حسان خان

لائبریرین
(بایاتې)
عاشېقېن چۏخ‌دور سنین،
کیرپیڲین اۏخ‌دور سنین،
دردین‌دن دلی‌یم من،
خبرین یۏخ‌دور سنین.

(لاادری)
تمہارے عاشق بِسیار ہیں،
تمہاری مِژہ تیر ہے،
میں تمہارے درد سے دیوانہ ہوں،
[لیکن] تم کو خبر نہیں ہے۔
× مِژہ = پلک کا بال

Aşıqın çoxdur sənin,
Kirpiyin oxdur sənin,
Dərdindən dəliyəm mən,
Xəbərin yoxdur sənin.


× مندرجۂ بالا بند سات ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
مندرجۂ بالا تُرکی 'بایاتی' (تُرکی شِفاہی (اورل) شاعری کی ایک ادبی صِنف) کا منظوم فارسی ترجمہ:
(دوبیتی)
بلندبالا، تو را عاشق چه بسیار
همه مژگانِ ته تیرست، زِنهار،
مو از درد و غمت دیوونه گشتم،
نداری ته خبر از حالِ بیمار.

(حُسین محمدزاده صدیق)
اے [محبوبِ] بُلند قامت! تمہارے عاشق کتنے بِسیار ہیں۔۔۔۔ تمہاری تمام مِژگاں تیر ہیں، الامان!۔۔۔۔ میں تمہارے درد و غم سے دیوانہ ہو گیا۔۔۔ [لیکن] تم کو بیمار کے حال کی خبر نہیں ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
چہ پُرسی از سر و سامانِ من، عمریست چوں کاکل
سیہ بختم، پریشاں روزگارم، خانہ بر دوشم


احمد یار خان یکتا

میرے سر و سامان کے متعلق تُو کیا پُوچھتا ہے کہ میری ساری عمر تو (سیاہ) زلفوں کی طرح ہے، سیاہ نصیب ہوں، روزگار پریشاں ہے (پریشاں زلفوں کی طرح)، خانہ بدوش ہوں (کندھوں پر گھر ہے، زلفوں کی طرح)۔
 

حسان خان

لائبریرین
(بایاتې)
داغ‌لاردا اکدیم لالا،
اله آلدېم پییالا،
هئچ گؤرۆنۆب دۆنیادا،
ظۆلم ائوی آباد قالا؟

(لاادری)
میں نے کوہوں پر [گُلِ] لالہ بویا،
میں نے دست میں پیالہ لیا،
کیا کبھی دنیا میں [یہ] نظر آیا ہے
کہ خانۂ ظُلم آباد رہ جائے؟

Dağlarda əkdim lala,
Ələ aldım piyala,
Heç görünüb dünyada,
Zülm evi abad qala?

× مندرجۂ بالا بند سات ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
مندرجۂ بالا تُرکی 'بایاتی' کا منظوم فارسی ترجمہ:
(دوبیتی)
به کُهساران بِکِشتم سُرخ لاله،
به باده رقص دادم در پیاله،
ستم‌خانه چه سان آباد باشه،
چو بِنْشیند ستم‌دیده به ناله؟

(حُسین محمدزاده صدیق)
میں نے کوہساروں پر سُرخ لالہ بویا۔۔۔ میں نے پیالے میں شراب کو رقصاں کیا۔۔۔ جب [کوئی] سِتم دیدہ [شخص] نالہ کرنے بیٹھے تو سِتم خانہ کیسے آباد رہے؟
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
شاہنامۂ فردوسی میں ایک جا اِسفَندیار، رُستم کو اپنے کارنامے گِنواتے ہوئے کہتا ہے:
هر آن کس که برگشت از راهِ دین
بِکُشتم به میدانِ توران و چین

(فردوسی طوسی)
جو بھی شخص دین کی راہ سے پلٹا، میں نے [اُس کو] تُوران و چین کے میدان میں قتل کر دیا۔
× بیتِ ہٰذا میں 'دین' سے زرتُشتی دین مراد ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
شاہنامۂ فردوسی میں ایک جا اِسفَندیار، رُستم کو اپنے کارنامے گِنواتے ہوئے کہتا ہے:
نخُستین کمر بستم از بهرِ دین
تهی کردم از بُت‌پرستان زمین

(فردوسی طوسی)
میں نے اوّلاً و ابتداءً دین کی خاطر کمر باندھی، اور زمین کو بُت پرستوں سے خالی کر دیا۔
× بیتِ ہٰذا میں 'دین' سے زرتُشتی دین مراد ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
شاہنامۂ فردوسی میں ایک جا اِسفَندیار، رُستم کو اپنے کارنامے گِنواتے ہوئے کہتا ہے:
به مردی من آن باره را بِسْتدم
بُتان را همه بر زمین برزدم
برافروختم آتشِ زردهِشت
که با مِجمَر آورده بود از بهشت
به پیروزیِ دادگر یک خُدای
به ایران چُنان آمدم باز جای
که ما را به هر جای دشمن نمانْد
به بُت‌خانه‌ها در برهمن نمانْد

(فردوسی طوسی)
میں نے مردانگی سے [تُوران کا] وہ قلعہ فتح کر لیا، اور تمام بُتوں کو زمین پر دے مارا۔۔۔ میں نے [وہاں] زردُشت کی آتش کو روشن کیا، جس کو وہ آتشدان کے ساتھ بہشت سے لایا تھا۔۔۔ خدائے واحد و عادل کی توفیق و کامیابی سے میں ایران اِس حالت میں واپَس آیا کہ کسی بھی جگہ ہمارا [کوئی] دشمن باقی نہ رہا۔۔۔ اور بُت خانوں میں [کوئی] برہمن نہ رہا۔۔۔

× شاہنامہ میں تُورانیوں کو بُت پرست دِکھایا گیا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
کُنون خورْد باید مَیِ خوش‌گوار
که می‌ بُویِ مُشک آید از کوه‌سار
هوا پُرخُروش و زمین پُر ز جوش
خُنُک آن که دل شاد دارد به نوش

(فردوسی طوسی)
اب شرابِ خوشگوار پینی چاہیے کیونکہ کوہسار سے بُوئے مُشک آ رہی ہے۔۔۔ ہوا پُرخُروش ہے اور زمین جوش سے پُر ہے۔۔۔ خوشا وہ شخص جو بادہ نوشی سے دل شاد رکھتا ہے/رکھے گا!
 

محمد وارث

لائبریرین
ثوابِ روزہ و حجِ قبول آنکس بُرد
کہ خاکِ میکدۂ عشق را زیارت کرد


لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی

روزے کا ثواب اور حج کی مقبولیت بس وہی شخص لے گیا کہ جس نے میکدۂ عشق کی خاک کی زیارت کی۔
 
ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں
ایں خیال است و محال است و جنوں

(مولانا جلال الدین رومی)


تو خدا کو بھی چاہتا ہے اور ذلیل دنیا کو بھی۔ یہ بس خیال، جنون اور ناممکن بات ہے۔
میرے علم کے مطابق مولوی رومی کے کلام میں یہ شعر نہیں ہے
 

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجانی شاعر سید محمد حُسین بہجت شہریار تبریزی اپنے شُہرۂ آفاق تُرکی منظومے 'حیدر بابایه سلام' (حیدر بابا کو سلام) کے ایک بند میں اپنے قریے 'خُشگَناب' میں گُذارے زمانۂ طِفلی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
خزان یئلی یارپاخ‌لارې تؤکن‌ده
بولوت داغ‌دان یئنیب کنده چؤکن‌ده
شئیخل‌ایسلام گؤزل سسین چکن‌ده
نیسگیل‌لی سؤز اۆره‌ک‌لره د‌ه‌یه‌ردی
آغاش‌لار دا آللاها باش ایه‌ردی

(شهریار تبریزی)
[اُس وقت کی یاد بخیر! کہ] جب بادِ خزاں برْگوں (پتّوں) کو گِرا اور بِکھرا دیتی تھی۔۔۔ [اور] جب ابر کوہ سے نیجے آ کر دِہکَدے (گاؤں) میں بیٹھ جاتا اور ڈھانپ لیتا تھا (یعنی ابر اور دُھند دِہکَدے کو ڈھانپ لیتے تھے)۔۔۔ [اور] جب شیخ الاسلام اپنی زیبا صدا بلند کرتا تھا۔۔۔ [اُس کا] پُردرد سُخن دِلوں کو چُھوتا اور اثر کرتا تھا۔۔۔ [جس کو سُن کر] درخت بھی اللہ کے پیش میں سر جھکاتے تھے۔
× شیخ الاسلام = ایک خوش صدا مقامی واعظ کا نام

Xəzan yeli yarpaxları tökəndə,
Bulut dağdan yenib kəndə çökəndə,
Şeyxəlislam gözəl səsin çəkəndə,
Nisgilli söz ürəklərə dəyərdi,
Ağaşlar da Allaha baş əyərdi.


× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
شہریار تبریزی کے مندرجۂ بالا تُرکی بند کا منظوم فارسی ترجمہ:
هنگامِ برگ‌ریزِ خزان باد می‌وزید
از سویِ کوه بر سرِ دِه ابر می‌خزید
با صوتِ خوش چو شیخ مُناجات می‌کشید
دل‌ها به لرزه از اثرِ آن صلایِ حق
خم می‌شُدند جمله درختان برایِ حق

(بهروز ثروتیان)
[اُس وقت کی یاد بخیر! کہ جب] خزاں کی بَرگ ریزی کے وقت باد حرَکت کرتی تھی۔۔۔ ابر، کوہ کی جانب سے [آ کر] دِہکَدے (گاؤں) کے سر پر رینگتا چلا آتا تھا۔۔۔ جب شیخ خوبصورت صدا کے ساتھ مُناجات کرتا تھا۔۔۔ اُس ندائے حق کے اثر سے دل لرزے میں آ جاتے تھے۔۔۔ [اور] تمام درخت حق تعالیٰ کے لیے خم ہو جاتے تھے۔

× اِس بند میں شہریار تبریزی اپنے قریے 'خُشگَناب' میں گُذارے زمانۂ طِفلی کو یاد کر رہے ہیں، اور یہ بند اُن کے شُہرۂ آفاق تُرکی منظومے 'حیدر بابایه سلام' (حیدر بابا کو سلام) سے مأخوذ ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجانی شاعر سید محمد حُسین بہجت شہریار تبریزی اپنے شُہرۂ آفاق تُرکی منظومے 'حیدر بابایه سلام' (حیدر بابا کو سلام) کے ایک بند میں اپنے قریے 'خُشگَناب' میں گُذارے زمانۂ طِفلی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
حئیدربابا، میراژدر سس‌له‌نن‌ده
کند ایچینه سس‌دن کۆی‌دن دۆشن‌ده
عاشېق رۆستم سازېن دیلله‌ندیرن‌ده
یادوندا‌دې نه هؤله‌سک قاچاردېم
قوش‌لار تکین قاناد چالوب اوچاردېم

(شهریار تبریزی)
اے حیدربابا! جب میر اژدر نِدا دیتا تھا، [اور] قریے [کی فضا] میں صدا و غوغا بھر جاتی تھی۔۔۔ جب عاشق رُستم اپنے ساز کو صدا میں لاتا تھا (بجاتا تھا)۔۔۔ کیا تم کو یاد ہے کہ میں کس شِتابی کے ساتھ بھاگتا تھا [اور] پرندوں کی طرح پر مار کر پرواز کرتا تھا؟

× حیدر بابا = ایرانی آذربائجان کے قریے 'خُشگَناب' میں واقع ایک کوہ کا نام، جس کے نزدیک شہریار تبریزی کا زمانۂ طِفلی گذرا تھا، اور جس کی یاد میں اور جس کو مخاطَب کر کے یہ منظومہ لکھا گیا تھا۔
× میر اژدر = ایک چاوُش کا نام تھا۔ ایران میں 'چاوُش' اصطلاحاً اُس شخص کو کہتے ہیں جو زائروں کے قافلے کے پیشاپیش چلتا اور مذہبی اشعار خوانتا (پڑھتا) ہے، اور قافلے کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔
× عاشق رُستم = ایک معروف آواز خواں و سازندہ کا نام تھا

Heydər Baba, Mirəjdər səslənəndə,
Kənd içinə səsdən küydən düşəndə,
Aşıq Rüstəm sazın dilləndirəndə,
Yadundadı nə höləsək qaçardım,
Quşlar təkin qanad çalub uçardım.


× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
شہریار تبریزی کے مندرجۂ بالا تُرکی بند کا منظوم فارسی ترجمہ:
میراَژدَر آن زمان که زنَد بانگِ دل‌نشین
شور افکَنَد به دِهکده، هنگامه در زمین
از بهرِ سازِ رُستمِ عاشق بِیا بِبین
بی‌اختیار سویِ نواها دویدنم
چون مُرغِ پَرگُشاده بدانجا رسیدنم

ٌ(بهروز ثروتیان)
جس وقت کہ میر اژدَر دل نشیں بانگ کرے۔۔۔ دِہکدے (گاؤں) میں آشوب اور زمین میں ہنگامہ برپا کر دے۔۔۔ آؤ، عاشق رُستم کے ساز کی خاطر میرا بے اختیار نواؤں کی جانب دوڑنا اور پَر کُشادہ پرندے کی طرح اُس جگہ پہنچنا دیکھو!

× اِس بند میں شہریار تبریزی اپنے قریے 'خُشگَناب' میں گُذارے زمانۂ طِفلی کو یاد کر رہے ہیں، اور یہ بند اُن کے شُہرۂ آفاق تُرکی منظومے 'حیدر بابایه سلام' (حیدر بابا کو سلام) سے مأخوذ ہے۔
× حیدر بابا = ایرانی آذربائجان کے قریے 'خُشگَناب' میں واقع ایک کوہ کا نام، جس کے نزدیک شہریار تبریزی کا زمانۂ طِفلی گذرا تھا، اور جس کی یاد میں اور جس کو مخاطَب کر کے یہ منظومہ لکھا گیا تھا۔
× میر اژدر = ایک چاوُش کا نام تھا۔ ایران میں 'چاوُش' اصطلاحاً اُس شخص کو کہتے ہیں جو زائروں کے قافلے کے پیشاپیش چلتا اور مذہبی اشعار خوانتا (پڑھتا) ہے، اور قافلے کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔
× عاشق رُستم = ایک معروف آواز خواں و سازندہ کا نام تھا
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سید محمد حُسین بہجت شہریار تبریزی اپنے شُہرۂ آفاق تُرکی منظومے 'حیدر بابایه سلام' (حیدر بابا کو سلام) کے ایک بند میں کہتے ہیں:
حئیدر بابا، دۆنیا یالان دۆنیادې

سۆلئیمان‌دان، نوح‌دان قالان دۆنیادې
اۏغول دۏغان، درده سالان دۆنیادې
هر کیمسه‌یه هر نه وئریب، آلېبدې
افلاطون‌دان بیر قورو آد قالېبدې
(شهریار تبریزی)
حیدر بابا، [یہ] دنیا دروغیں دنیا ہے
[یہ دنیا] سلیمان اور نوح سے [باقی] رہ جانے والی دنیا ہے (یعنی وہ بھی بالآخر اِس دنیا سے چلے گئے)
[یہ دنیا] فرزند متولّد کر کے [پھر اُس کو] درد میں پھینک دینے والی دنیا ہے
[اِس دنیا نے] جس بھی شخص کو جو بھی کچھ دیا ہے، وہ [بعد میں واپس] لے لیا ہے
افلاطون کا [صرف] ایک خُشک نام باقی رہا ہے (یعنی نام کے بجز دنیا نے اُس سے ہر چیز واپس لے لی)

Heydər Baba dünya yalan dünyadı,
Süleymandan, Nuhdan qalan dünyadı,
Oğul doğan, dərdə salan dünyadı,
Hər kimsəyə hər nə verib, alıbdı,
Əflatundan bir quru ad qalıbdı.


× حیدر بابا = ایرانی آذربائجان کے قریے 'خُشگَناب' میں واقع ایک کوہ کا نام، جس کے نزدیک شہریار تبریزی کا زمانۂ طِفلی گذرا تھا، اور جس کی یاد میں اور جس کو مخاطَب کر کے یہ منظومہ لکھا گیا تھا۔
× یہ بند عروضی وزن کی بجائے ہجائی وزن میں ہے۔

1313944_710.jpg
شہریار تبریزی کے مندرجۂ بالا تُرکی بند کا منظوم فارسی ترجمہ:
گیتی همه فسانه و فُسون است،
وامانده از سُلیمان تا کُنون است،
زاده‌یِ او به درد اندرون است،
هر چه داده گرفته این دهرِ دون،
نامی مانده ز شوکتِ فلاطون.

(میر صالح حُسینی)
دُنیا تمام کی تمام افسانہ و افسُوں ہے۔۔۔ یہ سُلیمان سے تا ایں زماں باقی ماندہ ہے (یعنی سُلیمان سمیت سب گُذر گئے، اور دنیا عقب میں رہ گئی)۔۔۔ اُس کا مَولود درد میں مُبتلا ہے۔۔۔ اِس دہرِ پست نے جو بھی کچھ لیا ہے، [واپس] لے لیا ہے۔۔۔ افلاطون کی شوکت کا [صرف] ایک نام باقی رہا ہے۔

× یہ بند شہریار تبریزی کے شُہرۂ آفاق تُرکی منظومے 'حیدر بابایه سلام' (حیدر بابا کو سلام) سے مأخوذ ہے۔
× اصل تُرکی بند کی مانند فارسی منظوم ترجمہ بھی گیارہ ہِجوں (۴ + ۴ + ۳) کے ہِجائی وزن میں ہے۔ مثلاً:
گیتی همه = ۴
فسانه و = ۴
فُسون است = ۳
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تُرکی همه تُرکی کند، تاجیک تاجیکی کند
من ساعتی تُرکی شوم، یک لحظه تاجیکی شوم

(مولانا جلال‌الدین رومی)
کوئی تُرک ہمیشہ تُرکی کرتا ہے (یعنی تُرکوں کی طرح عمل کرتا ہے)، اور تاجیک [ہمیشہ] تاجیکی کرتا ہے (یعنی تاجیکوں کی طرح عمل کرتا ہے)۔۔۔ [جبکہ] میں کسی ساعت تُرک ہو جاتا ہوں، اور کسی لحظہ تاجیک ہو جاتا ہوں۔

تشریح: بیتِ ہٰذا میں 'تاجیک' سے فارسی گویان مُراد ہیں۔ میری نظر میں مولانا رُومی اِس بیت میں کہہ رہے ہیں کہ مجھ کو تُرکوں یا تاجیکوں (فارسی گویوں) میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ کیونکہ عام تُرکان صرف تُرکوں کی طرح عمل کرتے ہیں اور عام تاجیکوں کا عمل بھی صرف تاجیکوں کی طرح ہوتا ہے۔ لیکن میں تو گاہے تُرک ہو جاتا ہوں، اور گاہے تاجیک بن جاتا ہوں۔ 'تُرکی' اور 'تاجیکی' سے بالترتیب 'جنگجوئی' اور 'نرمی' بھی مُراد ہو سکتی ہے، کیونکہ تُرکان اپنی جنگجوئی اور شہامت و دلیری کی وجہ سے مشہور تھے، جبکہ اُن کے مقابلے میں فارسی گویان مُتمدِّن شہرنشینی کی وجہ سے نرمی و صُلح جوئی پر مائل تھے۔
یہ تو بہر حال وہ مفہوم تھا جو اِس بیت سے مُستفاد ہوتا ہے، لیکن یہاں میں ایک چیزِ دیگر بھی کہنا چاہتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ مولانا رُومی کسی 'ایرانی'، 'تاجیکی'، 'فارسی' یا اِن جیسی کسی دیگر 'ملّت' یا کسی 'مُلک' سے تعلق نہیں رکھتے تھے، اور بے شک جو ایرانی، تاجک، یا افغان قوم پرست مولانا رُومی کو اپنی تنگ قوم پرستی کا تختۂ مشق بنا کر اُن کو دورِ جدید کی اختراع کردہ ملّتوں اور مُلکوں میں محدود کرنا چاہتے ہیں، وہ مولانا رُومی پر بِسیار ظُلم کرتے ہیں۔ لیکن اِس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ مولانا رُومی کی زبان فارسی تھی، اور اُن کی شاعری و ادبی میراث فارسی میں ہے۔ تُرکیہ میں جو یہ تصوُّر رائج ہے کہ وہ ایک تُرک اور تُرکی گو تھے، تاریخی لحاظ سے بالکل نادرست و بے اساس ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گر نورِ عشقِ حق به دل و جانت اوفتد
بالله کز آفتابِ فلک خوب‌تر شوی

(حافظ شیرازی)
اگر عشقِ حق [تعالیٰ] کا نور تمہارے دل و جاں میں گِر جائے (یعنی تمہارے دل و جاں میں چمکنے لگے) تو خدا کی قسم کہ تم آفتابِ فلک سے [بھی] خوب تر [و روشن تر] ہو جاؤ گے۔
 

حسان خان

لائبریرین
باغِ مرا چه حاجتِ سرْو و صنوبر است
شمشادِ خانه‌پرورِ ما از که کم‌تر است

(حافظ شیرازی)
میرے باغ کو سرْو و صنوبر کی کیا حاجت ہے؟۔۔۔ ہمارا خانہ پروَردہ شمشاد کس سے کمتر ہے؟
('شمشاد' سے شاعر کا شمشاد قد محبوب مُراد ہے۔)
× خانہ پروَر = گھر میں تربیت/پرورش یافتہ
 

انعام ندیم

محفلین
حضرات!
بیدل کے ایک شعر کی تلاش ہے جس کا صرف اردو مفہوم یا ترجمہ میرے پاس ہے۔ اگر کوئی صاحب اصل فارسی متن تک رسائی دے سکیں تو ممنون ہونگا۔
شعر کا مفہوم کچھ یوں ہے:
ساری دنیا میں میری کہانی گونج رہی ہے لیکن میں تو محض ایک خلا ہوں۔

منتظر

انعام ندیم
 
Top