حسان خان

لائبریرین
بد از نیکان و نیکی از بدان بس دیده‌ام صائب
ز خارِ بی‌گل افزون از گلِ بی‌خار می‌ترسم
(صائب تبریزی)

اے صائب! میں نے متعدد بار نیکوں سے بدی اور بدوں سے نیکی دیکھی ہے؛ (اسی لیے اب) مجھے خارِ بے گُل سے زیادہ گُلِ بے خار سے ڈر لگتا ہے۔
[خارِ بے گل = بغیر پھول کا کانٹا؛ گلِ بے خار = بغیر کانٹے کا پھول]
 

سید عاطف علی

لائبریرین
از دیده بروں مشو، کہ نوری
وز سینہ جدا مشو ،کہ جانی

میری آنکھ سے دور نہ ہونا کہ تم اس کا نور ہو۔
اور میرے دل سے جدا نہ ہونا کہ تم اس کی جان ہو۔
 

حسان خان

لائبریرین
سفینه در عرقِ شرمِ من توان انداخت
ز بس که منفعل از کرده‌های خویشتنم
(صائب تبریزی)

میں اپنے اعمال پر اتنا زیادہ شرمندہ ہوں کہ میرے شرم کے پسینے میں کشتی ڈالی جا سکتی ہے۔

نهفتن در دل و جان درد و داغِ آن پری‌وش را
توانم گر توان پوشید با خاشاک آتش را
(محمد فضولی بغدادی)

اگر گھاس پھوس سے آگ کو چھپانا ممکن ہوتا تو میں بھی (اپنے) دل و جاں میں اُس پری وش (یار) کے درد و داغ کو چھپا پاتا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
حرص قانع نیست بیدل ورنہ اسبابِ معاش
آنچہ ما درکار داریم اکثرے درکار نیست


میرزا عبدالقادر بیدل

اے بیدل ہماری حرص ہی قناعت پسند نہیں ہے ورنہ جتنے بھی اسبابِ معاش ہم جمع کرتے پھرتے ہیں اُن میں سے اکثر ہمیں درکار نہیں ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
دلِ خوش مشربِ ما داشت جوان عالم را
شد جهان پیر همان روز که ما پیر شدیم

(صائب تبریزی)
ہمارے خوش رفتار دل نے دنیا کو جوان رکھا ہوا تھا۔۔۔ جس روز ہم بوڑھے ہوئے، اُسی روز (یہ) جہاں بھی بوڑھا ہو گیا۔

در نقاب آن روی و من با آهِ دل در حیرتم
در میانِ این دو آتش چون نمی‌سوزد نقاب؟

(محمد فضولی بغدادی)
وہ (حَسین) چہرہ نقاب میں ہے جبکہ میں (اپنے) دل کی آہِ سوزاں کے ساتھ موجود ہوں؛ میں حیرت میں ہوں کہ ان دو آتشوں کے درمیان نقاب کیوں نہیں جل رہا؟

پیشِ عاقل قصهٔ دردِ من و مجنون یکی‌ست
اختلافی در سخن باشد، ولی مضمون یکی‌ست

(محمد فضولی بغدادی)
عقل مند شخص کے سامنے میرے اور مجنوں کے درد کا قصہ ایک ہی ہے؛ بیان میں کوئی اختلاف ہو تو ہو، لیکن مضمونِ داستاں ایک ہی ہے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
اگر نہ بوالہوسی با تو نکتۂ گویم
کہ عشق پختہ تر از نالہ ہائے بے اثر است


علامہ محمد اقبال - پیامِ مشرق

اگر تُو ہوس پرست نہیں ہے تو میں تجھے ایک نکتہ بتاؤں کہ عشق بے اثر نالوں سے پختہ تر ہو جاتا ہے۔
 
ما حالِ دلِ خویش نہفتیم و نگفتیم
شب تا سحر از درد نخفتیم و نگفتیم


چندر بھان برہمن

ہم اپنے دل کا حال پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں، کسی سے کہتے نہیں۔ شام سے لے کر صبح تک ساری رات اسی درد میں تڑپتے ہیں، نہ سوتے ہیں نہ کسی سے کہتے ہیں۔

یہ پوری غزل مل سکتی ہے؟ بہت نوازش ہو گی۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
یہ پوری غزل مل سکتی ہے؟ بہت نوازش ہو گی۔
آسی بھائی کچھ اشعار حاضر خدمت ہیں ۔اور کمال کے ہیں ۔ اپنے وارث بھائی صاحب کا انتخاب ہوتا بھی ایسا ہی خوبصورت ہے۔

ما حالِ دلِ خویش نہفتیم و نگفتیم
شب تا سحر از درد نخفتیم و نگفتیم

با رشتہءمژگاں ہمہ شب دانہ ء اشکے
از غیر نہاں داشتہ سُفتیم و نگفتیم

در راهِ محبت بہ خیالِ قدم ِ او
ہرمرحلہ را با مژه رفتیم و نگفتیم

در سینہ ء خود راز غم عشق برہمن
چون غنچہ بہ صد پرده نہفتیم و نگفتیم
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گردِ گنه به چشمهٔ کوثر نمی‌بریم
امیدوارِ گریهٔ مستانهٔ خودیم
(صائب تبریزی)

ہم (پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے اپنے) گناہوں کے گَرد و غبار کو حوضِ کوثر پر لے کر نہیں جائیں گے بلکہ ہم تو اپنے گریۂ مستانہ کے منتظر و امیدوار ہیں۔

زندگی را بی‌خودی بر من گوارا کرده‌است
می‌شدم دیوانه گر از خود خبر می‌داشتم
(صائب تبریزی)

زندگی کو (میری) بے خودی نے میرے لیے خوش مزہ بنایا ہے؛ اگر مجھے اپنی خبر رہتی تو میں دیوانہ ہو چکا ہوتا۔
 
آسی بھائی کچھ اشعار حاضر خدمت ہیں ۔اور کمال کے ہیں ۔ اپنے وارث بھائی صاحب کا انتخاب ہوتا بھی ایسا ہی خوبصورت ہے۔

ما حالِ دلِ خویش نہفتیم و نگفتیم
شب تا سحر از درد نخفتیم و نگفتیم

با رشتہءمژگان ہمہ شب دانہ ء اشکے
از غیر نہاں داشتہ سُفتیم و نگفتیم

در راهِ محبت بہ خیالِ قدم ِ او
ہرمرحلہ را با مژه رفتیم و نگفتیم

در سینہ ء خود راز غم عشق برہمن
چون غنچہ بہ صد پرده نہفتیم و نگفتیم
آپ کی محبت اور توجہ پر ممنون ہوں۔
 
آپ کی محبت اور توجہ پر ممنون ہوں۔

اشتیاق یوں بھی ہوا کہ کوئی سال بھر پہلے اس غزل کا مطلع جناب محمد وارث نے پوسٹ کیا۔ مجھ سے اس کا پنجابی ترجمہ سرزد ہو گیا تھا، جو کل اتفاق سے سامنے آ گیا:۔

ما حالِ دلِ خویش نہفتیم و نگفتیم
شب تا سحر از درد نخفتیم و نگفتیم
۔۔۔
دل تے بیتی لوکاں کولوں اسیں لُکائی، دَسی نہیں
پِیڑاں اندر رات وہانی، نیند نہ آئی، دَسی نہیں
30 ۔ اپریل ۔ 2014ء​

شوق چرایا ہے کہ کیوں نہ پوری غزل کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ حاصل حصول دیکھئے کیا ہوتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
آن آتشی که دوش به کویت بلند بود
آتش نبود آهِ منِ دردمند بود
(حیرانی همدانی)

وہ آگ جو کل رات تمہارے کوچے میں بلند تھی، وہ (در حقیقت) آگ نہیں تھی بلکہ مجھ دردمند کی آہ تھی۔

از خونِ دل نوشتم نزدیکِ دوست نامه:
اِنّی رَأَیْتُ دَهْراً مِن هَجْرِکَ القِیامَه

(حافظ شیرازی)
میں نے خونِ دل سے محبوب کو خط لکھا کہ "بے شک، میں نے تمہاری مفارقت کے سبب زمانے کو قیامت کی طرح دیکھا ہے۔"
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
بہرِ نعیمِ بہشت طاعتِ ایزَد مکن
بر لبِ جیجوں خطاست چشم بہ نم داشتن


عرفی شیرازی

جنت کی نعمتوں کے لالچ میں خدا کی اطاعت مت کر (بلکہ اُس کی رضا اور خوشنودی کے لیے کر) کیونکہ موجیں مارتے ہوئے دریا کے کنارے کھڑے ہو کر نمی اور پانی کے قطروں پر نظر رکھنا خطا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
تا ورق برگشت، محضرها به خونِ ما نوشت
چون قلم آن را که با خود یک‌زبان پنداشتیم

(صائب تبریزی)
جسے ہم قلم کی طرح اپنے ساتھ ہم آواز و ہم آہنگ سمجھتے تھے، (وہ اتنا بے وفا نکلا کہ) جیسے ہی (ہماری نیک بختی کا) ورَق پلٹا، اُس نے ہمارے قتل کے لیے گواہی نامے لکھ ڈالے۔

صبر بر نادیدنت رحمی‌ست بر عالم ز من
زان که چشمی بر تو نگشادم که طوفان برنخاست

(محمد فضولی بغدادی)
تمہیں نہ دیکھنے پر (میرا) صبر (در حقیقت) میری طرف سے دنیا پر رحم ہے، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے (اپنی) آنکھ تمہارے چہرے پر کھولی ہو اور (اشکوں کا) طوفان نہ اٹھا ہو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گر سرِ کویت شود مدفن پس از مردن مرا
کَی عذابِ قبر پیش آید در آن مدفن مرا
(محمد فضولی بغدادی)

اگر (میری) موت کے بعد تمہارے کوچے کا کنارہ میرا مدفن بن جائے تو اُس مدفن میں مجھے کب قبر کا عذاب پیش آئے؟

چند باشم در جدل با خود ز غم؟ ساقی بیار
شیشهٔ می تا رهاند ساعتی از من مرا
(محمد فضولی بغدادی)

میں کب تک غم کے باعث خود سے لڑتا اور الجھتا رہوں؟۔۔۔ اے ساقی! شیشۂ شراب لے آ تاکہ وہ کچھ ساعتوں تک مجھے مجھ سے رہائی دلا دے۔

خنده‌ای دارند بی‌پروا ز آسیبِ خزان
چون نیاید گریه بر گل‌های این گلشن مرا؟

(محمد فضولی بغدادی)
مجھے اس گلشن کے گُلوں (کی غفلت) پر گریہ کیوں نہ آئے کہ یہ آسیبِ خزاں سے بے پروا ہو کر ہنسے جا رہے ہیں؟
 

محمد وارث

لائبریرین
مُردن در آرزوئے تو خوشتر ز عمرِ خضر
خود زندہ نیست آنکہ دلش مایلِ تو نیست


بابا فغانی شیرازی

تیری آرزو میں مر جانا ہمیشہ کی زندگی سے بہتر ہے کہ جس کا دل تیری طرف مایل نہیں ہے وہ تو زندہ ہی نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
حوریان را خازنِ فردوس بر یادِ لبت
دوستگانی بر کنارِ آبِ کوثر می‌دهد

(نجیب الدین جُرفادقانی)
تمہارے لب کی یاد میں جنت کا نگہبان آبِ کوثر کے کنارے حوروں کو دوستگانی دیتا ہے۔
[دوستْگانی = دوست کے ساتھ یا دوست کی یاد میں پی جانے والی شراب]
 

محمد وارث

لائبریرین
خانۂ شرع خراب است کہ اربابِ صلاح
در عمارت گریِ گنبدِ دستارِ خود اند


طالب آملی

شرع کے گھر میں ویرانی چھائی ہوئی ہے کیونکہ اربابِ صلاح اپنی دستار کے گنبد کی عمارت گری میں لگے ہوئے ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
سیر آمدن ز جانِ خود آسان بوَد بسی
سیر آمدن ز روی بتان سخت مشکل است
(خوشحال خان خٹک)

اپنی جان سے تنگ آنا تو بہت آسان ہے لیکن حسینوں کے چہروں سے تنگ آنا سخت مشکل ہے۔

تیغِ تو آبِ زندگانی داشت
کشتی و زندهٔ ابد کردی
(خوشحال خان خٹک)

تمہاری تیغ آبِ حیات کی حامل تھی؛ تم نے (مجھے) قتل کیا اور زندۂ جاوید کر دیا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
شبہائے ہجر دیدہ ام و باز زندہ ام
گویا کہ کارِ مرگ و قضا را نظام نیست


علامہ شبلی نعمانی

میں نے ہجر کی راتیں کاٹی ہیں اور پھر بھی زندہ ہوں، اِس کا مطلب تو یہی ہے کہ مرگ و قضا کا یہاں کوئی نظام نہیں ہے۔
 
Top