جہاں دریا اترتا ہے - (اختر حسین جعفری کی طویل نطم)

رفیع

محفلین
سرشکِ خوں، رُخِ مضموں پہ چلتا ہے تو اک رستہ
نکلتا ہے

ندی دریا پہ تھم جائے
لہو نقطے پہ جم جائے تو عنوانِ سفر ٹھہرے
اسی رستے پہ سرکش روشنی تاروں میں ڈھلتی ہے
اسی نقطے کی سُولی پر پیمبر بات کرتے ہیں

مجھے چلنا نہیں آتا
شبِ ساکن کی خانہ زاد تصویرو! گواہی دو
فصیلِ صبحِ ممکن پر مجھے چلنا نہیں آتا
مِرے چشموں میں شورِ آب یکجا بر شگالی ہے
ندی مقروض بادل کی
میرا دریا سوالی ہے
رگِ حرفِ زبوں میں جو چراغِ خوں سفر میں ہے
ابھی اس نقطہً آخر کے زینے تک نہیں آتا
جہاں جلّاد کا گھر ہے
جہاں دیوارِصبحِ ذات کے رخنے سے نگہِ خشمگیں
بارُود کی چَشمک ڈراتی ہے
جہاں سُولی کے منبر پر پیمبر بات کرتے ہیں
 

رفیع

محفلین
جہاں دریا اترتا ہے - (اختر حسین جعفری کی نطم کا دوسرا حصہ)

اب اِن باتوں کے سِکّے جیب کے اندر کھنکتے ہیں کہ جن پر
قصرِ شاہی کے مناظر
اسلحہ خانوں سے جاری حکم کندہ ہیں
بھرے بازار میں طفلِ تہی کیسہ پریشاں ہے کہ اس کے پاوٌں
ٹکسالوں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیں
اور اس کا باپ گونگا ہے

ندی رک رک کے چلتی ہے
تکلّم رہن رکھنے سے سفر آساں نہیں ہوتا
ہُوا پسپا جہاں پانی
جہاں موجوں نے زنجیرِ وفا پہنی، سپر گرداب کی رکھ دی
عَلَم رکھے ، قلم رکھے
خفا بادل نے جن پایاب دریاوٌں سے منہ موڑا
جہاں تاراج ہے کھیتی
جہاں قریہ اجڑتا ہے
طنابِ راہ کٹتی ہے کہیں خیمہ اکھڑتا ہے
وہاں سے دُور ہے ندی
وہاں سے دُور ہے بچہ کہ اس کے پاوٌں
دریاوٌں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیں
اور اس کا باپ گونگا ہے
اسے چلنا نہیں آتا
فصیلِ صبحِ ممکن پر اسے چلنا نہیں آتا
 

رفیع

محفلین
جہاں دریا اترتا ہے - (اختر حسین جعفری کی نطم کا تیسرا اور آخری حصہ)

سحر کے پاس ہیں منسوخ شرطیں صلحنامے کی
صبا ، درسِ زیاں آموز کی تفصیل رکھتی ہے
کسی تمثیل میں تم ہو
کسی اجمال میں ، مَیں ہوں
کہیں قرطاسِ خالی کا وہ بے عنوان ساحل ہے
جہاں آشفتگانِ عدل نے ہتھیار ڈالے ہیں
بہت ذاتیں ہیں صدموں کی
کئی حصے ہیں سینے میں نفس گم کردہ لمحے کے
کئی طبقات ہیں دن کے
کہیں صبحِ مکافاتِ سخن کے منطتقے میں تم مقیّد ہو
کسی پچھلے پہر کے صلحنامے کی عدالت میں
کڑی شرطوں پر اپنے دستخط کے روبُرو مَیں ہوں
سنو ، قرطاسِ خالی کے سپر انداز ساحل سے
ہَوا کیا بات کرتی ہے
اُدھر ، اُس دوسرے ساحل سے جو ملّاح آیا ہے
زمینیں بیچتی بستی سے کیا پیغام لایا ہے
کوئی تعزیر کی دھمکی؟
کوئی وعدہ رہائی کا؟
کوئی آنسو؟
کوئی چٹّھی ؟
 

الف عین

لائبریرین
اتنی طویل نظم تو نہیں تھی کہ آپ کو تین الگ الگ دھاگے پیش کرنے پڑے۔ ایک جگہ جمع ہو جاتی تو بہتر تاثر ہوتا۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
اعجاز صاحب میں نے ان تینوں حصوں کو یکجا کر دیا ہے۔ رفیع شاید مصروف ہیں اس لئے علیحدہ علیحدہ ٹائپ کی ہوگی۔
 
Top