فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2008

  1. حافظ محمد احمد

    حافظ محمد احمد محفلین

    مراسلے:
    16
    اس شعر کا ریفرنس اگر کسی کو معلوم ہو تو بتا دے۔
    ‏ہر چہ بِینی یار ہست اغیار نیست
    غیرِ اُو جُز وہم و جُز پِندار نیست
    میں جہاں بھی دیکھوں، اپنے محبوب کو دیکھتا ہوں۔ غیر کو نہیں۔
    اس کے علاوہ ہر کوئی وہم بن گیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حافظ محمد احمد

    حافظ محمد احمد محفلین

    مراسلے:
    16
    مولانا جامی کے اس شعر کا ترجمہ کوئی صاحب فرما دیں۔


    از حسن ملیح خود شوری بہ جہاں کردی
    هر زخمیّ بسمل را مصروف فغاں کردی
    (مولانا عبد الرحمٰن جامی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اِس بیت کا ترجمہ یہ ہے:
    تم جو کچھ بھی دیکھتے ہو وہ یار ہے، اغیار نہیں ہے؛ اُس کے (یعنی یار کے) سوا ہر چیز صرف وہم و گمان ہے۔
    شاعر کا نام معلوم نہیں۔

    اِس بیت کا ترجمہ یہ ہے:
    تم نے اپنے حُسنِ ملیح سے جہاں میں شورش برپا کر دی اور ہر زخمیِ بسمل کو فغاں میں مصروف کر دیا۔

    شاید یہ جامی کی بیت نہیں ہے، کیونکہ کلیاتِ جامی میں مجھے یہ بیت نظر نہیں آئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    حُسین محمدزادہ صدیق نے صائب تبریزی کی مندرجۂ بالا تُرکی بیت کا منظوم فارسی ترجمہ یوں کیا ہے:
    مرا مکرِ رقیب آواره کرد از کویِ یارِ خود
    ز باغ اخراجِ آدم را سبب، تزویرِ شیطان است

    مجھے مکرِ رقیب نے اپنے یار کے کوچے سے آوارہ کر دیا؛ باغِ [جنّت] سے آدم کے اخراج کا سبب فریبِ شیطان ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 30, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مرا از اصفهان خوش‌تر نماید کشورِ شیراز
    که دیدم ناز و خوبی را فزون در دل‌برِ شیراز
    (سُنبُل‌زاده وهبی)

    مجھے مُلکِ شیراز اصفہان سے خوب تر معلوم ہوتا ہے، کیونکہ میں نے شیراز کے دلبر میں زیادہ ناز و خوبی دیکھی ہے۔
    × شاعر کا تعلق دیارِ آلِ عثمان سے تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    صحبتِ نیکان، بدان را چون تواند کرد نيک؟
    تلخی از بادام نتوانست بيرون بُرد قند
    (صائب تبریزی)

    نیکوں کی صحبت بدوں کو کیسے نیک کر سکتی ہے؟ قند بادام سے تلخی کو بیرون نہ کر سکا۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 30, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بی روشنیِ فُروغِ رُویت
    اَضْحَتْ غَدَواتُنا عَشایا
    (عبدالرحمٰن جامی)

    تمہارے چہرے کے پرتَو کی روشنی کے بغیر ہماری صُبحیں شاموں میں تبدیل ہو گئیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نمی‌خواهم که با من هیچ یاری هم‌نشین گردد
    که می‌ترسم دلش ز اندوه من اندوه‌گین گردد
    (عبدالرحمٰن جامی)

    میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی یار میرا ہم نشین بنے، کہ میں ڈرتا ہوں کہ اُس کا دل میرے غم سے غمگین ہو جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عبدالرحمٰن جامی ایک نعتیہ قصیدے میں کہتے ہیں:
    سودایِ بهشت از سرِ دانا بِرود لیک
    ممکن نبُوَد رفتنِ سودایِ مدینه
    (عبدالرحمٰن جامی)

    دانا کے سر سے بہشت کا اشتیاق تو چلا جائے گا، لیکن شہرِ مدینہ کا عشق جانا ممکن نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جمہوریۂ آذربائجان سے شائع ہوئی دو کتابوں اور ایرانی آذربائجان سے شائع ہونے والے ایک ادبی مجلّے 'وارلیق' میں صائب تبریزی کی ایک فارسی و تُرکی سے مُرکّب ملمّع غزل نظر آئی ہے، جس کا مقطع یہ ہے:
    در دلِ صائب بسی جا کرده آن چشمانِ مست
    ایکی کافر بیر مسلمان اؤلدۆرۆر، بیداد هَی!

    (صائب تبریزی)
    صائب کے دل پر وہ چشمانِ مست بہ شدّت متصرّف ہو گئی ہیں؛ دو کافر ایک مسلمان کو قتل کر رہے ہیں، ہائے فریاد!

