اٹھارہویں سالگرہ جگتیں لگانے کا عالمی مسابقہ

فاخر

محفلین
تمام محفلین کے لیے باعث فخر لمحہ ہے کہ ہماری یہ محفل اپنی عمر عزیز کی اٹھارہویں بہار دیکھ رہی ہے۔اس اٹھارہ برس میں ان تمام معاونین، بانیین، اراکین،عہدیداران اور متحرک احباب کی خدمت میں بطور خاص ہدیہئ تبریک پیش کرتے ہیں،جن کی سعیِ پیہم،خصوصی توجہ، اردو نوازی اوردلی محبت کے باعث ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری اس محفل کو نظر بد سے بچائے، تمام احباب کی باہمی محبت میں اسی طرح قائم و دائم رہے، اور دن دونی ترقیات سے نوازے، آمین۔
جب اس محفل کا 2017میں رکن بنا تھا، تو اس وقت یہ بدترین خدشہ تھا کہ ہمیں سرحد پار کا سمجھ کر بہت ہی رگیدا (یعنی ’تعاقب‘ کیا) جائے گا۔ ہمیں مہذب اور علمی ماحول کا تصور بھی نہیں تھا، لیکن احباب کی ایک دوسرے کے تئیں احترام اورمحبت نے مجھے اس محفل سے جوڑے رکھا۔ آج 2023 کی 6جولائی ہے، یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اس محفل کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ لکھنا پڑھنا اور ’کہنا‘ آگیا۔ الحمد للہ!
ہنس مکھ رہنے والے یعنی ’جگتیں‘ لگانے والے ملکوں کے انڈیکس کے ٹاپ ٹین میں ہمارے پڑوسی ملک ’پاکستان‘ کا نا م بھی آتاہے،آج رات میرے دما غ میں ایک ’آئیڈیا‘ آیا، وہ یہ کہ محفل میں چونکہ 95فیصد احباب پاکستان سے ہیں، اس لیے ہم اس پر مسرت موقعہ پر ’جگتیں‘ لگانے کی ایک خصوصی لڑی بناتے ہیں۔ہمارے احباب پوری دُنیا میں پھیلے ہوئے، اس لیے اس لڑی کو ’جگتیں‘ لگانے کا عالمی مسابقہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ہر شخص اپنی اپنی لیاقت کے حساب سے اپنا اپنا حصہ ڈالے۔ جودوست فیصل آبادی ہیں، اُن کی طرف سے اس لڑی میں شراکت فرض عین سمجھی جائے گی، ہنستے رہئے، ہنساتے رہیے، خوش رہیے، غریبوں کی دعائیں لیجئے!
والسلام
فاخر
 
آخری تدوین:

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
خواہش ہے کہ کوئی فیصل آبادی ہی اس جگت بازی کا افتتاح کرے۔ ویسے تو ہم ایک ممبر کو جانتے ہیں جین کے نام میں ایک نہیں دو دو فیصل ہے فیصل عظیم فیصل ۔ لین یہ معلوم نہیں کہ وہ فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
سب سے پہلے جگت کی رسمی تعریف ہو جائے تا کہ اس کا حدود اربع اورناک نقشہ واضح ہو جائے ۔
ایک دن میں نے اپنے اوفس سے جناح ہسپتال جانا تھا۔ لہور کی ٹریفک اور پھر جناح میں پارکنگ کے خدشات کے پیش نظر میں نے اپنی گاڑی کی بجائے رکشے پر جانے کا فیصلہ کیا۔ کہ کہاں کھپتا پھروں گا۔

باہر نکل کر ایک رکشے والے سے کہا۔ جناح ہسپتال جانا ہے۔ کہتا دو سو روپے۔۔۔
میں نے کہا! ہائیں! دو سو۔۔۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے ہسپتال والی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔یہ کھڑا جناح۔۔۔۔۔
رکشے والا کہتا۔۔۔ ہتھ تھلے کر لئو۔۔۔ ایویں کرن نال جناح نے ایتھے نئیں آجانا۔۔۔ اوتھے ای رہنا اے۔۔۔ (ہاتھ نیچے کر لیں۔ ایسا کرنے سے ہسپتال نے اٹھ کر ادھر نہیں آجانا۔ وہیں اپنی جگہ پر رہنا ہے)

تو یہ جو جملہ رکشے والے کی طرف سے مجھ غریب ناچیز پر کسا گیا۔۔۔ اس کو جگت کہتے ہیں۔
 

دوست

محفلین
جگت بازی کا انگریزی کامیڈی میں متبادل روسٹنگ ہو سکتا ہے، جس میں کامیڈین کسی ایک شخصیت پر بھپتیاں کستے ہیں (ظاہر سے باطن تک ہر چیز کا تمسخر اڑا کر لافٹر تخلیق کرتے ہیں)۔ بعض اوقات روسٹنگ کے مقابلے بھی ہوتے ہیں، جس میں دو کامیڈین ایک دوسرے پر جوک فِٹ کرتے ہیں، عموماً یہ پری سکرپٹڈ ہوتا ہے۔ جگت اکثر فی البدیہ ہوتی ہے، ایک اچھا کامیڈین چاہے کسی بھی زبان کا بولنے والا ہو، فی البدیہ جگت یا جوک تخلیق کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ جمی کار (برطانوی کامیڈین) اپنے شو میں حاضرین کی مٹی پلید کرنے کا خاص ملکہ رکھتا ہے، اس پر اگر آواز کسی جائے تو اپنا سکرپٹ چھوڑ کر متعلقہ شخص پر کافی سخت پھبتی کسنے کے بعد واپس سکرپٹ پر آتا ہے، ایسی جگت یا پھبتی انتہائی بازاری، جنسی، غیر پارلیمانی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ فیصل آباد (اصل میں لاہور کے پنجابی سٹیج ڈراموں سے شروع ہوا) میں جگت بازی کا ٹرینڈ اکثر ظاہری ہیئت تک محدود رہتا ہے۔ ایک عمومی تکنیک یہ ہے کہ ظاہری ہیئت یا کسی بھی شخصی خاصیت کا کسی دیگر شے سے مبالغہ آمیز موازنہ کر کے لافٹر لیا جائے۔ مثلاً آپ کا منہ چُوسے ہوئے آم جیس لگ رہا ہے۔ اس میں پنجابی زبان کا استعمال اور صوتی چینل کے دیگر عوامل جیسے آواز کی ٹون، متعلقہ سیاق و سباق بھی لافٹر تخلیق کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ آم سے ہی ایک جوک، لنگڑا آم اور پھر اس کا انگریزی ترجمہ one-legged mango۔ پنجابی سٹیج ڈرامے میں جگت وقت کے ساتھ ساتھ 18+ ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ سٹیج کے حاضرین صرف لونڈے لپاڈے ہی رہ گئے جو یا تو رقاصاؤں کو ذومعنی پنجابی گانوں پر ناچتا دیکھنے جاتے ہیں یا پھر ذو معنی جگتیں اور لطیفے جو سٹیج کے بچے کھچے فنکار ایک دوسرے پر کستے ہیں۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
میرے ایک کزن کا کسی وجہ سے ہسپتال جانا ہوا۔ وہاں کوئی بھکاری اُس کے پیچھے پڑ گیا۔ پہلے تو وہ اُس کی طرف دھیان دیئے بغیر آگے کو چل دیا لیکن جب دیکھا کہ وہ جان چھوڑنے کو تیار نہیں تو اُس نے بھکاری سے کی طرف مڑ کر کہا بابا معاف بھی کر دو۔۔۔
آگے سے بھکاری نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ "ونج اوے ونج، تیڈے کولو تیں پِنَّڑ ای فضول ھے" (جا بھئی جا، تجھ سے تو بھیک مانگنا ہی فضول ہے)۔
 
دو بہرے لاہور جانے والی گاڑی میں ایک ساتھ سفر کررہے تھے ۔ راستے میں بات کرنے کی غرض سے ایک بہرے نے دوسرے بہرے کو کہا
بھائی جی تُسی لاہور جارہے ہو ؟
دوسرے بہرے کو صحیح سنائی نہیں دیا تو اس نے اندازے سے جواب دیا
نہیں بھائی جی میں تو لاہورجا رہا ہوں
پہلےبہرے نے پھر اندازے سے بات آگے بڑھائی
اچھا! میں سمجھیا تُسی لاہور جارہے ہو۔
 
ایک کنگلے نے ایک بے روزگار نوجوان کو کہا کہ اگر تم میرے لیے کام کرو تو میں تمہیں پچاس ہزار روپے ماہانہ دوں گا۔
نوجوان نے حیرانی سے کہا کہ تم تو خود کنگلے ہو تمہارے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے
کنگلے نے جواب دیا اسی مسئلے کا حل سوچنا ہی تو تمہاری نوکری ہے۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
جمی کار (برطانوی کامیڈین) اپنے شو میں حاضرین کی مٹی پلید کرنے کا خاص ملکہ رکھتا ہے، اس پر اگر آواز کسی جائے تو اپنا سکرپٹ چھوڑ کر متعلقہ شخص پر کافی سخت پھبتی کسنے کے بعد واپس سکرپٹ پر آتا ہے
ویڈیو کے چوتھے منٹ پر یہی ماحول عمر شریف نے بھی بنا رکھا ہے 🙂
 

علی وقار

محفلین
جگت ذہانت کے بغیر ممکن نہیں، لیکن اس میں فحش گوئی کا عنصر نمایاں رہا۔ یہ تو بھلا ہو آفتاب اقبال اور دیگر اصحاب کا کہ وہ ان کے فن کو کسی حد تک قابل قبول سطح پر لے کر آئے۔ میں ذاتی طور پر تو آفتاب اقبال اور دیگر کے کام کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا لیکن ان جگت بازوں کے فن کو بہرحال انہوں نے اور سہیل احمد اور دیگر نے ایک نسبتاًبہتر لیول تک پہنچا دیا۔ ان جگت بازوں کی ذہانت کا سخت قائل ہوں تاہم انہیں چاہیے کہ ظاہری ہیئت پر فقرے کسنے اور فحش گوئی سے گریز کریں تو انہیں زیادہ پذیرائی حاصل ہو گی۔ سہیل احمد اور دیگر کے استادوں میں نظام الدین (مرزا سلطان بیگ) تھے جو بظاہر صاف ستھرے انداز میں کام کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ اسٹیج پر آ کر جگت بازوں نے اسے ابتذال کی آخری حد تک پہنچا دیا تھا۔ پیسے کی خاطر انسان کتنا گر سکتا ہے، یقین نہیں آتا۔ ویسےاردو محفل میں جگت بازی مجھے کوئی خاص زیبا معلوم نہیں ہوتی ہے اور یہاں جگت لگے گی بھی تو کیا لگے گی۔ جگت تو بظاہر آمنے سامنے منہ پر ماری جاتی ہے۔
 
خواہش ہے کہ کوئی فیصل آبادی ہی اس جگت بازی کا افتتاح کرے۔ ویسے تو ہم ایک ممبر کو جانتے ہیں جین کے نام میں ایک نہیں دو دو فیصل ہے فیصل عظیم فیصل ۔ لین یہ معلوم نہیں کہ وہ فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔
یعنی اب نام میں فیصل ہوگا تو مجھے فیصل آبادی بنا دیں گے ۔ اس اصول کے مطابق پھر لہوریا ہونے کے لیئے کیا لہو لہو ہونا پڑے گا ؟ اسی تناظر میں یہاں ایک لڑی ہوا کرتی تھی کہانی لکھنے کی جسے ہر کوئی اپنی مرضی سے آگے چلایا کرتا تھا ۔ ایسے میں شارق مستقیم جو کراچی سے روزنامہ بوریت چلایا کرتے تھے غالبا اردو زبان میں سیٹیریکل ویب سائیٹس میں اولین کام اسی پر ہوا کرتا تھا ۔ جیس اور جہانزیب اور نبیل ہوا کرتے تھے اور استاد محترم الف عین بھی اس میں شرکت کرتے تھے ۔ وقت نے ایسا ٹپا مارا کہ مزاح کی گیند چار محلے دور جان گری ہے۔ اب کہاں کی جغتیں ۔ اور کہاں کا مزاح۔ ہیں جی؟؟
 
آخری تدوین:
تمام محفلین کے لیے باعث فخر لمحہ ہے کہ ہماری یہ محفل اپنی عمر عزیز کی اٹھارہویں بہار دیکھ رہی ہے۔اس اٹھارہ برس میں ان تمام معاونین، بانیین، اراکین،عہدیداران اور متحرک احباب کی خدمت میں بطور خاص ہدیہئ تبریک پیش کرتے ہیں،جن کی سعیِ پیہم،خصوصی توجہ، اردو نوازی اوردلی محبت کے باعث ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری اس محفل کو نظر بد سے بچائے، تمام احباب کی باہمی محبت میں اسی طرح قائم و دائم رہے، اور دن دونی ترقیات سے نوازے، آمین۔
جب اس محفل کا 2017میں رکن بنا تھا، تو اس وقت یہ بدترین خدشہ تھا کہ ہمیں سرحد پار کا سمجھ کر بہت ہی رگیدا (یعنی ’تعاقب‘ کیا) جائے گا۔ ہمیں مہذب اور علمی ماحول کا تصور بھی نہیں تھا، لیکن احباب کی ایک دوسرے کے تئیں احترام اورمحبت نے مجھے اس محفل سے جوڑے رکھا۔ آج 2023 کی 6جولائی ہے، یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اس محفل کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ لکھنا پڑھنا اور ’کہنا‘ آگیا۔ الحمد للہ!
ہنس مکھ رہنے والے یعنی ’جگتیں‘ لگانے والے ملکوں کے انڈیکس کے ٹاپ ٹین میں ہمارے پڑوسی ملک ’پاکستان‘ کا نا م بھی آتاہے،آج رات میرے دما غ میں ایک ’آئیڈیا‘ آیا، وہ یہ کہ محفل میں چونکہ 95فیصد احباب پاکستان سے ہیں، اس لیے ہم اس پر مسرت موقعہ پر ’جگتیں‘ لگانے کی ایک خصوصی لڑی بناتے ہیں۔ہمارے احباب پوری دُنیا میں پھیلے ہوئے، اس لیے اس لڑی کو ’جگتیں‘ لگانے کا عالمی مسابقہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ہر شخص اپنی اپنی لیاقت کے حساب سے اپنا اپنا حصہ ڈالے۔ جودوست فیصل آبادی ہیں، اُن کی طرف سے اس لڑی میں شراکت فرض عین سمجھی جائے گی، ہنستے رہئے، ہنساتے رہیے، خوش رہیے، غریبوں کی دعائیں لیجئے!
والسلام
فاخر
لیجئے حضرات گویا کہ اب فاخر بھی بزبان عامی سے گویا ہوتے ہوئے محفل کے قانونی بلوغت کے جشن میں حصہ ڈالنے کے لئے ہمیں دعوت جگت دے رہے ہیں ۔ دراصل ہم پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کو ایک موذی بیماری نے صدیوں سے پکڑا ہوا ہے وہ یہ کہ مذاق کرنے کے لئے ہم عموما دوسرے خاندان ، قبیلے ، جنس ، صوبے ، شہر ، گاؤں ، یا ملک کے لوگوں کو بطور مثال استعمال کرتے ہیں اور اس سے جو مزاح تخلیق کرتے ہیں وہ اپنے آپ میں ایک طرح سے نادیدہ طور سے زہریلا ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ اس نسل ، گاؤں ، شہر ، صوبے یا ملک سے ایسی نفرت اندر پل بڑھ کر جواں ہو جاتی ہے کہ آپ کو احساس ہی نہیں ہو پاتا۔مجھے اپنی حد تک کوشش کرنا ہے کہ ایسا مزاح پیدا کرنے میں مزید حصہ نہ ڈالوں
مزاح اصل میں کسی بھی بات ، عمل ، ماحول میں اچانک ایسی کسی تبدیلی سے پیدا ہونے والا اثر ہے جو خلاف توقع آپ کے دماغ کی رو کو ثقیل سے ایک دم لطیف حالت میں لے آئے اور اس اچانک عمل کے نتیجے میں اینڈورفین ہارمون پیدا ہوتا ہے جو ہماری باچیاں کھینچ کر ہمیں قہقہانے پر مجبور کرتا ہے یہ عمل الفاظ و حرکات میں سے کسی بھی صورت ہو سکتا ہے۔ آج کل ایسا میمز (Memes) کی صورت ہوتا ہے یہاں انگریزی کو اساس بنا کر میمز پڑھا جائے نہ کہ ہندی یا پنجابی والی یا اردو والی میم جس سے ہم گوری عورت مراد لیتے ہیں ۔



مثال :-

دانت میں درد کا احساس میرے سر کو چیرے جا رہا تھا ۔ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے آج زندگی کا آخری دن ہے ۔ دل بار بار درد کی ہر لہر کے ساتھ یہ کہہ رہا تھا کہ مجھ سے ہفت اقلیم کی دولت لے لے مگر کوئی میرے دانت کی اس تکلیف کو ختم کر دے ۔ درد سے ایک آنکھ مکمل طور پر بند جبکہ دوسری نصف کھلی ہوئی تھی ۔ ایسے میں نرس عاشی بٹ جو نام کی طرح لحیم شحیم تو نہ تھی البتہ تتلی کے لاروے کی طرح سے نازک ضرور تھی جب ہمارا منہ کھلوانے میں ناکام رہی تو ہم نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا ۔ ارے یہ کیا عاشی کے ہاتھ میں طلسمی تاثیر تھی کہ اچانک دانت کا درد ہوا ہوا اور کانوں میں گھنٹیاں بجنے لگیں ۔اگرچہ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی لیکن آخری منظر ہمیں اچھی طرح یاد ہے عاشی کا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں تھا ایک چبھن سی محسوس ہوئی ہمیں اپنے کولہے کے بیرونی جانب اور بس ۔ ۔ ۔ ۔
آنکھ کھلی تو منہ میں دانت نہیں اور ڈاکٹر نبیل ہمارے دندان مخلوعہ کو پیالی میں رکھے ظالمانہ مسکراہٹ سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا ۔ تکیہ بھر روئی ہمارے منہ میں بھری ہوئی تھی اور پرچے پر دوائیں اور احتیاطیں لکھی ہوئی تھیں ۔ اس تمام کاروائی میں عاشی بٹ کے ہاتھ کے اس ایک لمس کی قیمت ہمیں بارہ ہزار روپے پڑی اور بل دیکھنے کے بعد ہمارے سینے میں ایک ٹیس سی اٹھتی چلی گئی ۔
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
جگت بازی کی ایک روایتی مثال یہ دی جاتی ہے کہ کسی نے ریڑھی والے سے پوچھا، ایہہ ام لنگڑے نیں (یہ آم لنگڑے ہیں) تو آم فروش نے جواب دیا، ٰپائین! لنگڑے نیں تاں ای ریڑھی تے پائے نیں ٰ یعنی کہ بھائی جان! لنگڑے ہیں اسی لیے ریڑھی پر رکھے ہیں۔ اسے جگت کہا جاتا ہے۔ تاہم کئی جگتیں پٹ گئیں اور انہیں اتنی بار استعمال کیا گیا کہ وہ واقعی گھس پٹ گئیں جیسا کہ اوپر کی مثال سے واضح ہے۔ جگت کو ذو معنی بات کہہ سکتے ہیں اور اس میں دانائی کا بھی پہلو ہوتا ہے۔ اور اگر اس میں جدت نہ ہو تو یہ پٹ جاتی ہے۔ یہاں ایک صاحب جگت بازی سے برات کا اظہار کر رہے ہیں حالانکہ ان کی ذو معنی باتوں اور جملوں کے ڈسے ہوئے اسی لڑی میں آہ و بکا میں مصروف ہیں۔
 
آخری تدوین:
Top