حضرت مہدی کون؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

دوست

محفلین
جو چیزیں قرآن میں نہیں‌ہیں ان کے بارے میں ہمارے رب عظیم کا حکم:

[ayah]5:101[/ayah] اے ایمان والو! تم ایسی چیزوں کی نسبت سوال مت کیا کرو (جن پر قرآن خاموش ہو) کہ اگر وہ تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں مشقت میں ڈال دیں (اور تمہیں بری لگیں)، اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جبکہ قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو وہ تم پر (نزولِ حکم کے ذریعے ظاہر (یعنی متعیّن) کر دی جائیں گی (جس سے تمہاری صواب دید ختم ہو جائے گی اور تم ایک ہی حکم کے پابند ہو جاؤ گے)۔ اللہ نے ان (باتوں اور سوالوں) سے (اب تک) درگزر فرمایا ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بردبار ہے

یہ نکتہ نظر کوئی جدید نکتہ نظر نہیں کہ معاملہ کو ضوء القرآن میں دیکھ لیا جائے۔ اگر قرآن میں موجود نہ ہو تو آپ کی ، آپ کی کتاب کی ، آپ کے اپنے علم کی یا آپ کے عالم کی صوابدید۔ [arabic] لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ[/arabic] دین میں کوئی جبر تو ہے نہیں۔
والسلام۔
یعنی اس آیت میں غیر ضروری سوالات کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جیسے بنی اسرائیل کے ساتھ گائے والے معاملے میں ہوا تھا۔ سوال پر سوال نے ان کو اتنی جکڑ بندیوں میں باندھ دیا کہ انھیں ایک سادہ سا حکم پورا کرنے کے لیے اتنی مشقت اٹھانی پڑی۔
امام مہدی والا معاملہ سوال والا معاملہ تو ہے نہیں۔ یہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے بغیر پوچھے ارشاد کیا۔ رسول جس کے منہ سے نکلا ہوا لفظ اللہ تعالی خود مانیٹر کررہے ہوں تو پیچھے بات ہی کوئی نہیں رہ جاتی۔ باقی قرآن میں اگر یہ نہیں ہے تو کوئی بات نہیں۔ قرآن کوئی تاریخ کی کتاب نہیں، نا ہی مستقبل کے حالات اس میں لکھے گئے ہیں، اس میں تو اختصار اور جامعیت اپنے ارفع مقام پر نظر آتے ہیں۔ قرآن ہر اس بات سے صرف نظر کرجاتا ہے جو غیر ضروری ہو اور جب بات سمجھانے کی ہو تو پھر مچھر اور حقیر سے حقیر چیز کی مثال دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
سو بات اتنی سی ہے کہ امام مہدی رحمت اللہ علیہ کی آمد کا قرآن میں ذکر نہ آنا کوئی ایسی وجہ نہیں کہ اس پر ایمان نہ رکھا جائے، باقی ہر کسی کی ذاتی رائے ہوتی ہے۔
وسلام
 

نبیل

تکنیکی معاون
سو بات اتنی سی ہے کہ امام مہدی رحمت اللہ علیہ کی آمد کا قرآن میں ذکر نہ آنا کوئی ایسی وجہ نہیں کہ اس پر ایمان نہ رکھا جائے، باقی ہر کسی کی ذاتی رائے ہوتی ہے۔
وسلام

جی نہیں، خاصی بڑی وجہ ہے۔ اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی شک اور تحریف نہیں ہے۔ اس سے باہر کی چیز روایت یا پیشگوئی ہو سکتی ہے لیکن بنیادی ایمان کا جزو نہیں۔
 
مسلمان کا بنیادی ایمان صرف اور صرف قرآن پر ہے ، جس کی بنیادی وجہ نزول اللہ تعالی فرماتے ہیں کے جن لوگوں کو قرآن سے پہلے اس کی حفاظت کا ذمہ دیا گیا تھا وہ کچھ آیات چھپاتے تھے اور کچھ آیات تبدیل کردیتے تھے۔ لہذا قران نازل کیا گیا اور اس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا۔ باقی تمام کتب روایات میں اور بائیبل ، توریت، زبور کے تبدیل شدہ نسخوں‌مٰیں کوئی نمایا فرق نہیں‌ہے۔ بائیبل، توریت، زبور بھی ان کے نبیوں‌کی کہی ہوئی باتوں میں ، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی آیات میں انسانی پپیوند کاری کے باعث اللہ تعالی نے ریجیکٹ کردی ہیں۔ موجودہ کتب روایات میں اور ان کتب میں‌کوئی فرق نہیں کہ رسول اکرم کی کہی ہوئی بات کے بہانے اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنے کے لئے عبادات کے ساتھ اسرائیلیات کو رلا ملا کر ایک نیا قرآن بنانے کی کوشش کی گئی۔ جن کتب کو رسول اکرم نے دیکھا تک نہیں ، جن کتب کے اصل کا وجود بھی نہیں ان کتب پر اتنا اندھا ایمان؟ ایمان اندیکھے خدا، فرشتوں، یوم اآخرۃ ، اسکے نبیوں اور اسک کی کتاب پر ایمان لانے کا نام ہے۔ ناکہ انسانوں کی لکھی ہوئی کتب پر، جب چاہا ان باتوں کو رسول سے منسوب کردیا اور جب بھی کوئی سقم نظر آیا تو کہہ دیا کہ یہ تو ضعیف ہے۔ بھائی یہ روایتوں سے غلیل بازی ہے اور کچھ نہیں ۔ اگر ہم سب مل کر اس سے آدھا قرآن پڑھ لیں تو دنیا اور عاقبت دونوں سنور جائے۔
 
محترمی ذہرا صاحبہ، اس انفارمیشن کا بہت شکریہ۔ بنیادی طور پر یہ ایک فرقہ کا عقیدہ ہے مہدی کے بارے میں ۔ شیعیہ، سنی، قایانی اور رویزی کچھ اور سمجھتے ہیں۔ چونکہ قرآن اس بات پر خاموش ہے، لہذا ہر فرقہ کی اپنی انٹر پریٹیشن ہے مہدی کے بارے میں -

اس قسم کی اضافیات ہی فرقوں یعنی "لڑاکا گروپس " کی پیدائش کا باعث ہیں

بنیادی صورتحال یہ ہے کہ پچھلے 1400 سے زائید سالوں میں مسلم امۃ کے "لڑاکا گروپس" کا قرآن کے سمیت کسی بات پر اجماع نہیہں‌ہے۔ ہم یہاں‌گنتی کے لوگ ہیں اور مختلف فرقوں سے آئے ہیں۔ اگر ہم آپس میں قرآن چھوڑ کر باقی کتب کو بنیاد بنا کر اس طرح لڑتے ہیں تو باقی قوم کا تو اللہ ہی حافظ۔ ۔ اور اگر کبھی پاکستانی مان بھی گئے تو کیا ، دوسری قوموں میں ایسے سرپھروں کی کمی نہیں جو قرآن کے بعد بھی نہ جانے کیا کیا پر ایمان رکھتے ہیں اور مصر ہیں کہ اسی میں نجات ہے۔ یہاں‌تک تو کوئی برائ نہیں برائی وہاں شروع ہوتی ہے جب لوگ دوسروں‌پر یہی عقائد اسلام کا نام دے کر زبردستی لادتے ہیں۔

اسلام ایک اللہ کی عبادت کا نام ہے ۔ انسان پرستی، ہیرو پرستی۔ بادشاہ پرستی، مہدی پرستی، علی (ر) پرستی یا محمد(ص) پرستی یا آغا خان پرستی کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر عیسی 0ع)‌پرستی اور موسی (ع) پرستی یا رام پرستی یا بدھا پرستی میں اور اسلام میں فرق کیا ہے۔ کس کا ہیرو بڑا ہے ،یہ مقابلہ چھوڑ کر اگر ہم اللہ کی عبادت کریں ، جس کا مطلب یہ ہوا کے خود اور اپنے معاشرہ کو اللہ کے اصولوں پر استوار کریں تو یہ ہوا اصل اسلام، امن، سلامتی اور اگر ایسے قرآن سے اضافی فرق نکال کر آپس میں تفرقہ یعنی جھگڑا ڈالنا ہے تو بھائی ایسا فسادی اسلام ایسے مسلمانوں کو مبارک۔

والسلام
 

زھرا علوی

محفلین
جناب ڈاکٹر فاروق صاحب میں نے یہاں کسی شخصیت پرستی کا ذکر کیا نہ اسلام کے معنی پر بحث کی۔۔۔۔اور نہ ہی کسی لڑاکا گروپ کا جھنڈا لہرایا۔۔۔
میں نے ایک حدیث کا حوالہ و تفسیر تاریح کی روشنی میں بیان کی۔۔۔ اور یہ وہ حقیقی پہلو ہیں جسے نا آپ کی فتوے بدل سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی مخصوص انٹرپریٹیشن۔۔۔
جن پہلوؤں کو آپ اضافت قرار دے رہے ہیں وہ حقیقت ہیں۔۔۔
 
محترمہ زہرا صاحبہ بہت ہی شکریہ آپ کی یہ معلومات فراہم کرنے کا۔ عرض کرتا چلوں کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔ ایک طالب علم ہوں۔
والسلام
 

ظفری

لائبریرین
میں عموماً ان موضوعات پر کچھ لکھنے سے گریز کرتا ہوں ۔ کیونکہ یہ موضوعات بہت سے لوگوں کے گہرے عقائد بھی ہیں ۔ جب کوئی شخص کسی چیز کو اپنے عقیدہ اور ایمان کا حصہ بنا لیتا ہے تو وہاں بحث بے معنی اور وقت کا زیاں ہے ۔ اور اس سلسلے میں کدورت اور نفرت کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ مگر یہاں چند دوستوں کی امید افزا باتیں پڑھ کر مجھے بھی ہمت ہوئی کہ میں اس معاملے میں اپنی ناقص معلومات پیش کروں اگر کسی کی اس سے دل آزاری ہو تو پیشگی معافی کا طلب گار ہونگا ۔
کسی واقعے کے عقیدہِ اسلامی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر واضح طور پر ہو۔ جہاں تک امام مہدی کے عقیدہ کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ امام مہدی کی آمد کے بارے میں قائلین صرف احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن اس سلسلے کی بہت سی احادیث بے بنیاد ہیں۔ کسی عالم کے لیئے ان احادیث کو قبول کرنا ناممکن ہے بلکہ ایک معقولیت پسند آدمی بھی ان متضاد ، بے بنیاد قصوں کو قبول نہیں کرے گا۔
بڑی سادہ سی بات ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے دو ذرائع ہیں ؛ قرآن و حدیث ۔ عام طور پر قرآن میں اسلامی عقائد ہیں اور حدیث میں اعمال کا ذکر ہے۔ قرآن میں موجود عقائد اور حدیث میں موجود اعمال پر کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ حضرت مہدی کی آمد کا عقیدہ ، " اسلامی عقائد کا جز " ہے۔ مزید برآں حضرت مہدی کی آمد کی پیشین گوئی معتبر نہیں ہے۔ دو بڑے مسلم علماء ابن خلدون اور علامہ تمنا عمادی نے روایتۃ و درایۃ ان احادیث کی تحقیق کی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی ساری روایتیں بے بنیاد ہیں ۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
شکریہ ظفری۔ میں بھی عام طور پر ایسے موضوعات پر گفتگو میں شرکت سے گریز کرتا ہوں۔ ابھی تک الحمداللہ یہ گفتگو اچھے ماحول میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ باقی مباحث کی طرح یہ بحث بھی کسی کو قائل کیے بغیر ختم ہو جائے گی۔ میری تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ اس گفتگو کو معلومات کے تبادلے کا ذریعہ ہی سمجھیں اور عقائد کی لڑائی میں تبدیل ہونے سے محفوظ رکھیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
مہوش صاحبہ ، آپ نے درست دیکھا کہ میں نے قسیم حیدر صاحب کا شکریہ ادا کیا تھا ان کا مضمون حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی کے بارے میں ہے اور تفصیل وہاں موجود ہے۔ عیسی علیہ السلام کی واپسی سے یہ فرض کرلینا کہ اس کے ساتھ ساتھ جناب مہدی (‌اس نام سے یا اس خاصیت ) سے کوئی صاحب آئیں گے کسی طور ثابت نہیں ہوتا۔ نبوت کا سلسلہ رسول اکرم پر ختم ہوچکا ہے یہ مسلمانون کا عقیدہ ہے۔ اب کوئی مہدی (ہدیات دینے والا ، گائیڈ کرنے والا، یعنی لیڈر ) تو ہر وقت ہی موجود ہوتا ہے۔ عیسی علیہ السلام کی واپسی پر یقین رکھنا اور مہدی علیہ السلام کا نزول ہونا دو الگ الگ باتیں‌ہیں۔ عام ور پر یہ ماننا مشکل ہے کہ ہماری کتب روایات میں کہانیاں بھی شامل ہیں۔ لیکن جب انہی کتب میں ایک طرف عبادات اور دوسری طرف غیر اسلامی نظریات۔ جیسے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، غلاموں اور باندیوں کی تجارت، کم عمر لڑکیوں سے شادی کا معاہدہ، فرد واحد کی حکومت اور ملائیت کا قوم کے مال اور حکومت پر قبضہ کی روایات کا پایا جانا واضح طور پر ان روایات کو ضوء القران میں دیکھنے کی ضرورت کو اہم بناتا ہے۔

اب آئیے اس سوال کی طرف کہ کیا عیسی علیہ السلام آئیں گے یا نہیں؟ اس سلسلے میں زیادہ تر مسلمانوں کا نظریہ ہے کہ وہ واپس آئیں گے جبکہ ایک گروپ ایسا بھی ہے جو ان کے واپس نہ آنے کو قرآن سے ثابت کرتا ہے۔ لیکن ان میں سے کسی بھی آیت سے کسی بھی دوسرے شخص یعنی جناب مہدی کا وجود سامنے نہیں آتا۔ (میں اپنے نطریات کا اظہار قسیم حیدر کے آرٹیکل میں شکریہ کی صورت میں کرچکا ہوں)

جو لوگ حضرت عیسی کے واپس آنے کو ثابت کرتے ہیں وہ یہ آیات پیش کرتے ہیں :
[ayah]4:157[/ayah] اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے مسیح عیسی ابن مریم کو جو رسول ہیں اللہ کے حالانکہ نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اسے بلکہ معاملہ مشتبہ کردیا گیا ان کے لیے اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میںَ اور نہیں ہے انہیں اس واقع کا کچھ بھی علم سوائے گمان کی پیروی کے اور نہیں قتل کیا ہے انہوں نے مسیح کو یقینا!

[ayah]4:158[/ayah] [arabic]بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا[/arabic]
بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف۔ اور ہے اللہ زبردست طاقت رکھنے والا، بڑی حکمت والا۔
اس آیت میں 4:58 میں عیسی علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے لئے لفظ - رفعہ - یعنی اس کو اوپر بلند کرنا ہے۔ اس آیت سے عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی


اب اس سے اگلی آیت کو دیکھئے ، جس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی کی وفات سے پہلے سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے

[ayah]4:159[/ayah] اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا میسح ان پر گواہ۔

یعنی من حیث القوم تمام اہل کتاب حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ کیونکر ممکن ہوگا، زیادہ تر ان آیات سے حضرت عیسی کی واپسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ کہ وہ آکر وفات پائیں گے۔

اس کے برعکس قادیانیوں کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عیسی وفات پاچکے ہیں تاکہ مرزا احمد کو مسیح موعود، نبی اور مہدی ثابت کیا جائے۔
اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے قادیانی کہتے ہیں کہ لفظ رفعہ سے مراد روح کا اللہ تعالی کی طرف بلند ہونا ہے۔ جبکہ اللہ تعالی الفاظ بہت ہی احتیاط سے استعمال فرماتے ہیں، وفات کے لیے موت کے لفظ کا استعمال قرآن میں بہت عام ہے۔

یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ان روایات کو تقویت ملتی ہے جو حضرت عیسی کے دوبارہ نزول کے بارے میں ہیں، جیسا کہ قسیم حیدر نے لکھا کہ اللہ تعالی، وفات یا بناء وفات، دوبارہ اتھانے پر قادر ہے۔ اور اسکا حوالہ بھی فراہم کیا ہے۔

کیا آپ کو ان تمام واقعات سے جناب مہدی کا نزول قرآن سےکسی طور سامنے آتا نظر آتا ہے؟ نام سے یا کسی ممکنہ اشارے سے؟ یا کسی دوسری آیات سے؟
اس سوال کے باجود، میرا نظریہ یہ ہے کہ ہم قرآن کو اپنی زندگی کو بہتر بنانے، خوشیوں کو حاصل کرنے اور اس دینا کو پرام اور پر انصاف بنانے کے لئے استعمال کریں - نا کہ فرقہ واریت اور تفریق اور نفرتوں کو بڑھانے کے لئے۔ مہدی آئیں گے یا نہیں ، اس کا ثبوت قرآن میں ہے یا نہیں۔ اس سے مسلمان کا قرآن پرایمان کم نہیں‌ ہوتا۔ اور اس ایمان کے لئے اس سوال کا حتمی جواب ضروری نہیں۔

فاروق صاحب،

مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف آپ کا دعوی ہے کہ قران نے ہر ہر چیز روشن اور کھول کر اور واضح کر کے بیان کی ہے۔ اس سلسلے میں آپ قرانی آیت بھی نقل کرتے ہیں۔ پھر ظفری برادر نے بھی عقیدہ مہدی پر اعتراض کرتے ہوئے یہی لکھا۔
از ظفری
کسی واقعے کے عقیدہِ اسلامی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر واضح طور پر ہو۔

مگر جب میں آپ سے کاونٹر سوال کرتی ہوں عقیدہ نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام پر، تو آپ کے سٹینڈرڈز بدل جاتے ہیں اور بجائے واضح، صاف اور روشن قرانی ذکر کے، انتہائی غیر متعلق تین آیات کو آپ زبردستی لمبا چوڑا اور کھینچ تان کے اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلی دو آیات جو آپ نے نقل کی ہیں اُن کا تو سرے سے نزول عیسی علیہ السلام سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ صرف تیسری آیت کے زبردستی کھینچ تان کر آپ عقیدہ نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔

جو رویہ آپ نے ان آیات کے ساتھ اپنانے جا رہے ہیں، اسی روش پر چلتے ہوئے نجانے کتنے ایسے پیدا ہوں گے جو قران کی آیات سے کھیلتے پھریں گَے اور انہیں اپنی مرضی سے موڑ تڑوڑ کر اپنی نئی نئی شریعتیں بنائے ہوَئے ہوں گے۔ ]نوٹ: میں آگے چل کر اسی تھریڈ میں یا پھر الگ تھریڈ میں آپ کو مثال دوں گی کہ اس روش پر چلنے کا کتنا تباہ کن نتیچہ سامنے آنے والا ہے اور جو لوگ راہ راست سے بھٹک چکے ہیں اُں کے لیے کتنا آسان ہو گا کہ قرانی آیات سے کھیلتے ہوئے نئی نئی شریعتیں بنائیں اور دوسروں کو گمراہ کریں۔ آپ کی یہ روش وہ لائسنس ہو گی جو دین اسلام کو بہت مہنگی پڑے گی۔[

////////////////////////////

تیسری آیت جس کا آپ نے حوالہ دیا:

[ayah]4:159[/ayah] اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا میسح ان پر گواہ۔

جس طرح آپ اپنے لیے یہ لائسنس لے رہے ہیں کہ ان آیات کو اقوال رسول سے ہٹ کر اپنی مرضی کے مطابق جامع پہنا کر نزول عیسی علیہ السلام کے عقیدے کی کسی نہ کسی طرح دم کو پکڑ سکیں، اسی طرح قوم میں بہت سے ایسے پیدا ہو جائیں گے جو اسی لائسنس کے تحت ان آیات کو بالکل الٹا مطلب نکال کر عقیدہ نزول عیسی علیہ السلام کا انکار کر دیں گے۔


اور جہاں تک آپکے گواہ والی دلیل کا تعلق ہے، تو اللہ تو قرب قیامت سے پہلے عیسی علیہ السلام کے گواہ ہونے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ صاف صاف کہہ رہا ہے "قیامت کے روز گواہ" ہوں گے اور اس قیامت کے روز گواہ ہونے سے کسی صورت قیامت سے قبل نزول عیسی [ع] کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔

اور گواہ ہونے سے نزول دنیا ہونے کا عقیدہ ہونے لگے تو کہہ دیجئیے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بمع اپنی پوری امت کے دوبارہ قیامت سے قبل دنیا میں نزول فرمائیں گے، کیونکہ اسی قران میں اللہ کہہ رہا ہے کہ رسول اللہ [ص] اور پوری امت گواہوں میں شامل ہے۔

دیکھئیے ذیل کی آیاتِ قرانی:
9:94. (اے مسلمانو!) وہ تم سے عذر خواہی کریں گے جب تم ان کی طرف (اس سفرِ تبوک سے) پلٹ کر جاؤ گے، (اے حبیب!) آپ فرما دیجئے: بہانے مت بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات پر یقین نہیں کریں گے، ہمیں اﷲ نے تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے، اور اب (آئندہ) تمہارا عمل (دنیا میں بھی) اﷲ دیکھے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (دیکھے گا) پھر تم (آخرت میں بھی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں ان تمام (اعمال) سے خبردار فرما دے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

9:105 . اور فرما دیجئے: تم عمل کرو، سو عنقریب تمہارے عمل کو اﷲ (بھی) دیکھ لے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اور اہلِ ایمان (بھی)، اور تم عنقریب ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے، سو وہ تمہیں ان اعمال سے خبردار فرما دے گا جو تم کرتے رہتے تھے

2:143 اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو

4:41 پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے

اور جہاں تک اہل کتاب کے عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے کی بات ہے تو آیت کے اس ٹکڑے سے بھی کہیں نزول عیسی علیہ السلام کا عقیدہ ثابت نہیں ہو رہا اور لوگ اقوال رسول ص کو رد کر کے اپنی مرضی سے آپ کی تشریچ کے بالکل الٹ ہزاروں دوسری تشریحات کر لیں گے۔


[ayah]4:159[/ayah] اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا میسح ان پر گواہ۔

تو جنہیں اقول رسول ص کو رد کرتے ہوئے آپکی تشریح کے مخالف تشریح کرنی ہو گی، وہ آپ ہی کے لائسنسن کے ٹوکن میں سب سے پہلے اعتراض کرے گا کہ اس سے تو مراد تمام اہل کتاب ہیں [زندہ و مردہ[ تو اس سے عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا کیا تعلق؟ دوسرا آپکے مخالف کچھ کہے گا اور تیسرا آپکے مخالف کچھ اور۔

اور آپکو علم ہے کہ اس آیت میں علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ اس میں کس کی موت کا ذکر ہے۔ آیا یہ کہ ہر اہل کتاب "اپنی" موت سے قبل ایمان لائے گا، یا پھر "عیسی ع" کی موت سے قبل اسلام لائے گا۔

قرانی آیت یہ ہے:

[arabic] وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا [/arabic]

اور اسکا مطلب بہت سے علماء تک یہ نکالا ہے کہ یہاں عیسی ع کی موت کی بات نہیں ہو رہی، بلکہ اہل کتاب کی اپنی موت کا ذکر ہے۔ یعنی اگر اسکا ترجمہ انکی سمجھ کے مطابق کی جائے تو وہ یوں ہو گا:

اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اپنی موت سے پہلے۔۔۔۔۔۔

تو جب علماء تک میں اختلاف ہے، تو وہ لوگ جو کہ رسول ص کے اقوال کو ٹھکرا کر اپنی مرضی سے قران کی تشریح کرنا چاہتے ہیں، تو ُان کے لیے اس لائسنس کی موجودگی میں کیا مشکل ہے کہ وہ اس آیت کے مطلب کو ہی اپنی مرضی کے مطابق موڑ دیں؟

اور اب پانچویں خود قادیانی حضرات کو لے لیں جو اس آیت کی کی تشریح آپ ہی کے وضع کردہ لائسنس کی روشنی میں آپ سے بالکل مختلف کر رہے ہیں۔ مثلا اس آیت کی تفسیر یوں کر رہے ہیں:


اگر "اس کی موت سے اگر مسیح کی موت مراد لی جائے تو یہ محض ایک دعوی ہے ۔ کڑوڑوں یہودی مر گئے جو نہ اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان لائے، نہ مسیح کی موت سے پہلے اس پر ایمان لائے۔


تو اب آپ خود دیکھ لیں قرانی آیات کے متعلق یہ لائسنس خود کے لیے حاصل کر کے آپ "شر" کا کتنا بڑا دروازہ کھول رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آپ شاید کسی آیت کی صحیح تشریح پر پہنچ جائیں، مگر ہزاروں لاکھوں آپکے اسی لائسنس کے تحت آپ کو جھٹلا رہے ہوں گے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
کسی واقعے کے عقیدہِ اسلامی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر واضح طور پر ہو۔ ۔۔۔ کسی عالم کے لیئے ان احادیث کو قبول کرنا ناممکن ہے بلکہ ایک معقولیت پسند آدمی بھی ان متضاد ، بے بنیاد قصوں کو قبول نہیں کرے گا۔
مزید برآں حضرت مہدی کی آمد کی پیشین گوئی معتبر نہیں ہے۔ دو بڑے مسلم علماء ابن خلدون اور علامہ تمنا عمادی نے روایتۃ و درایۃ ان احادیث کی تحقیق کی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی ساری روایتیں بے بنیاد ہیں ۔

ظفری برادر، آپ کو اس بحث میں خوش آمدید ہے اور آپ ہم سے اس مسئلے میں متفق ہوں یا نہ ہوں یہ آپکی مرضی اور حق ہے۔۔۔۔ اور یہی حق ہمیں بھی حاصل ہے اور امید ہے کہ آپ ہم ہمارا حق دیں گے۔


1۔ پہلی بات آپ نے لکھی ہے کہ کسی بھی چیز پر عقیدہ رکھنے کی لیے ضروری ہے کہ قران میں اسکا واضح ذکر ہو۔

فاروق صاحب یہی بات قرانی آیات کے حوالے سے کرتے رہیں ہیں کہ قران کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔

چنانچہ اب میرا حق بنتا ہے کہ میں آپ سے سوال کروں: " قران سے ذرا واضح، کھلا، روشن اور صاف عقیدہ نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام دکھائیے۔

اگر آپ عقیدہ نزول مریم کے نہ ماننے والوں سے ہیں تو یہ چیز فاروق صاحب کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ انکے وضع کردہ لائسنس سے کتنے عقیدوں والی شریعتیں ایجاد ہونے والی ہیں۔


2۔ دوسرا آپ نے دعوی کیا ہے" مہدی کے متعلق روایات اتنی بے بنیاد ہیں کہ کسی بھی عالمم کے لیے ممکن نہیں انکا یقین کرے۔"

کیا میں آپ کی تصحیح کر سکتی ہوں کہ آپکا دعوی بالکل بے بنیاد ہے اور اس کے برعکس مہدی کے متعلق روایات صحیح کی حد سے نکل کر "تواتر" کے درجے پر پہنچی ہوئی ہیں، اس لیے "کسی عالم کے ماننے" کا دعوی تو درکنار، پوری اسلامی تاریخ میں "تمام کے تمام علماء" نے مہدی کی ان روایات کو تواتر کے ساتھ قبول کیا ہے اور کئی صدیوں تک یہ چیز "امت کا اجماع" رہی ہے تاوقتیکہ تقریبا آٹھ سو سال کے بعد ابن خلدون نے پہلی مرتبہ اسے جھٹلانے کی کوشش کی۔


3۔ اور جہاں تک ابن خلدون کا اس مسئلے میں طبع آزمائی کا تعلق ہے، تو بھائی جی میں نے آپ کو پہلی پوسٹ میں مفتی شامزئی صاحب کی کتاب کا لنک دیا تھا۔

کاش کہ انصاف کرنے والے سنی سنائی باتوں کے بجائے دلائل پر نظر رکھیں۔

ابن خلدون کو صرف تاریخ کا کسی حد تک عالم مانا گیا ہے [حالانکہ اسکا مقدمہ اٹھا کر پڑھ لیں کہ ابن خلدون نے تاریخ تک کو فلسفہ بنا کر رکھ دیا ہے[۔ اور دیکھیں کہ ابن خلدون کس قدر ضدی طبیعت کا مالک تھا اور کس طرح اگر کسی بات پر اڑ جاتا تھا تو ہر جائز و ناجائز طریقے سے اسے منوانے کی کوشش کرتا تھا۔۔۔۔۔ اور یہ بھی دیکھئیے کہ ابن خلدون پر واضح طور پر بغض علی ابن ابی طالب و اولاد ابن ابی طالب کا الزام ہے اور اسی بنیاد پر اسے مہدی سے چڑ تھی کہ جسے اولادِ علی ابن ابی طالب سے ہونا تھا۔
جی ابن خلدون کی یہ علمی / یا بے علمی میں اپنی طرف سے بیان نہیں کر رہی، بلکہ آپ مفتی شامزئی کی کتاب پڑھ لیں کہ انہوں نے کئی صفحات پر مشتمل پورا باب ابن خلدون کی ان اور اس جیسی دیگر بہت سی صفات کی طرف کیا ہے۔

اور اب ابن خلدون کے مقابلے میں کیا میں آپ کو اُن علماء کے نام گنواووں کہ جن کا کردار ابن خلدوں کے مقابلے میں عرش پر ہے اور کردار ہی نہیں بلکہ علم میں بھی یہ فرق ہے اور انہوں نے مہدی کے متعلق اس تواتر کو دل و جان سے قبول کیا ہے۔

آپ سے پھر صرف یہ گذارش ہے کہ مہدی کے متعلق ان روایات پر کوئی کمینٹس دینے سے قبل صرف ایک مرتبہ مفتی شامزئی کی کتاب آپ پڑھ لیں کہ جہاں انہوں نے پہلے ابن خلدوں [اور بعد میں آنے والے اُن تمام لوگوں کے دلائل نقل کیے ہیں جنہوں نے اس معاملے میں ابن خلدون کی روش اپنائی ہے[ اور پھر ہر ایک ایک اعتراض کا انہوں نے مکمل جواب تحریر کیا ہے اور دکھایا ہے کہ ابن خلدون کے یہ اعتراضات کتنے مضحکہ خیز ہیں۔ اسی میں آپ کو اُن علماء کے نام بھی مل جائیں گے کہ جو کردار و علم میں ابن خلدون سے بدرجہا اونچے ہیں مگر مہدی کے متعلق ان روایات کو تواتر کا درجہ دیتے ہیں۔
 
مہوش صاحبہ ، معاف کیجئے گا، آُپ کا سابقہ پیغام کسی بھی واضح نکتہ سے خالی ہے۔
لغوی طور پر دیکھئے:
موتہ کے معنی "اس واحد شخص کی موت ہے" ، جبکہ اس سے پیشتر بات ہوئی ہے اہل کتاب میں سے ہر شخص کی۔ جو کہ جمع ہے۔ لہذا 'موتہ' کا ترجمہ کسی طور بھی بہت سارے لوگوں کی موت لینا درست نہیں۔ اسی آیت میں ایک اور لفظ ہے - بہ - یعنی - لَيُؤْمِنَنَّ بِہِ - جس کے معانی ہوئے - اس پر ایمان لے آئے گا - اس آیت میں اور اس سے پچھلی آیات میں بات ہورہی ہے جس شخص کی وہ ہیں عیسی علیہ السلام۔ اور ان تمام آیات میں ان کے لئے تھرڈ پرسن سنگولر استعمال کیا گیا ہے۔

منطقی استدلال:
آج تک ایسا نہیں ہوا ہے کہ ہر اہل کتاب مرنے سے پہلے عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ یہ نبی اکرم کو بھی معلوم تھا ۔ بلکہ ان کی آدھی لسانی بحث اہل کتاب سے ہی تھی اور قرآن اہل کتاب کو اس طرف مائل کرنے کی بہت سی منطقی کوششیں کرتا ہے۔

لہذا اس آیت کا یہ ترجمہ کہ 'کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں ہوگا جو خود اپنی موت سے پہلے عیسی علیہ السلام کے پیغام پر ایمان نہ لے آتا ہو' ایک غلط معانی ہوئے کیونکہ ایسا ہوتا ہی نہیں ہے۔ یعنی اس معانی سے قرآن کی ایک آیت غلط ہو گئی۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ نبی اکرم جانتے تھے ۔ ان معانوں سے قرآن کا دعوی غلظ ثابت ہورہا ہے۔ شک کا باعث ہو رہا ہے، جو قرآن کی روح‌کے خلاف ہے۔ یہ ایک غیر منطقی بات ہے کہ رسول اکرم ایک ایسی آیت جانتے بوجھتے ہوئے پڑھیں ، جبکہ اہل کتاب بناء ایمان لائے مر جاتے ہیں۔

اب اگر عیسی علیہ السلام آئیں گے اور ان کے اس دوبارہ آنے سے اہل کتاب ان کو نبی مان کر اور ان کو وعدہ کے مطابق آنے والا مان کر، عیسائی اور یہودی - من حیث القوم - مسلمان ہو جاتے ہیں تو یہ قرآن کی ایک پیشین گوئی تصور کی جانی چاہئیے جو قرین از قیاس ہے کہ درست ثابت ہوگی۔ لہذا اس آیت سے اس سے پچھلی آیت کی روشنی میں‌ یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ یہاں عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں‌ گے کی بات ہورہی ہے۔

ان تمام معانی سے قطع نظر کہ عیسی علیہ السلام آئیں گے یا نہیں آئیں‌گے یا اس آیت میں عیسی علیہ السلام کی موت کی بات ہورہی ہے یا ہر اس شخص کی جو ایمان لے آئے گا؟ اس آیت سے کہیں‌بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مہدی بھی آئیں‌ گے۔

قادیانوں‌کے دعوی کی بنیاد ہی مہدی کا آنا ہے۔ جو کسی طور بھی کسی مناسب آیت سے ثابت نہیں نا ہی نام سے اور نا ہی کام سے۔ یہ درست ہے کہ بہت سے لوگوں کے عقیدہ کو اس بات سے ٹھیس لگتی ہے - لیک افسوس کی بات یہ ہے کہ قرانی ایمان میں کسی مہدی کا وجود نہیں‌ہے۔

ان تین آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ
157۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل نہیں کرسکے
158۔ وہ ارفع کرلئے گئے۔ (‌جسم سے یا روح‌سے؟ )‌یہ واضح اس آیت سے نہیں
159۔ ان کی موت سے پہلے اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو ان پر ایمان نہ لے آئے۔ ایسا ماضی میں نہیں ہوا اور وقت نزول قرآن بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ یہود و نصاری دونوں ہی اپنی روشوں پر ڈٹے ہوئے تھے اور آج بھی ہیں۔ چونکہ یہ موضوع مزید تفصیل چاہتا تھا لہذا رسول اکرم سے اس کے بارے میں روایات کی جاتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مہدی صاحب کون ہیں ؟ کچھ روایات میں ان کو عیسی علیہ السلام بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ عیسائیوں کا کام لگتا ہے اور کچھ روایات میں ان کو عیسی علیہ السلام کے علاوہ ایک مہدی ایک مسیحا بنا کر پیش کیا گیا ہے ، یہ یہودیوں کا کام لگتا ہے کہ وہ عیسی علیہ السلام کو مسیحا نہیں مانتے اور اب بھی اس مسیحا کے انتطار میں ہیں ، جس کی توجیہہ یہودی یہ پیش کرتے ہیں کہ مسیحا کے آنے کے بعد تمام دنیا میں امن اور تمام لوگ ایک فرقہ پر آجائیں گے لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے سے ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کو ایک طرف کردیتے ہیں۔

ان دونوں قسموں‌میں سے کسی بھی قسم کی روایات سے مہدی علیہہ السلام کا وجود قرآن سے ثابت نہیں ہوتا ، چونکہ یہ روایات یہود و نصاریٰ کی کتب میں پائی جاتی ہیں ، ان کتب کی کسوٹی صرف اور صرف قرآن ہے۔ ان روایات کا قرآن میں نہ پایا جانا ان روایات کو توثیق نہیں بلکہ تردید ہے۔

جو لوگ قرآن کے بعد بھی ان یہود و نصاری کی کتب پر یقین رکھنا چاہتے ہیں وہ ان کو حق ہے۔ بس یہ ذہن میں‌رکھئے کہ ۔ قرآن ایک میزان ہے۔ اس کے اپنے الفاظ میں۔ پچھلی کتابوں‌کے لئے ایک کسوٹی ہے۔ آیات کا حوالہ نہیں‌دے رہا، اس لئے کہ یہ قرآن پر مبنی عقیدہ سے باہر کی بات ہے۔
 

طالوت

محفلین
عیسٰی واپس آئیں گے یا نہیں مہدی کب آئے گا دجال گدھے پر سوار ہو کر نکلے گا قیامت سے چالیس سال پہلے یہ ہو گا اور چالیس دن پہلے یہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سارے مسائل روز قیامت سے منسلک ہیں جب کہ قران کہتا ہے کہ قیامت کا وقت تو صرف اللہ کو پتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تمھیں اچانک آ دبوچے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر یہ تمام بحث لاحاصل ہے ۔۔۔۔ قادیانی ، شیعہ ، سنی ، اہلحدیث ، زکری ، منکر حدیث ، اور پتہ نہیں کیا کیا گند بلا ہم نے جمع کر رکھا ہے اور اللہ رب العزت جو بار بار اپنی کتاب کی طرف بلاتا ہے وہاں رجوع نہیں کرتے کبھی ابن خلدون کا رونا روتے ہیں تو کبھی مفتی شامزئی کا۔۔۔۔۔ کوئی طاہر القادری کے دھماکے کر رہا ہے تو کوئی مسیح و مہدی کے جھوٹے دعوے کسی کو نجات بخاری میں نظر آتی ہے تو کوئی علامہ پرویز کی "ربوبیت" کو ہی آخری شرعیت ثابت کرنے پر مصر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہے جسے بارہویں امام کا انتظار ہے اور دوسرا رسول کی قبر کو نہ چومنے دینے پر نالاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو کبھی کبھی حیران ہوتا ہوں کہ اتنی بکواس کے باوجود اسلام کیسے تیزی سے پھیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جانتے ہیں یہ حیرانی کیسے دور ہوتی ہے ؟؟؟
آج اسلام سے سے زیادہ یورپ اور امریکہ میں پھیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانتے ہیں کیسے ؟ اللہ کی آخری کتاب "الکتٰب" کے مطالعے سے
وہاں کویی طارق بن زیاد کشتیاں نہیں جلا رہا۔۔۔۔۔۔۔ کوءی تبلیغی جماعت اپنے مشن پر روادواں نہیں۔۔۔۔۔ کوءی عطاری کرامت نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وسلام
 

ڈاکٹر عباس

محفلین
میں عام طور پر مزہبی مباحثہ سے دور رہتا ہوں۔آج اتفاق سے اس دھاگے پر نظر پڑی تو ذہن میں سورہ بقرہ کی یہ آیہ آئی۔
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ۔
 
آج اسلام سے سے زیادہ یورپ اور امریکہ میں پھیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانتے ہیں کیسے ؟ اللہ کی آخری کتاب "الکتٰب" کے مطالعے سے
وہاں کویی طارق بن زیاد کشتیاں نہیں جلا رہا۔۔۔۔۔۔۔ کوءی تبلیغی جماعت اپنے مشن پر روادواں نہیں۔۔۔۔۔ کوءی عطاری کرامت نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وسلام

