حضرت مہدی کون؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
اگر مہدی صاحب اپنے اسی نام سے اتنے ضروری ہوتے اور مسلمانوں کا ان کے بارے میں جاننا اتنا ہی ضروری ہوتا تو اس ہدایت سے پر بندہ کا کم از کم نام قرآن میں ہوتا۔کوئی صاحب قرآن سے حوالہ عطا فرمائیں کہ کس آیت سے اس مسئلہ کو اتنی ہوا دی گئی ہے؟

مقصد بہت صاف ہے کہ مسلمان ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہے اور جناب مہدی کا انتظار کرتا رہے۔ بھائی ایسے میں کوئی ہدایت دینے والا مہدی آیا بھی گیا تو کہے گا تم نے تو کوئی تیاری کی ہی نہیں؟ یہ حکم بھول گئے کیا؟
گمراہ نہ کرو فاروق۔ اس کا یہ مطلب نہیں‌جو نکال رہے ہو۔
دیکھو عیسائیوں‌کی کتب میں‌ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انے کا اور یہودیوں‌کی روایات میں‌حضرت عیسیٰ کے انے کا ذکر ہے۔ تو کیا اگر ہدایت دینے والے پغمبر کے انتظار میں یہودی اور عیسائی (آصل میں‌اس وقت کے مسلم) بیٹھے رہے؟ نہیں‌یہ مطلب نہیں۔
اس بات سے متفق ہوں کہ حضرت مہدی کا ذکر قران میں‌نہیں۔ اور مسلمان ان کے انے کا انتظار بھی نہیں‌کررہے مگر حضرت مہدی کے انے سے انکار بھی نہیں۔
 

گرو جی

محفلین
گمراہ نہ کرو فاروق۔ اس کا یہ مطلب نہیں‌جو نکال رہے ہو۔
دیکھو عیسائیوں‌کی کتب میں‌ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انے کا اور یہودیوں‌کی روایات میں‌حضرت عیسیٰ کے انے کا ذکر ہے۔ تو کیا اگر ہدایت دینے والے پغمبر کے انتظار میں یہودی اور عیسائی (آصل میں‌اس وقت کے مسلم) بیٹھے رہے؟ نہیں‌یہ مطلب نہیں۔
اس بات سے متفق ہوں کہ حضرت مہدی کا ذکر قران میں‌نہیں۔ اور مسلمان ان کے انے کا انتظار بھی نہیں‌کررہے مگر حضرت مہدی کے انے سے انکار بھی نہیں۔

اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کون بیٹھا ہوا ہے۔
اللہ مسب الاسباب ہے دنیا چلا رہا ہے۔
حضرت امام مہدی کا نزول قیامت سے پہلے ہوگا
باقی مجھے تھوڑا وقت دیں‌میں اس مسئلے پر تحقیق کر کے آپ کی تشنگی دور کرنے کی کوشش کروں‌گا۔
باقی واللہ اعلم
 
ایک عدد آیت کا سوال ہے جو کسی مہدی کی آمد کا اعلان کرتی ہو۔ باقی روایات ، اس مد میں صرف کہانیاں ہیں ، جو اتنی بار دہرائی گئی ہیں کے اب لوگ بنا ثبوت ان کو مان لیتے ہیں۔ ان کہانیوں کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ درست ہیں؟

آپ اپنا وقت ان کہانیوں‌کو جمع کرنے میں ضائع نہ کریں، شاید آپ ان تمام کہانیوں کو جمع بھی نہ کر پائیں جو میرے خزانہ کتب میں موجود ہیں۔
 
عبد المجید صاحب۔ بہت شکریہ جناب اس وضاحت کا۔ میری ذات پر بحث کے لئے ایک الگ دھاگہ ہے۔ کہ میں کیا سمجھتا ہوں۔ اس کا جواب میں دے چکا ہوں‌ - صاف صاف۔ موضوع پر رہنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ موضوع کے مطابق اس بات کا جواب لائیے کہ "قران جناب مہدی کی آمد کا اعلان کس طرح کرتا ہے" ‌؟

یہ مہدی کا نظریہ ہی ہے جو قادیانیت کی بنیاد ہے۔

رہ گئی میری ذاتی بات تو بھائی اس کے جواب میں عرض یہ ہے۔
کہ عبدالمجید صاحب، بہت ہی شکریہ وضاحت فرمانے کا۔ شاید میں بہتر طریقہ سے کہہ نہیں پارہا تھا۔ یہ ایک واضح مثال بن گئی ہے۔ میں بحیثیت مسلمان کسی بھی ایسی روایت کا قائل نہیں جو قرآن سے ثابت نہیں۔ ان روایات کو جن اصحاب سے منسوب کیا جاتا ہے جیسے امام بخاری وغیرہ ، ان کی اصل کتب بھی موجود نہیں ہیں۔ صرف سنی سنائی باتیں ہیں اور سنی سنائی گواہی قران سے ثابت نہیں۔ معذرت۔

ایسی من گھڑت کہانیاں جو سنی سنائی اور رٹی رٹائی چلی آرہی ہیں ، صرف کہانیاں ہیں۔ ان کو روایات ہی سمجھتا ہوں۔ الحمد للہ۔
جو ضو القرآن میں پوری اترتی ہیں ان کو ہی قابل قبول سمجھتا ہوں اور ان کو پیش بھی کرتا ہوں۔ حدیث رسول کوئی پٹارا نہیں ہے کہ اس میں کچھ بھی ڈال دیا جائے اور زبردستی کی جائے کہ یہ بھی قبول کرو۔ رسول اکرم کو اللہ تعالی نے قرآن کی تعلیم کے لئے منتخب کیا تھا۔ اس میں مزید کہانیاں شامل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اس بات کا کیا جواز ہے کہ اندھے ہوکر ہر اس بات پر ایمان لے آیا جائے جو کوئی بھی مذہب کے نام پر کہہ دے ۔

ایمان ہم کس پر لائے ہیں ؟ آپ کا جواب کیا ہے؟ اس جواب کو اللہ تعالی کے حکم کےمطابق دیکھئے۔

[ayah]2:177[/ayah] [arabic]لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَ۔كِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلآئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَ۔ئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَ۔ئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ [/arabic]

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

امید ہے اب آپ کی سمجھ میں آرہا ہوگا کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کی تشریح ان کتب کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اور دوسری طرف ایس روایات ان کتب میں شامل ہیں جو کہ صرف اسرائیلیات کا حصہ ہیں۔ یہ صرف یہودی ہیں جو کہ ایک مسیحا کا انتظار کرر ہے ہیں، مسلمانوں کو یہودیوں نے ہی یہ تعلیم دی ہے کہ اس مسیحا کا انتظار کرو جو ابھی آئے گا اور عظیم ہدایت دینے والا ہوگا جس کا ترجمہ مہدی ہوتا ہے۔ اس مہدی کا انتظار تو یہودی 2000 سال سے کررہے ہیں ۔ آپ کو درجنوں ثبوت پیش کرسکتا ہوں کہ جناب مہدی کی یہ روایت قبل اسلام سے چلی آرہی ہے اور لگ بھگ اتنی ہی پرانی ہے جتنی یہودی روایت۔ یہ یہودیوں کی عادت تھی کہ اپنی رویات رسول اکرم کے پاس لاتے تھے اور اس کی تصدیق چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک روایت سورۃ الکہف میں موجود ہے۔

جن یہودیوں نے ہمارے پیارے رسول کو وہ عظیم مہدی نہیں مانا جس کا وہ انتظار کر رہے تھے وہ اپنی اس روایت پر قائم رہے ۔

بھائی عظیم ہدایت دینے والا مہدی تو آ بھی گیا اور وہ ہیں رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اب ان اسرئیلیوں کو کہئیے کہ اس عظیم مہدی کا مزید انتظار نہ کیجئے بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلام کو اپنا نبی مان لیجئے۔

اس ضمن میں یہودیوں سے اصرار دیکھئے۔

[ayah]3:81[/ayah] [arabic] وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ [/arabic]

اور (وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں

لیکن یہودی آج بھی مصر ہیں کہ وہ مسیحا اور مہدی آج تک نہیں آیا اور ایک دن آئے گا۔ اس کے لئے یہ تمام روایات موجود ہیں جو مسلمانوں کی کتب میں بھی سرایت کرگئی ہیں۔ جبکہ قرآن جو کہ مسلمانوں کے ایمان کی ابتدا ہے اس بارے میں مکمل خاموش ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم اس نبی اکرم پر ایمان لائیں اور اس کی پیش کردہ کتاب پر ایمان لائیں اور کہیں
[ayah]3:53[/ayah] [arabic] رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ [/arabic]
اے ہمارے رب! ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اور ہم نے اس رسول کی اتباع کی سو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے

کہ رسول کا اصل اتباع اس کتاب یعنی قرآن پر ایمان لانا ہے۔ جبکہ لفظ مہدی سارے قران میں موجود نہیں۔
 
بہت شکریہ تفصیل سے جواب دینا کا بھائی جان چونکہ آپ ان احادیث کو مانتے ہی نہیں جن کی رو سے حضرت امام مہدی کا ظہور ہونا ہے اسلئے آپ سے بحث ہی فضول ہے مجھے آپ اس سے قاصر پائیں گے
 

گرو جی

محفلین
بھائی ہزاروں منہ ہزار باتیں
اب کچھ مسلک ایسے ہیں جو سرے سے انکار کرتے ہیں
اب ان کا ہم کیا کر سکتے ہیں
سوائے ان کے حق میں دعا کرنے کے علاوہ
 
بھائی ہزاروں منہہ اور ہزاروں‌باتیں،

پر اللہ تعالی کی فقط ایک کتاب۔ اور اس پر ایمان لانا اتنا مشکل ؟ آج 1400 سال بعد بھی ؟
 

گرو جی

محفلین
بھائی ہزاروں منہہ اور ہزاروں‌باتیں،

پر اللہ تعالی کی فقط ایک کتاب۔ اور اس پر ایمان لانا اتنا مشکل ؟ آج 1400 سال بعد بھی ؟

بھائی اس پر بہت پہلے ایمان لے آیا تھا
چلیں ایک بات کا جواب دیں‌
فرض کریں کسی مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے اور اس کے متعلق کوئی آیت نہیں ملتی
تو آحادیث سے رجوع کیا جائے گا نہِ؟
اگر آحادیث میں بھی ذکر نہیں‌ ملتا تو پھر کیا کیا جائے گا یہ بتائیں ؟؟
اجماع یعنی صاحبِ کردار علما سے اس کا فیصلہ لیا جائے گا۔

بات سمجھانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ کچھ چیزوں کا اگر ذکر قرآن میں‌نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں‌ کہ آپ اس چیز کو رد کر دیں‌

میں جانتا ہوں‌ کہ میرے اس پیغام کا اس دھاگے سے کوئی لینا دینا نہیں‌ہے مگر صرف سمجھانے کے مقصد سے یہ لکھ دیا
باقی اللہ تعالیٰ میری غلطی معاف فرمائے آمین
 
گرو جی آپ ک ابیان کردہ طریقہ درست نہیں ہے ۔ اسلام میں قانون سازی کا طریقہ کیا ہے ؟ اس کی تفصیل یہاں دیکھئے۔
http://www.urduweb.org/mehfil/showpost.php?p=169953&postcount=8

قانون سازی کا طریقہ کار یہ نہیں کہ علماء سے اور کہانیوں سے قانون بنائے جائیں۔
قرآن قوانین اور اصولوں کا مجموعہ ہے۔ ان بنیادوں پر اجتماعی قانون سازی صرف ایک منتخب نمائندوں کی مجلس شوری ہی کرسکتی ہے، جسے ہم شوری، پارلیمنٹ یا اسمبلی کہتے ہیں، یہی طریقہ پاکستان میں رائج ہے ۔ اس پر بے تھاشا بحث ہوئی ہے اور اب پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اس قانون اور اس طریقہ سے قانون بنانے پر متفق ہیں ۔ اور متفق ہیں کہ اس طرح بنایا جانے والا ہر قانون قرآن و سنت پر مبنی ہوگا۔ روایات اور علماء سے صرف استفادہ حاصٌ کیا جاسکتا ہے۔

پاکستانی کو کم از کم پاکستان کے قوانین کا علم ہونا چاہئیے۔ لگتا ہے بیشتر لوگ تاریخ اور شہریت کی کلاس میں سوتے رہتے ہیں ، فرد واحد کی حکومت کا قرآن کوئی تصور پیش نہیں کرتا ہے۔ نہ ہی قانون سازی کے لئے ملاؤں کو علماء کے نام سے کوئی حق دیتا ہے۔ قران سے دوری ہی ان نظریات کو جنم دیتی ہے۔
 

arifkarim

معطل
درست فرمایا فاروق صاحب، بالکل جیسے قادیانیوں کو پاکستان میں قانوناً غیر مسلم و کافر ثابت کیا گیا ہے، حالانکہ وہ لوگ اپنے تئیں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں :eek:
 
گیر مسلم قرار دینے سے کسی بھی شخص کے بنیادی حقوق میں فرق نہیں‌ پڑتا۔ مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام کا دائرہ پاکستانیوں کے لئے کیا ہے۔ جہاں تک ان کے بنیادی حقوق کا تعلق ہے وہ کسی طور متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی ہونے چاہئیے ہیں۔ نظریاتی اختلافات کی سزا موت نہیں چاہے وہ جسمانی موت ہو یا کردار کشی ہو یا کسی کا کیریر خراب کرنا ہو۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
یہاں قانون سازی کی بات نہیں ہو رہی بلکہ ایک ایسی چیز کو بنیادی عقیدہ میں شامل قرار دیا جا رہا ہے جس کا قران میں کہیں ذکر نہیں ہے، اور میری معلومات کے مطابق شاید صحیحین میں بھی نہیں۔
 
درست - شکریہ۔ یہ صرف ایک کہانی ہے۔ یہ صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ چونکہ قانون سازی کی تریتیب اس طرح ہے لہذا ہم ہر کہانی کو سچ مان لیں۔ کیا منظق ہے :)

نہ قانون سازی کی ترتیب ایسی ہے اور نہ ہی اس کہنای کی کوئی بنیاد ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ اس نے آخری نبی اور آخری کتاب پر مہرِ ثبت لگا دی ۔ جسے اب جھٹلانا مولویت کی لیئے ناممکن ہوگیا ہے ۔ مگر انہوں نے ہاتھ گھما کر کان پکڑ لیا ۔ چونکہ اب یہ کسی نئے نبی کی نوید نہیں دے سکتے تو انہوں نے ان دیو مالائی کہانیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ جس کے اختیام کا انتظار مسلمان قیامت تک کرتے رہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ قیامت کے دن اگر اللہ نے کسی ایسے شخص کی پکڑ کرلی جس نے ان کہانیوں پر یقین نہیں‌ کیا اور اللہ کے انصاف نے اس کو صفائی کا موقع دیا اور وہ اگر یہ کہے کہ یااللہ ! تُو نے جو آخری کتاب ، ہدایت اور رہنمائی کے لیئے دی ۔ میں نے اسی پر عمل کیا ہے اس کتاب سے باہر اگر مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہو تو مجھے اس کی سزا ضرور دیدیجئے ۔
تو کیا خیال ہے ؟ اللہ کیا فیصلہ کرے گا ۔ ؟
 

arifkarim

معطل
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ اس نے آخری نبی اور آخری کتاب پر مہرِ ثبت لگا دی ۔ جسے اب جھٹلانا مولویت کی لیئے ناممکن ہوگیا ہے ۔ مگر انہوں نے ہاتھ گھما کر کان پکڑ لیا ۔ چونکہ اب یہ کسی نئے نبی کی نوید نہیں دے سکتے تو انہوں نے ان دیو مالائی کہانیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ جس کے اختیام کا انتظار مسلمان قیامت تک کرتے رہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ قیامت کے دن اگر اللہ نے کسی ایسے شخص کی پکڑ کرلی جس نے ان کہانیوں پر یقین نہیں‌ کیا اور اللہ کے انصاف نے اس کو صفائی کا موقع دیا اور وہ اگر یہ کہے کہ یااللہ ! تُو نے جو آخری کتاب ، ہدایت اور رہنمائی کے لیئے دی ۔ میں نے اسی پر عمل کیا ہے اس کتاب سے باہر اگر مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہو تو مجھے اس کی سزا ضرور دیدیجئے ۔
تو کیا خیال ہے ؟ اللہ کیا فیصلہ کرے گا ۔ ؟

ہر معاملے کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے۔ ایک انسان کو حق نہیں‌ پہنچتا کہ خدا کے فیصلے کے بارے میں سوچے کہ آیا اسنے یہ فیصلہ درست کیا یا غلط۔ وہ مالک ہے، اسلئے جو چاہے کر سکتا ہے۔
 
جب اللہ تعالی نے ایک مکمل اور بہترین کتاب دے کر ہم کو ہدایت بخشی، جس پر ہم ایمان بھی لے آئے تو مزید یسی کہانیوں کی جس کا نا منطقی سر پیر ہے اور نہ ہی متن یکساں ہے اور نہ ہی ہر فرقہ اس پر متفق ہے تو پھر ایس بات پر یقین کرنے کی کیا وجہ ہے ایک مسلمان کے لئے؟ اللہ کا کیا فیصلہ ہے وہ بہت واضح الفاظ میں سمجھا چکا ہے کہ آپ اس کتاب (قرآن) پر کامل ایمان لاکر رسول اکرم کے اتباع کے داعی بنیں تاکہ اللہ آپ کا نام ان گواہوں میں لکھ سکے جو حق پر ایمان لائے۔ یہ آیت میں اوپر لکھ چکا ہوں 3:53
 

دوست

محفلین
گرو جی یہ بڑی پرانی کتھا کہانی ہے۔ پہلے قرآن کی آیات کاپی پیسٹ‌کی جاتی ہیں‌، پھر یہ بھاشن دیا جاتا ہے کہ کتب احادیث اصل میں‌ کتب روایات و قصے کہانیاں ہیں اور یہ کہ یہ وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈھائی سو سال تک موجود نہیں‌ تھیں۔ پھر میرے آپ جیسے اس پر اعتراض‌ کرتے ہیں‌ کہ نماز کا طریقہ بھی پھر قرآن میں‌ کیوں‌ نہیں‌ اگر قرآن پر ایمان لانے سے اسلام مکمل ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
غرض یہ دونی کا پہاڑہ ہے جو ہر اس دھاگے پر پڑھا جاتا ہے جہاں‌ احادیث‌ کا ذیل میں کوئی بات زیر بحث‌ آجائے۔ چناچہ آپ اسے دل پر نہ لیں‌۔ ابھی شاید آدھے آدھے صفحے کی دو چار اور ایسی "قرآنی" پوسٹس بھی لکھی جائیں‌۔ شانت رہیں اور دھاگے کے اصل موضوع کی طرف توجہ دیں۔
وسلام
 
دوست بھائی، سب یہ دعوی کرتے ہیں کہ نماز پڑھنے کا طریقہ کتب روایات میں ہے ۔ آپ ایک کرم کیجئے اور وہ روایات کسی الگ دھاگہ میں پیش فرمائیے جن میں نماز پڑھنےکا طریقہ موجود ہو۔ تاکہ سب فرقہ ایک طریقہ سے نماز پڑھ سکیں۔ ساتھ ساتھ جناب مہدی صاحب کی مد میں جو آیات ہیں وہ بھی فراہم کردیجئے۔ نہایت عنایت ہوگی۔ آپ کو قرآن کی آیات دونی کا پہاڑہ لگتی ہیں - ماشاء اللہ ۔ سچ بتائیے کہ یہ آیات کبھی پڑھی بھی ہیں یا ایسے ہی نظر انداز کردیتے ہیں؟

اگر ایک سوال کردیا جائے تو۔ ہر طرح کے پہلو بدلے جاتے ہیں - یہ نیا پہلو ہے کوئی طریقہ قوانین لارہا ہے اور کوئی طریقہ کار پر روشنی ڈال رہا ہے لیکن جناب مہدی کی مد میں ایک بھی آیت نہیں۔ جن کتابوں سے یہ کہانیاں پیش کی جاتی ہیں بھائی ان کتب پر ایمان رکھنے کا حکم نہ اللہ نے دیا ہے اور نہ اس کے رسول نے۔ تھوڑی سی تکلیف کیجئے اور ایک بار قرآن حکیم پرھ لیجئے دل سے ۔ یہ وہ کتاب ہے جسے آپ تھوڑا سا چھو لیں تو آپ کو مکمل اپنا لیتی ہے۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ اور ان کہانیوں کے فکر و فاقہ سے باہر آجائیں گے۔

ایک بار پھر دہرا دیتا ہوں کہ ذرا 3:53 کو ایک بار بغور پڑھئیے کہ اتباع رسول، اس کتاب پر جو نازل کی گئی ہے، اس پر ایمان ہے ۔ اور اس کتاب میں کسی بھی حضرت مہدی کی آمد کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ رسول اکرم بنا اللہ کی اجازت کے کچھ نہیں بتاتے تھے۔ اس کے لئے آپ سورۃ‌ الکہف کی یہ آیات دیکھئے، کہ اصھاب کہف کا واقع بتا کر اللہ تعالی رسول اکرم کو ہدایت فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نہ چاہے تو تم کچھ بھی نہیں کرسکتے اگر اللہ کی مرضی نہ ہو۔

18:23 اور کبھی نہ کہو کسی بات کے بارے میں کہ میں ضرور کروں گا یہ کل۔
18:24 (تم کچھ نہیں کر سکتے) اِلّا یہ کہ چاہے اللہ اور یاد کرو اپنے رب کو جب بُھول جاؤ تم (اس کا نام لینا) اور کہو اُمید کہ بتائے گا مجھے میرا رب زیادہ اس سے بھی ہدایت کی بات۔
اگر رسول اللہ، اللہ تعالی کی مرضی کے بناء‌کچھ نہیں فرماتے تھے تو پھرا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ جناب مہدی کی تمام کہانی سنادی جائے اور اس مد میں قران کی آیک آیت بھی نہ ہو۔

اب ہم اس وقت اس موضوع پر بات کریں گے جب کم از کم ایک عدد آیت قرآن سے موجود ہو تاکہ یہ کہا جاسکے کہ یہ اس آیت کی تشریح ہے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top