1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2008

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    زبانِ فارسی کی سِتائش میں ایک افغان فارسی شاعر «فضل احد احدی» کی تین ابیات:

    فطرتم، عشقم، تمامِ هست و بودم پارسی‌ست
    هستی‌ام، روح و روانم، تار و پودم پارسی‌ست
    سجده‌گاه‌ام بلخ، تسبیح و ثناء‌ام مثنوی
    پیشوایم حافظ و جامی، درودم پارسی‌ست
    مکتبم اقبال و بیدل، درسِ من فردوسی است
    تکیه‌گاه‌ام حضرتِ سعدی، وجودم پارسی‌ست

    (فضل احد احدی)

    میری فِطرت، میرا عشق، میرا تمام ہست و بُود فارسی ہے۔۔۔ میری ہستی، میری رُوح و جان، میرا تار و پُود فارسی ہے۔۔۔ میری سجدہ‌گاہ «بلخ» اور میری تسبیح و ثنا «مثنویِ معنوی» ہے۔۔۔ میرے پیشوا و اِمام «حافظ» و «جامی»، اور میرا دُرُود فارسی ہے۔۔۔۔ میرا مکتب «اِقبال» و «بیدل»، اور میرا درس «فردوسی» ہے۔۔۔ میری تکیہ‌گاہ (پُشت و پناہ) حضرتِ «سعدی»، اور میرا وُجود فارسی ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «حاجی محمّد جان قُدسی مشهدی» ایک بیت میں مُلکِ «کشمیر» اور دیارِ «شام» کے درمیان مُقایسہ کرتے ہوئے، اور «کشمیر» کو «شام» سے برتر و زیباتر بتاتے ہوئے کہتے ہیں:

    صفایِ شام را اینجا مبَر نام
    چه نسبت صُبحِ صادق راست با شام؟

    (قُدسی مشهدی)

    «شام» کی صفا و پاکی و روشنائی کا یہاں نام مت لو!۔۔۔۔ صُبحِ صادِق کو، شام (وقتِ غُروب) کے ساتھ کیا نِسبت؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «سُلطان مسعود غزنوی» کی سِتائش میں ایک بیت:

    همچُنان باز از خُراسان آمدی بر پُشتِ پیل
    کاحمدِ مُرسَل به سُویِ جنّت آمد بر بُراق

    (منوچهری دامغانی)

    تم اُسی طرح فِیل کی پُشت پر [سوار ہو کر] خُراسان سے واپَس آئے ہو کہ جس طرح «احمدِ مُرسَل» بُراق پر [سوار ہو کر] جنّت کی جانب آئے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    من بدین نُکته رسیدم که بهشتِ مَوعود
    هست در حُسنِ تو مشغولِ تماشا گشتن

    (شهریار تبریزی)
    میں اِس نُکتے پر پہنچا [ہوں] کہ بہشتِ مَوعود [در اصل] تمہارے حُسن میں مشغولِ تماشا و نظارہ ہونے [کا نام] ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یاقوت غُلامِ لبِ خندانِ تو باشد
    الماس کمربستهٔ مژگانِ تو باشد
    (بینِش کشمیری)

    یاقوت تمہارے لبِ خنداں کا غُلام ہے۔۔۔ الماس تمہاری مِژگاں کا کمربستۂ خِدمت (یعنی خادِم و نوکر و چاکَر) ہے۔
    × الماس = ہِیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    هر پارهٔ دِلم چمنی از نگاهِ اوست
    آیینه چون شکسته شد آیینه‌خانه‌ای‌ست
    (بینِش کشمیری)

    میرے دل کا ہر پارہ و جُزء اُس کی نگاہ کا اِک چمن ہے۔۔۔ آئینہ جب شِکستہ ہو جائے تو اِک آئینہ‌خانہ (بن جاتا) ہے۔
    (آئینہ ٹوٹنے کے بعد عکس اُس آئینے کے ہر پارے میں مُنعَکِس ہونا شُروع ہو جاتا ہے۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    «کشمیریوں» کے مِلّی وطن «کشمیر» کی سِتائش میں تیموری پادشاہ «شهاب‌الدین محمد شاه‌جهان» کے دربار کے ملِکُ‌الشُّعَراء «ابوطالب کلیم کاشانی» کی ایک مثنوی کی ابتدائی چند ابیات:

