سازشی تهیوری نمبر 1
جے جے کا بزنس کافی ڈاؤن جا رہا تها اور رمضان ابهی تهوڑا دور ہے تو یہ سب کچھ اس نے خود کیا۔

سازشی تھیوری نمبر 2
مارنے والا کوئی مولوی نہیں تها اس کی دوستوں سے شرط لگی تهی کہ جے جے کی پٹائی کرے گا۔

سازشی تھیوری نمبر 3
جس بندے نے مار پڑوائی ہے وہ جے جے کا کاروباری حریف تها اور جے جے نے اسے کاروباری نقصان پہنچایا تها

سازشی تھیوری نمبر 4
بقول جے جے اس نے بهولپن یا انجانے میں گستاخی کی تهی اب مارنے والا بهی یہی کہہ سکتا کہ انجانے میں غلطی سے مار دیا ہے۔

سازشی تھیوری نمبر 5
اس نے مجهے گالی دی تهی یا کہنی ماری تهی میں نے اس کا بدلہ لیا۔
۔۔۔
سب جانتے ہیں کہ جے جے دیوبندی مسلک سے ہے، اس کے ممتاز قادری مرحوم کے بارے میں نظریات جو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ نشر ہوئے، عوامی اکثریت کی رائے سے یکسر مختلف تهے اور وہ پہلے بهی ایک غلطی کر چکا تها تو دوسرے مسالک کے متشدد رویے والے اسے کب سے عوامی طور پر ذلیل کرنے کا تہیہ کیے ہوئے تھے اور انهیں موقع مل گیا۔

جے جے کے لیے بهی اور باقی دین کے جهوٹے یا سچے ہر قسم کے علمبرداروں کے لیے اس واقعہ میں سبق ہے کہ زبان ذرا احتیاط سے استعمال کریں ورنہ درگت اس سے کہیں زیادہ بهی بن سکتی ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور عوام جب چاہیں کسی بهی قانون کی از خود تشریح کر کے عدالت لگائے بغیر فیصلہ کر کے اس پر عمل بهی کر د یتے ہیں۔

:cool:
 
کوئی تو ہو جو ان دین کے دشمنوں کا سدباب کرے۔۔۔
آپ کی یہ رائے مجهے سمجھ نہیں آئی۔ جے جے کی ہوئی مار پیٹ سے دین کے کونسے دشمن عیاں ہوئے کہ جن کا سدباب ہونا چاہیئے
جبکہ
جے جے کو مارنے والے بهی مسلمان ہی تهے اور بقول ان کے انهوں نے امہات المومنین کی شان میں گستاخی کرنے والے ایک گستاخ ( دین کے دشمن تو یہ صاحب ہوئے پهر ) کو سبق سکهایا ہے۔

(دراصل۔۔۔ میں ہر اس شخص کو دین کا دشمن ہی سمجهوں گا جو میرے مسلک کے مطابق دین کو نہیں مانتا)

اس اٹکی سوئی والے رویے کے ساتھ ہم سب کے اپنے اپنے دین کے دشمن اور دین کے دوست ہیں۔ :)
 

طالب سحر

محفلین
اب مذہبی انتہا پسندوں سے زیادہ خطرناک لا دین شدت پسند بن رہے ہیں۔ ایک دین دوست مسلمان جنید جمشید پر حمہ آور ہونے والے یقینا سیکولر شدت پسند ہی ہوں گے

مارنے والے جو بھی ہوں -- دین دوست یا پھر لا دین / سیکولر شدت پسند -- ان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے-

اگر جنید جمشید نے کوئی غلطی کی تھی (چاہے اس نے معافی مانگی ہو یا نہیں) تو اس کا فیصلہ عدالت سے ہونا چاہیے- ایک دفعہ پھر ہمارے پاس اس بات کا موقع مل رہا ہے کہ ہم بغیر کسی شرط عائد کئے تشدد کی مذمت کریں- سزا دینے کا حق صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے، کسی فرد، گروہ یا ہجوم کو نہیں-
 

نایاب

لائبریرین
اگر اسلامی ریاست ہو اوراسلامی قانون ہو تو۔اسلامی قانون کے مطابق گستاخ رسول کی توبہ دنیا میں مقبول نہیں۔(ہو سکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس کی توبہ مقبول ہو۔)لیکن قاضی(Chief Justice) کواختیار حاصل نہیں کہ وہ اسے معاف کرے۔قاضی(Chief Justice)سزا ہی دے گا۔بھلے گستاخی کرنیوالا شخص توبہ کرلے۔۔۔یہ اسلام کا قانون ہے۔
میرے محترم بھائی
آپ کے اس بیان سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ " اسلام " میں توبہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اور اسلام صرف " سزا " کا حامل دین ہے ۔ اور اس کے اسلامی قانون " اللہ " سوہنے کی بجائے خود " منصفی " کا حق رکھتے ہیں ۔
اسلام کے تابع قاضی صرف " ریاست و معاشرے " کے قانون کی پیروی کرے گا ۔ اور " عند اللہ " مجرم و ملزم کی توبہ اور " ریاست و معاشرے " کے سامنے کی گئی " توبہ " اور " مانگی گئی معافی " کو بالکل اہمیت نہ دے گا ۔۔۔۔
اسلام جو کہ سلامتی کا دین ہے مجھے ہزار کوشش کے باوجود بھی قران سے کوئی ایسا حکم نہیں مل سکا ۔ جیسا کہ آپ نے اسلامی ریاست اور اسلامی قانون بارے تحریر فرمایا ہے ۔
براہ مہربانی قران پاک سے کوئی براہ راست دلیل سے نوازتے آگہی کی شمع جلائیں تاکہ الجھاوے دور ہو سکیں ۔۔۔۔۔
محترم جنید جمشید جس غلطی کی سزا پا رہے ہیں وہ اس غلطی کی کھلے عام معافی مانگتے توبہ کر چکے ہیں ۔
اور یہ بھی حقیقت اپنی جگہ ہے کہ توہین رسالت کی سزا کا جو قانون ریاست پاکستان میں نافذ ہے، اُس کا کوئی ماخذ قرآن و حدیث میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟ کچھ عالم کہتے ہیں کہ یہ سورۂ مائدہ کی آیات ۳۳۔۳۴ سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ سورت مائدہ کی اِن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کی سزا بیان فرمائی ہے اور اُس کے رسول کی توہین و تحقیر بھی محاربہ ہی کی ایک صورت ہے۔مگر ان آیات میں بھی ان کے لیے سزا کا بیان ہے جو توبہ اور معافی سے دور رہتے اپنے جرم پر ڈٹے رہیں ۔۔۔۔

''جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں یا سولی پر چڑھا ئے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے، مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔''
سورۂ مائدہ آیات ۳۳۔۳۴
بہت دعائیں
 

نور وجدان

لائبریرین
سچی بات تو یہ ہے مسلمانوں کی جہالت پر افسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ایسی واہیات گالیاں دیں ہیں جن سے ان کا ایمان اور زیادہ بڑھ گیا ہے اور تو اور اسلام کہتا ہے کوئی غلطی کرے نادانستگی میں اور معافی بھی مانگے سر عام ---------مگر دار اس کا نصیب ہے ۔۔۔۔۔۔اسلام صرف قتال کا دین ہے اس میں امن تو ہے ہی نہین
 
نوبت ایں جا رسید کہ اب تو مسلمانوں کو آپس میں ہی ایک دوسرے کو بتانا پڑ رہا ہے کہ اسلام امن، آشتی، برداشت و رواداری کا دین ہے۔ (محسن حجازی صاحب کا ٹویٹ)۔
محسن حجازی بھائی صحرا میں سائبان کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔کمال است بندے ہیں۔اللہ لمبی زندگی کرے۔۔
 

زیک

مسافر
جن مسلمانوں کا جنید جمشید کی پٹائی اور مسیحیوں کو بم سے مارنے پر بھی دل نہیں بھرا وہ اسلام آباد میں قاتل جہنمی کے لئے دعائیں اور مظاہرے کر رہے ہیں۔

ایک ہی دن میں جذبۂ ایمانی کے اتنے مظاہرے کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔
 

زیک

مسافر
اس ڈیکلریشن کا اختیار اللہ تعالیٰ نے ابهی تک کسی کو تفویض نہیں کیا، احتیاط لازم ہے۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بقول شخصے ملحد ٹھہرا مگر یہ بات مزے کی ہے کہ قاتلوں اور دہشتگردوں کو جہنمی کہنے پر ہی کیوں اعتراض آتا ہے۔
 
جنید جمشید سمیت کسی بھی فرد پر حملہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ جنید جمشید یا کسی پر بھی حملہ اس لئے کہ اس کی کوئی بات ناگوار رہی ہو۔

بہت سے لوگ کچھ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اس طرح کے مبہم بیان کی سزا موت ہے ۔ اور اپنی بات کی سپورٹ کے لئے وہ قران سے آیات لاتے ہیں، کبھی کسی کو ملعون کہنے کے بہانے سے یا کسی کو کافر کہنے کے بہانے سے ۔ مغلیہ دور کی تاریخ میں بھی ایک سے زائید کہانیاں ملتی ہیں کہ جب لوگوں کو تارک الرسول، تارک حدیث یا تارک قرآن یا گستاخ رسول کہہ کر قتل کیا گیا۔

انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو اصول میرے لئے صحیح ہو وہ آپ کے لئے بھی درست ہوِ۔

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دوسری قومیں بھی ناموس کے نام پر قوانین بنا کر تارک انجیل ، تارک تورات، تارک عیسیٰ علیہ السلام اور تارک موسیٰ علیہ السلام، یا تارک گیتا ، تارک رام، تارک بھگوان ، تارک گرنتھ صاحب (سکھوں کی کتاب) ، یا تارک گرو نانک جیسے بھیانک القابات لگا کر اور انکی رسالت اور انکی کتب کی ناموس کے خلاف قرار دے کر مسلمانوں کو کاٹنے لگیں تو پھر کیا وہ بھی انصاف قرار دیا جائے گا۔

کیا یہی لوگ برما میں کچھ سال پہلے ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام پر خوشی منائیں گے اور بدھ مت کے حامیوں کو عظیم ہیرو، غازی بہادر کے القابات عطا فرمائیں گے ؟؟

کیا اللہ تعالیٰ اتنے ہی غیر منصف ہیں ؟؟؟؟؟؟

نہیں ۔۔۔ ایسا نہیں ۔۔۔ اللہ تعالی نے ایسے کسی قتل کی اجازت نہیں دی بلکہ اپنے فرمان قرآن حکیم میں سب سے پہلے قتل (قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ) کے بعد ہی صاف صاف فیصلہ فرما دیا کہ

سورۃ المائیدہ - آیات 31 تا 33
5:31 - پھر اس (قابیل) کے نفس نے اس کے لئے اپنے بھائی (ہابیل) کا قتل آسان (اور مرغوب) کر دکھایا، سو اس نے اس کو قتل کردیا، پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا
5:32 -اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اورجس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی اورہمارے رسولوں ان کے پاس کھلے حکم لا چکے ہیں پھر بھی ان میں سے بہت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں
5:33 - ان کی بھی یہی سزا ہے جو الله اوراس کے رسول سے لڑتے ہیں اورملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ ان کو قتل کیا جائے یا وہ سولی چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں یہ ذلت ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے

جو لوگ قتال کو آسان اور مرغوب قرار دیتے ہیں ، اور قاتل یا فسادی کے علاوہ قتل کو مرغوب قرار دیتے ہیں ان کو ہی اللہ تعالی فسادی اور نقصان اٹھانے والے قرار دیتے ہیں اور ان کی سزا آیت 33 میں اللہ تعالی یہ قرار دیتے ہیں کہ ان کو سولی چڑھا دیا جائے۔ یا وہ جلا وطن کردیے جائیں۔ یہ سزا دنیا میں ہے ۔ صاف ہے اور واضح ہے ۔ کوئی شبہ نہیں ۔ اس کے علاوہ کسی قول و عمل کی سزا قتل نہیں ۔

لہذا قتل اور فساد فی الارض اللہ کے علاوہ قتل کو جائز ، آسان، اور مرغوب قرار دینے والوں کو سمجھائیے ، اور ان کے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالی ان کو سمجھ دے۔ یہی انصاف ہے اور یہی امن کی ضمانت ہے۔ ورنہ دوسری قوموں کو کوئی نہیں روکتا کہ وہ مسلمانوں کے ماورآئے عدالت قتل کرنا شروع کردیِ بہانے بہانے سے۔

والسلام

 
آخری تدوین:
اس ڈیکلریشن کا اختیار اللہ تعالیٰ نے ابهی تک کسی کو تفویض نہیں کیا، احتیاط لازم ہے۔

برادر من ایسے لوگوں کو جو اس طرح فساد پھیلاتے ہیں اور قتل کو آسان اور مرغوب قرار دیتے ہیں اللہ تعالی نے پہلے ہی ان کے لیے آخرت کا عذاب قرار دے دیا ہے ، اب یہ عذاب جہنم میں ہی ملے گا تو پھر جہنمی ہی ہوئے ۔۔۔ کوئی شبہ ہے آپ کو ۔۔۔
 
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بقول شخصے ملحد ٹھہرا ۔
پهر تو آپ کو سزا جزا کے اسلامی نقطہ نظر سے متعلقہ جنتی جہنمی کے بجائے کوئی نئی ملحدانہ اصطلاحات متعارف کروانی چاہیئے۔ ساڈیاں کیوں ورت رئے او:cool:
مگر یہ بات مزے کی ہے کہ قاتلوں اور دہشتگردوں کو جہنمی کہنے پر ہی کیوں اعتراض آتا ہے۔
چلیں آپ کو کچھ مزے کا لگا:p
میری نظر سے آج تک ایسے جتنے بهی مراسلے گزرے جن میں کسی کو بهی جہنمی کہا گیا ہو میں نے ان سبهی کو احتیاط برتنے کا کہا ہے۔
کیونکہ
اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ وہ چاہیں تو تمهارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیں۔ اور یہ نہ ہو وہ جہنمی بقول شخصے گناہوں کو نیکیوں میں بدلوا کر دودھ اور شہد کی نہروں کے مزے لوٹ رہا ہو اور ہم خدائی اختیار (نعوذ باللہ) کو از خود تفویض کر کے اس کی جگہ زیر عتاب آئے پڑے ہوں۔
 
فاروق سرور خان نے کہا:
برادر من ایسے لوگوں کو جو اس طرح فساد پھیلاتے ہیں اور قتل کو آسان اور مرغوب قرار دیتے ہیں اللہ تعالی نے پہلے ہی ان کے لیے آخرت کا عذاب قرار دے دیا ہے ، اب یہ عذاب جہنم میں ہی ملے گا تو پھر جہنمی ہی ہوئے ۔۔۔ کوئی شبہ ہے آپ کو ۔۔۔
مجهے خدائی احکامات میں رتی بهر کوئی شبہ نہیں، لیکن ہم انسانوں کو یہ اختیار ابهی نہیں ملا کہ جنتی اور دوزخی کا اعلان فرمائیں
 

حسیب

محفلین
ریفرنس دیکھتا ہوں۔
موصوف(جنید جمشید )خود مان رہے ہیں۔کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔۔۔وضاحت کیلئے اوپر والی ویڈیو دیکھ لیں۔
سلمان تاثیر والے معاملے کو اس تھریڈ میں نہ چھیڑیں۔
ریفرنس کا انتظار رہے گا

میں نے جنید جمشید کے خطاب والی ویڈیو اور غلطی کے اقرار والی ویڈیو انہی دنوں سنی تھی جب کا یہ واقعہ ہے
یاد رہے یہاں آپ گستاخی رسول ﷺ کی بات کر رہے ہیں۔
اگر آپ حضرت عائشہؓ کی گستاخی کو گستاخی رسول ﷺ کہتے ہیں تو یہ بھی یاد رکھیں کہ پاکستان میں ایک فرقہ اعلانیہ طور پر حضرت عائشہؓ اور کچھ صحابہ اکرام ؓ کو نعوذ باللہ گالیاں دیتا ہے اور جنید جمشید پر حملہ کرنے والے اور اوپر آپ کی ویڈیو میں موجود علامہ صاب کے فرقے والے حضرت عائشہؓ اور صحابہ اکرام کو گالیاں دینے والے فرقے کو اپنا بھائی قرار دیتے ہیں اور اس بات کے نعرے بھی مارے جاتے ہیں۔ یہ گستاخی انہیں صرف جنید جمشید کی غلطی پہ ہی یاد آئی تھی:)
 

محمدظہیر

محفلین
یعنی آپ مان رہے ہیں کہ جنید جمشید نے غلطی کی تھی۔۔۔
اگر اسلامی ریاست ہو اوراسلامی قانون ہو تو۔اسلامی قانون کے مطابق گستاخ رسول کی توبہ دنیا میں مقبول نہیں۔(ہو سکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس کی توبہ مقبول ہو۔)لیکن قاضی(Chief Justice) کواختیار حاصل نہیں کہ وہ اسے معاف کرے۔قاضی(Chief Justice)سزا ہی دے گا۔بھلے گستاخی کرنیوالا شخص توبہ کرلے۔۔۔یہ اسلام کا قانون ہے۔

جیسے صریح الفاظ میں طلاق دی۔بعد میں کہے میں نے مذاق کیا تھا۔یا غصے میں دی تھی۔یا انجانے میں دی تھی۔بہرحال طلاق نافذ ہوجائیگی۔
اسی طرح نکاح کا معاملہ ہے۔مذاق میں کیا ،یا غصے میں۔نکاح ہوجائیگا۔
آپ اپنا کروڑوں کا پلاٹ کسی کو فروخت کر دیں،چند لاکھ کے عوض۔کاغذات اس کے نام ہوں۔بعد میں اگر آپ کہیں ۔میں نے مذاق میں ایسا کیا تھا ۔یا انجانے میں ۔۔تو قاضی آپ کی بات نہیں مانے گا۔بلکہ پلاٹ خریدنے والے کو ہی دیگا۔
اس طرح تو کوئی بھی شخص بکواس کر کے کہہ دے گا۔۔میں نے انجانے میں کہہ دیا تھا۔۔۔۔عقلمنداں راہ اشارہ کافی است
آپ نے کئی موضوعات کو بیک وقت چھیڑ دیا ہے، اسلامی قانون اور ملک، شریعت، قاضی، طلاق کا مسئلہ، نکاح اور زمین کا مسئلہ.
پہلے آپ یہ طے کریں کہ گستاخی کس کی ہوئی تھی، اگر آپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ کی ہوئی تھی تو یہ بتائیے بعض اقلیتی مسلم فرقے ام المومنین کی شان میں گستاخی نہیں کرتے؟ وہ تو جان بوجھ کر کرتے ہیں. اس وقت کیوں چپ رہتے ہیں اور کوئی شخص انجانے میں غلطی کر کے معافی مانگتا ہے تو اس کے پیچھے منہ دھوئے بغیر کیوں پڑ جاتے ہیں. واضح رہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لعن کرنے والے اسی ملک میں کھلے عام پھرتے ہیں
 
کوئی شخص انجانے میں غلطی کر کے معافی مانگتا ہے تو اس کے پیچھے منہ دھوئے بغیر کیوں پڑ جاتے ہیں
آپ دونوں حضرات کا مطلب ہے کہ منہ وغیرہ دهو کر پیچهے پڑا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں، یعنی پهر جائز ہے:battingeyelashes:

ویسے ۔۔لکس ٹهیک رہے گا یا سیف گارڈ ۔۔ ؟:p
 

صائمہ شاہ

محفلین
جن مسلمانوں کا جنید جمشید کی پٹائی اور مسیحیوں کو بم سے مارنے پر بھی دل نہیں بھرا وہ اسلام آباد میں قاتل جہنمی کے لئے دعائیں اور مظاہرے کر رہے ہیں۔

ایک ہی دن میں جذبۂ ایمانی کے اتنے مظاہرے کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔
اور بے شک اسلام امن کا مذہب ہے ۔۔۔
 
Top