    Dər dile Saeb bəsi ca kərdə an çeşmane məst

    İki kafər bir müsəlman öldürür, bidad hey
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 30, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عبدالرحمٰن جامی ایک نعتیہ غزل میں کہتے ہیں:
    گر کاذب است دعویِ عشقِ تو بهرِ چیست
    فِي عَيْنِيَ البُكاءُ وَفِي جِسْمِيَ النُّحُول
    (عبدالرحمٰن جامی)

    [اے رسول!] اگر آپ کے عشق کا دعویٰ کاذب ہے تو پھر میری چشم میں گریہ اور میرے جسم میں لاغری کس لیے ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. حافظ محمد احمد

    حافظ محمد احمد محفلین

    مراسلے:
    16
    ترجمے کی اصلاح کے لیے بہت بہت شکریہ۔
    اور میں نے یہ غزل مولانا جامی کے نام سے آن لائن پڑھی تھی۔

    از حسن ملیح خود شوری بجهان کردی
    هر زخمیّ بسمل را مصروف خدا کردی
    بی جرم و خطاه قتلم از ناز بتان کردی
    خود تیغ زدی بر من، نام دیگران کردی
    مدهوش به یک ساغر ای پیر مغان کردی
    دل بُردی و جان بُردی بی تاب و توان کردی
    این جامی بیچاره از عشق تو آواره
    آوارهء غربت را در خاک نهان کردی
     
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    انٹرنیٹ یا فیس بُک شاعری کا قابلِ اعتماد مأخذ بالکل نہیں ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  14. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نغمهٔ حافظ شنو ز خامهٔ صائب
    "چند نشینی که خواجه کَی بِدر آید"
    (صائب تبریزی)

    حافظ کا نغمہ صائب کے خامے سے سنو۔۔۔ کب تک [اِس انتظار] میں بیٹھو گے کہ خواجہ کب بیرون آئے گا؟
    × مصرعِ ثانی حافظ شیرازی کا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  15. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بر درِ اربابِ بی‌مروّتِ دنیا
    چند نشینی که خواجه کَی به در آید؟
    (حافظ شیرازی)

    بے مروّت و بے رحم اربابِ دنیا کے در پر کب تک [اِس امید میں] بیٹھو گے کہ آقا کب در سے بیرون آئے گا [اور تمہارے حق میں لطف و توجہ کرے گا]؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  16. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عبدالرحمٰن جامی ایک نعتیہ قصیدے میں کہتے ہیں:
    هرگز به تماشایِ بهشتت نکَشَد دل
    گر چشم گشایی به تماشایِ مدینه
    (عبدالرحمٰن جامی)

    اگر تم شہرِ مدینہ کے نظارے کی جانب [اپنی] چشم کھول لو تو [تمہارا] دل تمہیں بہشت کے نظارے اور سیر و گردش کے برائے ہرگز نہ کھینچے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    صائب تبریزی اپنی ایک غزل کے مقطع میں کہتے ہیں:
    چنان گفت این غزل را در جوابِ مولوی صائب
    که روحِ شمسِ تبریزی ز شادی در سجود آمد
    (صائب تبریزی)

    صائب نے اِس غزل کو مولویِ [رومی] کے جواب میں اِس [احسن] طرز سے کہا کہ شادمانی سے شمس تبریزی کی روح سُجود میں آ گئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  18. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عبدالرحمٰن جامی ایک نعتیہ غزل میں کہتے ہیں:
    بارانِ رحمتی تو که از آسمانِ جود

    بر عاشقانِ تشنه‌جگر کرده‌ای نزول
    (عبدالرحمٰن جامی)
    [اے رسول!] آپ بارانِ رحمت ہیں کہ آپ نے جُود و کرم کے آسمان سے تشنہ جگر عاشقوں پر نُزول کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  19. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عبدالرحمٰن جامی ایک نعتیہ غزل میں کہتے ہیں:
    هرچند رفت طاقتم از جان و جان ز تن
    وَاللهِ لَيْسَ حُبُّكَ عَنْ مُهْجَتِي يَزُول
    (عبدالرحمٰن جامی)

    [اے رسول!] ہرچند کہ میری جان سے طاقت اور میرے تن سے جان چلی گئی، [لیکن] خدا کی قسم! میری جان و روح سے آپ کی محبت نہیں نکلتی۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 12, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  20. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شَرَفِ آدمی از عشق بُوَد هر که نشد
    عاشق او را نبُوَد بر دگران هیچ شرف
    (عبدالرحمٰن جامی)

    انسان کا شرف عشق سے ہے؛ جو بھی شخص عاشق نہ ہوا، اُسے دیگروں پر کوئی شرف حاصل نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر