درد کی نیلی رگیں - فرزانہ نیناں

قیصرانی نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 1, 2006

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دوستو، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فرزانہ نیناں کی کتاب “درد کی نیلی رگیں“ کو میں برقیا رہا ہوں۔ کافی کام ہو چکا ہے اور تھوڑا سا باقی بچ گیا ہے۔ اس دھاگے پر آپ ان کے کلام سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں لیکن تبصرہ کے لئے اس دھاگے کو استعمال کیجئے گا۔ بہت شکریہ
    بےبی ہاتھی
     
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    حمد

    یارب نفس نفس میں ہے پنہاں ترا پیام
    دنیا کا ذرہ ذرہ کرے ورد تیر ا نام
    تیرےہی نور سےہیں فروزاں مہ و نجوم
    روشن ہے آفتاب ہے د رخشاں مہ ِ تمام
    سیراب سب ہوئےترےزمزم کےفیض سے
    لوٹا نہیں ہے در سے ترےکوئی تشنہ کام
    مل جائےمجھ کو ایک ہی سجدہ نصیب سے
    گھر میں ترےجہاں ہے براہیم کا مقام
    کر لےقبول ساری دعائیں جو دل میں ہیں
    نیناں یہاں سےجائےگی ہرگز نہ تشنہ کام
     
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    نعت

    دل مرےساتھ اب مدینےچل
    چل گناہوں کےداغ دھونےچل
    رات دن ہم جو کرتےرہتےہیں
    اُن خطاؤں پہ آج رونے چل
    آپ کے روضہء مقدس کا
    کر طواف اور کونےکونےچل
    آبِ زمزم کےپاک قطروں سے
    اپنےاعمال کو بھی دھونےچل
    خاکِ طیبہ بڑی مبارک ہے
    اُس میں اپنی دعائیں بونےچل
    بھرلے نیناں میں نور کےموتی
    ان کو پلکوں میں پھر پرونے چل
     
  4. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    درد کی نیلی رگیں یادوں میں

    درد کی نیلی رگیں یادوں میں جلنےکے سبب
    ساری چیخیں روک لیتی ہیں سنبھلنےکے سبب
    درد کی نیلی رگیں تو شور کرتی ہیں بہت
    پیکرِ نازک میں اس دل کے مچلنےکے سبب
    درد کی نیلی رگیں برفاب بستر میں پڑی
    ٹوٹ جاتی ہیں ترےخوابوں میں چلنےکےسبب
    درد کی نیلی رگیں عمروں کےنیلے پھیر کو
    زرد کرتی جاتی ہیں صحرا میں پلنےکے سبب
    درد کی نیلی رگیں ہاتھوں میں دوشیزاؤں کی
    چوڑیاں تک توڑدیتی ہیں بکھرنےکے سبب
    درد کی نیلی رگیں ٹھنڈی ہوا سے اشک ریز
    سر خ ہوتی رہتی ہیں آ نسو نگلنےکے سبب
    درد کی نیلی رگیں نیناں سمندر بن گئیں
    ہجر کی راتوں کاپہلا چاند ڈھلنےکے سبب
     
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مثال ِ برگ

    مثال ِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں
    ہوائے تند پہ مسکن بنانا چاہتی ہوں
    وہ جن کی آنکھوں میں ہوتا ہے زندگی کا وبال
    اسی قبیلے سے خود کو ملانا چاہتی ہوں
    جہاں کےبند ہیں صدیوں سےمجھ پہ دروازے
    میں ایک بار اسی گھر میں جانا چاہتی ہوں
    ستم شعار کی چوکھٹ پہ عدل کی زنجیر
    برائے داد رسی کیوں ہلانا چاہتی ہوں
    نجانےکیسےگزاروں گی ہجر کی ساعت
    گھڑی کو توڑ کےسب بھول جانا چاہتی ہوں
    مسافتوں کو ملے منزل ِ طلب نیناں
    وفا کی راہ میں اپنا ٹھکانہ چاہتی ہو ں
     
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    درد کی نیلی رگیں تہہ سے

    درد کی نیلی رگیں تہہ سے اُبھر آتی ہیں
    یاد کے زخم میں چنگاریاں در آتی ہیں
    روز پرچھائیاں یادوں کی، پرندے بن کر
    گھر کے پچھواڑے کے پیپل پہ اتر آتی ہیں
    صورتیں بنتی ہیں چاہت کی یہ کس مٹی سی
    بارہا مٹ کے بھی یہ با ردگر آتی ہیں
    اودے اودےسےصفورےکی گھنی شاخوں سے
    یاد کی سر مئی کرنیں سی گز ر آتی ہیں
    روز کھڑکی سے قریب آم کے اس پیڑ کے پاس
    طوطیاں چونچ میں لےلےکے سحر آ تی ہیں
    اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں
    گٹھڑیاں باندھ کے اس دل کےنگر آتی ہیں
    جتنا بھی چاہوں تری راہ سے بچ کر نکلوں
    تہمتیں اتنی زیادہ مرے سَر آتی ہیں
    اتنی سی بات پہ اچھی نہیں شوریدہ سری
    شام کو چڑیاں تو سب اپنے ہی گھر آتی ہیں
    شرم سےالجھےدوپٹےکی جو کھولوں گر ہیں
    دل کی نیناں رگیں سب کھلتی نظر آتی ہیں
     
  7. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    روز دیکھا ہے
    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
    روز سوچا ہےکہ تم میرے ہو ، میرے ہو نا
    میں تو اک کانچ سے دریا میں بہی جاتی ہوں
    کھنکھناتے ہوئے ہمراز مجھے سن لو نا
    میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
    اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا
    میری تنہائیاں چپکے سے سجا دو آکر
    اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھونا
    روح میں گیت اترجاتے ہیں خوشبو کی طرح
    گنگناتی سی کو ئی شام مجھے بھیجو نا
    چاندنی اوس کےقطروں میں سمٹ جائیگی
    روشنی اس کے سویرے میں کہیں ڈھونڈو نا!
    پھر سے آنکھوں میں وہی رنگ سجا لے نیناں
    کب سےخوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا
     
  8. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ترےخیال سے

    ترےخیال سےآنکھیں ملانے والی ہوں
    سجے سروپ کا جادو جگانے والی ہوں
    میں سینت سینت کےرکھےہوئےلحافوں سے
    کسی کے لمس کی گرمی چرانے والی ہوں
    اُسےجو دھوپ لئےدل کےگاؤں میں اترا
    رہٹ سے،چاہَ ، کا پانی پلانے والی ہوں
    ذرا سی دیر میں برسے گا رنگ بادل سے
    میں اب گھٹا کا پراندہ ہلانے والی ہوں
    جہاں پہ آم کی گٹھلی دبی تھی بھوبھل میں
    وہیں پہ اپنے دکھوں کو تپانے والی ہوں
    اس اَلگنی پہ اکیلے لرزتے قطرے کو
    اٹھا کے نیناں میں سرمہ بنانے والی ہوں
     
  9. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    آدھی رات کے سپنے

    آدھی رات کے سپنے شاید جھوٹے تھے
    یا پھر پہلی بار ستارے ٹوٹے تھے
    جس دن گھر سےبھاگ کےشہر میں پہنچی تھی
    بھاگ بھری کےبھاگ اُسی دن پھوٹے تھے
    مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئی
    ہمسایوں نے ہمسائے ہی لوٹے تھے
    شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
    ہاتھوں سے جب چائے کے برتن چھوٹے تھے
    اوڑھ کےپھرتی تھی جو نیناں ساری رات
    اُس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے
     
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مرے خیال کے برعکس

    مرے خیال کے برعکس وہ بھی کیسا ہے
    میں چھاؤں چھاؤں سی لڑکی وہ دھوپ جیسا ہے
    ہزار شور میں رہنے کے باوجو د اس کا
    وہ بات کرنے کا انداز ایک لے سا ہے
    جو تتلیوں کے پروں سے بنایا تھا چہرہ
    کبھی نہ دیکھ سکی اس کا رنگ کیسا ہے
    تمہیں گلاب کےکھلنے کی کیا صدا آتی
    تمہارے گرد تو ہر وقت صرف پیسا ہے
    تپش سے جلنے لگی ہیں یہ بوندیں بارش کی
    کہ اجلی دھوپ کا موسم بھی اک سزا سا ہے
    میں اپنےدل کی گواہی کو کیسے جھٹلاؤں
    جو کہہ رہا ہے مرا دل وہ بالکل ایسا ہے
    یونہی نہیں تمہیں نیناں نے روشنی لکھا
    تمہارےساتھ کٹھن راستہ بھی طے سا ہے
     
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ترےجنگل کی صندل

    ترےجنگل کی صندل ہوگئی ہوں
    سلگنے سے مکمل ہوگئی ہوں
    ذرا پیاسے لبوں کی اے اداسی
    مجھے تو دیکھ چھاگل ہوگئی ہوں
    بدن نے اوڑھ لی ہےشال اس کی
    ملائم، نرم، مخمل ہوگئی ہوں
    دھنسی جاتی ہے مجھ میں زندگانی
    میں اک چشمہ تھی دلدل ہوگئی ہوں
    کسی کے عکس میں کھوئی ہوں اتنی
    خود آئینے سے اوجھل ہوگئی ہوں
    رکھا ہے چاند اونچائی پہ اتنا
    تمنائوں سے پاگل ہوگئی ہوں
    کرشمہ اک تعلق کا ہے نیناں
    کہ میں صحرا سے جل تھل ہوگئی ہوں
     
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    آسماں کےرنگوں میں

    آسماں کےرنگوں میں رنگ ہےشہابی سا
    دھیان میں ہے پھر چہرہ ایک ماہتابی سا
    منظروں نےکرنوں کا پیرہن جو پہنا ہے
    میں نےاس کا رکھا ہے نام آفتابی سا
    تم عجیب قا تل ہو روح قتل کرتے ہو
    داغتے ہو پھر ماتھا چاند کی رکابی سا
    کوئی کہہ رہا تھا مو ت ٹوٹنے سے آئے گی
    گل نے تو بکھر کے باغ کردیا گلا بی سا
    پھر ہوا چلی شاید بھولے بسرے خوابوں کی
    دل میں اٹھ رہا ہے کچھ شوق اضطرابی سا
    تلخیوں نے پھر شاید اک سوال دوہرایا
    گھل رہا ہے ہو نٹوں میں ذائقہ جو ابی سا
    حرف پیار کے سارے آگئے تھے آنکھوں میں
    جب لیا تھا ہاتھوں میں چہرہ وہ کتابی سا
    بوند بوند ہوتی ہے رنگ و نور کی برکھا
    جب بھی موسم آیا ہے نیناں میں شرابی سا
     
  13. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جب بھی خوشبو سا

    جب بھی خوشبو سا مرےدل نےبکھرنا چاہا
    رنگ پھولوں نےمرے خون میں بھرنا چاہا
    راہ میں سوچ کی دیوار اٹھاد ی اس نے
    الجھنوں سےجو کبھی میں نےگزرنا چاہا
    میری تقدیر سےوہ باب اثر بند ملا
    جب دعاؤں کے پرندوں نے اترنا چاہا
    چل دیا ساتھ ہی میرے تری یادوں کا ہجوم
    راہ سے زیست کی تنہا جو گزرنا چاہا
    جال پھیلادیئے کیا کیا مرے اندیشوں نے
    جب بھی لمحات کی موجوں میں اترنا چاہا
    بھیڑ پنگھٹ پہ چلی ساتھ مرے خوابوں کی
    پیاسےنیناں کو وہاں جا کے جو بھرنا چاہا
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    کوئی بھی

    کوئی بھی نہ د یوار پر سے پکارے
    مگر ذہن یادوں کے اپلے اتارے
    میں پلکیں بچھاتی رہوں گی ہوا پر
    مجھے ہیں محبت کے آداب پیارے
    قبیلے کے خنجر بھی لٹکے ہوئے ہیں
    کھڑی ہیں جہاں لڑکیاں دل کو ہارے
    پلٹ کر صدا کوئی آتی نہیں جب
    مر ا دل کسی کو کہاں تک پکارے
    بنایا ہے تنکوں سے اک آشیانہ
    کھڑی ہوں ابھی تک اسی کےسہارے
    بہت ذائقوں کو سمیٹے ہوئے تھے
    یہ جذبوں کے جھرنے نہ میٹھے نہ کھارے
    مسلسل مرے ساتھ چلتی رہی ہے
    ہوا دھیرے دھیرے سمندر کنارے
    لگاتار روتی ہے لہروں کی پائل
    سدا جھیل میں ہیں شکاری شکارے
    کسک میں ہے نیناں بلا خیز سوزش
    دہکتے ہیں سینے کے اندر شرارے
     
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مرےقریب ہی

    بدن پہ میں نےمگر برف ڈال رکھی ہے
    سنائی دی وہی آواز سبز پتوں سے
    کسی کی یاد ہوا نے سنبھال رکھی ہے
    بھٹک بھٹک گئی سسی تھلوں کے ٹیلے پر
    یہ گوٹھ پیار کی گو دیکھ بھا ل رکھی ہے
    ہمارے دل پہ محبت کا وار اچانک تھا
    رکھی ہی رہ گئی جس جا پہ ڈھال رکھی ہے
    رہیں گے نام وہ پیڑوں پہ نقش صدیوں تک
    چڑھا کے جن پہ بہاروں نے چھال رکھی ہے
    کلائیوں میں کھنک کر رگوں کو کاٹا ہے
    کہ چوڑیوں نے ستم کی بھی چال رکھی ہے
    تلاش بستی میں کرتا ہےجس کو شہزادہ
    وہ مورنی کسی جنگل نے پال رکھی ہے
    میں تکتی رہتی ہوں اس سایہ دار برگد کو
    گھنیری زلف کی اس میں مثال رکھی ہے
    رہ ِ یقیں پہ قدم اٹھ نہیں سکا نیناں
    گماں نےپاؤں میں زنجیر ڈال رکھی ہے
     
  16. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ہے ذرا سا سفر

    ہے ذرا سا سفر ، گزارا کر
    چند لمحے فقط گوارا کر
    دھوپ میں نظم بادلوں پر لکھ
    کوئی پرچھائیں استعارا کر
    چھوئی موئی کی ایک پتی ہوں
    دور ہی سے میرا نظارہ کر
    آسمانوں سے روشنی جیسا
    مجھ پہ الہام اک ستارا کر
    پہلے دیکھا تھا جس محبت سے
    اک نظر پھر وہی دوبارہ کر
    کھو نہ جائے غبار میں نیناں
    مجھ کو اے زندگی پکارا کر
     
  17. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    شام کی گنگناہٹوں میں گم

    شام کی گنگناہٹوں میں گم
    ہوں عجب سنسناہٹوں میں گم
    دل کسی درد سے بھر آیا ہے
    تھا تری مسکراہٹوں میں گم
    بیتے لمحوں کا بوجھ ڈھو ڈھو کر
    ہوگئی ہوں تھکاوٹوں میں گم
    تیرا لہجہ تو روح کھینچتا ہے
    جسم و جاں ہیں رکاوٹوں میں گم
    آنکھ لائی تھی قرض بینائی
    اب یہ ہے جگمگاہٹوں میں گم
    چاندنی کھل کے رو نہیں سکتی
    رات، دن کی لگاوٹوں میں گم
    چہرے تو روشنی سے بنتے ہیں
    آئینے ہیں بناوٹوں میں گم
    میری پازیب رقص میں زخمی
    بزم ہے جھنجھناہٹوں میں گم
    آہ و نا لہ کی تیز یورش میں
    جسم ہے تھر تھراہٹوں میں گم
    ہوں ابھی تیرے دل کےجنگل میں
    گل رُتوں کی تراوٹوں میں گم
    ہونٹ تک بات لاکے نیناں میں
    کیوں ہوئی ہچکچاہٹوں میں گم
     
  18. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    منزل کو رہگذر میں

    منزل کو رہگذر میں کبھی رکھ دیا کرو
    اپنی طلب سفر میں کبھی رکھ دیا کرو
    جن پر وصال ِ یار کا طاری رہے نشہ
    وہ حوصلے نہ ڈر میں کبھی رکھ دیا کرو
    تاروں بھرے فلک سی اڑانیں گری ہوئی
    بےجاں شکستہ پر میں کبھی رکھ دیا کرو
    ممکن ہے اس کو بھی کبھی لے آئے چاند رات
    کچھ پھول سونے گھر میں کبھی رکھ دیا کرو
    حالات میں پسی ہوئی مجبوریوں کو تم
    احباب کی نظر میں کبھی رکھ دیا کرو
    پیاسوں کےواسطے یہی نیناں بھرے بھرے
    جلتےجھلستے تھر میں کبھی رکھ دیا کرو
     
  19. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے

    ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے
    وہ جواباَ زبان بستہ ہے
    روح مضبوط کیسے رکھوں میں
    جسم میرا ازل سے خستہ ہے
    زندگی کے ہزار رستے ہیں
    میرے قدموں کا ایک رستہ ہے
    سبق آگے کا میں پڑھوں کیسے
    پاس میرے تو پہلا بستہ ہے
    ہے بلند آدمی ذہانت سے
    ذہنیت پست ہو تو پستہ ہے
    اس کا تیار ہو گیا تختہ
    چھین کر تخت جو نشستہ ہے
    دردِ دل کا سبق کیا تھا حفظ
    یاد نیناں وہ جستہ جستہ ہے
     
  20. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دھوپ گر نہ صحرا کی، راز ،کہہ، گئی ہوتی

    دھوپ گر نہ صحرا کے راز کہہ گئی ہوتی
    میں تو بہتے دریا کے ساتھ بہہ گئی ہوتی
    اس طرح نہ پانی کے پاؤں تیز تیز اٹھتے
    غرق ہونے کی افواہ تہہ میں رہ گئی ہوتی
    چاند ٹوٹ جائے گا کانچ کے سمندر میں
    کاش میں بھی پونم کی شب میں گہہ گئی ہوتی
    دل سے کھیلنے والا کیوں پڑوس سےجاتا
    چار دن سلوک اس کا اور سہہ گئی ہوتی
    کوئی چہرہ نیناں میں روشنی جلا دیتا
    بات یہ ہماری تا مہر و مہ گئی ہوتی
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر