حکمت اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ: فوز المبین در رد حرکت زمین ایک سیاسی کتاب ہے نہ کہ مذہبی یا سائنسی

سید رافع نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 2, 2020

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    18,330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یورپ کے پاس علم اندلس سے ہی ہو کر آیا۔ البتہ ہندوستانی تاریخ میں میخانے بند تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  2. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,792
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    یہ کہانی لمبی ہے اور اس میں کافی لوگوں کا رول ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,792
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    علم فلکیات دنیا کے پرانے ترین علوم میں سے ہے اور اس پر بر صغیر میں بھی کافی کام ہوا۔ البتہ یہ علم نہیں کہ ہیلیوسنٹرم پر انڈیا میں اتفاق کب ہوا۔ اس پر کچھ تحقیق کرنی پڑے گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    322
    حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال یہاں دینا میرے خیال سے برمحل نہیں ہے کیونکہ آپ نے ان کے جس عمل کی طرف اشارہ کیا ہے وہ توریہ و تعریض ہے۔ توریہ یا تعریض اور صریح جھوٹ میں بہت فرق ہے۔ آپ کے لئے ایک آرٹیکل پیشِ خدمت ہے

    http://magazine.mohaddis.com/shumara/350-222-1999-jun/3307-quran-wo-sunnat-ka-bahmi-talluq

    ہو سکتا ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد آپ کے لئے یہ سمجھنا آسان ہو کہ آپ اعلیٰ حضرت کے جس عمل کو زبردستی حکمت کا نام دے رہے ہیں اسے حکمت نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اور خاص طور پر قرآن اور حدیث کو استعمال کرتے ہوئے اور آپ کے بقول علم اور سمجھ بھی رکھتے ہوئے ایسی بات دین میں کہنے کے کیا نتائج ہیں اور اس کے بارے کتنی سختی سے حکم آیا ہے آپ یقیناً جانتے ہی ہوں گے! اس لئے آپ ان کے لئے ایسی بات کہنے سے اجتناب کریں! آپ خود اعلیٰ حضرت کے لئے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں! کل کو کوئی بھی آپ کے ان دلائل کا حوالہ دے کر کہہ سکتا ہے کہ دیکھو دین کے معاملے میں جانتے بوجھتے یہ سب کیا گیا!!!! اب اگر اعلیٰ حضرت کی ایسی نیت نہیں تھی تو آپ نے ان کے لئے خود ہی ایک الزام تیار کر دیا ہے!!!

    صرف اعلیٰ حضرت ہی امت مسلمہ میں اکیلے نہیں تھے۔ ابھی بھی نجانے کتنے ہی علماء ہیں جو زمین کی حرکت کو مغرب کی سازش قرار دیتے ہیں۔ قرآن کی آیات یا احادیث سے مادی یا دنیاوی معاملات میں نتائج اخذ کرنے میں غلطی ہوسکتی ہے اور ایسا بکثرت ہوتا ہے۔ یہ سب امتِ مسلہ میں ہی عام نہیں ہے بلکہ آپ عیسائیت، یہودیت، ہندو مت وغیرہ کے مذہبی راہنماؤں کے عقائد پڑھ لیں آپ کو سائنس سے جا بجا ٹکراؤ بہت عام نظر آئے گا۔

    یہ تو پھر بہت چھوٹا معاملہ ہے اس سے زیادہ خطرناک باتیں تو وہ ہیں جو قرآن اور حدیث میں موجود عقائد سے متصادم ہیں!!!! پریشان تو ہونا سب سے زیادہ ان کے لئے بنتا ہے!!!! آپ نجانے کیوں اسے زور زبردستی حکمت کا نام دینا چاہتے ہیں؟ ارے سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اعلیٰ حضرت یہ کتاب تحریر فرما رہے تھے تو کیا کسی اپنے شاگرد یا اپنے پیروکار کے سامنے انھوں اس بات کا اعتراف کیا تھا؟؟؟؟ کیا اس بات کے شواہد کہیں آپ کو ملتے ہیں؟؟؟ اگر نہیں تو آپ اپنی طرف سے یہ سب کیسے کہہ سکتے ہیں؟؟؟؟؟ کیا آپ یا میں کسی کے ذہن کے خیالات کو اور وہ بھی ایک ایسے صاحب کے جو کہ اس دنیا میں اب نہیں رہے کیسے جان سکتے ہیں؟؟؟؟ اگر آپ ایسی بات کا دعویٰ کر رہے ہیں جو کہ اعلیٰ حضرت کے کرنے کی نیت ہی نہیں تھی تو پھر آپ کے ان دلائل کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟؟؟؟ اور آپ عطاری ہیں یعنی اعلیٰ حضرت کے پیروکار تو کیا یہ آپ کو زیب دیتا ہے کہ آپ اعلیٰ حضرت کے لئے وہ بات کہیں جو انھوں نے کی ہی نہیں؟؟؟؟؟

    حضرت جو آپ کو آرٹیکل پیش کیا ہے نا اس کو بغور پڑھئے گا پھر حکمت اور خاص طور پر انبیاء علیہم السلام کے عمل کی مثال دیجئے گا۔ جسے آپ حکمت کا نام دے رہے ہیں وہ کسی صورت حکمت نہیں ہے۔ آپ توریہ اور تعریض پر غور و فکر کریں اور اس کی شرعی ضرورت اور استعمال کے بارے میں بھی پڑھئے۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں!!!!

    حضور جنگ کی بات میں نے نہیں کی ہے یہ آپ کا ہی مراسلہ ہے جس میں آپ اس حکمت کا استعمال دجل سے مقابلہ کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ جو کہا کریں نا اس پر قائم رہا کریں بلکہ ٹھرنے کی عادت بنائیے۔ یہ آپ کی کافی پختہ عادت معلوم ہوتی ہے کہ آپ جو کہتے ہیں اس کا جب اقتباس بھی لے کر آپ سے سوال کیا جائے تو آپ فرما دیتے ہیں کہ آپ نے تو یہ کہا ہی نہیں!!!!

    اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید آپ سائنس مخالف ہیں اور سائنس کا مقابلہ کرنے کے لئے دین میں حکمت کے نام پر جھوٹ کے استعمال کا جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں!!!!!
     
    آخری تدوین: ‏جون 3, 2020
    • زبردست زبردست × 1
  5. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    322
    یہ ہوئی نا بات!
    جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء فی دنیا و آخرة۔۔

    علماء بھی بشر ہیں۔ میں اہلحدیث کے علماء کے علم سے استفادہ حاصل کرتا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کی ایسی بات جو قرآن اور حدیث سے متصادم ہو اس کو صرف اس لئے مانتا رہوں کہ یہ اہلحدیث ہیں۔ ایک مثال ابنِ تیمیہ کی دینا چاہوں گا۔ ان کا بہت ہی مشہور معاملہ ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں صحیح حدیث کو ضعیف ماننے کا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں آنکھ بند کر کے ان کی بات مان لوں!!! شیخ البانی نے ان کا اس سلسلے میں رد کیا ہے۔ صرف ہم عام پیروکار ہی کیا علماء میں بھی یہ ہمت ہونی چاہئے کہ اپنے بزرگوں کی غلطی کو غلطی کہنے کی ہمت رکھیں بلکہ اس کی نشاندہی بھی کریں تاکہ عوام کہیں غلطی یا کم علمی کی بدولت اس پر عمل نہ کرنے لگ جائیں۔ لیکن برصغیر میں زیادہ تر الٹ ہوتا ہے۔ ہر حال میں دفاع کیا جاتا ہے اور سب چلتا رہتا ہے۔

    سارے معاملات اندھی تقلید اور عقیدتمندی میں ہی خراب ہوتے ہیں اور یہی برصغیر کا اصل مسئلہ ہے۔ اگر آج برصغیر کے علماء قرآن اور حدیث سے متصادم عقائد کا رد کھل کر کرنے لگ جائیں تو دین میں بدعنوانی ختم ہو جائے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  6. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ کا طرز تکلم علم کلام کے تابع معلوم ہوتا ہے جس کا سنت کی خیر خواہی والے کلام سے علاقہ نہیں۔ آپ کے سوالوں کی کیفیت سیدنا موسی علیہ السلام وخضر علیہ السلام کے قصے جیسی معلوم ہوتی ہے۔ آپ سوال کیے جائیں گے اور صبر نہیں کر پائیں گے۔ میں علم لدنی حاصل کرنے کے درپے ہوں اور آپ شریعت کی حدود سے نکل جانے کے خوف سے سوال کرنے پر مجبور ہیں۔

    چنانچہ اگر میں ان سوالوں کے جواب دے بھی دوں تب بھی آپکی تشفی نہ ہو گی۔ سو آپ سے حتمی طور پر سوال ہے کہ کیا آپ علم لدنی سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ یہ ایک الگ دریا ہے اور اسکے پانی کا ذائقہ اس ذائقے سے مختلف ہے جو اس وقت آپ کی پیاس بجھا رہا ہے۔

    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ نے اس سے قبل لفظ "کوئی" کی یاد دھانی یورپ کی ترقی والی لڑی میں کرائی تھی۔ غالبا بات یہ تھی کہ سود کی وجہ مسلمانوں کا کوئی عمل قبول نہیں ہو رہا۔ اسی طرح آپ نے مرشدی عطار کے ذیل میں فرقے کے متعلق پوچھا تھا۔ یہ دونوں اور دیگر باتیں ویسی نہیں جیسی کہ آپ نے منطق کے ذریعے بیان کیں۔ ذہن تضاد نہیں سہار سکتا قلب سہار سکتا ہے۔ آپ ذہن کے مقام سے گفتگو کرتے ہیں۔ میں قلب کے مقام سے بات کرتا ہوں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

    آپ خوب جانتے ہیں کہ دنیا میں وقت مختصر ہے۔ قیل و قال سے بہتر چیز خیر خواہی ہے۔ اس سے سوال کم ہو جاتے ہیں۔ نیت کو پہچاننا بھی ایک علم ہے۔ آپ کو خود فیصلہ کرنا ہو گا کہ شریعت کے قیل و قال اے پیدا ہونے والے خوف میں زندگی گزارنی ہے یا اللہ سے امید رکھ کر اسکا دوست بن کر بھرپور زندگی گزارنی ہے۔ مجھ سے جہاں تک ہوا اس جست کو لینے میں آپ سے تعاون کروں گا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  7. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    322
    حضور آپ میرے طرزِ عمل پر سو بار انگلی اٹھائیں، مجھے سنت کے خلاف جانے کا کہیں بلکہ ہزار بار ثابت کریں مجھے بالکل بھی اعتراض نہیں ہوگا لیکن آپ سے ہاتھ جوڑ کر ایک درخواست ہے میں بہت گناہگار انسان ہوں میرے طرزِ عمل کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طرزِ عمل کی مثال نہ دیں۔ کہاں ایک نبی اور کہاں مجھ خطا کار کی حرکتیں؟؟؟ مجھے سو بار بے صبرا کہیں لیکن یہ نہ کریں۔ اپنے لئے کوئی بھی مثال دیں میرے لئے نہیں۔ ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں آئندہ ایسا نہ کیجئے گا.

    علم لدنی کے بارے میں تو میں یہ جانتا ہوں

    (72) علم لدنی کی تشریح | اردو فتویٰ

    آپ فرمائیے کہ آپ علم لدنی سے کیا مراد لیتے ہیں؟ ویسے مجھے اندازہ ہے کہ آپ کیا بتائیں گے لیکن پھر بھی شرکاء محفل کے علم میں اضافہ کے لئے میں چاہوں گا کہ آپ خود ہی بتا دیں :)

    حضور جس کو آپ خوف کا نام دے رہے ہیں نا یہ دین کے اندر رہنے کا نام ہے اور میں اس میں بخوشی رہنا پسند کرتا ہوں۔ یہ ایک جہدِ مسلسل ہے حق اور سچ کی تلاش کی اور یقین جانیے مجھے اس میں بہت مزہ آتا ہے۔

    البتہ میں چاہوں گا کہ یہ جو آپ اللہ کا دوست بننے اور شریعت کے قیل و قال میں فرق بتا رہے ہیں اسے ذرا وضاحت سے بیان کر دیں۔ کیا شریعت کے قیل و قال کے بغیر اللہ کا دوست بننا ممکن ہے؟؟؟
     
    آخری تدوین: ‏جون 4, 2020
    • زبردست زبردست × 1
  8. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    322
    بھائی صاحب یہاں معاملہ قرآن سے ثبوت فراہم کرنے سے زیادہ آگے کا ہے۔ جیسے اوپر ایک بھائی صاحب نے پیروکاروں کے دعویٰ کا ذکر کیا کہ اعلیٰ حضرت ہر علم میں یکتا تھے یہ مسلمانوں کی اکثریت سے بہت ہی مختلف معاملہ ہو جاتا ہے۔ ذرا یہ ویڈیو ملاحظہ کریں۔ آپ کو کچھ اندازہ ہو جائے گا۔

     
    • زبردست زبردست × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    امام صاحب کے رسالے کے عنوان میں چونکہ "ردِ حرکتِ زمین" کے الفاظ ہیں اس لیے لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کتاب صرف زمین کی حرکت کے رد میں ہے۔ کتاب کو اگر ایک نظر ہی دیکھا جائے (گو زبان انتہائی دقیق ہے اس وجہ سے کہ اس میں عام سائنسی ٹرمز کے دقیق عربی مترادفات لکھے گئے ہیں جن سے اب شاید کوئی بھی مکمل آشنا نہ ہو) تو علم ہو جائے گا کہ امام صاحب نے اس کتاب میں تمام بدیہی سائنسی نظریات کا رد بھی فرمایا ہے، جیسے کششِ ثقل، centrifugal force یا centripetal force وغیرہ ان سب کا رد اور انکار کیا گیا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • زبردست زبردست × 1
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ امام احمد رضا کی کتاب سر سید احمد کی کتاب کے خلاف لکھی گئی تھی ان کے لیے عرض ہے کہ سر سید احمد خان نے تو خود زمین کی حرکت کے ابطال (رد) میں ایک رسالہ لکھا تھا، یہ 1848ء کا قصہ ہے جب سر سید احمد خان ابھی "سر" نہیں ہوئے تھے۔ پس ثابت ہوا کہ امام احمد رضا کی کتاب سر سید کی کتاب کے خلاف نہیں ہے کیونکہ سر سید کی اپنی کتاب زمین کے حرکت کے رد میں ہے۔

    آرکائیوز پر سر سید احمد کے مختصر سے رسالے کا ربط:

    "قولِ متین در ابطالِ حرکتِ زمین"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  11. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دین خیر خواہی کا نام ہے۔ جو اپنے لیے پسند کریں وہی میرے لیے پسند کریں۔ کتابوں سے پیدا ہونے والا خوف اور ہوتا ہے جبکہ اللہ کا اور ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام آپکے قلب کے لیے تسکین کا باعث ہیں۔

