جِنات ، ہمزاد، مؤکلات ، اظمار او نصابِ جفر کی حقیقت

شزہ مغل

محفلین
باتیں جانے کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہیں۔
اتنا تو یقین ہے مجھے کہ کوئی مرئی و غیر مرئی مخلوق ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جب تک ہمارے خالق کی مرضی نہ ہو۔
بس اسی بات کو آپ اپنے پلو سے باندھ لیں تو نہ تو آپ کو اللہ کے علاوہ کسی سے ڈر لگے گا اور نہ ہی آپ کسی کی باتوں میں آئیں گے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
اور من گھڑت قصے کہانیوں کو حوالے بنانے کی ریت کس نگر کی ہے؟ یہ بھی ارشاد ہو :laughing:
میں نے اس جس بک سے پڑھا تھا وہاں پر حضرت داؤد علیہ اسلام کے صحیفوں کے حوالے تھے اور ساتھ ترجمہ .. اور وہ کتاب اب میرے پاس نہیں . میاں محمد بخش کے بارے میں آپ کے مراسلے سے مجھے پتا چلا ہے .ہوسکتا ہے وہاں غلط لکھا ہو.
 

فاتح

لائبریرین
میں نے اس جس بک سے پڑھا تھا وہاں پر حضرت داؤد علیہ اسلام کے صحیفوں کے حوالے تھے اور ساتھ ترجمہ .. اور وہ کتاب اب میرے پاس نہیں . میاں محمد بخش کے بارے میں آپ کے مراسلے سے مجھے پتا چلا ہے .ہوسکتا ہے وہاں غلط لکھا ہو.
مجھے تو یہی معلوم تھا کہ میاں محمد بخش نے جو منظوم داستان لکھی ہے سیف الملوک کے نام سے اس میں بدیع الجمال نامی پری کا ذکر ہے۔ زبور یا دیگر کسی صحیفے کا مجھے معلوم نہیں تھا۔ اور اگر کسی ایسے صحیفے میں یہ ذکر ہو بھی تو ۔۔۔ زبور حضرت داؤد علیہ السلام کے صحیفوں کا ہی مجموعہ ہے ۔ان صحیفوں کو مستند نہیں مانا جاتا اور یہی کہا جاتا ہے کہ پرانی الہامی کتب میں رد و بدل کے باعث ہی قرآن نازل ہوا تھا۔
 

نور وجدان

لائبریرین
مجھے تو یہی معلوم تھا کہ میاں محمد بخش نے جو منظوم داستان لکھی ہے سیف الملوک کے نام سے اس میں بدیع الجمال نامی پری کا ذکر ہے۔ زبور یا دیگر کسی صحیفے کا مجھے معلوم نہیں تھا۔ اور اگر کسی ایسے صحیفے میں یہ ذکر ہو بھی تو ۔۔۔ زبور حضرت داؤد علیہ السلام کے صحیفوں کا ہی مجموعہ ہے ۔ان صحیفوں کو مستند نہیں مانا جاتا اور یہی کہا جاتا ہے کہ پرانی الہامی کتب میں رد و بدل کے باعث ہی قرآن نازل ہوا تھا۔
اس لیے تو کہ رہی ہوں کہ ہوسکتا ہے جہاں سے میں نے پڑھا ہو ۔وہ غلط ہو۔۔میں نے 'سیف المکوک '' کے بارے میں ایک کتاب لی تھی اور اس کو پڑھے ہوئے سال گزر گئے ہیں ۔جہاں تک مستند کی بات ہے اس سے تو مجھے بھی اتفاق ہے کہ بائبل اور زبور میں میں رد بدل ہوا۔ کل میں نے شاہ بخش صاحب کا پڑھا کلام ۔۔۔ جو کتاب میں نے پڑھی اس میں سیف الملوک کی بچپن سے لے کر نوجوانی تک کو جستجو کی بات تھی اور وہاں کہیں بھی ذکر نہیں تھا حضرت سلیمان علیہ اسلام نے ''مورت'' بنوائی جیسا کہ میاں محمد بخش نے کہا۔۔تاریخ کے ذرائع ہوتے ہیں غیر مستند ہیں ۔۔۔۔ ویسے بطور کہانی بہت اچھی تھی
 

زیک

مسافر
مجھے تو یہی معلوم تھا کہ میاں محمد بخش نے جو منظوم داستان لکھی ہے سیف الملوک کے نام سے اس میں بدیع الجمال نامی پری کا ذکر ہے۔ زبور یا دیگر کسی صحیفے کا مجھے معلوم نہیں تھا۔ اور اگر کسی ایسے صحیفے میں یہ ذکر ہو بھی تو ۔۔۔ زبور حضرت داؤد علیہ السلام کے صحیفوں کا ہی مجموعہ ہے ۔ان صحیفوں کو مستند نہیں مانا جاتا اور یہی کہا جاتا ہے کہ پرانی الہامی کتب میں رد و بدل کے باعث ہی قرآن نازل ہوا تھا۔
بائبل میں کہیں بھی اس قصے کا ذکر نہیں ہے۔
 

arifkarim

معطل
زبور حضرت داؤد علیہ السلام کے صحیفوں کا ہی مجموعہ ہے ۔ان صحیفوں کو مستند نہیں مانا جاتا اور یہی کہا جاتا ہے کہ پرانی الہامی کتب میں رد و بدل کے باعث ہی قرآن نازل ہوا تھا۔
اس کا کوئی اثبوت؟ بحیرہ مردار کے طومار کی دریافت تو اس بات کو رد کرتے ہیں کہ بائبل میں پچھلے 2000 سال کے دوران کوئی رد و بدل نہیں ہوئی۔
زیک
 
آخری تدوین:

arifkarim

معطل
بائبل میں کہیں بھی اس قصے کا ذکر نہیں ہے۔
بائبل میں تو اس بات کا بھی کہیں ذکر نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ارادہ کیا تھا۔ بائبل کے مطابق انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ البتہ قرآن پاک میں انکی جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔
 

فاتح

لائبریرین
اس کا کوئی اثبوت؟ بحیرہ مردار کے طومار کی دریافت تو اس بات کو رد کرتے ہیں کہ بائبل میں پچھلے 2000 سال کے دوران کوئی رد و بدل ہوئی۔
زیک
میں کسے مستند مانتا ہوں اور کسے نہیں، اس کا یہاں ذکر نہیں، میں نے یہ لکھا تھا
ان صحیفوں کو مستند نہیں مانا جاتا اور یہی کہا جاتا ہے کہ پرانی الہامی کتب میں رد و بدل کے باعث ہی قرآن نازل ہوا تھا۔
اور کیا یہ نہیں کہا جاتا؟ اب کہا کیوں جاتا ہے اس کا ثبوت مجھ سے کیوں مانگ رہے ہیں؟ :)
 

arifkarim

معطل
اب کہا کیوں جاتا ہے اس کا ثبوت مجھ سے کیوں مانگ رہے ہیں؟ :)
عالی جاہ! ہم نے آپسے اثبوت نہیں مانگا۔ میرا سوال تو ان لوگوں سے ہے جو اس "کہے جانے" پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ دیگر الہامی کتب میں تحریف کے باعث قرآن پاک کا نزول ہوا۔ اس نام نہاد تحریف کا جواب یہود و نصاریٰ ایک عرصہ سے مسلمانوں کو دیتے آئے ہیں جسکا ایک واضح اثبوت بحیرہ مردار کے طومار کی صورت میں ہمیں مل چکا ہے:

The first Orthodox example answer came from Anastasius of Sinai(d.c. 700).[7]The argument of tahrif is also found in an early polemical text attributed to the Byzantine Emperor Leo III[8]with the statement that Jews and Christians share the same, widely known divine text, and tha tEzra, the covenantal architect of the Second Temple, was a pious, reliable person. The same arguments appear in later Jewish writings.

Modern critics of tahrif assert that there is little physical manuscript evidence of alteration to the Biblical texts. The oldest Dead Sea Scrolls versions c. 280 BCE – 68 CE match current usage with only minor variations.[9]This is answered by the fact that all what was found in Qumran were mostly fragments. The only book which was found to be nearly complete is Isaiah, but all other Old Testament books were fragments. This does not prove that the Old Testament at that time was the same as it is now. Adding the fact that many parabiblical books, such as Genesis Apocryphon,Apocryphal Pentateuch,Enoch, and Jubilees were also found in the Dead Sea Scrolls.This puts another question mark on the Old Testament canon at that time.[10]
https://en.wikipedia.org/wiki/Tahrif#Criticism
یہود و نصاریٰ کا اس پر مؤقف یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی سچائی ثابت کرنے کیلئے دیگر الہامی کتب کیخلاف بے بنیاد الزامات لگائے۔ ہمارے مذہبی اسکالرز پر انکی اپنی مقدس کتب اور صحیفوں کی تحریف کا بہتان لگایا۔ اگر یہی الزام یہود و نصاریٰ مسلمان علماء کیخلاف لگاتے تو ہم نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ لیکن دوسروں کے مقدس ادیان کیساتھ اس نوعیت کی بے ادبی ہمارے اسلاف کو بھی قبول تھی :)
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
بائبل میں تو اس بات کا بھی کہیں ذکر نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ارادہ کیا تھا۔ بائبل کے مطابق انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ البتہ قرآن پاک میں انکی جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔
قرآن میں نام لے کر اسماعیل کی قربانی کا ذکر نہیں ہے
 

arifkarim

معطل
قرآن میں نام لے کر اسماعیل کی قربانی کا ذکر نہیں ہے
قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کی قربانی کا ذکر ہے جو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ ابراہیمی ادیان (یہودیت، عیسائیت، اسلام) میں جتنی بھی روایات ہیں سب میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا پیدائشی نمبر دوم ہے:
http://www.islamic-awareness.org/Quran/Contrad/MusTrad/sacrifice.html

Ishmael (Hebrew: יִשְׁמָעֵאל, Modern Yishma'el, Tiberian Yišmāʻēl ISO 259-3, Yišmaˁel; Greek: Ἰσμαήλ Ismaēl; Arabic: إسماعيل‎ ʾIsmāʿīl; Latin: Ismael) is a figure in the Hebrew Bible and the Qur'an and was Abraham's first son according to Jews, Christians, and Muslims. Ishmael was born to Abraham and Sarah's handmaiden Hagar (Genesis 16:3). According to the Genesis account, he died at the age of 137 (Genesis 25:17).[1] Ishmael and his mother are said to be buried next to the Kaaba in Mecca.[2]
The Book of Genesis and Islamic traditions consider Ishmael to be the ancestor of the Ishmaelites.
https://en.wikipedia.org/wiki/Ishmael.​
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
Screenshot_2018-07-01-18-18-26-08.png


Screenshot_2018-07-01-18-18-30-32.png



Screenshot_2018-07-01-18-18-35-10.png


Screenshot_2018-07-01-18-18-39-08.png


Screenshot_2018-07-01-18-18-42-64.png

Screenshot_2018-07-01-18-18-46-26.png


Screenshot_2018-07-01-18-18-49-47.png


Screenshot_2018-07-01-18-18-53-48.png



Screenshot_2018-07-01-18-18-57-57.png



Screenshot_2018-07-01-18-19-01-28.png


Read according to the page number:)
 

نور وجدان

لائبریرین
کونسی کتاب ہے یہ ؟ اور مصنف کون ہے؟
جنات کتاب کانام ہے. رئیس امروہوی کی کتاب ہے جو بہت بڑے ماہر نفیسات گزرے ہیں ان کی اپنی اکیڈمی تھی جہاں پر افراد کے کردار کی نفیساتی الجھنوں کو ختم کرکے ان کی قوت ارادی اور قوت یقین مضبوط کیا جاتا تھا. "
 

فرقان احمد

محفلین
گو کہ زیادہ تر امراض نفسیاتی ہوتے ہیں تاہم صرف نفسیات کا ٹھپہ لگا دینے سے کام نہیں چلے گا۔ ہمیں آج تک سب سے زیادہ تعجب ایسے متاثرہ فرد کے حالات پڑھ سن کر ہوتا ہے جو یکا یک اجنبی زبان میں کلام کرنے لگ جاتے ہیں۔ شاید اسے زینوگلوسی کہتے ہیں اور یہ معمہ آج تک حل طلب ہے کہ ایک فرد بیٹھے بٹھائے اجنبی زبان میں کیسے بات کرنے لگ جاتا ہے۔ پچھلے دنوں اسرائیل میں ایک مسلم بچے کی خبر بھی بہت وائرل ہوئی کہ وہ انگریزی زبان سے نابلد ہونے کے باوجود روانی سے انگریزی زبان میں کلام کرتا ہے۔ اس طرح کے واقعات کو لے کرمغرب میں تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔
 
Top