حالی جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے

سردار محمد نعیم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 7, 2018

  1. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,837
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive

    جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
    قدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے

    دم گریہ کس کا تصور ہے دل میں
    کہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے

    خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے
    ملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے

    بہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کو
    وہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے

    ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میں
    اجل کا تقاضا ہوا چاہتا ہے

    مجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصت
    کوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے

    فزوں تر ہے کچھ ان دنوں ذوق عصیاں
    در رحمت اب وا ہوا چاہتا ہے

    قلق گر یہی ہے تو راز نہانی
    کوئی دن میں رسوا ہوا چاہتا ہے

    وفا شرط الفت ہے لیکن کہاں تک؟
    دل اپنا بھی تجھ سا ہوا چاہتا ہے

    بہت حظ اٹھاتا ہے دل تجھ سے مل کر
    قلق دیکھیے کیا ہوا چاہتا ہے

    غم رشک کو تلخ سمجھے تھے ہمدم
    سو وہ بھی گوارا ہوا چاہتا ہے

    بہت چین سے دن گزرتے ہیں حالیؔ
    کوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر