خیمۂ خواب۔۔۔۔ اسعد بدایونی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 12, 2006

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کیا زمانہ تھا کہ سب عرصۂ جاں میرا تھا
    خیمۂ خواب سرِ جوئے رواں میرا تھا
    منظرِ ہجر سے آگے بھی کئی منظر تھے
    میں نہ سمجھا تو سراسر یہ زیاں میرا تھا
    جس سے روشن ہوئی بستی وہ چمک کس کی
    دور تک دشت میں پھیلا جو دھواں میرا تھا
    ہر سیہ رات میں روشن تھا مری جاں کا چراغ
    ہر چمکتے ہوئے ذرّے میں نشاں میرا تھا
    برگِ آوارہ صفت دوش ہوا پر تھے یقیں
    یار تھا کوئی تو دنیا میں گماں میرا تھا
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گھر کی کسک وجود میں گھر کر گئی تمام
    منسوخ میرے اگلے سفر کرگئی تمام
    ارض وسماء فقط مری مٹھی میں آگئے
    افواہ دوستوں پہ اثر کرگئی تمام
    اس رہگذر میں ایک کرن میرے ساتھ تھی
    پھر یوں ہوا کہ وہ بھی سفر کرگئی تمام
    ہم سب گناہ گار قبیلے کے لوگ ہیں
    پامال ہم کو موجِ سحر کرگئی تمام
    موجِ ہوا بھی تیغ ہلاکت سے کم نہ تھی!
    اشجارِ خواب زیر و زبر کرگئی تمام
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پیارے پیارے موسم آئے رنگوں کے فواروں جیسے
    پتے تیری آنکھوں جیسے پھول تیرے رخساروں جیسے
    پل دو پل میں پھٹ جائیں گے اور ٹکڑوں میں بٹ جائیں گے
    تیرے میرے سپنے کیا ہیں بچوں کے غباروں جیسے
    رات مجھے اک خواب آیا تھا میں دشمن فوجوں میں گھرا ہوں
    آنکھ کھلی تو سوچا میں نے سب چہرے تھے یاروں جیسے
    دنیا ایک سمندر جس میں ہم دونوں کا ربط ہے اتنا !
    جسم ترا کشتی کی صورت ہاتھ مرے پتواروں جیسے
    وہ ہے اچھی صورت والا پیاری موزوں قامت والا
    باتیں اس کی بادل جیسی ، لفظ اس کے بوچھاروں جیسے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گھر سے نکلا تھا میں تو زیاں راہ پر اک سفر اپنی تقدیر کرتا ہوا
    میری مٹی کا جادو مقابل مرے ، میرے قدموں کو زنجیر کرتا ہوا
    دشتِ حالات میں وقت کے لشکری اپنی اپنی کمانیں سنبھالے ہوئے
    میرے اسپِ صبا کی پزیرائیاں ظالموں کا ہر اک تیر کرتا ہوا
    اے زمین سخن میں تیری خاک میں مل کے اک روز پھر خاک ہوجاونگا
    اپنے دکھ کے مرقعے بناتا ہوا اپنی خوشیوں کو تصویر کرتا ہوا
    ایک شب جاگتی آنکھوں گزرا تھا میں ایک شہرِ طلسمات کی راہ سے
    منظروں کی کتابیں الٹتا ہوا کچھ ہواؤں پہ تحریر کرتا ہوا !
    نرم ہونٹوں کا بوسہ عجب چیز تھا مجھ سے پتھر میں جادو جگا کر گیا !
    میری سانسوں میں خوشبو سی بھرتا ہوا میرے جذبوں کی تطہیر کرتا ہوا
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اک ادھورے خواب کی خاطر چھوڑدیا گھر بار
    یاتو ہم پاگل ہیں یارو یا پھر ہم ہشیار
    جنگل جنگل گھوم رہا ہے موسم کا قزّاق
    میری طرح حیران کھڑے ہیں سب کے سب اشجار
    جیسے شاخ اور پھول کا رشتہ جیسے سخت چٹان
    اتنا نازک اتنا مشکل جذبوں کا اظہار
    سارے نشّے آتی جاتی لہروں کی مانند
    لمس کی لذت آخر آخر جسموں میں بیدار
    آنکھوں کی سرحد سے آگے ایک طلسمی شہر
    لوگ جہاں سب پھولوں جیسے گھر سارے گلزار
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مجھے بھی وحشتِ صحرا پکار میں بھی ہوں
    ترے وصال کا امیدوار میں بھی ہوں
    پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیں
    کہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں
    مجھے بھی حکم ملے جان سے گزرنے کا
    میں انتظار میں ہوں ، شہسوار میں بھی ہوں
    بہت سے نیزے یہاں خود مری تلاش میں ہیں
    یہ دشت جس میں برائے شکار میں بھی ہوں !
    ہوا چلے تو لرزتی ہے میری لوکتنی!!
    میں اک چراغ ہوں اور بے قرار میں بھی ہوں
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھوجانا
    نہ جاگنا ہی میسّر مجھے نہ سوجانا
    یہ سب فریب ہے میں کیا ہوں میری چاہت کیا
    جو ہوسکے تو مری طرح تو بھی ہوجانا
    ہنسی میں زخم چھپانے کا فن بھی زندہ ہے
    اسی خیال سے سیکھا نہ میں نے روجانا
    اداس شہر میں زندہ دلی کی قیمت کیا
    بجا ہے میری ہنسی کا غبار ہوجانا
    حسین تجھ سے زیادہ بھی ہیں زمانے میں
    برا ہے آنکھ کا پابندِ رنگ ہوجانا !
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک تسلسل ایک تواتر ایک نفی اثبات کے بعد
    صبح وہی سورج پھر ہوگا لمبی کالی رات کے بعد
    باہر کا احوال نہ پوچھو جان کے ہم بھی پچھتائے
    دنیا کے بارے میں سوچو لیکن اپنی ذات کے بعد
    ہر رستے پر دیکھ رہا ہوں چلتے پھرتے پھول بہت
    شاید کوئی قحط پڑے گا فصلوں کی بہتات کے بعد
    سبزہ و گل سب جاگ پڑیں گے گہری نیندیں ٹوٹیں گی
    سارے منظر زندہ ہوں گے ایک گھنی برسات کے بعد
    ہم سے اپنی ذات کا خاکہ کب لفظوں میں قید ہوا
    کہنا باقی رہ جاتا ہے کیا کیا کچھ ابیات کے بعد
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے
    منظر یہاں تمام مگر کربلا کا ہے
    آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر
    تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے
    غیروں کو کیا پڑی ہے کہ رسوا کریں مجھے
    ان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے
    اب ہم وصالِ یار سے بیزار ہیں بہت
    دل کا جھکاو ہجر کی جانب بلا کا ہے
    یہ کیا کہا کہ اہلِ جنوں اب نہیں رہے
    اسعدؔ جو تیرے شہر میں بندہ خدا کا ہے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہر ایک الزام کے لیے نام صرف بے مہر آسماں کا
    زمینِ سفّاک سے بھی جوڑو ، کبھی تو رشتہ کسی زیاں کا
    نہ اب کے بادِبہار نے وحشیوں میں کوئی جنوں جگایا
    ملول کرتا ہوا نہ آیا، کہیں سے جھونکا کوئی خزاں کا
    تمام سچی کہانیوں میں سیاہ کاذب حروف شامل
    یقین کے سارے طاقچوں میں چراغ جلتا ہوا گماں کا
    نظر میں خوابوں کا شہر جس سے بدن میں خوشبو کی لہر جس سے
    وہ عکس اک چہرہ حسیں کا وہ لمس ایک دستِ مہرباں کا
    میں آسمانوں کی وسعتوں سے زمیں پہ گرتا ہوا پرندہ
    میں ایک ٹکڑا فضول سا ہوں کسی کہانی کے درمیاں کا
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کوئی شخص کب سے بسا ہوا مرے شہرِ جاں میں عجیب ہے
    جو خزاں کی راہ میں یار ہے جو گلاب رُت میں رقیب ہے
    میں چراغ بن کے جلوں تو کیا سرِ شاخِ سبز کھلوں تو کیا
    یہ ہوا جو میرے جلو میں ہے یہ زیاں جو میرا نصیب ہے
    نہ کوئی کرن مری راہ میں نہ وہ چاند چہرہ نگاہ میں
    مرادشت کتنا طویل ہے مری رات کتنی مہیب ہے
    وہ قریب تھا تو نظر میں تھا کئی آسمانوں کا فاصلہ
    وہ جو مجھ سے دور چلا گیا تو کھلا کہ کتنا قریب ہے
    مری شاعری مری داستاں ہے بنائے رنجشِ دوستاں
    مرا فن نہیں مرا چارہ گر مرے واسطے یہ صلیب ہے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں اپنے منظر سے کٹ گیا تو کہاں مری شاعری رہے گی
    چراغ کی لو ہوا کے ہاتھوں سے عمر بھر کھیلتی رہے گی
    مرے شجر کو بتا دیا ہے اداس موسم کے محرموں نے
    دکھوں کے گل عارضی نہیں ہیں زیاں کی ڈالی ہری رہے گی
    بھنور یونہی سطح جستجو کے طواف میں منہمک رہیں گے
    رواں اسی طرح ساحلوں کے فراق میں یہ ندی رہے گی
    یہی ازل اور ابد کا قصّہ یہی ہے اہلِ جنوں کا حصّہ!
    رہے گا دریا کا شور دل میں زبان پر تشنگی رہے گی
    ملن کے پل تو گریز پا ہیں وصال کی رت ہے آنی جانی
    سو ہجر کو ہی عزیز رکھو یہ دوستی دائمی رہے گی
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک منظر افق زاد لمحوں کا بے دست وپا میری آنکھوں میں ہے
    جس پہ چلنے کی پیروں کو جرأت نہیں راستہ میری آنکھوں میں ہے
    مجھ سے پوچھو گزشتہ زمانوں میں جو کچھ مسافر پہ گزرا ہے
    ہر سفر کی صعوبت کا یک بیکراں سلسلہ میری آنکھوں میں ہے
    میں نے بجھتی ہوئی شام کے ساتھ جلتے ہوئے دیپ دیکھے بہت
    کس لئے عالمِ آب و گل کا عجب رابطہ میری آنکھوں میں ہے
    واقعی گرم لمحوں سے ناآشنا تادمِ مرگِ انبوہ میں
    دوستو دیکھ لو آج تک ساعتِ یخ زدہ میری آنکھوں میں ہے
    ایک خورشید وہ جو ترے آسمانوں میں اپنی چمک پر مگن
    ایک سورج کہ ہر شام نوحہ کناں ڈوبتا میری آنکھوں میں ہے
    کس لیے میرا رشتہ ہے قبروں سے قائم ابھی تک بصد حوصلہ
    سوچتا ہوں کہ کیوں رفتگاں کا ہر اک نقشِ پا میری آنکھوں میں ہے
    مبتلا ہوں مسلسل سفر کی گھنی کیفیت میں کراں تا کراں !!
    دشتِ حیرت کہ اب تک جنوں رنگ و خواب آشنا میری آنکھوں میں ہے
    تم کو توفیق ہو تو نگاہیں ملاؤ یقینا نظر آئے گا کچھ نہ کچھ !
    زنگ خوردہ سہی دشمنو، پھر بھی اک آئینہ میری آنکھوں میں ہے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی
    پھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی
    سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنی
    میرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی
    جم گئی دھول ملاقات کے آئینوں پر
    مجھ کو اس کی نہ اسے میری ضرورت کوئی
    میں نے دنیا کو سدا دل کے برابر سمجھا
    کام آئی نہ بزرگوں کی نصیحت کوئی
    سرمئی شام کے ہمراہ پرندوں کی قطار
    دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بشارت کوئی
    بجھتی آنکھوں کو کسی نور کے دریا کی تلاش
    ٹوٹتی سانس کو زنجیر ، ضرورت کوئی
    تو نے ہر نخل میں کچھ ذوقِ نمو رکھا ہے
    اے خدا میرے پنپنے کی علامت کوئی
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بند تھے میرے چشم و لب اور میں سوچتا رہا
    شہر تھا غرق موجِ شب اور میں سوچتا رہا
    صبح فراق یار سے شامِ وصالِ یار تک
    بیچ کی منزلیں عجب اور میں سوچتا رہا
    میرے سوا کسے ہوا اپنے زیاں کا حوصلہ
    گنگ تھے حرف و صوت سب اور میں سوچتا رہا
    موج سخن کہ مجھ تلک آکے سدا پلٹ گئی
    سیکڑوں شاعری کے ڈھب اور میں سوچتا رہا
    کسی نے دیا ہے کیا مجھے جس کا حساب رکھ سکوں
    لطف و عنایت و غضب اور میں سوچتا رہا
    میرے سخن کا ولولہ میرے سفر کا سلسلہ
    خام ہیں یہ خیال سب اور میں سوچتا رہا
    رات عجیب حال میں غرق تھا اس سوال میں
    کس کی رہی مجھے طلب اور میں سوچتا رہا
    پھول کھلا تھا کس طرح ، زخم سلا تھا کس طرح
    کون تھا چارہ سازِ شب اور میں سوچتا رہا
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سہانی دھوپ نیلے آسماں سے کچھ نہیں ہونا
    کہ اب پیدا ہمارے خاکداں سے کچھ نہیں ہونا
    مراصحرا وہ صحرا ہے سمندر جس کو ناکافی
    کسی ندّی کسی جوئے رواں سے کچھ نہیں ہونا
    دریچے بند ہیں مخلوق خوابِ جاوداں میں ہے
    اب ان گلیوں میں آوازِ سگاں سے کچھ نہیں ہونا
    ہمیشہ دھوپ کو ان راستوں میں ساتھ رہنا ہے
    سفر ایسا ہے جس میں سائباں سے کچھ نہیں ہونا
    جو ہونا ہے وہ اپنے پاؤں کی لغزش سے ہونا ہے
    جھٹک دو ذہن احساسِ زیاں سے کچھ نہیں ہونا
    چراغوں کی لوؤں میں ایک تصویروں کا جنگل ہے
    بجھادو ان کو، یادِ رفتگاں سے کچھ نہیں ہونا
    عجب اک شور صحنِ جاں میں ہے پتوں کے گرنے کا
    کہ اب افسوس باہر کی خزاں سے کچھ نہیں ہونا
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہوا چراغ کی لو کو ڈراتی رہتی ہے
    خزاں کے زخم ہر اک شاخ کھاتی رہتی ہے
    خموشیوں میں بھی گویائی کے خزانے ہیں
    ہر اک سکوت سے آواز آتی رہتی ہے
    ورق کی طرح الٹتے ہیں پے بہ پے منظر
    زمین کوئی کہانی سناتی رہتی ہے
    فقط سحر ہی رجز خوانیاں نہیں کرتی
    سیاہ رات بھی کچھ گنگناتی رہتی ہے
    جو بے سپر ہیں وہ اشجار گرتے رہتے ہیں
    ندی نحیف کناروں کو کھاتی رہتی ہے
    بجھی ہے آنکھ تو منظر بھی بجھ گئے ہونگے
    دلوں کے ساتھ ہی دنیا بھی جاتی رہتی ہے
    تلاش میں کوئی شہزادہ اب نہیں جاتا!!
    کہانیوں کی پری تو بلاتی رہتی ہے
    جو العطش کی صداؤں پہ کان دھرتا ہے
    سناں، اسی کے لہو میں نہاتی رہتی ہے
    کبھی سکون نہیں قریۂ تمنّا میں
    بلا کوئی نہ کوئی سر اٹھاتی رہتی ہے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب احساسِ زیاں ہونے لگا ہے
    دلِ زندہ دھواں ہونے لگا ہے
    پہاڑوں پر نکل آیا ہے سورج
    کوئی چشمہ رواں ہونے لگا ہے
    کسی جانب مسلسل دیکھنے سے
    اداسی کا گماں ہونے لگا ہے
    عدو خیموں میں خوابیدہ پڑے ہیں
    محاذوں پر دھواں ہونے لگا ہے
    در و دیوار بدلے جارہے ہیں
    پرانا گھر جواں ہونے لگا ہے
    مری تنہائی کے سادہ افق پر
    ستارہ ضوفشاں ہونے لگا ہے
    دسمبر آگیا اب اور نیلا
    ہمارا آسماں ہونے لگا ہے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کہانیوں کے پھول شاخ شاخ پر کھلے رہیں
    شجر شجر عظیم داستاں کے سلسلے رہیں
    کوئی خبر کہ راستہ بہار کا بدل گیا
    کوئی دعا کہ وحشیوں کے چاک سب سلے رہیں
    کوئی تو اس سفر میں میری حیرتوں کا ساتھ دے
    یہ کیا کہ عمر بھر مجھے ہر ایک سے گلے رہیں
    کوئی چراغ جس سے ظلمتوں کی جاں فگار ہو
    کوئی سبیل جس سے راستوں کے دل ہلے رہیں
    زمین پہ پھول صورتوں کو اے خدا دوام دے
    دھنک کے رنگ آسماں پہ بس یونہی کھلے رہیں
    کبھی کبھی رگِ گلو میں خنجروں کی کاٹ ہو
    کبھی کبھی وصال رت میں ہجر کے گلے رہیں
    یہ کاروبارِ دہر کتنا پر سکوں دکھائی دے
    زمین پہ چار سو اگر جنوں کے سلسلے رہیں
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شام سے خوں مری آنکھوں میں اتر آئے گا
    آئے گا وہ تو بہ ہنگام سحر آئے گا
    راستے گرد سے اٹ جائیں گے رفتہ رفتہ
    رفتہ رفتہ جو مسافر ہے وہ گھر آئے گا
    اس مسافت میں ضرور آئے گی اک درد کی راہ
    درد کی راہ میں درماں کا شجر آئے گا
    وہ تو جھونکا ہے اسے راہ سے نسبت کوئی
    کوئی دیوار نہ روکے گی جدھر آئے گا
    ان دنوں جاں سے گزرجانے کی فرصت کس کو
    کس کو درپیش محبت کا سفر آئے گا
    شاہراہوں پہ ہجومِ قدوقامت ہے کیا
    کیا کوئی چاند سا چہرہ بھی نظر آئے گا
    اس کے ہونٹوں سے برسنے لگے فریاد کے پھول
    پھول کہتے ہیں وہ شیشے میں اتر آئے گا
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     

اس صفحے کی تشہیر