طالب سحر

محفلین
صورتگر نقاشم هر لحظه بتی سازم
وانگه همه بت‌ها را در پیش تو بگدازم

صد نقش برانگیزم با روح درآمیزم
چون نقش تو را بینم در آتشش اندازم

تو ساقی خماری یا دشمن هشیاری
یا آنک کنی ویران هر خانه که می سازم

جان ریخته شد بر تو آمیخته شد با تو
چون بوی تو دارد جان جان را هله بنوازم

در خانه آب و گل بی‌توست خراب این دل
یا خانه درآ جانا یا خانه بپردازم


مولانا جلال الدین رومی، دیوان شمس تبریز



نقاش ہوں، بت گر ہوں، بت روز بناتا ہوں
پگھلاتا ہوں سب، تجھ کو جب سامنے پاتا ہوں

سو نقش بناتا ہوں، جان ڈالتا ہوں ان میں
صورت تیری جب دیکھوں، ہر نقش جلاتا ہوں

کیا تو مرا ساقی ہے؟ یا دشمنِ زیرک ہے؟
ویراں اسے کر ڈالے، جو گھر بھی بناتا ہوں

جاں میری گُھلی تجھ میں، رس بس گئی یوں تجھ میں
ہے جاں میں تری خوشبو، سینے سے لگاتا ہوں

یہ خانہ آب و گل تجھ بن ہے کھنڈر جیسا
یا اس میں دار آ، اے جاں یا میں اسے ڈھاتا ہوں


ترجمہ: فہمیدہ ریاض
 
مدیر کی آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
فرشته! معنیِ 'مَن رَبُّکَ' نمی‌فهمم
به من بگوی که غالب بگو خدای تو کیست
(غالب دهلوی)

قبر میں آ کر سوال کرنے والے فرشتے سے خطاب کر کے کہتا ہے:
میں 'من ربک' کے معنی نہیں سمجھتا۔ مجھ سے تو تُو یہ کہہ غالب بتا تیرا خدا کون ہے۔
'من ربک' عربی ہے اور 'خدائے تو کیست' فارسی۔ دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے، یعنی تیرا خدا کون ہے؟
یہ شعر مرزا غالب کی شوخیِ طبیعت کو ظاہر کرتا ہے۔
(ترجمہ و تشریح: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 

حسان خان

لائبریرین
نرنجم گر به صورت از گدایان بوده‌ام غالب
به دارالملکِ معنی می‌کنم فرمان‌روایی‌ها
(غالب دهلوی)

غالب! اگر میری ظاہراً زندگی فقیروں کی سی ہے تو مجھے اس کا کوئی دکھ نہیں۔ میں باطنی طور پر ایک ایسا شہنشاہ ہوں جو روحانی دارالسلطنت کا تاج دار ہے۔
صورت اور معنی میں تضاد ہے۔ اور اسی طرح گدا اور فرماں روا کے الفاظ میں ہے۔ چنانچہ اس شعر میں صنعتِ تضاد پائی جاتی ہے۔
(ترجمہ و تشریح: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 

محمد وارث

لائبریرین
جامی نَرَود سوزِ تو از سینہ بگریہ
داغِ دلِ لالہ نشود شستہ بباراں


مولانا عبدالرحمٰن جامی

اے جامی، رونے سے تیرے دل کا سوز اور درد نہیں جانے کا، جیسے بارش سے لالہ کے پھول کے دل کا داغ نہیں دھلتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
خطی بر هستیِ عالم کشیدیم از مژه بستن
ز خود رفتیم و هم با خویشتن بردیم دنیا را
(غالب دهلوی)

خط بر چیزے کشیدن = کسی چیز کو کاٹ دینا۔
اس شعر کا پس منظر یہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات کا وجود خارجی نہیں بلکہ ذہنی ہے۔ ہم ہیں تو جہاں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم نے آنکھ بند کی اور اُس سے وجودِ عالم پر لکیر کھینچ دی یعنی عالم کا وجود ختم ہو گیا۔ ہم اپنے آپ سے گئے اور اپنے ساتھ دنیا کو بھی لے گئے۔
(ترجمہ و تشریح: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 

حسان خان

لائبریرین
ز وهم نقشِ خیالی کشیده‌ای ورنه
وجودِ خلق چو عنقا به دهر نایاب است
(غالب دهلوی)

تو نے اپنے وہم میں ایک نقشِ خیالی بنا لیا ہے ورنہ اس دنیا کا وجود عنقا کی طرح نایاب ہے۔
یہ خیال بعض صوفیا اور فلسفیوں کے اس نظریے کا آئینہ دار ہے کہ اس کائنات کا وجود ذہنی ہے خارجی نہیں۔
غالب کا یہ شعر دیکھیے:
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
(ترجمہ و تشریح: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 

حسان خان

لائبریرین
به نوبهار جهان تازه گشت و خُرّم گشت
درختِ سبز عَلَم گشت و خاک مُعْلَم گشت
نسیمِ نیم‌شبان جبرئیل گشت مگر
که بیخ و شاخِ درختانِ خشک مریم گشت
(کِسایی مَروَزی)

نوبہار میں دنیا تازہ و خرم ہو گئی؛ سبز درخت ظاہر ہو گیا اور خاک پُرنقش ہو گئی؛ نسیمِ نیم شب شاید جبرئیل بن گئی کہ (اُس کی پھونک سے) خشک درختوں کی بیخ و شاخ مریم (کی طرح حاملہ) ہو گئیں۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
بیخود بوقتِ ذبح طپیدن گناہِ من
دانستہ دشنہ تیز نکردن گناہِ کیست؟


مرزا غالب دہلوی

ذبح کے وقت، بیخود ہو کر تڑپنا میرا ہی گناہ ہے لیکن جان بوجھ کر خنجر کو تیز نہ کرنا کس کا گناہ ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
(جنازهٔ دوست)
جنازهٔ تو ندانم کدام حادثه بود
که دیده‌ها همه مصقول کرد و رخ مجروح
از آبِ دیده چو طوفانِ نوح شد همه مَرْوْ
جنازهٔ تو بر آن آب همچو کشتیِ نوح
(کِسایی مَروَزی)

میں نہیں جانتا کہ تہارا جنازہ کون سا حادثہ تھا کہ (اُس نے) سب آنکھیں (رلا رلا کر) سرخ اور چہرے مجروح کر دیے؛ آنکھ کے پانی سے پورا شہرِ مرو طوفانِ نوح کی طرح ہو گیا اور تمہارا جنازہ اُس پانی پر کشتیِ نوح کی طرح (ہو گیا)۔
 

حسان خان

لائبریرین
هر گامِ عاشقی را صد گونه درد و رنج است
گر ایمنیت باید، از عاشقی حذر کن
(قطران تبریزی)

عاشقی کے ہر قدم پر صد طرح کے درد و رنج ہیں؛ اگر تمہیں سلامتی درکار ہے تو عاشقی سے پرہیز کرو۔
× ایمِنِیْت = ایمِنی + ت
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
بیا، اینک نگه کن رودکی را
اگر بی‌جان روان خواهی تنی را
(رودکی سمرقندی)

اگر تم کوئی چلتا ہوا بے جان تن (دیکھنا) چاہتے ہو تو آؤ اور یہ لو رودکی پر نگاہ کرو۔
 

طالب سحر

محفلین
ِطبیب درد بی‌ درمان کدامست
رفیق راه بی‌ پایان کدامست

اگر عقلست پس دیوانگی چیست
وگر جانست پس جانان کدامست

چراغ عالم افروز مخلد
که نی کفرست و نی ایمان کدامست


مولانا جلال الدین رومی، دیوان شمس تبریز


طبیبِ دردِ بے درماں کہاں ہے
رفیقِ راہِ بے پایاں کہاں ہے

اگر ہے عقل، ہے دیوانگی کیا
اگر جاں ہے تو پھر جاناں کہاں ہے

چراغِ عالم افروزِ مسلسل
نہیں ہے کفر و نے ایماں، کہاں ہے

ترجمہ: فہمیدہ ریاض
 

محمد وارث

لائبریرین
بیا بیا کہ مرا بے تو زندگانی نیست
ببیں ببیں کہ مرا بے تو چشم جیجوں است


مولانا رُومی

آجا آجا کہ تیرے بغیر میری کوئی زندگی نہیں ہے، دیکھ دیکھ کہ تیرے بغیر میری آنکھیں ایسے ہیں جیسے جیجوں دریا۔
 

حسان خان

لائبریرین
بیگانگی نگر، که من و یار، چون دو چشم
همسایه‌ایم و خانهٔ هم را ندیده‌ایم
(میرزا جلال اسیر)

بیگانگی دیکھو کہ میں اور یار دو آنکھوں کی طرح ہمسایہ ہیں اور ہم نے ایک دوسرے کا گھر نہیں دیکھا ہے۔
× یہ شعر میر صیدی تہرانی سے بھی منسوب ہے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
گرفتہ است جہاں را غبارِ بیدردی
کجا رویم ازیں عالمِ خراب، کجا؟


صائب تبریزی

ساری دنیا کو سنگدلی و بے حسی و بیرحمی و بیدردی کے غبار نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، سو اِس عالمِ خراب سے کہاں چلے جائیں، آخر کہاں؟
 

طارق حیات

محفلین
دوستوں سے اس فارسی غزل کےاردو ترجمے کی گذارش کی جاتی ہے۔یہ غزل دیوان میرؔ سے لی گئی ۔

الہٰی جوش طوفان بخش چشم اشکبارم را
سحاب دجلہ افشان کن رگ ابر بهارم را
خشونتهای نفسم را بہ لطف خویش برداری
چمن پیرای گلزار تجلی ساز خارم را
دلم در سینہ از شوق دم تیغ تو می رقصد
ز گل صد بار رنگین گر کنی مشت غبارم را
بہ مشتاقان مروت از نگاهی می توان کردن
بہ یک پیمانہ می دفع کن رنج خمارم را
ز سایل روی گرداندن از آیین کرم نبود
گلستان کن بہ داغ عشق جسم خاکسارم را
غلام همت عشقم کہ هر دم میر گرداند
طراز چنگل شهباز کبک کوهسارم را
-----
میر جان اللہ شاہ رضوی میرؔ
 

حسان خان

لائبریرین
مخوان ز دیرم به کعبه زاهد، که بُرده از کف دلِ من آنجا
به ناله مطرب، به عشوه ساقی، به خنده ساغر، به گریه مینا
(مشتاق اصفهانی)

اے زاہد! مجھے دَیر سے کعبے کی طرف مت بلاؤ کہ وہاں مطرب نے نالے سے، ساقی نے عشوے سے، ساغر نے خندے سے، اور مینا نے گریے سے میرا دل ہتھیا لیا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
عمر اگر خوش گذرد، زندگیِ خضر کم است
ور به سختی گذرد، نیم نَفَس بسیار است

(رفیع قزوینی)
عمر اگر خوش گذرے تو خضر کی زندگی بھی کم ہے؛ اور اگر سختی سے گذرے تو آدھی سانس بھی بہت ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دل را نگاهِ گرمِ تو دیوانه می‌کند
آیینه را رخِ تو پری‌خانه می‌کند
(صائب تبریزی)

دل کو تمہاری نگاہِ گرم دیوانہ کر دیتی ہے؛ آئینے کو تمہارا چہرہ پری خانہ کر دیتا ہے۔
 
Top