    جب آپ نے بتا دی تو کافی ہے۔

    آپکے لیے علم لدنی یہ ہے کہ صبح جیسے نماز پڑھتے ہیں پڑھ لیں۔ پھر قریبی جماعت اسلامی کے دفتر جائیں۔ علیک سلیک کریں اور قلب میں جگہ دیے بغیر جماعت کے موجودہ مقاصد کی بابت دریافت کریں۔ وہاں سے ڈاکٹر اسرار احمد کی تنظیم اسلامی کے دفتر کی راہ لیں۔ وہاں بھی یہی عمل دہرائیں۔ ظہر قریبی بریلوی مسلک کی مسجد میں پڑھیں۔ امام و موذن صاحب سے مصافحہ کریں اور پانچ پانچ سو روپے ہدیہ کریں۔ مسجد سے نکل کر ڈاکٹر طاہر القادری کے منہاج کے دفتر کی راہ لیں۔ وہاں بھی وہی عمل دوہرائیں کہ ان لوگوں کے مقاصد دریافت کریں۔ ان سے خوارج سے متعلق کتاب خرید لیں یا انٹرنیٹ کا لنک دریافت کریں۔ حالانکہ آپ یہ سب معلومات خود انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔ عصر قریبی دیوبندی مسجد میں ادا کریں۔ اگر نماز کا وقت نہ ہوا ہو تو درود شریف صلی اللہ تعالیٰ علی محمد میں مصروف رہیں۔ نماز ادا کریں۔ امام و موذن سے مصافحہ فرمائیں اور امام صاحب سے علم لدنی سے متعلق دریافت کریں۔ حالانکہ آپکو معلوم ہے۔ مغربین قریبی امام بارگاہ میں ادا کریں۔ جانے سے قبل انٹرنیٹ سے شیعہ نماز کا طریقہ سیکھ کر جائیں۔ بعد از نماز امام صاحب سے نہجہ البلاغہ کے صحیح ترین ایڈیشن کے متعلق پوچھیں۔ گھر آ کر پہلے انجینیر علی مرزا کو آدھا گھنٹا دیکھیں اور پھر ڈاکٹر ذاکر نائک کو ایک گھنٹہ دیکھیں۔ آخر میں صحیح مسلم کا باب الفتن پڑھ کر سو جائیں۔ بقیہ زندگی جیسے آج گزارتے ہیں گذاریں۔

    دوسروں کی سلامتی پر زک پڑتی ہے۔ اگر ابھارا گیا تو قوم کی سلامتی پر زک آئے گی۔

    جی ہاں۔ اپنے گھر کی چھت یا کسی گوشے میں یا قبرستان یا کسی پہاڑ یا کسی سمندر کے کنارے ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں تنہائی میسر ہو۔ اپنے ذہن کو دیکھیں کہ کس چیز سے خوف کھا رہا ہے؟ کسی کتاب، کسی دلیل، کسی عالم وہ کیا شئے ہے جو آپ کو خوف میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ خوف کا اپنے قلب کی نیت سے موازنہ کیجیے۔ نیت اللہ سے ڈرنے کی نہیں پائیں گے۔ اب اپنے اعصاب کو ہر روز اس ڈر و خوف سے آزاد کرنے میں لگائیں جو اللہ کے لیے نہیں ہے۔ ہر شئے کا علاج اسکی ضد سے ہے۔ سو الٹ کام کر کے خوف سے آزاد ہوں۔ چاہے برادری بھائی کا ہو، دلیل یا عالم کا ہو یا معاشرے اور روایات کا ہو۔ یاد رکھیں جست لمبی نہ ہو۔ شریعت کے اندر ہو۔ حواس برقرار رہیں۔ معاش و صحت برقرار رہے۔ امید رکھیں کہ اللہ ظالم نہیں ہے۔ جو جو خوف اللہ کے لیے نہیں ہے جب اس سے نجات پائیں، یعنی برعکس عمل کر لیں تو جان لیں کہ اللہ کتنا مہربان ہے کہ اس نے کوئی پکڑ نہیں کی۔ اللہ کا شکر ادا کریں۔ یوں اللہ کے دوست بن جائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,535
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آپ کے اس جملے سے میں اپنا نقطۂ نظر واضح کر دیتا ہوں۔
    کہ الحمد للہ مجھے اس حوالے سے کوئی تشویش نہ ہے اور نہ ہی ایسی تشویشات پالنے کا شوق۔
    جن علوم پر میرا مطالعہ اتنا نہیں کہ میں اپنی رائے دے سکوں، اور نہ میرے پاس اتنا وقت ہے کہ میں محض اپنی رائے دینے کے لیے ان علوم کو پڑھوں، اور نہ میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ ہر معاملہ میں اپنی رائے دوں، تو بھلا مجھے تشویش کیوں لاحق ہو گی؟ :)
    جو لوگ ان علوم کے ماہر ہیں، یا جو ان علوم پر مہارت کا دعویٰ رکھتے ہیں، وہ اپنا کام کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں۔ میری کوشش رہتی ہے کہ اپنا وقت اپنی ذمہ داریوں اور ان امور پر ہی صرف کروں جہاں مفید ثابت ہو سکوں۔ بحث در بحث، لایعنی و لاحاصل مباحث کو دور سے سلام ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  13. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    عبد القیوم صاحب، حکمت والی بات کے لیے کم از کم ملفوظات اعلی حضرت اور الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ جو کہ 8 گھنٹے میں تحریر کی گئی پڑھنا ہو گی۔ اب کی بار ذہن میں یہ رکھیں کہ ایک ایسے عالم کو پڑھ رہا ہوں جو وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِين سے آراستہ ہے۔ امید ہے کہ حکمت کے باب میں افاقہ ہو گا۔ جہاں تک میری مدلل گفتگو کا سوال ہے تو میں کون اور میری اوقات کیا۔ حالانکہ مجھے اردو نثر لکھنا نہیں آتی لیکن میں اصل میں پرمزاح تحریر لکھنے کا عادی تھا۔ یہ دلیل بھری تحریر ویسے بھی میرے ذہن پر بھاری ہوتی ہے۔ اتنی استعداد اور قابلیت نہیں ہے۔ میں جلد ہی پرمزاح تحریریں لکھ کر اپنی اصل زمین کی طرف واپس آوں گا۔ مجھے آپکی قصہ چہار درویش جدید بہت اچھی لگی تھی۔ ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔ دوستوں سے شئیر کی تو انکو بھی بہت مزا آیا۔ میں بھی ایسی تحریریں لکھنا پسند کرتا ہوں۔ باقی اللہ کی مرضی۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ کی بات مجھے اچھی لگی۔ اس معاملے میں جلد آپ اپنے ساتھ پائیں گے کہ مفید زندگی گزاریں اور اپنی حد میں رہیں۔ :) حد کو پہچانا ایمان کی نشانی ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 4, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مبارک ہو! :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    18,330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مراسلہ اول میں سید صاحب نے کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا تھا۔ بلکہ
    ایسے میں یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ امام احمد رضا صاحب نے سرسید صاحب کے رسالے کے مقابلے میں اپنا رسالہ لکھا تاکہ علم کے متلاشی سرسید کے رسالے سے مرعوب ہو کر ان کے دیگر نظریات کو بھی من وعن قبول نا کرنا شروع کردیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    18,330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سید صاحب بہت شکریہ۔ انشاء اللہ وقت نکال کر ضرور پڑھوں گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    18,330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    :nerd::nerd:
    سنا تھا کہ دو کشتیوں کا مسافر کہیں کا نہیں رہتا پر آپ تو پانچ سات کشتیوں میں ایک ہی دن سوار کرانا چاہتے ہیں۔ اور پھر آخر میں پڑھنا بھی باب الفتن ہے۔
    ۔۔۔

    یہ پورا پیراگراف لطف دے گیا۔ نشہ مزید دو آتشہ ہوتا کہ کہیں راہ میں گیارہویں شریف کا لنگر بھی آفر کرتے اور بابا جی خادم حسین رضوی سے بھی فیض کا موقع ملتا۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  19. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ انکےکے لیے علم لدنی کا سفر تھا، آپ کو سفر کی ضرورت ہی نہیں۔ :) سفر کے بعد وہ بقیہ زندگی جس کشتی میں آج گزارتے ہیں اسی میں ہی گذاریں گے۔ انکو اس سفر سے آ لینے دیں اگلے سفر کا مینو مل کر طے کرتے ہیں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    چلیں کسی معاملے میں تو امام احمد رضا صاحب نے سر سید احمد کی تائید کی، ظاہر ہے سر سید کی کتاب پہلے کی ہے! :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر