1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2008

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «ماه‌شرَف خانم 'مستوره' کُردستانی» اپنے برادرِ نوجوان «ابوالمحمّد» کی وفات پر لِکھے گئے فارسی مرثیے کی ایک بیت میں کہتی ہیں:

    چرخ در جانِ احِبّا لرزه افکنده چُنان
    رعشه در جانِ حُسین از ماتمِ حَیدر فِکَند
    (ماه‌شرَف خانم 'مستوره' کُردستانی)


    فلک نے [اُس جوان کی موت سے] دوستوں کی جان میں اُسی طرح لرزہ گِرا دیا ہے، جس طرح «حَیدر» کے سوگ سے «حُسین» کی جان میں لرزِش و رَعشہ گِرا دیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «آیت‌الله روح‌الله خُمینی» کی ایک مشہور غزل:

    من به خالِ لبت ای دوست گِرِفتار شدم
    چشمِ بیمارِ تو را دیدم و بیمار شدم


    اے یار! میں تمہارے خالِ لب کا اسیر و گِرِفتار ہو گیا۔۔۔ میں نے تمہاری چشمِ بیمار دیکھی اور بیمارِ [عشق] ہو گیا۔۔۔

    =============

    فارغ از خود شدم و کوسِ اناالحق بِزَدم
    همچو منصور خریدارِ سرِ دار شدم


    میں بے‌خود ہو گیا اور میں نے «اناالحق» کی بانگ ماری۔۔۔ میں «منصور» کی مانند دار (سُولی) کا خریدار (طالِب و مُشتاق) ہو گیا۔۔۔

    =============

    غمِ دل‌دار فِکنده‌ست به جانم شرَری
    که به جان آمدم و شُهرهٔ بازار شدم


    غمِ دل‌دار نے میری جان میں اِک [ایسا] شرر ڈالا ہے کہ میں تنگ و بیزار آ گیا اور شُہرۂ بازار ہو گیا۔۔۔

    =============

    درِ مَی‌خانه گُشایید به رُویم شب و روز
    که من از مسجد و از مدرَسه بیزار شدم


    میرے چہرے کی جانب شب و روز مَیخانے کا در کھولیے، کیونکہ میں مسجد و مدرَسہ سے بیزار ہو گیا۔

    =============

    جامهٔ زُهد و رِیا کَندم و بر تن کردم
    خِرقهٔ پِیرِ خراباتی و هُشیار شدم


    میں نے جامۂ زُہد و رِیا اُتار پھینکا اور [بعد ازاں] تن پر پِیرِ خرابات کا خِرقہ پہن لیا اور ہوشیار ہو گیا۔

    =============

    واعظِ شهر که از پَندِ خود آزارم داد
    از دَمِ رِندِ مَی‌آلوده مددکار شدم


    واعظِ شہر نے اپنی نصیحت سے مجھ کو آزار دی۔۔۔ [لہٰذا] میں نے رِندِ شراب‌آلودہ کے انفاس سے مددگاری [و پناہ] حاصل کی۔

    =============

    بِگُذارید که از بُت‌کده یادی بِکُنم
    من که با دستِ بُتِ مَی‌کده بیدار شدم


    مجھے بُت‌کدے کی ذرا یاد کرنے دیجیے کہ مَیں بُتِ مَیکدہ کے دست سے بیدار ہوا۔۔۔

    (روح‌الله خُمینی)
    مُتَرجِم: حسّان خان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    آنچه با این دلِ ویرانه غمِ عشقِ تو کرد
    کافرم گر به دِهی هیچ سِپاهی بِکُنَد
    (مُلّا احمد نراقی)


    جو کچھ تمہارے عشق کے غم نے اِس دلِ ویرانہ کے ساتھ کیا ہے، اگر کوئی بھی لشکر کسی قریے کے ساتھ کرتا ہو تو مَیں کافِر ہوں!۔۔۔۔ (یعنی جس طرح تمہارے عشق کے غم نے میرے دل کو ویران و تباہ کر دیا ہے، اُس طرح کوئی لشکر بھی ہرگز کسی قریے کو ویران و تباہ نہیں کرتا۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ز هجر ایِ یوسفِ مصرِ نکویی
    زُلیخاسان کُنم انگُشت‌خایی
    (ماه‌شرَف خانم 'مستوره' کُردستانی)


    اے مِصرِ زیبائی کے «یوسُف»! میں [تمہارے] ہِجر کے باعث «زُلیخا» کی طرح انگُشت چباتی ہوں۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    با بُلبُلم نِسبت مدِه هان آن کُجا و من کُجا
    در عشق نامم بد مکُن حیوان کُجا و من کُجا

    (علی‌قُلی خان والِه داغستانی)

    مجھ کو بُلبُل کے ساتھ نِسبت مت دو۔۔۔ ارے! وہ کہاں اور مَیں کہاں؟
    عِشق میں میرا نام بد مت کرو۔۔۔ حَیوان کہاں اور مَیں کہاں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شراب کی طلب و آرزو میں ایک بَیت:

    بِیا ساقی آن آبِ آتش‌فُروغ
    که از دل بَرَد زنگ و از جان وُروغ

    (فخرالدین اسعَد گُرگانی)

    اے ساقی! آؤ [اور] وہ آتش جیسے نُور و تابِش والا آب [لے آؤ] کہ جو دل سے زنگ اور جان سے تیرَگی و کُدورت کو [دُور] لے جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    چُنان نالم که بر معشوق عاشق
    چُنان گِریَم که بر فرزند مادر
    (مسعود سعد سلمان لاهوری)


    میں اُس طرح نالہ کرتا ہوں کہ جیسے معشوق پر عاشق [کرتا ہے]۔۔۔ میں اُس طرح گِریہ کرتا ہوں کہ جیسے فرزَند [کی مَوت] پر مادر [کرتی ہے]۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    چند پُرسی که چه حال است تُرا ای جویا
    مستم و نیستم از حالِ خود آگاه مپُرس

    (میرزا داراب بیگ جویا کشمیری)

    کب تک پوچھو گے کہ "اے جُویا، تمہارا کیا حال ہے؟"۔۔۔۔ میں مست ہوں، اور میں اپنے حال سے آگاہ نہیں ہوں۔ مت پوچھو!
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 21, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ظاہراً، ہمارے اکثر شُعَرا کے ساتھ یہ المیہ رہا ہے کہ اُن کو اپنے شہر اور اپنے وطن میں وہ عِزّت و اِکرام نہ مِلا جس کا وہ اِستِحقاق رکھتے تھے، اور اِسی وجہ سے کئی شُعَراء یہ آرزو کرتے نظر آتے ہیں کہ کاش وہ اپنے شہر سے کسی دیگر شہر میں کُوچ کر جائیں تاکہ وہ اِس طرح شاید خود کے مقصودِ دل‌خواہ تک پہنچ جائیں، اور اُن کو اور اُن کے فنِّ شاعری کو وہ پذیرائی مِل جائے جس کے وہ مُستَحِق و سزاوار ہیں۔ اِمامِ غزلِ فارسی «حافظِ شیرازی» ایک غزل کے مقطع میں کہتے ہیں:

    ره نبُردیم به مقصودِ خود اندر شیراز
    خُرّم آن روز که حافظ رهِ بغداد کند
    (حافظ شیرازی)


    ہم شیراز میں خود کے مقصود تک راہ نہ پا سکے [اور اُس تک پہنچ نہ سکے]۔۔۔ خوشا وہ روز کہ جب «حافظ» بغداد کی جانب روانہ ہو گا!

    ================

    یعنی «حافظِ شیرازی» کے ذہن میں تھا کہ اگر وہ شیراز سے بغداد کُوچ کر جائیں گے تو وہ مزید حُرمت و اِکرام و پذیرائی حاصل کر لیں گے۔۔۔ لیکن ذرا دیکھیے کہ مغربی تُرکی کے عظیم‌ترین شاعر «محمد فُضولی بغدادی»، کہ خود دِیارِ بغداد سے ہیں اور کئی ابیات میں بغداد کو فراواں سِتائش کے ساتھ یاد بھی کر چُکے ہیں، ایک تُرکی بیت میں کہہ رہے ہیں کہ اُن کو بغداد تَرک کر کے دِیارِ رُوم چلا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں اُن کے رُتبۂ فضل میں اضافہ ہو جائے گا:


    فُضولی ایسته‌ر ایسه‌ن اِزدِیادِ رُتبهٔ فضل
    دیارِ رُومو گؤزه‌ت، تَرکِ خاکِ بغداد ائت
    (محمد فضولی بغدادی)


    اے «فُضولی»! اگر تم [اپنے] رُتبۂ فضیلت میں اِضافے کے خواہش‌مند ہو تو دیارِ رُوم کی راہ دیکھو اور خاکِ بغداد کو تَرک کر دو۔

    Füzuli, istər isən izdiyadi-rütbeyi-fəzl,
    Diyari-Rumu gözət, tərki-xaki-Bağdad et!


    ================

    ایک دیگر تُرکی بیت میں تو اُنہوں نے اپنے دِل کو "اسیرِ رنجِ بغداد" کہہ کر یاد کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ "عَیش‌خانہ رُوم" جانے کا اِرادہ کر چکے ہیں۔۔۔ لیکن جہاں تک تاریخی منابِع شاہِد ہیں، وہ اِرادہ کر لینے کے باوجود کبھی دِیارِ رُوم نہیں جا سکے تھے، اور اُن کی زندگی عِراقِ عرب ہی میں بسر ہو گئی تھی۔۔۔


    فُضولی، ائیله‌دی آهنگِ عیش‌خانهٔ روم
    اسیرِ مِحنتِ بغداد گؤردۆڲۆن کؤنلۆم
    (محمد فضولی بغدادی)


    اے «فُضولی»! جس میرے دل کو تم نے اسیرِ رنجِ بغداد دیکھا تھا، اُس نے عیش‌خانۂ رُوم [کی جانب کوچ کر جانے] کا عزم و ارادہ کر لیا [ہے]۔

    Füzūlī, eylədi āhəng-i ‘eyş-xānə-i Rūm
    Əsīr-i mihnət-i Bağdād gördügüŋ köŋlüm


    ================

    «فُضولی» نے ایک فارسی غزل کے مقطع میں بھی ایسے ہی احساسات کا اِظہار کیا ہے، اور ایسا عیاں کیا ہے کہ گویا وہ بغداد سے اب بے‌رغبت ہیں اور اُن کے دل میں شہرِ تبریز جانے کی خواہش بیدار ہو گئی ہے۔۔۔ اِس تَرکِ وطن کے اِرادے سے بھی اُن کا مقصودِ اصلی شاید یہی تھا کہ تبریز اُن کی شاعری کے لیے مزید پذیرا ثابِت ہو گا۔۔۔

    بغداد را نخواست فضولی مگر دِلت
    کآهنگِ عیش‌خانهٔ تبریز کرده‌ای
    (محمد فضولی بغدادی)


    اے «فُضولی»! شاید تمہارے دل میں بغداد کی رغبت نہیں رہی کہ تم نے عیش‌خانۂ تبریز [کُوچ کر جانے] کا ارادہ کر لیا ہے۔

    ================

    حاصِلِ کلام یہ ہے کہ کوئی شاعر خواہ شیراز میں مُتَوَطِّن تھا یا خواہ بغداد میں، زمانے نے اُس کے ساتھ عُموماً ناقدری ہی کے ساتھ سُلوک کیا اور کئی شُعَراء اپنی زندگی کے دوران اپنے شہروں میں مُناسِب قدردانی، اور مقصود تک پہنچنے سے محروم رہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «ماه‌شرَف خانم 'مستوره' کُردستانی» اپنے برادرِ نوجوان «ابوالمحمّد» کی وفات پر لِکھے گئے فارسی مرثیے کی ایک بیت میں کہتی ہیں:

    در فراقِ بوالمحمّد آه چرخِ دُون کند
    مملو از زهرِ جفایم دم‌به‌دم جام و کُئُوس
    (ماه‌شرَف خانم 'مستوره' کُردستانی)


    آہ! «ابوالمحمّد» کے فِراق میں فلکِ پست لحظہ بہ لحظہ میرے جام و کاسوں کو زہرِ جفا سے پُر کرتا ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «آیت‌الله روح‌الله خُمَینی» کی ایک غزل:

    ساقی به رُویِ من درِ مَی‌خانه باز کُن
    از درس و بحث و زُهدِ رِیا بی‌نیاز کُن


    اے ساقی! میرے چہرے کی جانب مَیخانے کا در کھولو، اور مجھ کو درس و بحث و زُہدِ رِیائی سے بےنیاز کر دو۔۔۔۔

    ============

    تاری ز زُلفِ خم‌خمِ خود در رهم بِنِه
    فارغ ز عِلم و مسجد و درس و نماز کُن


    اپنی زُلفِ خَم در خَم میں سے ایک تار میری راہ میں رکھو اور مجھ کو عِلم و مسجد و درس و نماز سے فارِغ و آسودہ و بےپروا کر دو۔۔۔

    ============

    داوودوار نغمه‌زنان ساغری بِیار
    غافل ز دردِ جاه و نِشیب و فراز کُن


    داؤد کی مانند نغمہ گاتے ہوئے اِک ساغر لے آؤ اور مجھ کو جاہ و منصب اور نِشیب و فراز کے درد [و تشویش] سے غافِل کر دو۔۔۔۔

    ============

    برچِین حِجاب از رُخِ زیبا و زُلفِ یار
    بیگانه‌ام ز کعبه و مُلکِ حِجاز کُن


    یار کے رُخِ زیبا و زُلف سے حِجاب اُتار دو اور مجھ کو کعبہ و مُلکِ حِجاز سے بیگانہ کر دو۔۔۔

    ============

    لب‌ریز کُن از آن مَیِ صافی سبویِ من
    دل از صفا به سُویِ بُتِ تُرک‌تاز کُن


    اُس شرابِ صافی سے میرے سبُو کو لبریز کرو اور [میرے] دل کو صفا کے ساتھ (یا صفا و مروَہ سے) بُتِ تُرک‌تاز کی جانب کر دو۔۔۔ (تُرک‌تاز = تُرک کی مانند ناگہاں حملہ و تاراج کرنے والا)

    ============

    بی‌چاره گشته‌ام ز غمِ هجرِ رُویِ دوست
    دعوَت مرا به جامِ مَیِ چاره‌ساز کُن


    میں چہرۂ دوست کے ہجر کے غم سے بےچارہ [و بدحال] ہو گیا ہوں۔۔۔ مجھ کو شرابِ چارہ‌ساز کے جام کی جانب دعوَت کرو۔۔۔

    (روح‌اللہ خُمینی)
    مُتَرجِم: حسّان خان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بِیا زاهد خُدا را تَرکِ افیون کُن شراب آمد
    تیمُّم گشت باطل جانِ من اکنون که آب آمد
    (علی‌قُلی خان والِه داغِستانی)


    اے زاہِد! خُدارا آؤ افیون کو تَرک کر دو [کیونکہ] شراب آ گئی [ہے]۔۔۔۔ اے میری جان! اب جب کہ آب آ گیا [ہے] تو تیمُّم باطِل ہو گیا [ہے]۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «علی‌قُلی خان والِه داغِستانی» کی ایک غزل:

    می‌گُذشت از گُل سُخن رُویِ تو یاد آمد مرا
    حَرف می‌رفت از چمن کُویِ تو یاد آمد مرا


    گُل کے بارے میں گُفتگو ہو رہی تھی، مجھے تمہارا چہرہ یاد آ گیا۔۔۔ چمن کے بارے میں حَرف کہے جا رہے تھے، مجھے تمہارا کُوچہ یاد آ گیا۔

    ===========


    دِی کسی می‌کرد وصفِ ذوالفقارِ حیدری
    تُندیِ شمشیرِ ابرویِ تو یاد آمد مرا


    دِیروز ایک شخص ذوالفقارِ حیدری کے وصف بیان کر رہا تھا۔۔۔ مجھے تمہاری شمشیرِ ابرو کی تیزی و تُندی یاد آ گئی۔ (دِیروز = روزِ گُذشتہ، گُذشتہ کل، گُذرا ہوا کل)

    ===========

    نَکهَتِ سُنبُل شنیدم در چمن رفتم ز هوش
    عطرِ زُلفِ عنبرین‌بویِ تو یاد آمد مرا


    میں نے چمن میں سُنبُل کی خوشبو سونگھی تو میں بے‌ہوش ہو گیا۔۔۔ مجھے تمہاری زُلفِ عنبریں‌بُو کا عِطر یاد آ گیا۔

    ===========

    قِصّهٔ هاروت را می‌خوانْد از مُصحَف کسی
    رُویِ خوب و چشمِ جادویِ تو یاد آمد مرا


    کوئی شخص مُصحفِ [قرآن] سے «ہارُوت» کے قصّے کو پڑھ رہا تھا۔۔۔ مجھے تمہارا چہرۂ زیبا اور تمہاری چشمِ جادوگر یاد آ گئی۔

    ===========

    نافهٔ چین داشت عطّاری و آن را می‌سُتود
    خاکِ مُشکینِ سرِ کُویِ تو یاد آمد مرا


    کسی عطّار کے پاس مُشکِ چِین تھا اور وہ اُس کی سِتائش کر رہا تھا۔۔۔ مجھے تمہارے کوچے کی مُشک‌آلود و مُعَطّر خاک یاد آ گئی۔

    ===========

    نقلِ سِحرِ سامِری می‌کرد والِه پیشِ من
    مُعجِزِ چشمِ سُخن‌گویِ تو یاد آمد مرا


    «والِہ» میرے سامنے «سامری» کے جادو [کا قِصّہ] روایت کر رہا تھا۔۔۔ مجھے تمہاری چشمِ سُخن‌گو کا مُعجِزہ یاد آ گیا۔

    (والِه داغستانی)
    مُتَرجِم: حسّان خان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «علی‌قُلی خان والِه داغِستانی» کا خاندان نسَب کے لحاظ سے ظاہراً حضرتِ «عبّاس بن عبدالمُطَّلِب» تک پہنچتا تھا، اور اِس لیے اُنہوں نے کئی جگہوں پر خود کو «عبّاسی» کہہ کر یاد کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ابتدائے اسلام کی صدیوں میں «عبّاسیوں/ہاشِمیوں» اور «اُمَویوں» کے درمیان خاندانی نِزاع و سِتیز تھا اور عبّاسیوں کے انقلاب کے بعد جب وہ اِقتِدار میں آئے تھے تو اُنہوں نے اُمَویوں کا قتلِ عام کیا تھا، حالانکہ پدرِ اُمیّہ «عبدالشّمس» اور «ہاشِم» دونوں برادر تھے، اور «عبّاسیان/ہاشِمیان» اور «اُمَویان» ایک ہی خاندان کی دو شاخوں سے تھے اور قرابت کے لحاظ سے عموزادَگان تھے۔

    «والِه داغِستانی» اپنے عمو کی دُختر «خدیجه سُلطان» کے عاشق تھے، اور وہ کلاسیکی شاعروں میں اِس لحاظ سے مُنفَرِد ہیں کہ اُنہوں نے خود کی معشوقہ کا نام لے لے کر اُس کے لیے مثنویاں اور رُباعیاں وغیرہ کہی ہیں۔ وہ ایک رُباعی میں تعجُّب ظاہر کرتے ہوئے اپنی عموزادی اور اپنی معشوقہ «خدیجه» سے اِستِفسار کرتے ہیں کہ آیا کیا وہ «بنی اُمیّہ» میں سے ہیں جو اُن کی عبّاسی‌النسَب دُخترِ عم اُن کو خنجرِ کِین و عداوت سے قتل کر رہی ہے اور اُن کو ذرا محبّت نہیں دِکھا رہی؟!

    ای بِنتِ عم ای خدیجه ای نورِ نظر
    ای دل‌برِ عبّاسیه ای رشکِ قمر
    از خنجرِ کِین چه می‌کُشی والِه را
    اِبنِ عمت از بنی اُمیّه است مگر
    (والِه داغستانی)


    اے دُخترِ عم! اے «خدیجہ»! اے نورِ نظر!۔۔۔ اے دل‌برِ عبّاسیہ! اے رشکِ قمر!۔۔۔ تم «والِہ» کو خنجرِ کِینہ و عداوت سے کس لیے قتل کرتی ہو؟۔۔۔ آیا تمارا پِسَرِ عم «بنی اُمیّہ» میں سے ہے کیا؟!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    منگول پادشاہ «ہلاکو خان» نے عبّاسیوں کی سلطنت کا خاتمہ کر کے اُس کو کامِلاً تباہ و ویران کر دیا تھا۔ عبّاسیوں کی ذُرّیّت سے تعلُّق رکھنے والے شاعر «علی‌قُلی خان والِه داغِستانی» ایک بَیت میں اپنے محبوب سے کہہ رہے ہیں اگر اُس کی مِژگاں کی تیغ سے عبّاسی «والِه» مجروح ہو گئے ہیں تو کوئی تعجُّب‌انگیز چیز نہیں ہے کیونکہ وہ تو ایسی بے‌رحم اور تُند و تیز شمشیر ہے کہ خود «ہلاکو خان» جیسا سفّاک فاتح بھی اُس شمشیر کا قتیل ہے۔۔۔

    والِهِ عبّاسی ار شد خسته‌اش نبْوَد عجب
    ای هلاکو کُشتهٔ شمشیرِ مِژگانِ شُما
    (والِه داغستانی)


    اگر عبّاسی‌النسَب «والِہ» [آپ کی مِژگاں] کا زخمی ہو گیا تو عجب نہیں ہے۔۔۔۔ اے کہ «ہلاکو» [بھی] آپ کی شمشیرِ مِژگاں کا کُشتہ ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شمعِ جهان دوش نبُد نُورِ تو در حلقهٔ ما
    راست بِگو شمعِ رُخَت دوش کُجا بود کُجا
    (مولانا جلال‌الدین رومی)


    [اے] شمعِ جہاں! گُذشتہ شب تمہارا نُور ہمارے حلقے میں نہ تھا۔۔۔ سچ کہو تمہارے چہرے کی شمع گُذشتہ شب کہاں تھی؟ کہاں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    الا یا ایُّها النّاصِح مکُن منعم ز مَی‌خانه
    که من موسیٰ و این ارضِ مُقدّس هست چون طُورم
    (فیض کاشانی)


    اَلا اے ناصِح! مجھ کو مےخانہ سے منع مت کرو۔۔۔ کیونکہ میں موسیٰ ہوں اور یہ ارضِ مُقدّس میرے لیے مِثلِ طُور ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دلم بر آتشِ هجران کباب کرد و بِرفت
    تنم به دردِ جُدایی خراب کرد و بِرفت
    (اَوحَدی مراغه‌ای)


    اُس نے میرے دل کو آتشِ ہجراں پر کباب کیا اور چلا گیا۔۔۔ اُس نے میرے تن کو دردِ جُدائی سے خراب و تباہ کیا اور چلا گیا۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تا دلِ او را توانم نرم کرد
    مُعجِزِ داوود می‌باید مرا
    (والِه داغستانی)


    مجھ کو «داؤد» کے مُعجِزے کی حاجت ہے تاکہ میں اُس [یار] کے دِل کو نرم کر سکوں۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «حُسین بن منصورِ حلّاج» کا «اناالحق» (مَیں حق ہوں) کہنا اور اُس کی پاداش میں دار پر چڑھ جانا عالَمِ اسلام میں اور مسلمان شعر و ادبیات میں ایک مشہور قِصّہ رہا ہے۔۔ اکثر پیرَوانِ تصوُّف کہتے ہیں کہ «منصورِ حلّاج» خُدا میں اِس قدر زیادہ مُستَغرَق و مجذوب و فنا ہو گئے تھے کہ وہ تحمُّل نہ کر سکے اور «اناالحق» پُکار اُٹھے۔۔۔۔ «علی‌قُلی خان والِه داغِستانی» اپنی عموزادی «خدیجه سُلطان» کے عاشقِ دل‌باختہ و دل‌سوختہ تھے، اور وہ «خدیجه سُلطان» کی یاد میں لِکھی ایک رُباعی میں «منصورِ حلّاج» کے واقعے کی جانب تلمیحاً اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی معشوقہ و جاناں کی یاد میں اِس قدر فنا ہو گئے ہیں کہ اُن کی اپنی اِنفِرادی شخصیت معدوم ہو گئی ہے اور وہ خود عَین «خدیجه سُلطان» بن گئے ہیں اور اب «اناالخدیجه» کہتے ہیں:

    والِه گوید که عینِ جانانم من
    مسجودِ ملَک حضرتِ انسانم من
    مِسکین منصور خود اناالحق می‌گُفت
    این می‌گوید خدیجه سُلطانم من
    (والِه داغستانی)


    «والِہ» کہتا ہے کہ میں عَین جاناں ہوں۔۔۔۔ میں مسجودِ فرشتَگان اور حضرتِ انسان ہوں۔۔۔ خود «منصورِ» مِسکین «اناالحق» کہتا تھا۔۔۔۔ [لیکن] یہ کہتا ہے کہ "میں «خدیجہ سُلطان» ہوں"۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر