حسان خان

لائبریرین
کیا آپ تمام لوگ فارسی سمجھتے ہیں؟ بھئ مجھے تو بڑی ہی مشکل زبان لگ رہی ہے پر کشش بھی محسوس ہو رہی ہے، مجھے تو فارسی کا "ف" بھی سمجھ نہیں آتا اس لیے اشعار پڑھنے میں وہ لذت نہیں آ رہی ، کوئ حضرت راہنمائ فرمائیں گے کے مجھے فارسی سیکھنے یا سمجھنے کے لیے کیا اقدام کرنا ہوں گے؟
آپ کو یہ جان کر شادمانی ہو گی کہ فارسی کا شمار دنیا کی آسان تر زبانوں میں ہوتا ہے اور اردو جاننے والے شخص کے لیے تو یہ بہت آسان زبان ہے۔ اگر آپ فارسی زبان سیکھنا چاہ رہے ہیں تو آپ پہلا قدم یہ اٹھائیے کہ کلاسیکی اردو ادبیات کا مطالعہ کر کے کلاسیکی اردو یا اردوئے معلّیٰ پر بخوبی تسلط حاصل کر لیجیے۔ جب آپ ایسا کر لیں گے تو گویا آپ نیم سے زیادہ فارسی سیکھ چکے ہوں گے۔ بعد میں پھر آپ کو ریاضی کے قاعدوں کی طرح بس چند تصریفی قاعدے ذہن نشین کرنے ہوں گے جن کی مدد سے آپ فارسی شعروں اور جملوں کے معنی درک کرنے پر قادر ہو جائیں گے۔ اِس سلسلے میں آپ کی اعانت کرنے کے لیے یہاں دوست موجود ہیں۔
اگر آپ کو علامہ اقبال کی اردو شاعری کسی پریشانی کے بغیر سمجھ آ‌ جاتی ہے تو سمجھیے کہ آپ نصف فارسی قبل ہی سے جانتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

ضیاءالقمر

محفلین
یَک زباں دارم من آنہم مُنکسِر
دَر خجالت از تو اے دانائے سِر

مولاناؒ
میں ایک زبان رکھتا ہوں وہ بھی ٹوٹی ہوئی اے راز کو جاننے والے! تجھ سے شرمندگی میں
 

حسان خان

لائبریرین
رُموزِ قطره جز دریا کسی دیگر چه می‌داند؟
دلت در دست و از من حالِ دل پُرسیدنت نازم
(بیدل دهلوی)
قطرے کے رموز کو دریا کے سوا کوئی دیگر کیا جانے گا؟ دل کے تمہارے دست میں ہوتے ہوئے تمہارے مجھ سے حالِ دل پوچھنے پر مجھے ناز ہے [اور میں آفریں کہتا ہوں]۔

تشریح: "وقتی دلِ مرا برده‌ای و آن را در دست داری، دیگر احوالِ دل پرسیدن چه معنی دارد؟ آن دل که در دستِ توست، همانندِ قطره‌ای که به دریا وصل شده باشد. پس تو خود رموزِ آن را بهتر می‌دانی."
ترجمہ: جب تم میرا دل ہتھیا چکے ہو اور وہ تمہارے دست میں ہے تو پھر احوالِ دل پوچھنا کیا معنی رکھتا ہے؟ وہ دل کہ تمہارے دست میں ہے، اُس قطرے کی مانند ہے جو دریا سے وصل ہو چکا ہو۔ پس تم خود اُس کے رموز کو بہتر جانتے ہو۔
(شارح: محمد کاظم کاظمی، از افغانستان)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
مثالِ بلبلِ شیراز هر سو نغمه‌زن باشد
خدایا کن برای اخترِ خوش‌لهجه سامانی
(واجد علی شاه اختر)

اے خدا! اخترِ خوش لہجہ کے لیے کوئی ایسا انتظام کر کہ وہ بلبلِ شیراز کی مانند ہر جانب نغمہ زن ہو۔
 

حسان خان

لائبریرین
محمد فضولی بغدادی کی ایک فارسی غزل کی ابتدائی دو ابیات:
گل‌رخا! نوش‌لبا! سیم‌برا! سرو‌قدا!

ما بَدا قَبْلَكَ ما فِيكَ مِنَ الحُسْنِ بَدا
من نه اینم که دهم غیرِ تو را در دل ره
اَکْرَهُ الشِرْكَ فَلا اُشْرِكُ رَبِّي أَحَدا
(محمد فضولی بغدادی)
اے گُل رُخ! اے نوشیں لب! اے سیم بر! اے سرو قد! تم میں موجود حُسن تم سے قبل کسی میں ظاہر نہ ہوا؛ میں وہ نہیں ہوں کہ میں تمہارے سوا کسی کو [اپنے] دل میں راہ دے دوں؛ مجھے شرک سے نفرت ہے، پس میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا۔

× بیتِ ثانی میں سورۂ کہف کی آیت ۳۸ کی جانب اشارہ ہے۔
 
آخری تدوین:
در عشق و ہوسناکی دانی کہ تفاوت چیست؟
آں تیشہء فرہادے، ایں حیلہء پرویزے

ترجمہ
عشق اور ہوس کے درمیان جانتا ہے کہ کیا فرق ہے؟ عشق فرہاد کا تیشہ ہے اور ہوس پرویز کا مکر و فریب۔

اپنی محدود ذہنی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے میں نے اس شعر کو سمجھنے کی مکرر سعی کی ہے مگر سمجھنے سے قاصر ہوں۔خاص طور پر فرہاد اور پرویز کا تقابل سمجھ میں نہیں آیا۔

شائقین فارسی سے گزارش ہے کہ نظر کرم فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

محمد وارث حسان خان
 

محمد وارث

لائبریرین
در عشق و ہوسناکی دانی کہ تفاوت چیست؟
آں تیشہء فرہادے، ایں حیلہء پرویزے

ترجمہ
عشق اور ہوس کے درمیان جانتا ہے کہ کیا فرق ہے؟ عشق فرہاد کا تیشہ ہے اور ہوس پرویز کا مکر و فریب۔

اپنی محدود ذہنی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے میں نے اس شعر کو سمجھنے کی مکرر سعی کی ہے مگر سمجھنے سے قاصر ہوں۔خاص طور پر فرہاد اور پرویز کا تقابل سمجھ میں نہیں آیا۔

شائقین فارسی سے گزارش ہے کہ نظر کرم فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

محمد وارث حسان خان
اس ڈرامے کے کردار

شیریں ۔ ہیروئن۔ محبوبہ
فرہاد ۔ ہیرو۔ نامراد عاشق
خسرو پرویز ۔ ولن ۔ ایرانی بادشاہ جس نے شیریں کو فرہاد سے چھین لیا تھا
پلاٹ ۔ جب خسرو نے شیریں کو چھین لیا تو فرہاد سے کہا کہ پہاڑوں کو کاٹ کر نہر نکال لاؤ اور شیریں کو لے جاؤ۔ فرہاد تیشے سے پہاڑ کاٹنے چل نکلا، جب پرویز نے دیکھا کہ یہ تو واقعی نہر لے آئے گا تو مکاری سے فرہاد کے پاس پیغام بھیجا کہ شیریں تیرے غم میں مر گئی، فرہاد نے یہ سنا تو جس تیشے سے پہاڑ کھود رہا تھا اس کو سر میں مار کر مر گیا۔ نیز یہ چونکہ لوک کہانی ہے اس لیے اس میں بہت سے تغیر بھی ملتے ہیں جیسے یہ کہ شیریں خسرو پرویز کی بیٹی تھی وغیرہ وغیرہ۔

علامہ نے یہاں وہی تلمیح بیان کی ہے جو میں نے اوپر لکھی کہ اصل عشق فرہاد کا ہے اور پرویز کا عشق محض ہوس ہے۔

فارسی اور اردو شاعری میں شیریں، فرہاد، تیشہ اور پرویز نہ صرف کردار رہے ہیں بلکہ استعارے کے طور پر بھی استعمال ہوتے رہے ہیں اور دیوان بھرے پڑے ہیں

غالب کا ایک شعر
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد
سرگشتۂ خمارِ رُسوم و قُیود تھا

میر کا ایک شعر
میرے سنگِ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا اُستاد
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
کنند گور پرستاں زیارتِ زاہد
کہ زیرِ گنبدِ دستار زندہ در گور است


شیخ فاخر زائر

قبر پرست، زاہد کی زیارت (ذوق و شوق سے) کرتے ہیں کہ وہ اپنی دستار کے گنبد کے نیچے زندہ ہی قبر میں پڑا ہوا ہے۔
 
چونکہ لوک کہانی ہے اس لیے اس میں بہت سے تغیر بھی ملتے ہیں جیسے یہ کہ شیریں خسرو پرویز کی بیٹی تھی وغیرہ وغیرہ۔

اصل میں جو کہانی میں نے پڑھی تھی اس میں بھی یہی لکھا تھا کہ شیریں خسرو پرویز کی بیٹی تھی ۔اسی لئے مخمصے کا شکار تھا۔
 
کنند گور پرستاں زیارتِ زاہد
کہ زیرِ گنبدِ دستار زندہ در گور است


شیخ فاخر زائر

قبر پرست، زاہد کی زیارت (ذوق و شوق سے) کرتے ہیں کہ وہ اپنی دستار کے گنبد کے نیچے زندہ ہی قبر میں پڑا ہوا ہے۔
'قم باذن اللہ' کہہ سکتے تھے جو ، رخصت ہوئے

خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن!
 

حسان خان

لائبریرین
(قطعه)
به حقارت نتوان کرد نظر سویِ سخن
سخن آن است که از عرشِ برین آمده‌است
دلِ ما میلِ سخن چون نکند کان گوهر
خاص از بهرِ دلِ ما به زمین آمده‌است
(محمد فضولی بغدادی)
سخن کی جانب حقارت سے نظر نہیں کی جا سکتی؛ سخن تو وہ چیز ہے جو عرشِ بریں سے آئی ہے۔ ہمارا دل سخن کی طرف کیوں نہ مائل ہو؟ کہ وہ گوہر تو خاص ہمارے دل کے لیے زمین پر آیا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
نیست در بغدادیان مُطلق فضولی رأفتی
حیف عمرِ من که بی‌حاصل در این کشور گذشت
(محمد فضولی بغدادی)

اے فضولی! بغدادیوں میں ذرا بھی مہربانی نہیں ہے؛ حیف میری عمر جو بے حاصل اِس مُلک میں گذر گئی!
 

محمد وارث

لائبریرین
لطف و دشنامِ تو تسکینِ دلِ بیہوش است
آتش از آب چہ گرم و چہ خنک خاموش است


عالم بیگ سروری کابلی

تیرا لطف و کرم اور تیری ناراضی اور گالیاں، دونوں ہی میرے بیمار اور بیہوش دل کے لیے تسکین کا باعث ہیں کہ آگ پانی سے بجھ جاتی ہے چاہے پانی گرم ہو چاہے ٹھنڈا۔
 

حسان خان

لائبریرین
چند پرسی که چه شد حالِ فضولی بی من
چه شود حالِ کسی کز تو فتاده‌ست جدا
(محمد فضولی بغدادی)
تم کب تک پوچھو گے کہ میرے بغیر فضولی کا حال کیا ہوا؟ اُس شخص کا حال کیا ہو گا کہ جو تم سے جدا ہو گیا ہے؟
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ما ‌نمی‌گوییم کاری نیست غیر از عاشقی
هست صد کاری دگر، امّا نمی‌دانیم ما
(محمد فضولی بغدادی)
ہم نہیں کہتے کہ عاشقی کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔۔۔ صدہا دیگر کام موجود ہیں، لیکن ہم نہیں جانتے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
هرچه غیر از عشقِ یار و لذتِ دیدارِ اوست
زاهدا! بالله! مجو از ما، نمی‌دانیم ما
(محمد فضولی بغدادی)
اے زاہد! باللہ! یار کے عشق اور اُس کے دیدار کی لذت کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ہم سے مت تلاش کرو کہ ہم نہیں جانتے۔
 

حسان خان

لائبریرین
گفتم: "ای گل‌رخ! فضولی مُرد در کویِ تو" گفت:
"کیست او در کویِ ما؟ او را نمی‌دانیم ما"
(محمد فضولی بغدادی)

میں نے کہا: "اے گُل رُخ! فضولی تمہارے کوچے میں مر گیا۔" اُس نے کہا: "ہمارے کوچے میں کون ہے وہ؟ ہم اُسے نہیں جانتے۔
 

حسان خان

لائبریرین
می‌شنیدم پیش از این بیدل نوایِ قُدسیان
این زمان محوِ کلامِ حیرت‌انشایِ تواَم
(بیدل دهلوی)

اے بیدل! میں اِس سے قبل قُدسیوں کی نوا سنا کرتا تھا، [لیکن] اِس زمانے میں مَیں تمہارے کلامِ حیرت اِنشاء میں محو ہوں۔
× کلامِ حیرت اِنشاء = حیرت تحریر کرنے والا کلام
 
Top