دراز نفسی کی معذرت، آپ کا فرمایا ایک حقیقت ہے۔ قرآن پڑھ کر مسلمان ہونے والے امریکیوں کو میں‌ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کو قرآن میں نے دیا۔ جو ترجمہ ہم اپنے ریڈیو پروگرام سے بانٹتے ہیں وہ ناسا کے ایک انجینیئر ڈاکٹر عبدالحئ کا کیا ہوا ہے۔ یہی ترجمہ پنٹاگون بھی استعمال کرتا ہے، مسلمان فوجیوں کو دینے کے لئے۔ یہ ایک آسان انگریزی ترجمہ ہے۔ یہ آسانی کے لئے ہے۔ مزید یہ کہ http://www.openburhan.net/ پر 23 ترجمے موجود ہیں، تاکہ لوگ خود سے دیکھ سکیں۔ یہ تراجم مسلمانوں کے اور غیر مسلموں کے جدید و قدیم دونوں‌ہیں۔ غیر مسلموں‌ مین تقریباً 300 سال پرانا جارج سیل کا ترجمہ اور پھر جدید آربری کا ترجمہ ،
اسی طرح اردو میں تقریباً‌ 150سال پرانا رضا شاہ بریلوی کا ترجمہ اور جدید شبیر احمد کا ترجمہ۔
انگریزی کا جدید ترجمہ ڈاکٹر شبیر احمد کا اور پھر پکتھال کا جو کہ قدیم ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر جو لوگ قرآن پڑھنے کے لئے مانگتے ہیں وہ کم از کم یونیورسٹی سے بیچلرز ڈگری رکھتے ہیں ، جو امریکی مجھ سے قرآن مانگ کر اور پڑھ کر مسلمان ہوئے وہ زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ ایک امریکی وکیل جو بہت کامیاب تھے اور ریٹائرمنٹ کا وقت گزارنے کے لئے قران پڑھنا شروع کیا ، انہوں‌نے (اپنی زبان انگریزی) کہا کہ "مسٹر خان، جب قرآن نے دنیا کو حقوق انسانی اور مساوات سے متعارف کروایا اس وقت تو دنیا کا اندھیرا دور ہونے میں ہزار سال باقی تھے" ۔ کافی عرصہ محفلوں میں قرآن کے حوالے دے کر حیرانی کا اظہار کرتے رہے کہ جو وہ جدید ترین تعلیم سمجھتے تھے، وہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )‌ نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے لوگوں کو اس "اولڈ لیکچر" میں پڑھادی تھی۔ یہ صاحب باقاعدہ مسلمان تو نہیں ہوئے، لیکن رسول اکرم کو دنیا کا سب سے ایک عظیم ---- لاء گیور ----- یعنی قانون دان یا قانون دینے والا تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا مکمل فیتھ (‌یقین و ایمان )‌ہے قرآن اور اس کے پیش کرنے والے میں کہ وہ انسانی مساوات اور حقوق کا ایک عظیم (گریٹ) اور منطقی (لاجیکل) علمبردار تھا۔ جن آیات کی طرف ان صاحب نے توجہ دلائی، ان میں سے کچھ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں،

http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=13747

ڈاکٹر عباس صاحب کا ریفرنس، مع ترجمے کے۔
[AYAH]2:124[/AYAH] [ARABIC]وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [/ARABIC]
Tahir ul Qadri اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کر دیں، (اس پر) اللہ نے فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا، انہوں نے عرض کیا: (کیا) میری اولاد میں سے بھی؟ ارشاد ہوا: (ہاں! مگر) میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا

مزید اس سے پیشتر آیت دیکھئے ۔ اس دن کے بارے میں بھی جس کا کسی کو کوئی علم نہیں ۔
[AYAH]2:123[/AYAH] [ARABIC]وَاتَّقُواْ يَوْماً لاَّ تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئاً وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ [/ARABIC]
اور اس دن سے ڈرو جب کوئی جان کسی دوسری جان کی جگہ کوئی بدلہ نہ دے سکے گی اور نہ اس کی طرف سے (اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے) کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اس کو (اِذنِ الٰہی کے بغیر) کوئی سفارش ہی فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ (اَمرِِ الٰہی کے خلاف) انہیں کوئی مدد دی جا سکے گی

مزید یہ دیکھئے کہ کیا رسول اللہ کو غیب کا علم تھا؟ خود رسول اللہ کی زبان سے ، اللہ تعالی کے الفاظ سنئے، دیکھئے اور پڑھئے ۔۔۔۔

[AYAH]7:188[/AYAH] [ARABIC] قُل لاَّ أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلاَ ضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللّهُ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاَسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ[/ARABIC]
Tahir ul Qadri آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا خود مالک نہیں ہوں مگر (یہ کہ) جس قدر اللہ نے چاہا، اور (اسی طرح بغیر عطاءِ الٰہی کے) اگر میں خود غیب کا علم رکھتا تو میں اَز خود بہت سی بھلائی (اور فتوحات) حاصل کرلیتا اور مجھے (کسی موقع پر) کوئی سختی (اور تکلیف بھی) نہ پہنچتی، میں تو (اپنے منصب رسالت کے باعث) فقط ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں٭

Ahmed Ali کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو اللہ چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں
Ahmed Raza Khan تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف366) مگر جو اللہ چاہے (ف367) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف368) میں تو یہی ڈر (ف369) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
Shabbir Ahmed کہہ دو! کہ نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا، مگر یہ کہ چاہے اللہ۔ اور اگر ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کرلیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کبھی کوئی نقصان۔ نہیں ہوں میں مگر خبردار کرنے والا اور خوش خبری سُنانے والا اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔

یہ آیت ہم کو بہت صاف صاف بتاتی ہے کہ رسول اکرم کو مستقبل کہ جو غائب ہے اس کے علم کا دعوی نہیں کر رہے ہیں ماسوائے اس کے جو " ما شاء اللہ " کے باعث ان کو ملا ، اگر وہ "ما شاء اللہ " ظاہر کرنا تھا تو قرآن میں شامل ہے اور اگر اس "ما شاء اللہ " کا مقصد ظاہر کرنا نہیں تھا تو پھر اس کا علم عام آدمی کو نہیں۔

تو پھر اس بات کی کیا بنیاد ہے کہ رسول اللہ سے منسوب کیا جائے کہ انہوں نے مستقبل کے بارے میں بتایا کہ مہدی آئیں گے جو کبھی دجال کو ایک شہر میں قتل کرتے ہیں اور کبھی دوسرے شہر میں۔ کبھی مہدی کا ایک نام ہوتا ہے اور کبھی دوسرا۔ کبھی یہی مہدی بارہویں امام ہیں اور کہیں یہی مہدی -- اصل قرآن --- پیش کریں گے۔۔ لگتا ہے ہر فرقہ کا مہدی الگ الگ آئے گا۔ بھائی ان کہانیوں کے تواتر کا دعوی صرف چند سو سال پہلے کی کتب میں معدوم ہوجاتا ہے۔ بلکہ 6 یا 7 سو سال پرانی کوئی کتب روایت ملتی ہی نہیں ہے۔

سنی سنائی کہانیوں اور توہم پرستی کا نام کیا اسلام ہے؟ کیا دلائل سے قرآن کو پاژند بنانا ہی مسلمان کا شیوہ ہے؟

احکام ترے حق ہیں ، مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو بنا سکتے ہیں پازند
 

ڈاکٹر عباس

محفلین
دراز نفسی کی معذرت، آپ کا فرمایا ایک حقیقت ہے۔ قرآن پڑھ کر مسلمان ہونے والے امریکیوں کو میں‌ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کو قرآن میں نے دیا۔ جو ترجمہ ہم اپنے ریڈیو پروگرام سے بانٹتے ہیں وہ ناسا کے ایک انجینیئر ڈاکٹر عبدالحئ کا کیا ہوا ہے۔ یہی ترجمہ پنٹاگون بھی استعمال کرتا ہے، مسلمان فوجیوں کو دینے کے لئے۔ یہ ایک آسان انگریزی ترجمہ ہے۔ یہ آسانی کے لئے ہے۔ مزید یہ کہ http://www.openburhan.net/ پر 23 ترجمے موجود ہیں، تاکہ لوگ خود سے دیکھ سکیں۔ یہ تراجم مسلمانوں کے اور غیر مسلموں کے جدید و قدیم دونوں‌ہیں۔ غیر مسلموں‌ مین تقریباً 300 سال پرانا جارج سیل کا ترجمہ اور پھر جدید آربری کا ترجمہ ،
اسی طرح اردو میں تقریباً‌ 150سال پرانا رضا شاہ بریلوی کا ترجمہ اور جدید شبیر احمد کا ترجمہ۔
انگریزی کا جدید ترجمہ ڈاکٹر شبیر احمد کا اور پھر پکتھال کا جو کہ قدیم ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر جو لوگ قرآن پڑھنے کے لئے مانگتے ہیں وہ کم از کم یونیورسٹی سے بیچلرز ڈگری رکھتے ہیں ، جو امریکی مجھ سے قرآن مانگ کر اور پڑھ کر مسلمان ہوئے وہ زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ ایک امریکی وکیل جو بہت کامیاب تھے اور ریٹائرمنٹ کا وقت گزارنے کے لئے قران پڑھنا شروع کیا ، انہوں‌نے (اپنی زبان انگریزی) کہا کہ "مسٹر خان، جب قرآن نے دنیا کو حقوق انسانی اور مساوات سے متعارف کروایا اس وقت تو دنیا کا اندھیرا دور ہونے میں ہزار سال باقی تھے" ۔ کافی عرصہ محفلوں میں قرآن کے حوالے دے کر حیرانی کا اظہار کرتے رہے کہ جو وہ جدید ترین تعلیم سمجھتے تھے، وہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )‌ نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے لوگوں کو اس "اولڈ لیکچر" میں پڑھادی تھی۔ یہ صاحب باقاعدہ مسلمان تو نہیں ہوئے، لیکن رسول اکرم کو دنیا کا سب سے ایک عظیم ---- لاء گیور ----- یعنی قانون دان یا قانون دینے والا تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا مکمل فیتھ (‌یقین و ایمان )‌ہے قرآن اور اس کے پیش کرنے والے میں کہ وہ انسانی مساوات اور حقوق کا ایک عظیم (گریٹ) اور منطقی (لاجیکل) علمبردار تھا۔ جن آیات کی طرف ان صاحب نے توجہ دلائی، ان میں سے کچھ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں،

http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=13747

ڈاکٹر عباس صاحب کا ریفرنس، مع ترجمے کے۔
[ayah]2:124[/ayah] [arabic]وَاتَّقُواْ يَوْماً لاَّ تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئاً وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ [/arabic]
اور اس دن سے ڈرو جب کوئی جان کسی دوسری جان کی جگہ کوئی بدلہ نہ دے سکے گی اور نہ اس کی طرف سے (اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے) کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اس کو (اِذنِ الٰہی کے بغیر) کوئی سفارش ہی فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ (اَمرِِ الٰہی کے خلاف) انہیں کوئی مدد دی جا سکے گی

کیا رسول اللہ کو غیب کا علم تھا؟ خود رسول اللہ کی زبان سے ، اللہ تعالی کے الفاظ سنئے، دیکھئے اور پڑھئے ۔۔۔۔

[ayah]7:188[/ayah] [arabic] قُل لاَّ أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلاَ ضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللّهُ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاَسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ[/arabic]
Tahir Ul Qadri آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا خود مالک نہیں ہوں مگر (یہ کہ) جس قدر اللہ نے چاہا، اور (اسی طرح بغیر عطاءِ الٰہی کے) اگر میں خود غیب کا علم رکھتا تو میں اَز خود بہت سی بھلائی (اور فتوحات) حاصل کرلیتا اور مجھے (کسی موقع پر) کوئی سختی (اور تکلیف بھی) نہ پہنچتی، میں تو (اپنے منصب رسالت کے باعث) فقط ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں٭

Ahmed Ali کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو اللہ چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں
Ahmed Raza Khan تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف366) مگر جو اللہ چاہے (ف367) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف368) میں تو یہی ڈر (ف369) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
Shabbir Ahmed کہہ دو! کہ نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا، مگر یہ کہ چاہے اللہ۔ اور اگر ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کرلیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کبھی کوئی نقصان۔ نہیں ہوں میں مگر خبردار کرنے والا اور خوش خبری سُنانے والا اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔

یہ آیت ہم کو بہت صاف صاف بتاتی ہے کہ رسول اکرم کو مستقبل کہ جو غائب ہے اس کے علم کا دعوی نہیں کر رہے ہیں ماسوائے اس کے جو " ما شاء اللہ " کے باعث ان کو ملا ، اگر وہ "ما شاء اللہ " ظاہر کرنا تھا تو قرآن میں شامل ہے اور اگر اس "ما شاء اللہ " کا مقصد ظاہر کرنا نہیں تھا تو پھر اس کا علم عام آدمی کو نہیں۔

تو پھر اس بات کی کیا بنیاد ہے کہ رسول اللہ سے منسوب کیا جائے کہ انہوں نے مستقبل کے بارے میں بتایا کہ مہدی آئیں گے جو کبھی دجال کو ایک شہر میں قتل کرتے ہیں اور کبھی دوسرے شہر میں۔ کبھی مہدی کا ایک نام ہوتا ہے اور کبھی دوسرا۔ کبھی یہی مہدی بارہویں امام ہیں اور کہیں یہی مہدی -- اصل قرآن --- پیش کریں گے۔۔ لگتا ہے ہر فرقہ کا مہدی الگ الگ آئے گا۔ بھائی ان کہانیوں کے تواتر کا دعوی صرف چند سو سال پہلے کی کتب میں معدوم ہوجاتا ہے۔ بلکہ 6 یا 7 سو سال پرانی کوئی کتب روایت ملتی ہی نہیں ہے۔

سنی سنائی کہانیوں اور توہم پرستی کا نام کیا اسلام ہے؟ کیا دلائل سے قرآن کو پاژند بنانا ہی مسلمان کا شیوہ ہے؟

احکام ترے حق ہیں ، مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو بنا سکتے ہیں پازند
محترم میں نے جو آیہ کوٹ کی ہے آپ نے اس کا ترجمہ نہیں لکھا۔
 
معذرت محترم ڈاکٹر صاحب، میں نے آیت اور اس کا ترجمہ مع حوالہ کے فراہم کردیا ہے۔ پہلے بار بھی لکھا تھا، کسی غلطی سے حذف ہو گیا تھا۔ نشاندہی کا شکریہ۔
 

ڈاکٹر عباس

محفلین
بہت شکریہ محترم۔
محترم اس آیہ میں امام کا لفظ آیا ہے اور حضرت ابراہیم اپنی اولاد کے لیے امامت مانگ رہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا جواب اثبات میں ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ۔
اب آپ ہی بتائیں ذریت ابراہیم میں امامت کہاں ہے۔کیا اللہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔اگر یہ کہا جائے کہ رسالت اور نبوت ہی امامت ہے تو یہ قرین قیاس نہیں ہو گا۔کیوں کہ نبوت اور رسالت تو پہلے ہی سے حضرت ابراہیم کے پاس موجود تھی۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top