    دِگر بخت از درِ یاری برآمد
    به شهرستانِ عیشم ره‌بر آمد
    ره و رسمِ جفاجویان دِگر شد
    کسی کو بود ره‌زن راه‌بر شد
    به گُل‌زاریم طالع ره‌نما گشت
    که با خارَش بُوَد صد رنگ گُل‌گشت
    چه بُستانی‌ست دستِ عیشِ گُل‌چین
    که شهری را ز یک گُل کرده رنگین
    غلط گُفتم چه بُستان و چه گُل‌زار
    بهارستان نگارستان اِرم‌زار
    کسی کشمیر را بُستان نگوید
    به غیر از روضهٔ رضوان نگوید
    جهانِ دل‌گُشایی کِشوَرِ فیض
    که هر روزن درو باشد درِ فیض
    هوایش کرده از جنّت حکایت
    ز بادش شمع را نبْوَد شکایت

    (ابوطالب کلیم کاشانی)

    [میرا] بخت بارِ دیگر یاری پر مائل ہو گیا۔۔۔ [اور] اُس نے میری رہبری ایک شہرستانِ عَیش (کشمیر) کی جانب کر دی۔۔۔۔ جفاجُوؤں کی راہ و رسم تبدیل ہو گئی۔۔۔ جو شخص راہ‌زن تھا، وہ راہ‌بر ہو گیا۔۔۔ [میری] قِسمت نے ایک ایسے گُل‌زار کی جانب ہماری راہ‌نُمائی کر دی کہ جس کے خار کے ساتھ [بھی] صد طرح کی گُل‌گُشت ہے۔۔۔ یہ اِک کیسا بوستان ہے کہ دستِ عَیشِ گُل‌چین نے گویا اِس دِیار کو ایک گُل سے رنگین کیا ہے!۔۔۔۔ [نہیں! نہیں!] میں نے غلط کہا! کیا بوستان اور کیا گُلزار!۔۔۔۔ [نہیں! نہیں! بلکہ یہ تو] بہارستان و نِگارستان و اِرم‌زار ہے۔۔۔ کوئی شخص «کشمیر» کو بوستان نہ کہے!/نہیں کہتا۔۔۔ [اور] رَوضۂ رِضوان کے بجُز [کچھ] نہ کہے!/نہیں کہتا۔۔۔ یہ جہانِ دِل‌کُشائی اور کِشوَرِ فَیض ہے۔۔۔ کہ اِس کے اندر ہر رَزون [ہی اِک] درِ فَیض ہے۔۔۔ اُس کی [آب و] ہوا جنّت کی حِکایت کہتی آئی ہے۔۔۔۔ اُس کی باد سے شمع کو [بھی] شِکایت نہیں ہوتی!

    ============

    «کشمیر» کی سِتائش میں یہ ابیات لِکھنے کا شاعر کو شاید یہ صِلہ مِلا کہ اُن کو مُلکِ کشمیر ہی میں مُتَوَفّیٰ و مدفون ہونا نصیب ہو گیا۔ آفرین بر روحِ پاکش!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ہماری زبانِ فارسی میں یہودیوں کے معبَد کو «کُنِشت» بھی کہا گیا ہے، اور زبانِ فارسی کے توسُّط سے یہ لفظ بعد میں تُرکی اور اُردو میں بھی استعمال ہوا ہے۔ ویسے تو اِس کا خُصوصی معنی «عبادت‌گاہِ یہودیان» تھا، لیکن شعر و ادبیات میں یہ لفظ عُموماً «آتش‌کدہ، بُت‌کدہ یا غیرمُسلمانوں کی عبادت‌گاہ» کے مفہوم میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

    مُلکِ «کشمیر» کے ایک «کشمیری» شاعر «بینِش کشمیری» ایک بیت میں یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں:


    در دل خیالِ رُویِ تو گر پرتَو افکَنَد
    سوزد چراغِ کعبه ز رشکِ کُنِشتِ من
    (بینِش کشمیری)


    اگر [میرے] دل میں تمہارے چہرے کا خیال پرتَو ڈال دے تو میرے کُنِشت کے رشک سے چراغِ کعبہ جل جائے [گا]۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    کِشوَرِ «کشمیر» اور «کشمیریوں» کو فخر ہونا چاہیے کہ اُن کی سرزمین سے ایسے بے‌شُمار فصیح‌زبان و نازُک‌خیال فارسی شاعران منصّۂ شُہود میں آتے رہے جو اِس قسم کے زیبا شعری مضامین کو ہماری زبانِ فارسی میں بیان کرنے کی کامِل قُدرت رکھتے تھے:

    نم به چشمِ اشک‌بارم زآتشِ سودا نمانْد
    غیرِ دل یک قطره خونم در همه اعضا نمانْد

    (بینِش کشمیری)

    آتشِ عشق و جُنون کے باعث میری چشمِ اشک‌بار میں نمی باقی نہ رہی۔۔۔ دل کے بجُز، ایک قطرۂ خُون [بھی] میرے تمام اعضا میں باقی نہ رہا۔۔۔ (یعنی آتشِ عشق و جُنون نے تمام اعضا سے خُون خُشک کر دیا ہے، اور فقط دل ایک قطرۂ خُون کی صُورت میں باقی رہ گیا ہے۔ یا یہ کہ فقط دل میں خون باقی رہ گیا ہے، اور دیگر ہمہ اعضا میں خُون خُشکیدہ ہو گیا ہے۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جنابِ «صائب تبریزی» کو میں فارسی کا بہترین شاعر جانتا ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جنابِ «صائب» جیسے عظیم‌ترین شاعر کو بھی دیارِ «کشمیر» کے مشہور شاعر «غنی کشمیری» کی ایک بیت پر رشک تھا؟ «تذکرهٔ سفینهٔ خوشگو» میں آیا ہے کہ: «میرزا صائب» کو «غنی کشمیری» کی مندرجۂ ذیل بیت پر بِسیار زیاد رشک تھا اور وہ کہتے تھے کہ اے کاش میں نے جو کچھ بھی اپنی تمام عُمر میں کہا ہے وہ میں اِس کشمیری کو دے دیتا اور عِوَض میں اُس کی یہ بیتِ عدیم‌الجواب لے لیتا:

    حُسنِ سبزی به خطِ سبز مرا کرد اسیر
    دام هم‌رنگِ زمین بود گرفتار شُدم

    (غنی کشمیری)

    اِک حُسنِ سبز (گندُم‌گوں) نے خطِ سبز کے ذریعے مجھ کو اسیر کر لیا۔۔۔۔ دام (جال) زمین کا ہم‌رنگ تھا، [لہٰذا] میں گرفتار ہو گیا۔

    سلام بر «غنی کشمیری»!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مُتَشاعِروں کی نکوہِش (مذمّت) میں خِطّۂ «کشمیر» کے شاعر جنابِ «غنی کشمیری» کی ایک بیت:

    خام‌گویان بسکه می‌سازند معنی‌ها شهید
    شد زمینِ شعر آخر چون زمینِ کربلا

    (غنی کشمیری)

    خام‌گو [مُتَشاعِران اور ناقِص سُخن‌وَران] معانیِ [اشعار] کو اِتنا زیادہ شہید کرتے ہیں کہ زمینِ شاعری بِالآخر زمینِ «کربلا» کی مانند ہو گئی [ہے]۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دِیارِ «کشمیر» کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ "کشمیر واحد جنّت ہے کہ جو جہنّم ہے"۔۔۔ لیکن اِس جنّت کو جہنّم میں تبدیل ہوئے فقط چند دہائیاں گُذری ہیں۔۔۔ گُذشتہ ادوار میں ایسا ہرگز نہ تھا۔۔۔ تیموری پادشاہ «نورالدین جهان‌گیر» کے ملِک‌الشُعَراء «طالب آمُلی» کو رَوضۂ «کشمیر» کے کُوچوں سے فقط بُوئے محبّت آتی تھی، اور بہشتِ «کشمیر» نے اُن کو اِس قدر والِہ و شَیفتہ کر دیا تھا کہ «کشمیر» کے پیش میں اُن کو "بہشتِ جاوید" بھی پست نظر آتی تھی۔

    «کشمیر» کی سِتائش میں «طالب آمُلی» کی دو ابیات دیکھیے:


    چون خاکِ عشق‌بازان هر لحظه بر مشامم
    بُویِ محبّت آید از کوچه‌هایِ کشمیر

    (طالب آمُلی)

    خاکِ عشق‌بازاں کی مانند ہر لمحہ میرے مشام میں «کشمیر» کے کُوچوں سے بُوئے محبّت آتی ہے۔

    وصفِ بهشتِ جاوید از عاشقانِ آن پُرس
    ما را زبان نگردد جُز در ثنایِ کشمیر

    (طالب آمُلی)

    بہشتِ جاوید کی توصیف اُن سے پُوچھو کہ جو اُس بہشت کے عاشقان ہیں۔۔۔ ہماری زبان تو فقط «کشمیر» کی ثنا کہنے کے لیے حرکَت میں آتی ہے۔

    =============

    «طالب آمُلی» اگر اِمروز کے «کشمیر» کو دیکھتے تو کیا کہتے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    آمد شرابِ آتشین ای دیوِ غم کُنجی نِشین
    ای جانِ مرگ‌اندیش رَو ای ساقیِ باقی درآ

    (مولانا جلال‌الدین رومی)

    شرابِ آتشیں آ گئی۔۔۔ اے دیوِ غم! [تم مجھ سے دُور جا کر] کسی گوشے میں بیٹھ جاؤ!۔۔۔ اے مرگ کے بارے میں فِکر و تفکُّر کرنے والی جان! چلی جاؤ!۔۔۔ [اور] اے ساقیِ پایندہ و جاوید! اندر آ جاؤ!۔۔۔

    × دیو = عِفریت، غول، شیطان، جِن
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اکثر شاعران محبوب کی یاد میں فرطِ گِریہ کی صورتِ حال بیان کرنے کے لیے کہتے آئے ہیں کہ "وہ اِس قدر زیادہ روئے کہ اُن کے سر سے آب گُذر گیا"۔ لیکن مُلاحظہ کیجیے کہ مُلکِ «کشمیر» کے ایک «کشمیری» شاعر «بینِش کشمیری» کی فِراقِ محبوب میں کیسی سوزناک حالتِ زار ہے:

    بی تو ما را ز سوزِ گِریه چو شمع
    آتش از سر به جایِ آب گُذشت
    (بینِش کشمیری)


    [اے محبوب!] تمہارے بغیر (تمہاری جُدائی میں) شمع کی طرح سوزِ گِریہ کے باعث ہمارے سر [پر] سے آب کی بجائے آتش گُذر گئی۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تیموری پادشاہ «نورالدین جهان‌گیر» کے ملِک‌الشُعَراء «طالِب آمُلی» نے سرزمینِ «کشمیر» کی سِتائش میں مندرجۂ ذیل بیت اُس دَور میں کہی تھی جب «کشمیر» کی بادِ صبا ہر صُبح «کشمیریوں» کے لیے پیغامِ یأس و حِرمان نہیں، بلکہ پیغامِ جنّت لاتی تھی:

    هر صُبح در مشامم از راهِ آشنایی
    پیغامِ جنّت آرد بادِ صبایِ کشمیر
    (طالب آمُلی)


    «کشمیر» کی بادِ صبا ہر صُبح میرے مَشام میں از راہِ آشنائی پیغامِ جنّت لاتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    دِیار و مردُمِ «کشمیر» کی سِتائش کرنے میں جنابِ «عبدالرحمٰن جامی» نے بھی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ وہ ایک بیت میں سرزمینِ «کشمیر» کی مدح میں فرماتے ہیں:

    مقامِ خُوب‌رُویان آن زمین است
    به خوبی رشکِ فردوسِ برین است
    (عبدالرحمٰن جامی)


    خُوب‌رُوؤں کا مقام وہ سرزمین ہے۔۔۔ وہ [سرزمین] خوبی میں رشکِ فردوسِ بریں ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شوخ از بس بهارِ کشمیر است
    مِژهٔ حُور خارِ کشمیر است

    (محمد رِضا مُشتاق کشمیری)

    «کشمیر» کی بہار اِس قدر زیادہ شوخ ہے کہ حُور کی مِژہ خارِ «کشمیر» ہے۔
    (یعنی فصلِ بہار میں «کشمیر» کا خار بھی زیبائی اور تر و تازگی میں ایسا ہے کہ گویا مِژۂ حُور ہو۔)

    × مِژه = پلک کا بال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,999
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    حیف باشد در وفا کم بُودن از رنگِ حنا
    عمر آں بہتر کہ در پائے نگار آخر شود


    غنی کاشمیری

    (کسی عاشق کے لیے) افسوس کا مقام ہے کہ وہ وفا کرنے میں مہندی کے رنگ سے بھی کم تر ہو، کیونکہ عمر وہی بہتر ہے کہ جو محبوب کے قدموں میں تمام ہو جائے، (جیسے مہندی کا رنگ وہیں قدموں میں لگے لگے ہی ختم ہو جاتا ہے)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  19. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,875
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    ایمانِ ما کسی به قیامت نمی خرد
    ما خود به کفرِ زلفِ پریشان فروختیم


    ہمارا ایمان قیامت کو بھی کسی نے نہیں خریدنا تھا، ہم نے بھی اسے زلفِ پریشان کے کفر کے عوض بیچ دیا۔


    عرفی شیرازی
     
    آخری تدوین: ‏اگست 8, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. اریب آغا

    اریب آغا محفلین

    مراسلے:
    859
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نواب ولی محمدخان کے پسر نواب اللہ دادخان متخلص بہ صوفی کہتے ہیں:

    عیدِ قربانست امروز، ای نگارِ من بیا!
    تا شود صوفی چو اسماعیل قربانِ شما
    (نواب الله دادخان 'صوفی')

    امروز عیدِ قرباں ہے، اے میرے محبوب آجا تاکہ ’صوفی‘ حضرت اسماعیل کی مانند تجھ پر قربان ہوجائے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر