حسان خان

لائبریرین
هر آن کس که چو من آشنایِ تبریز است
به هر کجا که رود در هوایِ تبریز است

(یدالله مفتون امینی)
جو بھی شخص میری طرح شہرِ تبریز کا آشنا ہے، وہ جس جا بھی جائے، شہرِ تبریز کی آرزو میں رہتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
کجا روم به تفرُّج که روحِ عاشقِ من
اسیرِ این همه لُطف و صفایِ تبریز است

(یدالله مفتون امینی)
میں سَیر و تفریح کے لیے کہاں جاؤں کہ میری روحِ عاشق شہرِ تبریز کے اِس سب لُطف و صفا [و رونق] کی اسیر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز کی سِتائش میں کہی گی ایک نظم کی دو ابتدائی ابیات:
شهرِ تبریز است و، خاکش تُربتِ مردانگی
مردُمانش سروقامت، اُسوهٔ آزادگی
بَه چه شیرین است زبانش، تُرکیِ شیرین‌سُخن
من که می‌نازم به نامش، با تمامِ بندگی

(بشیر بیگ بابایی)
شہرِ تبریز کی خاک مردانگی و بُزُرگواری کی خاک ہے۔۔۔ اُس کے مردُم سرْو قامت اور پیشوائے آزادگی و نجابت ہیں۔۔۔ واہ! اُس کی زبان تُرکیِ شیریں سُخن کس قدر شیریں ہے۔۔۔ میں تو کامل غلامی و خدمت گُزاری کے ساتھ اُس کے نام پر ناز کرتا ہوں۔

× یہ نظم مضامین کے لِحاظ سے تو خوب ہے، لیکن فنّی لِحاظوں سے ضعیف و ناقِص اور گُفتاریت سے پُر ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سلجوقی دور کے امیرِ آذربائجان 'ابونصر مملان' کی مدح میں کہے گئے قصیدے میں سے ایک بیت:
چو تو مجلس آرایی و جام گیری
ز تبریز زرّین کنی تا بُخارا

(قطران تبریزی)
جب تم مجلس آراستہ کرتے اور [دست میں] جام لیتے ہو تو تبریز سے لے کر بُخارا تک [زمین کو] زرّیں کر دیتے ہو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
نبود شهر در آفاق خوش‌تر از تبریز
به ایمِنی و به مال و به نیکویی و جمال

(قطران تبریزی)
امنیت و سلامتی، مال، زیبائی اور جمال کے لحاظ سے کوئی شہر آفاق میں تبریز سے خوب تر نہ تھا۔
 

حسان خان

لائبریرین
از تو اُمّیدِ وفا داشتم، ای شعلهٔ ناز
هستی‌ام سوختی و شمعِ مزارم نشدی

(محمدرِضا شفیعی کدکَنی)
اے شعلۂ ناز! میں تم سے اُمیدِ وفا رکھتا تھا، [لیکن] تم نے میری ہستی کو جلا دیا اور [بعد ازاں] تم میرے مزار کی شمع [بھی] نہ بنی۔
 

حسان خان

لائبریرین
همه شب سوختم از غم ولی ای صبحِ اُمید
یک نَفَس راحتِ جان و دلِ زارم نشدی

(محمدرِضا شفیعی کدکَنی)
اے صُبحِ اُمید! میں تمام شب غم سے جلا، لیکن تم ایک لمحہ [بھی] میری جان و دلِ زار کی راحت نہ بنی۔
 

حسان خان

لائبریرین
داستانِ عشقِ من شیرین‌تر از فرهاد بود
گر نگفتم پاسِ عشقِ کوه‌کن می‌داشتم

(محمدرِضا شفیعی کدکَنی)
میرے عشق کی داستان فرہاد سے زیادہ شیریں تھی۔۔۔ اگر میں نے نہ کہی [تو اِس کا سبب یہ ہے کہ] میں فرہادِ کوہ کَن کے عشق کا پاس رکھتا تھا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
آں کس کہ بیند روئے تو، مجنوں نگردد کو بگو
سنگ و کلوخے باشد اُو، او را چرا خواہم بلا


مولانا رُومی

ذرا کہو تو وہ کون ہے کہ جو تجھے دیکھے اور مجنوں نہ بن جائے، (اور اگر کوئی ہے تو) وہ پتھر اور روڑا ہے، اُس کے لیے میں آزمائش کیوں چاہوں۔ (میری طرح آزمائش تو اُس کی ہے جو تجھے دیکھتے ہی مجنوں بن جائے)۔
 

حسان خان

لائبریرین
جوابِ نامه‌ام از بس ز جانان دیر می‌آید
جوان گر می‌رود قاصد به کویش، پیر می‌آید
(معلوم آذربایجانی)

محبوب کی جانب سے میرے مکتوب کا جواب اِتنا زیادہ دیر سے آتا ہے کہ اگر قاصد اُس کے کوچے میں جوان جاتا ہے، تو پِیر (بوڑھا) واپس آتا ہے۔
 

فہد اشرف

محفلین
داستانِ عشقِ من شیرین‌تر از فرهاد بود
گر نگفتم پاسِ عشقِ کوه‌کن می‌داشتم

(محمدرِضا شفیعی کدکَنی)
میرے عشق کی داستان فرہاد سے زیادہ شیریں تھی۔۔۔ اگر میں نے نہ کہی [تو اِس کا سبب یہ ہے کہ] میں فرہادِ کوہ کَن کے عشق کا پاس رکھتا تھا۔
کوہکن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئے
عشق میں ہم کو میرؔ نہایت پاس عزت داراں ہے
میر تقی میر
کیوں نہ ایک ایسی بھی لڑی ہو جہاں ایک جیسے مضمون والے فارسی اور اردو اشعار جمع کیے جائیں
 

حسان خان

لائبریرین
آذربائجان ایک الگ ملک نہیں ہے؟
جو مُلک فی زمانِنا 'جمہوریۂ آذربائجان' کے نام سے جانا جاتا ہے وہ کُل دیارِ آذربائجان کا ارضی لحاظ سے چالیس فیصد اور آبادی کے لحاظ سے محض تیس فیصد ہے۔ بقیہ حصہ ایران میں واقع ہے، بلکہ تاریخی لحاظ سے 'آذربائجان' ایرانی آذربائجان ہی کا نام ہے، 'جمہوریۂ آذربائجان' کے علاقوں کو اران، شیروان، قرہ باغ اور نخچِوان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جمہوریۂ آذربائجان کا مِنطقہ قاجاری-روس جنگوں میں شکست کے نتیجے میں قاجاری ایران کے دست سے نکل کر روسی سلطنت میں داخل ہوا تھا۔
 
آخری تدوین:
حق جلوہ گر ز طرزِ بیانِ محمد است

آری کلامِ حق بزبانِ محمد است

(غالب)


حق جلوہ گر حضور کے طرزِ بیاں سے ہے

ہاں ہاں کلامِ حق بھی انہی کی زباں سے ہے

(شاکرالقادری)

واعظ حدیثِ سایۂ طوبیٰ فرو گزار

کایں جا سخن ز سروِ روانِ محمدؐ است

(غالب)


واعظ ! نہ چھیڑ سایۂ طوبیٰ کے تذکرے

مجھ کو غرض حجاز کے سروِ رواں سے ہے

(شاکرالقادری)

ور خود ز نقشِ مہرِ نبوت سخن رود

آں نیز نامور ز نشانِ محمدؐ است

(غالب)


ہو تذکرہ جو مہرِ نبوت کے نقش کا

وہ بھی تو نامدار انہی کے نشاں سے ہے

(شاکرالقادری)


تیرِ قضا هر آینه در ترکشِ حق است

اما کشادِ آن ز کمانِ محمد است

(غالب)


تیرِ قضا ہیں ترکشِ حق میں رکھے ہوئے

لیکن کشاد ان کی ، نبی کی کماں سے ہے

#شاکرالقادری
 

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجانی شاعر 'د. لطیف' اپنی مادری زبان تُرکی کی سِتائش میں کہی گئی نظم کے مطلع میں کہتے ہیں:
ای زبانِ تُرکی ای فرّ و شُکوهِ جاودان
با تو شیرین می‌شود کامم گُشایم چون زبان

(د. لطیف)
اے زبانِ تُرکی! اے جاودانی شان و شوکت! جب میں زبان کھولتا ہوں تو تم سے میرا کام و دہن شیریں ہو جاتا ہے۔
× کام = تالُو
 
دیوانه خموش به عاقل برابرست
دریای آرمیدہ به ساحل برابرست


خاموش دیوانہ اور عاقل برابر ہیں( اسی طرح جیسے) پرسکون دریا اور ساحل برابر ہیں.


صائب تبریزی
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
قاجاری دور کے ایرانی آذربائجانی تُرکی سرا شاعر محمّد خلیفه عاجز گرمه‌رُودی کی ایک فارسی مُخمّس کا ایک بند:
به تو مانَند ندیدم به همه دَیر و حرم،
کَی توان دل ز تو برداشتن، ای طُرفه صنم!
بُوَدم ار به جهان شوکتِ کَی، حشمتِ جم،
به تو مُحتاج چُنانم که فقیری به دِرم،
به تو مُشتاق چُنانم که غریقی به کنار.

(عاجز گرمه‌رُودی)
میں نے تمام دَیر و حرم میں تمہاری مثل نہیں دیکھی۔۔۔ اے حیرت انگیز و نادِر صنم! تم سے دل کب اُٹھایا جا سکتا ہے؟۔۔۔ اگر میرے پاس جہان میں کَے کی شوکت اور جمشید کی حشمت ہو، [تو بھی] میں تمہارا اِس طرح مُحتاج ہوں کہ جس طرح کوئی فقیر درہم کا ہوتا ہے۔۔۔ [اور] اِس طرح تمہارا مُشتاق ہوں کہ جس طرح کوئی غرق شدہ شخص ساحل کا ہوتا ہے۔
× کَے، جم/جمشید = اساطیری ایرانی پادشاہان
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(نعتیہ بیت)
ز احمد تا احد یک میم فرق است
جهانی اندر آن یک میم غرق است

(شیخ محمود شبِستری)
احمد سے احد تک ایک میم کا فرق ہے۔۔۔ اُس ایک میم میں ایک عالَم غرق ہے۔
 
آخری تدوین:
Top