یاز

محفلین
یا وفا خود نبود در عالم
یا مگر کس دریں زمانہ نہ کرد
(شیخ سعدی)


یا تو وفا کبھی دنیا میں تھی ہی نہیں، یا شاید کسی نے اس دور میں (وفا) کی ہی نہیں ہے۔
 
ریحان بھائی، میرے خیال سے مصرعِ ثانی میں خیال اور آسمان ہا کے درمیان بھی اضافت ہے یعنی فانوسِ خیالِ آسمان ہا۔
آسمان کو فانوسِ خیال سے تشبیہ دی گئی ہے اور اُس کا شمع جیسے یار کے گرد رقص کرنا بیان کیا گیا ہے۔
فارسی شاعری جہاں بھی لکھی ہو زیر اضافت کہیں بھی نہیں ڈالتے۔
اس سے پڑھنے والوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟
 

حسان خان

لائبریرین
فارسی شاعری جہاں بھی لکھی ہو زیر اضافت کہیں بھی نہیں ڈالتے۔
اس سے پڑھنے والوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟
فارسی گویوں کو مشکل نہیں ہوتی کیونکہ عموماً یہ واضح رہتا ہے کہ اضافتیں کہاں کہاں موجود ہیں اور پھر وہ طفلی سے پڑھتے پڑھتے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ اکثر کتابوں میں صرف وہیں زیرِ اضافت ڈالی جاتی ہے جہاں اِس کے بغیر ابہام کا خدشہ ہو۔
شاعری میں وزن کی وجہ سے بھی بیشتر جگہوں پر اضافت کی موجودگی واضح رہتی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
وارث بھائی، اس بہترین شعر کے مصرعِ اول میں 'چرخ' اور 'زحمت' کے درمیان 'تو' غلطی سے حذف ہو گیا ہے۔ :)
درست فرمایا آپ نے خان صاحب اور شکریہ نشاندہی کے لیے، نوازش برادرم :)

دراصل فیس بُک پر تصویری شعر پوسٹ کرنے کا یہ نقصان ہے کہ میرا سارا دھیان تصویر میں ہوتا ہے، اب وہاں تصویر میں شعر صحیح لکھا ہے لیکن جب یونی کوڈ میں لکھ رہا تھا تو دھیان نہ رہا اور غلطی ہو گئی، اور چونکہ یہاں فقط کاپی پیسٹ کر دیتا ہوں وہاں سے لے کر سو یہ غلطی یہاں بھی در آئی۔ آپ کی اس نشاندہی سے مجھے غلطی کی اصل وجہ مل گئی ہے کہ یہاں پوسٹ کرتے ہوئے بھی کم از کم ایک بار پڑھ ضرور لوں:)
11825563_519385668212089_3168110529165856925_n.jpg
 

حسان خان

لائبریرین
به یک کرشمه زلیخاوشی دلِ ما را
چنان ربود که یوسف دلِ زلیخا را
(نیازی اِستروشنی)

ایک زلیخاوش محبوب نے ایک غمزے سے ہمارے دل کو اِس طرح چرا لیا جس طرح یوسف نے زلیخا کے دل کو چرایا تھا۔
 

یاز

محفلین
اگر بمُرد عدو جائے شادمانی نیست
کہ زندگانیء ما نیز جاودانی نیست
(شیخ سعدی)


اگر دشمن مر گیا تو یہ خوشی کا موقع نہیں ہے۔ اس لئے کہ ہماری زندگی میں بھی ہمیشگی نہیں ہے
(دشمن مرے نہ خوشی کرئیے۔۔سجناں وی مر جاناں)
 

یاز

محفلین
لاابالی عشق باشد نے خرد
عقل آں جوید کزاں سودے برد
(مولانا رومی)


بے پروا عشق (ہی) ہوتا ہے، نہ کہ عقل۔ عقل وہ تلاش کرتی ہے جس سے نفع اٹھائے
 
عاشقاں را در سرِ شوریدہ سودا آتش است
در بدن خوں نشتر و در دل سویدا آتش است


عاشقوں کے شوریدہ سر میں سودا آتش ہے ، بدن میں خون نشتر ہے اور دل میں سویدا آتش ہے۔

فغانی شیرازی
 
مکمل غزل

عاشقاں را در سرِ شوریدہ سودا آتش است
در بدن خوں نشتر و در دل سویدا آتش است


عاشقوں کے شوریدہ سر میں سودا آتش ہے۔ بدن میں خوں نشتر اور دل میں سویدا آتش ہے۔

تن نخواھد خواب گاہے نرم چوں گرم است دل
گلخنی را زیر و پہلو فرشِ دیبا آتش است


جسم نرم آرام گاہ نہیں چاہتا جب دل گرم ہے۔ گلخن جیسے عاشق کے لیے زیر و پہلو میں موجود ریشم کا فرش آتش ہے۔

میگدازم از حیا تا از تو میجویم مراد
در نہادِ بیدلاں عرض تمنا آتش است


جب میں تجھ سے مراد ڈھونڈتا ہوں(آرزو کرتا ہوں) تو حیا سے پگھل جاتا ہوں۔ بیدلوں کی فطرت میں عرضِ تمنا آتش ہے۔

خوابِ مستی کردہ میسوزم ز آشوبِ خمار
چوں نسوزم چوں مرا در جملہ اعضا آتش است


مستی کا خواب مجھے آشوبِ خمار سے جلتا ہوا کر دیتا ہے۔ میں کیوں نہ جلوں جب میرے جملہ اعضا میں آتش ہے؟

مے مخور بسیار اگرچہ ساقیت باشد خضر
کانچہ امشب آبِ حیوانست فردا آتش است


شراب زیادہ مت پی اگرچہ تیرا ساقی خضر ہو۔ جو کچھ کہ آج رات آبِ حیوان ہے کل آتش ہے۔

مردِ صاحبدل رساند فیض در موت و حیات
شاخِ گل چوں خشک گردد وقتِ سرما آتش است


صاحب دل مرد زندگی اور موت (دونوں) میں فیض پہنچاتا ہے۔ شاخِ گل جو خشک ہو جاتی ہے موسمِ سرما کے وقت آتش ہے۔

گر چنیں خواھد کشید از دل فغانی آہِ گرم
تا نفس خواھد زدن گلہائے صحرا آتش است


اگر اسی طرح فغانی دل سے گرم آہیں کھینچتا رہا تو جب تک سانسیں ٹکراتی رہیں گی ( چلتی رہیں گی) صحرا کے گل آتش ہوں گے۔

بابا فغانی شیرازی
 

طالب سحر

محفلین
صلاح کار کجا و من خراب کجا
ببین تفاوت ره کز کجاست تا به کجا

چه نسبت است به رندی صلاح و تقوا را
سماع وعظ کجا نغمه رباب کجا

ز روی دوست دل دشمنان چه دریابد
چراغ مرده کجا شمع آفتاب کجا

مبین به سیب زنخدان که چاه در راه است
کجا همی‌روی ای دل بدین شتاب کجا

قرار و خواب ز حافظ طمع مدار ای دوست
قرار چیست صبوری کدام و خواب کجا

حافظ شیرازی

صلاح کار کہاں اور دلِ خراب کہاں
کہاں یہ جادۂ مستاں، رہِ صواب کہاں

علاقہ زہد کو کیا کاروبارِ رنداں سے
سماع و واعظ کہاں نغمۂ رباب کہاں

رخ ِنگار سے الجھے گا کیا رقیب کا دل
چراغ مردہ کہاں شمع آفتاب کہاں

کنواں ہے راہ میں اس شوخ کے زنخداں کا
ٹھہریے حضرتِ دل، چل پڑے جناب کہاں

فسانہ خواب کا حافظ سے پوچھتے کیا ہو
نہ ہے قرار، نہ آسودگی تو خواب کہاں

ترجمہ: مجروح سلطانپوری

مجروح نے حافظ کی اس غزل کے آٹھ میں سے صرف پانچ اشعار ترجمہ کئے تھے- مکمل غزل محفل اور گنجور پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے؛ اس کا وہ ترجمہ جو ڈاکٹر خالد حمید نے کیا تھا، محفل پر یہاں موجود ہے- اس غزل کے پہلے شعر کے قوافی پر محفل میں کچھ گفتگو بھی ہوئی تھی -
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
صلاح کار کجا و من خراب کجا
ببین تفاوت ره کز کجاست تا به کجا

چه نسبت است به رندی صلاح و تقوا را
سماع وعظ کجا نغمه رباب کجا

ز روی دوست دل دشمنان چه دریابد
چراغ مرده کجا شمع آفتاب کجا

مبین به سیب زنخدان که چاه در راه است
کجا همی‌روی ای دل بدین شتاب کجا

قرار و خواب ز حافظ طمع مدار ای دوست
قرار چیست صبوری کدام و خواب کجا

حافظ شیرازی

صلاح کار کہاں اور دلِ خراب کہاں
کہاں یہ جادۂ مستاں، رہِ صواب کہاں

علاقہ زہد کو کیا کاروبارِ رنداں سے
سماع و واعظ کہاں نغمۂ رباب کہاں

رخ ِنگار سے الجھے گا کیا رقیب کا دل
چراغ مردہ کہاں شمع آفتاب کہاں

کنواں ہے راہ میں اس شوخ کے زنخداں کا
ٹھہریے حضرتِ دل، چل پڑے جناب کہاں

فسانہ خواب کا حافظ سے پوچھتے کیا ہو
نہ ہے قرار، نہ آسودگی تو خواب کہاں

ترجمہ: مجروح سلطانپوری

مجروح نے حافظ کی اس غزل کے آٹھ میں سے صرف پانچ اشعار ترجمہ کئے تھے- مکمل غزل محفل اور گنجور پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے؛ اس کا وہ ترجمہ جو ڈاکٹر خالد حمید نے کیا تھا، محفل پر یہاں موجود ہے- اس غزل کے پہلے شعر کے قوافی پر محفل میں کچھ گفتگو بھی ہوئی تھی -
مولوی محمد احتشام الدین حقی دہلوی نے اس غزل کا یوں منظوم ترجمہ کیا ہے:

صلاحِ کار کہاں یہ دلِ خراب کہاں
ہے فرق و فاصلہ اِن میں کہاں سے تا بہ کہاں
صلاح و تقویٰ کو رندی سے کیا بھلا نسبت
خراشِ وعظ کہاں نغمۂ رباب کہاں
تصورِ شبِ وصلت میں دن کو بھول گئے
کہ وہ کرشمہ کہاں اور وہ اب عتاب کہاں
پناہ خانقہ اور خرقۂ ریائی سے!
کدھر ہے دیرِ مغاں اور شرابِ ناب کہاں
جمالِ یار سے روشن ہو کیا ضمیرِ عدو
چراغِ مردہ کہاں شمعِ آفتاب کہاں
نہ دوڑ سیبِ زنخداں پہ چاہ بیچ میں ہے
ذرا تو ٹھیر چلا دل بایں شتاب کہاں
مجھے تو سرمہ ہے مٹی تمہاری چوکھٹ کی
میں جاؤں چھوڑ کے اِس در کو اے جناب کہاں؟
قرار و خواب کا حافظ پہ کچھ گمان نہ ہو
قرار کیسا؟ کِسے چین اور خواب کہاں؟
 

محمد وارث

لائبریرین
زخمے زدی کہ تا دمِ پیری کہن نشد
دستِ تو اے جواں چہ قدر ہا مبارک است


واقف لاہوری

تُو نے (مجھے) ایک ایسا زخم لگایا کہ جو بڑھاپے تک پُرانا نہیں ہوا، اے جوان (محبوب) تیرے ہاتھ کس قدر مبارک ہیں۔
 

طارق حیات

محفلین
دنیا اگر دہند نہ جنبم ز جای خویش
من بستہ ام حنای قناعت بہ پای خویش

ساری دنیا کی دولت بھی اگر میرے قدموں پر رکھدیں تو میں اپنی جگہ سے ہلنے کا نہیں
میں نے اپنے پاؤں میں قناعت کی مہندی لگا رکھی ہے۔

میرزا عبدالقادر بیدلؒ​
 
آخری تدوین:

طارق حیات

محفلین
تا طبایع نیست مالوف، انجمن ویرانہ است
ناقص افتد خوشہ چون بی ربط بالد دانہ ہا۔

مختلف لوگوں کی طبیعتیں جب تک ایک دوسرے سے مانوس اور مالوف نہ ہوں، انجمن ویران رہتی ہے۔
دانے جب ایک دوسرے سے مناسب طور پر مربوط ہوکر نہیں نکلتے تو خوشہ ناقص رہتا ہے۔

میرزا عبدالقادر بیدلؒ​
 

طارق حیات

محفلین
بی سعی تامل نتواں یافت صدایم،
ہشدار کہ تار نفسم نبض سقیم است۔

غور و خوض اور تامل اور تدبر سے کام لئے بغیر میری شاعری کو نہیں سمجھے سکتے،
دھیان رہے کہ میرے تار نفس کی نبض بہت دھیمی چلتی ہے۔ (اس کا پتا لگانے کے لئے طبیب کو دیر تک نبض پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے۔)

میرزا عبدالقادر بیدلؒ
 

طارق حیات

محفلین
تلاش حقیقت ہمیں است و بس
کہ گردد کف خاک صاحب نفس

حقیقت کی تلاش بس اسی قدر ہے کہ یہ مٹھی بھر مٹی (انسان) صاحب نفس (مطمئنہ) بن جائے۔

میرزا عبدالقادر بیدلؒ​
 
تلاش حقیقت ہمیں است و بس
کہ گردد کف خاک صاحب نفس

حقیقت کی تلاش بس اسی قدر ہے کہ یہ مٹھی بھر مٹی (انسان) صاحب نفس (مطمئنہ) بن جائے۔

میرزا عبدالقادر بیدلؒ​
ویسے دوسرے مصرعے کا یہ ترجمہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ صاحب نفس کف خاک ہو جائے؟
 

محمد وارث

لائبریرین
تلاش حقیقت ہمیں است و بس
کہ گردد کف خاک صاحب نفس

حقیقت کی تلاش بس اسی قدر ہے کہ یہ مٹھی بھر مٹی (انسان) صاحب نفس (مطمئنہ) بن جائے۔

میرزا عبدالقادر بیدلؒ​
ویسے دوسرے مصرعے کا یہ ترجمہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ صاحب نفس کف خاک ہو جائے؟
یہ نفسِ مطمئنہ والا ترجمہ جس نے بھی کیا ہے، اپنی نفسانی خواہش کے مطابق کیا ہے

عربی میں زیرزبر سے تو ایمان بھی زیر و زبر ہو جاتا ہے، عربی میں نفس دو تلفظوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ نَفَس، فے کی حرکت کے ساتھ بروزنِ چمن، اس کا مطلب سانس ہے۔نف،س، فے کے سکون کے ساتھ بر وزنِ درد، اس کا مطلب، روح، ہستی، وغیرہ وغیر ہ ہے۔

قرآن اور مذہبیات میں جو نفسِ مطمئنہ یا نفسِ امارہ یا لوامہ استعمال ہوتے ہیں وہ یہی دوسرے والا ہے یعنی نف،س۔

شعر کے وزن کو اگر دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر بیچارے نے نَفَس باندھا ہے، صاحب نَفَس یا سانسوں کا مالک یعنی زندہ انسان، یعنی شعرکا مطلب وہ ہوگا جو قریشی صاحب نے لکھا یعنی حقیقت کی تلاش بس یہی ہے کہ ایک زندہ انسان خاک کی مٹھی ہو جائے۔باقی چونکہ بیدل کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ لکھا جاتا ہے سو شعر کا ترجمہ بھی اسی پس منظر میں کر دیا گیا ہے۔
 
آخری تدوین:

طارق حیات

محفلین
یہ نفسِ مطمئنہ والا ترجمہ جس نے بھی کیا ہے، اپنی نفسانی خواہش کے مطابق کیا ہے

عربی میں زیرزبر سے تو ایمان بھی زیر و زبر ہو جاتا ہے، عربی میں نفس دو تلفظوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ نَفَس، فے کی حرکت کے ساتھ بروزنِ چمن، اس کا مطلب سانس ہے۔نف،س، فے کے سکون کے ساتھ بر وزنِ درد، اس کا مطلب، روح، ہستی، وغیرہ وغیر ہ ہے۔

قرآن اور مذہبیات میں جو نفسِ مطمئنہ یا نفسِ امارہ یا لوامہ استعمال ہوتے ہیں وہ یہی دوسرے والا ہے یعنی نف،س۔

شعر کے وزن کو اگر دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر بیچارے نے نَفَس باندھا ہے، صاحب نَفَس یا سانسوں کا مالک یعنی زندہ انسان، یعنی شعرکا مطلب وہ ہوگا جو قریشی صاحب نے لکھا یعنی حقیقت کی تلاش بس یہی ہے کہ ایک زندہ انسان خاک کی مٹھی ہو جائے۔باقی چونکہ بیدل کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ لکھا جاتا ہے سو شعر کا ترجمہ بھی اسی پس منظر میں کر دیا گیا ہے۔

وارث صاحب نےبہت اچھی وضاحت کی ہے۔یہ نفس والا ترجمہ سید احسن الظفر نے اپنی کتاب "بیدل : حیات اور کارنامے، جلد دوئم" میں کیا ہے۔ باقی جہاں تک بات ہے بیدل کو رحمتہ اللہ علیہ کہنے کی وہ ہم نے اُس کے مقام اور مرتبہ کی تعظیم میں کیا ہے ۔ یہ میری سبجیکٹیو ہے۔ بیدل اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں جس کا ایک مصرعہ یاد ہے باقی دوسرا یاد نہیں آرہا۔
آنچہ کلکم می نگارد محض حرف و صوت نیست :"
میرا قلم جو کچھ لکھتا ہے وہ محض حرف و صوت کا مجموعہ نہیں ہے۔ بیدل کی زبان کو سمجھنے کے لئے ہوش و گوش مطلوب ہے۔​
 
Top