
     
  8. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ابر بھی جھیل پر برستا ہے

    ابر بھی جھیل پر برستا ہے
    کھیت اک بو ند کو ترستا ہے
    درد سہہ کر بھی ملتی ہے تسکین
    وہ شکنجہ کچھ ایسے کستا ہے
    اس کی مرضی پہ ہے عروج و زوال
    بخت ساز آسماں پہ بستا ہے
    احتیاطاً ذر ا سا دور رہیں
    اب تو ہر ایک شخص ڈستا ہے
    ہم بھی جوہر شناس ہیں جاناں
    دل کا سودا بھی کوئی سستا ہے
    ریت بن کر بکھر گئے نیناں
    میری آہوں سے تھل جھلستا ہے
     
  9. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پاس منزل کےپہنچ کر

    پاس منزل کے پہنچ کر کوئی موڑا نہ کرے
    آدھے رستے میں ہمیشہ مجھے چھوڑا نہ کرے
    بھیک کی طرح وہ دیتا ہے رفاقت مجھ کو
    اتنا احسان میری جان پہ تھوڑا نہ کرے
    ٹوٹ کر چور اگر ہوگئی جڑنے کی نہیں
    کوئی طعنوں سے انا کو مری پھوڑا نہ کرے
    وہ حفاظت نہیں کرتا نہ کرے رہنے دو
    زخم سے میرے مرا درد نچوڑا نہ کرے
    برف لمحات میں تنہائی سے ڈر لگتا ہے
    سرد لمحوں کو مری ذات میں جوڑا نہ کرے
    چوڑیاں کر نہیں سکتی ہیں تشدد برداشت
    جاتے جاتے وہ کلائی کو مروڑا نہ کرے
    میں تیاگ آئی ہوں جس کے لیئے سب کو نیناں
    کم سے کم وہ تو مرے مان کو توڑا نہ کرے
     
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اپنی صدا سے اپنی شناسائی

    اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی
    تنہائیوں کے شور میں تنہائی کھو گئی
    سینے میں گھٹ رہی ہے محبت کی سانس سانس
    چلتی تھی میرے گھر میں جو پروائی کھو گئی
    بارات دیکھ کر کسی گھبر و کی رات کو
    سسکاریوں کےشور میں شہنائی کھو گئی
    دریافت آسمان کی بھائی نہیں ہمیں
    سیارے دیکھتے ہوئے بینائی کھو گئی
    افسانہ بن گئے مری تاریخ کے ورق
    اسلاف کے ہنر کی پذیرائی کھو گئی
    چھائی ہوئی ہے دھند نگاہوں کے سامنے
    نیناں ان آئینوں کی بھی زیبائی کھو گئی
     
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ملےگی میری بھی کوئی نشانی

    ملےگی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں
    پڑی ہوئی ہوں کہیں میں پرانی چیزوں میں
    مرے وجود سے قائم ہیں بام و در میری
    سمٹ رہی ہے مری لامکانی چیزوں میں
    لپک رہا ہے میری سمت نقرئی بازار
    مچل رہی ہے کوئی شادما نی چیزوں میں
    یہ خوشنما ئی لہو کے عوض خریدی ہے
    گھلا ہوا ہے نگاہوں کا پانی چیزوں میں
    بہشت سے ہی میں آئی زمین پر لیکن
    شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں
    یہ جانتےہوئے کوئی وفا شناس نہیں
    بسر ہوئی ہے مری زندگانی چیزوں میں
    وہ اور ہوتی ہیں جو ٹوٹتی نہیں شاید
    لکھا گیا ہے مجھے آنی جانی چیزوں میں
    پھر آیا بھولا ہوا خواب رات میں نیناں
    لکھی ہوئی تھی پرانی کہانی چیزوں میں
     
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    زخم یادوں کے

    زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے
    داغ دھلتے ہیں کہاں بہتے ہوئے پانی سے
    دیکھتی جاتی ہوں میلے کا تماشہ چپ چاپ
    کیا پتہ بول پڑے آنکھ ہی ویرانی سے
    روشنی کا یہ خزانہ مری آنکھیں ہی نہ ہوں
    شمع تو میں نے بجھادی ہے پریشانی سے
    میرےچہرے میں جھلکتا ہے کسی اور کا عکس
    آئنہ دیکھ رہا ہے مجھے حیرانی سے
    باندھ لی میں نےدعا رخت سفر میں نیناں
    ڈر جو لگتا ہے مجھے بے سرو سامانی سے
     
  13. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    خوشیوں پہ وبالوں کا گماں

    خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونےلگا ہے
    جانسوز خیالوں کا گماں ہونے لگا ہے
    ڈرتی ہوں کہ آنسو نہ جوابوں میں امڈ آئیں
    آنکھوں میں سوالوں کا گماں ہونے لگا ہے
    ان اونچی اڑانوں سے معلق ہوں فضا میں
    پھر مجھ کو زوالوں کا گماں ہونے لگا ہے
    اک روز گزرتا ہے کچھ اس حال میں میرا
    اک رات پہ سالوں کا گماں ہونے لگا ہے
    پھول اس نے مرے لان پہ جو زرد بچھائے
    نیناں کو ملالوں کا گماں ہونے لگا ہے
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    تاش کےگھر

    تاش کےگھر بنائے بیٹھی ہوں
    کانچ کے پر لگائے بیٹھی ہوں
    رسمِ یاراں کو توڑنا ہوگا
    حوصلے یوں بڑھائے بیٹھی ہوں
    ہر طرف ڈھل رہے ہیں اندھیارے
    دل کا دیپک جلائے بیٹھی ہوں
    گھونسلے وہ پرند چھوڑ گئے
    آس جن کی لگائےبیٹھی ہوں
    یاد زنجیر بن نہ جائےکہیں
    پاؤں اپنے اُٹھائے بیٹھی ہوں
    میں ستارہ ہوں اس کی قسمت کا
    آس اس کی لگائے بیٹھی ہوں
    یہ دیا بھی کہیں نہ بجھ جائے
    جو ہوا سے چھپائے بیٹھی ہوں
     
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مری خامشی میں

    مری خامشی میں بھی اعجاز آئے
    کسی سمت سے کو ئی آ واز آئے
    وہ چہر ہ نہ جانے کہاں کھو گیا ہے
    کہیں سے کبھی کوئی دم ساز آئے
    کسی نے تر اشا نہ اس دل کا پتھر
    مرے شہر میں کتنے بت ساز آئے
    وہ اڑ جائے نیلی رگوں سے نکل کر
    مرے درد کو اتنی پرواز آئے
    سزا بےگناہی کی میں کاٹتی ہوں
    کہاں مجھ کو جینےکے انداز آئے
    محبت اے بے دید پاگل محبت
    ہمیں چھوڑ دے دیکھ ہم باز آئے
    دوا تشنہ کامی کی لے کر وہ نیناں
    کبھی تو وہ آئے بصد ناز آئے
     
  16. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    چھائی ہوئی ہیں

    چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں
    کب تک رہیں گی نصب یہ قبروں پہ تختیاں
    سوکھے ہوئے درخت پہ بارش کا تھا کرم
    نشے سے بھر گئیں مرے گلشن کی ڈالیاں
    حالات نے جو بیج مرے دل میں بوئے ہیں
    پھوٹا کریں گی ان میں سے شبنم کی بالیاں
    احساس تک نہیں تمہیں جھونکا اداس سا
    اک بار تم کو چھونے سے ہوتا ہےخوش گماں
    ہم سب کو تشنگی نےکیا اس طرح نڈھال
    یک لخت سب نے منہ سےلگائیں پیالیاں
    پھر بانسری بجی ہےکہیں درد سے بھری
    پھر رو پڑی ہیں میرے خیالوں کی شوخیاں
    کیا اب کوئی چراغ افق پر رہا نہیں
    صدیوں سے آرہی ہیں جو تاریک بدلیاں
    خیمے اُکھیڑتے ہوئے سانسیں اُکھڑگئیں
    کب تک رہیں گی ساتھ یہ خانہ بدوشیاں
    نیناں،وہ کس لگن سے تجھے کر رہا ہے یاد
    تجھ کو جو آ رہی ہیں لگا تار ہچکیاں
     
  17. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ان آنکھوں کو سپنے

    ان آنکھوں کو سپنے دکھائے تو ہوتے
    کبھی تم نے دیپک جلائے تو ہوتے
    قدم روکتا کب سیہ پوش جنگل
    امیدوں کے جگنو اڑائے تو ہوتے
    پہنچتی اتر کرحسیں وادیوں میں
    پہاڑوں پہ رستے بنائے تو ہوتے
    سمندر کو صحراؤں میں لے کے آتی
    کچھ انداز اپنے سکھائے تو ہوتے
    لئے میں بھی کچا گھڑا منتظر تھی
    تم اس پار دریا پہ آئے تو ہوتے
    سرِ عام دربار میں رقص کرتی
    روایت کے نغمے سنائے تو ہوتے
    کوئی ہو بھی سکتا تھا نیناں گلی میں
    دریچے سے پردے ہٹائے تو ہوتے
     
  18. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    کبھی بدلی سجیلی د ھوپ کو

    کبھی بدلی سجیلی د ھوپ کو آ کر بھگوتی ہے
    کبھی پروائی یادوں میں حسیں موتی پروتی ہے
    انھیں زینوں پہ چڑھتے پہلے کیسی کھنکھناتی تھی
    نگوڑی پائل اب جو پاؤں میں کانٹے چبھوتی ہے
    بچھڑتے وقت اندازہ نہ تھا اتنی خزاؤں کا
    نہ جانے سادہ دل لڑکی ابھی کیا اور کھوتی ہے
    اسے چھم چھم برستی رت نےکل کیا بات کہہ دی ہے
    سبک ندیا جو اب تک سینہ کوبی کر کے روتی ہے
    گزرتی ہے بڑے آرام سے اب جاگتے نیناں
    یہ مجھ پر کھل گیا جب سے مری تقدیر سوتی ہے
     
  19. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    گر میں دریا کے پا س

    گر میں دریا کے پا س آؤں گی
    ڈر بھی لگتا ہے ڈوب جاؤں گی
    تیرے اشکوں کے قیمتی موتی
    میں گلو بند میں جڑاؤں گی
    میرے جگنو سے پر سلامت ہیں
    میں تمہیں راستہ دکھاؤں گی
    ناریل کی سفید قاشوں سے
    روپ کی چاندنی بچھاؤں گی
    دشتِ جاں میں فراق کے خیمے
    روز لگواؤں گی ، گراؤں گی
    اپنے بچوں کے واسطے نیناں
    ایک جنت سا گھر بناؤں گی
     
  20. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    خوشبوؤں سے کلام

    خوشبوؤں سے کلام مت کرنا
    شہر میں دیکھ شام مت کرنا
    تتلیاں،پھول،خو اب،خوشبو تم
    اب کبھی میرے نام مت کرنا
    اپنے آنچل میں رنگ سب بھرنا
    رنگ یکسا ں تمام مت کرنا
    فون پر تم ملے ہو مشکل سے
    گفتگو کو تما م مت کرنا
    آنسوؤں کی شفق ہےآنکھوں میں
    کہہ کے لوگوں میں عام مت کرنا
    میرے اعزاز میں کسی کے گھر
    شام کا اہتمام مت کرنا
    حرمت دل کا جو نہ ہو قائل
    اس کے گھر میں قیام مت کرنا
    شیشہء دل پہ جو گریں پتھر
    ان کا تم احترام مت کرنا
    لڑکھڑا جائے گی زباں نیناں
    اس سے ہرگز کلام مت کرنا
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر