نصیر الدین نصیر جو دور ہو تم تو لمحہ لمحہ عضب میں ہے اضطراب میں ہے

سردار محمد نعیم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 9, 2018

  1. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,917
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    جو دور ہو تم تو لمحہ لمحہ ' غضب میں ہے اضطراب میں ہے
    ابھی مقدر میں گردشیں ہیں' ابھی ستارا عذاب میں ہے

    لڑکپن اب ہو چکا ہے رُخصت ' کوئی جہانِ شباب میں ہے
    تجلیاں ہیں کہ بے مَحابا ' ہزار چہرہ نقاب میں ہے

    نہیں ہے تیری مثال ساقی ' یہ دیکھا تجھ میں کمال ساقی
    عجیب کیف و سرور مستی ' تری نظر کی شراب میں ہے

    نظر کو ہے وہ مقام حاصل کہ ہر جگہ ہے جمالِ کامل
    نہ اُن کا جلوہ نقاب میں تھا ' نہ اُن کا جلوہ نقاب میں ہے

    فریب خوردہ سہی نگاہیں ' کھُلی ہیں اِن پر خِرد کی راہیں
    خراب حالی کا دَور دَورہ جو تھا جہانِ خراب میں ہے

    اُس انجمن کی فضا میں رہ کر ' سُکون کیوں کر رہے میسر
    ابھی تو وہ آزما رہا ہے ' ابھی تو یہ دل عتاب میں ہے

    بہیں جو اشکِ فراق و حسرت ' تڑپ کے رہ جائے ساری خلقت
    غضب کا طوفانِ دَرد پنہاں ' ہماری چشمِ پُرآب میں ہے

    تری وہ پہلی نظر کا چرچا ' تعلّق اُس سے ہے عمر بھر کا
    بڑے مزے کی خلش ہے دل میں ' بڑا مزا اضطراب میں ہے

    وفا کی راہوں سے ہٹ گئے وہ ' جفا کی جانب ' پلٹ گئے وہ
    نصیر اب کس شُمار میں ہے ' نصیر اب کس حساب میں ہے

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,140
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    یہ پہلے پوسٹ ہو چکی ہے
    جو دُور ہو تم تو لمحہ لمحہ ، غضب میں ہے اضطراب میں ہے
     
  3. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,917
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
  4. رحیض طاہر

    رحیض طاہر محفلین

    مراسلے:
    21
    لاجواب ہے جی
     

اس صفحے کی تشہیر