جنسی تشدد اور بے راہ روی کی وجوہات!

arifkarim

معطل
آج اس موضوع پر تحقیق کے دوران دارالعلوم دیوبند کی سائٹ پر ایک انتہائی چونکا دینا والا آرٹیکل ملا ہے۔ آپ کیساتھ شیئر کرتا ہوں:

بچوں کیلئے آدھا گھنٹہ آفس کیلئے ساڑھے بارہ گھنٹہ

ملکی اور بین الاقوامی پیمانہ پر گذشتہ دنوں لگاتار مخصوص طرح کے جرم پر مبنی خبروں کا تسلسل رہا جن کا تعلق جنسی جرائم کی خبیث ترین شکلوں سے تھا۔ بطور یاد دہانی یاد کیا جاسکتا ہے آسٹریا کے شہر ایمسٹیٹن Amstetten کے قید خانہ میں ایک ابلیس نما انسان نے اپنی سگی بیٹی الزبتھ کو تہہ خانہ میں ۲۴ سال تک قید رکھ کر جنسی تعلقات بنائے اور اس سے (۷) اولادیں ہوئیں۔ یوروپ میں ہی فرانس کے صدر نکولائی سرکوزی اپنی ”گرل فرینڈ“ کو لے کر دنیا بھر میں سرکاری دورہ کرتے رہے۔ ”اعتدال پسند مسلم ملک“ مصر کے رہنماؤں نے انہیں سرکاری آداب اور سہولیات مہیا کرائیں ہمارے یہاں بھی ان عیاش سربراہ حکومت کو آنا تھا اور ہماری حکومت پریشان تھی کہ سرکاری آداب ”پروٹوکول“ Protocol میں مہمانوں کے خانہ میں ”گرل فرینڈ“ کی کون سی شق پیدا کی جائے۔ کہ سرکوزی نے ہماری حکومت کی خودہی مشکل آسان کردی کہ ”ناجائز“ مہمان کو ساتھ ہی نہیں لائے۔ اس مسئلہ پراخبارات میں خصوصاً ہندی انگریزی پریس میں ہوئی بحث قابل تجزیہ بھی ہے اور آنے والے طوفان کے سگنل بھی دے رہی ہے۔ بے حیائی کی انتہا یہ ہے کہ صدر کی بیوی بننے کے بعد اس نے اپنے ماڈل گرل کے زمانہ کی عریاں فوٹوگراف اخبار کو چند لاکھ ڈالر میں فروخت کردی۔ یہ فوٹو آج فرانس میں سب سے زیادہ مقبول عام ہے۔ ہمارے ملک میں تو شاید اس طرح کے جرائم کی باڑھ آئی ہوئی ہے۔ مقامی خبروں کا کوئی کالم ایسا نہیں ہوگا جہاں جنسی جرائم، استحصال اور بدکاری کی خبیث ترین مثالیں نہ مل جائیں اور مقام عبرت یہ ہے کہ ”خیرامت“ کے افراد ان شیطانی جرائم میں پوری حصہ داری کررہے ہیں۔ یوپی کے جے، پی نگر کی خبر جس میں ایک گریجویٹ مسلم لڑکی نے اپنے عاشق کی مدد سے اپنے ماں باپ سمیت خاندان کے ۶ قریب ترین لوگوں کو زہر دے کر بیہوش کرکے خود فون کرکے عاشق کو بلاکر ۶ قریب ترین افراد کے سرکٹوادئیے۔ اس کے بعد نوئیڈا میں ہوئے آروشی قتل معاملہ کے ضمن میں مقتولہ کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کا جو جنسی تعلقات کا ریکارڈ سامنے آرہا ہے وہ پورے سماج کے اندر کیا چل رہا ہے اس کی ہلکی سی تصویر بھر ہے۔ جس بے رحمی کے ساتھ فلمی داکارہ ماریا سوسائی راج نے اپنے ایک عاشق بحریہ کے افسر کے اتھ مل کر اپنے دوسرے عاشق کا قتل کرکے لاش کے ۳۰۰ سے زائدٹکڑے کرکے انہیں پھینکا یہ بھی اسی مجرمانہ جنسی تعلقات اور شیطانی تہذیب کی پکڑ اور اشاعت کو ظاہر کررہا ہے۔ حقوق نسواں اور آزادی نسواں کے فیوض و برکات و ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ مطلق آزادی کے نعرہ سے پیدا شدہ سماج کی کریہہ اور گھناؤنی تصویر نظر آرہی ہے، جہاں باپ اپنی سگی بیٹیوں کی عصمت تار تار کررہے ہیں،اور مظفرنگر میں چھ بہنوں نے مل کر اپنے اس ابلیس صفت سگے بھائی کو قتل کردیا جو انہیں باری باری نشہ کے ذریعہ ہوس کا نشانہ بناتا تھا۔ یہ سب مثالیں یا سماج کی اس گندگی پر کچھ کہنا لکھنا کوئی بہت خوش کن کام نہیں ہے، مگر آروشی ہتیا کانڈ کے بعد۔ ایک نرسنگ ہوم کی نرس نے جب یہ بتایا کہ ہمارے شہر کے ایک مقامی معروف سماجی کارکن ہمارے یہاں اپنی بیٹی کو لے کر آئے کہ اسقاط کرانا ہے اندر جب ڈاکٹر نے سختی سے لڑکی سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے بتایا کہ جو باریش بزرگ میرے ساتھ ہیں یہ میرے والد ہیں اورمیری کوکھ میں پلنے والی اولاد میرے والد کا ہی نطفہ ہے۔ اور وہ میرے ساتھ یہ شیطانی حرکت بہت تسلسل سے کرتے رہتے ہیں۔ تب راقم السطور کو مجبور ہونا پڑا کہ اس ناسور کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جو کچھ بھی ہورہا ہے یا ہوسکتا ہے اس پر ثابت قدمی کے ساتھ، ساتھ دیا جائے قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب یا موت مہلت عمل ہی ختم کردے۔ اور آخرت میں ہم یہ عذر بھی پیش کرنے کے لائق نہ رہ جائیں کہ برائی سے اگر بازی نہ لے سکے تو کم سے کم سر تو دے سکے۔

پہلی مثال میں نے آسٹریا Austria کی دی تھی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ وہی سرزمین ہے جہاں سے موجودہ فحاشی، عریانی اور بے قید جنسی تعلقات کے موجد اولین سگمنڈ فرائڈ نے جنم لیا تھا۔ جس نے انسان پر اور انسانی معاشرہ اور انسانی تاریخ کی جو تعبیر بیان کی تھی وہ صرف یہ تھی کہ صرف جنس Sex میں ہے جو تمام کاموں اوررجحانوں اور قوانین کا محرک ہے۔ یعنی انسان کا وجود صرف جنس ہی ہے۔ اور آج اس شیطانی مشن کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ جس کھلے سماج اور بے قید تعلقات کی آبیاری اور پیروی مغربی تہذیب نے پچھلے دو ڈھائی سوسالوں میں کی ہے آج اس نے میخانہ میں پینے کی ہر رسم اٹھادی ہے۔نتیجہ سامنے ہے، یوروپ کے بیشتر ممالک میں سرڈھانک کر پبلک مقامات پر جانا ممنوع قرار دیاگیا ہے۔ برطانیہ میں قانون بنایاگیا ہے کہ gay لوگوں (ہم جنسوں) کو برا بھلا کہنا قانوناً جرم ہے۔ اور امریکہ میں لاکھوں لوگوں نے جلوس نکال کر ہم جنس پرستی کو قانونی شکل اور منظوری دینے کی بات کہی ہے۔ ہمارا ملک اور سماج کس سمت جارہا ہے اوریہ بین الاقوامی جنسی فساد اوراس کے مظاہر کس سمت اشارہ کررہے ہیں یہ سب اب ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ دہلی پولس کے افسر نے بتایا کہ ۲۰۰۷/ میں دہلی میں درج ہوئے عصمت دری کے ۵۸۱ معاملوں میں ٪۹۸ مظلوموں کو ان کے رشتہ داروں نے ہی ہوس کا شکار بنایا۔ ۲۰۰۵/ کے ۶۵۸ عصمت دری کے معاملوں میں ٪۴۹ معاملوں ان کے جان پہچان اور رشتہ داروں نے ہی ہوس کا شکار بنایا۔ (ہندوستان ایکسپریس ۳۰/۴/۲۰۰۸/) اس کے علاوہ اگر آپ دنیا بھر میں جنسی جرائم اور خاندانی تعلقات خصوصاً نکاح اور طلاق کی تعداد پر نظر ڈالیں تو بھی اندازہ ہوگا کہ ہوا کدھر کی بہہ رہی ہے۔ یوروپ کے ۲۷ ملکوں میں سالانہ طلاق کی تعداد تقریباً بارہ لاکھ (۱۲ لاکھ) ہے جبکہ کل آبادی ۱۸ کروڑ کی ہوگی۔ اسی طرح زنا اور جنسی زیادتی کے معاملات سکنڈوں کے حساب سے ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال ۱۰-۱۵ کی تعداد میں ۱۲ سال کی عمر کی لڑکیاں حاملہ ہوتی ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال (۱۹۳۷۳۷) اسقاط میں سے (۱۷۱۷۳) اسقاط ان لڑکیوں کے ہوتے ہیں جن کی عمر ۱۸ سال سے کم ہوتی ہے۔ یوروپ میں ہر ۳۰ سکنڈ میں ایک طلاق اور ہر ۲۷ سکنڈ میں ایک حمل گرایا جارہا ہے۔ (ایجنسیاں ۸/۵/۲۰۰۸/)

غرضیکہ دنیا بھر میں ایک ماحول جو جنسی اشتعال انگیزی اور شہوت انگیزی کا طوفان منظم سازشوں کے نتیجہ میں پیدا کیاگیا ہے اس کے نتائج سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ اس کے بیشتر عوامل میں سے ایک نہایت اہم وجہ یہ ہے کہ نئی نسل کی تربیت کے لئے اس کی کردار سازی کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ آج والدین کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی اولادوں کے ذہن اور فکر بناسکیں۔ خصوصاً ماؤں پر معاش کی ذمہ داری ڈال کر سارا سماج صرف مادّہ پیدا کرنے میں لگ جاتا ہے انسان کی فکر کسی کو نہیں ہوتی۔ صنفی یکسانیت، صنفی توازن اور صنفی انصاف Gender justice کے نام پر عورت اور مرد دونوں کو گاڑی میں یکساں جوتنے کو ترقی کا نام دیدیا گیاہے۔ اب عورت کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اپنا دودھ ہی پلاسکے، بمشکل ۳ ماہ چھٹی لے کر گذار سکتی ہے اس کے بعد ڈبہ کا دودھ ہی ساتھی ہوتا ہے۔ دوسرے خواتین صنفی آزادی یا حقوق نسواں کے نعرہ پر فریفتہ ہوکر خود بھی احساس کمتری کا شکار ہورہی ہیں۔ وہ نہ چاہ کر بھی اپنی خانگی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے بازار اور فیکٹریوں و آفسوں میں بھی حیران و پریشان ہورہی ہے اور گھر میں بھی احساس جرم کا شکار رہتی ہے کہ گھر والوں کے حقوق ادا نہیں ہورہے ہیں۔ امریکہ میں لاس اینجلس کی خاتون ڈاکٹر اسٹیفن پولٹر نے اپنی کتاب "The mother Factor" میں مسئلہ کے اس پہلو پر بہت زور دیا ہے کہ آج کی نسل کی مائیں اپنی اولاد کی ماں بننے کے بجائے اُس کی دوست بننا چاہتی ہیں اسی کی طرح فیشن کرتی ہیں اسی کی طرح جوان دکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ دن بھر کام کرنے کے بعد والدین اولادوں سے الجھنا نہیں چاہتے اور دونوں اپنی اپنی مرضی کی زندگی گذارتے چلے جاتے ہیں۔ مگر اولادوں کو دوست ہی نہیں سرپرست بھی درکار ہوتے ہیں۔ اوراگر سرپرست (والد، والدہ) ہی دوست بن جائیں تو انہیں سمجھانے والا دنیا میں کون ہوگا؟ پولٹر کا کہنا ہے کہ آج اسی وجہ سے زیادہ تر نوجوان نشہ آور ادویّہ کے استعمال میں غرق ہیں۔ ڈاکٹر پولٹر نے ہالی وڈ کی متعدد مشہور ترین اداکاراؤں کے حوالہ سے بتایا کہ کس طرح وہ اور ان کی بیٹیاں نشہ کا شکار ہوئیں۔ ڈاکٹر پولٹر نے اپنی کتاب کے کامیاب اولادوں کے گھر کے لئے دس رہنما اصول میں بتایا :

(۱) کہ ماں کو ماں بننا چاہئے دوست نہیں۔

(۲) دوسرے گھر میں قوانین ہونے چاہئیں جن کی پابندی کی جائے۔ یہ کہنا کہ نئی نسل اپنے قوانین خود بنائے گی، بہت گمراہ کن ہے۔ ہندوستان میں حال ہی میں صنعتی تجارتی اداروں کی تنظیم اسوچھم (Assocham) نے ہندوستان کے ۳۰۰۰ کام کا جی جوڑوں کے انٹرویو لے کر بتایا ”ایک کام کاجی خاتون اوسطاً دس(۱۰) گھنٹہ آفس میں گذارتی ہے ۔ڈھائی گھنٹہ آنے جانے میں، ۶-۷ گھنٹہ سونے میں اور ۳ گھنٹہ گھر کا کام کرنے میں۔ اور اسے صرف ۳۰ منٹ بچوں کے لئے ملتے ہیں۔ چھٹی کے دن بھی وہ خریدوفروخت اور بجلی ، پانی، فون،اسکول وغیرہ کے بلوں کی ادائیگی میں ہی لگے رہتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ ایک “خلاء“ کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ جب آنے والی نسل پیدائش سے ہی اپنائیت، محبت ، خلوص اور چاہت و رہنمائی سے محروم رہے گی تواس کی نفسیات میں یقینا ٹیڑھ پیدا ہوگا۔ اور محرومی کی نفسیات میں گمراہی کے شیطانی ذرائع ٹی، وی، انٹرنیٹ، ریڈیو،موبائل، اخبارات میں سے ملنے والا فحش، بے حیاء اور عارضی مزہ والا مسالہ اسے بھکادیتا ہے۔ آج کل IPL کرکٹ میں نوٹنکی کی طرح فحش عریاں نیم عریاں جسموں کی نمائش اور انٹرنیٹ اور موبائل فونوں پر سہل الحصول فحش لٹریچر اور تصاویر کے کلچر نے اور سڑک، دوکان، مکان، اسکول، آفس، بس ٹرین ہر جگہ جس طرف فحاشی اور عریانی کو عام کیا ہے اس نے شرم، حیاء، قوانین،حرام حلال کے تمام شعور کو ہی ماؤف مسخ کردیاہے۔ ایسے میں شیطان کا کام ذرا سا ایک محرک یا پیش قدمی بہت آسان بنادیتا ہے کہ انسان بھٹک جائے اور شیطان کو بھی شرمندہ کردے۔ یہ دہلی پولس کی رپورٹ حقائق کی طرف صرف اشارہ کررہی ہے، حقیقت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ مشرقی ممالک کے معاشرے دوہری مار سے پریشان ہیں کیونکہ وہاں ۱۹ ویں اور ۲۱ویں صدی ساتھ ساتھ چل رہی ہے ایک طرف انکل، آنٹی اور کزن کی آڑ میں بے روک ٹوک خلط ملط کی آزادی ہوتی ہے اور جب آزادی شیطانی صنفی تعلقات کے طور پر سامنے آتی ہے تو نتیش کٹارا کی طرح کی عزت کے لئے قتل کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ ہولناک قتل اور رشتوں کی پامالی ہوتی ہے۔ ایسے تشویشناک حالات میں کیا صرف ”شریفانہ خاموشی“ یا اپنے ”کام سے کام“ رکھنے کی پالیسی سے سماج میں عزت، عصمت، حیاء باقی رہ پائے گی؟؟۔
اصل ربط: http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/06-Bachcho ke liye_MDU_07-July-08.htm
٭٭٭
 

arifkarim

معطل
جنسی حوس جنگل کی آگ کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے۔ اس سے بچاؤ کیلئے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
 

تیشہ

محفلین
جنسی حوس جنگل کی آگ کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے۔ اس سے بچاؤ کیلئے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟





اپنے نفس کو قابو پانا ہوگا بس ،

chips.gif


جو کہ ممکن نہیں انکے لئے . ...
 

arifkarim

معطل
آج ہی ایک خطرناک قسم کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جو مغرب کی آزادیِ جنس پر زور دار طمانچہ ہے:
12yr-old school kids engaging in risky sexual activity
Washington, Apr 9 (ANI): A new study by researchers at The University of Texas School of Public Health has shown that school kids as young as 12 are engaging in risky sexual activity.

A team led by Dr. Christine Markham, assistant professor of behavioural science at the UT School of Public Health, examined sexual risk behaviours among middle school students in a large southeastern U.S. urban public school district.

“This is one of the few school-based studies conducted with this age group to look at specific sexual practices in order to develop more effective prevention programs,” Markham said.

“This study shows that although most seventh graders are not engaging in sexual risk behaviours, a small percentage are putting themselves at risk,” she stated.

Markham and colleagues define sexual intercourse as vaginal, oral or anal sex.

And as per their research, by age 12, 12 percent of students had already engaged in vaginal sex, 7.9 percent in oral sex, 6.5 percent in anal sex, and 4 percent in all three types of intercourse.

“These findings are alarming because youth who start having sex before age 14 are much more likely to have multiple lifetime sexual partners, use alcohol or drugs before sex and have unprotected sex, all of which puts them at greater risk for getting a sexually transmitted disease (STD) or becoming pregnant,” Markham said.

The study found one-third of sexually active students reported engaging in vaginal or anal sex without a condom within the past three months, and one-fourth had four or more partners.

The more experienced students in all three types of intercourse were more likely to be male and African-American.

“We need to develop prevention programs that address the needs of students who are not yet sexually active in order to promote skills and attitudes to help them wait until they are older to have sex,” Markham said.

“And we need to provide skills and knowledge related to condoms and contraception for youth who are already sexually active.”

The study recommends that sexually active students also need to receive accurate and factual information and services related to STDs and pregnancy testing, as well as skills for future abstention and risk reduction for those who intend to remain sexually active.

More than one-third of youth in the study reported engaging in precoital touching behaviours. Among the students who engaged in precoital behaviour, 43 percent reported having engaged in sexual intercourse.

“We need more research to develop effective interventions, in particular for youth of color living in underserved areas,” Markham said.

“A common misperception among adolescents is that oral or anal intercourse is not as risky for STD transmission.

“But transmission of non-viral and viral STDs can occur through all three types of intercourse when condoms are not used.

“It is critical that health education teachers and school nurses feel comfortable addressing these issues with their students and that their efforts are supported by parents and the school administration,” she added.

The study has been published in the Journal of School Health. (ANI)

source: http://www.thaindian.com/newsportal...aging-in-risky-sexual-activity_100177603.html
 

طالوت

محفلین
مسئلہ محض نفس پر قابو پانے کا یا بچوں کو محفوظ کرنے کا نہیں ۔۔ کہ نا تو ہر ایک بچوں پر پوری نگاہ رکھ سکتا ہے اور نا ہی ہر ایک اس قدر مضبوط ہو سکتا ہے کہ بہترین سے بہترین موقع پر بھی خود پر قابو پا لے ۔۔
اس پر کچھ اور بھی سوچنے کی ضرورت ہے ۔۔۔
وسلام
 

arifkarim

معطل
عارف کریم ذرا اس کا ترجمہ تو کر دیں

یہ اتنا مشکل نہیں لکھا کہ ترجمے کی ضرورت پڑے، خیر مختصراً اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنوب مشرقی امریکہ کے گنجان آباد علاقوں میں کی گئی ریسرچ کے مطابق ساتویں جماعت تک کے بچوں میں جنسی روابط عام ہیں۔ 7.9اور 6.5 فیصد بچے مختلف ،جبکہ 4 فیصد تمام اقسام کےفحش اعمال میں ملوث پائے گئے۔ زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر شراب نوشی، ڈرگس اور بغیر پروٹیکشن کے ساتھ یہ گھناؤنی حرکتیں کرتے ہیں۔ تین میں سے ایک بچہ بالکل پروٹیکشن استعمال نہیں کرتا، جبکہ چار میں سے ایک کے ۴ سے زائد پارٹنرز ہیں! :eek:

حیرت انگیز طور پر افرو امرکین نومولود لڑکےان حرکات میں سب سے آگے ہیں۔ شاید انکی آبادی زیادہ ہے جنوبی اسٹیٹس میں۔
اس سے آگے رپورٹ بنانے والوں نے ہمیشہ کی طرح اولٹ پٹانگ بکواس کی ہے کہ ہمیں بچوں کو پریونشن اور پروٹیکشن سکھانی ہوگی وغیرہ تاکہ ’’ناجائز‘‘ اولادیں اور جنسی بیماریوں میں کمی آئے ! :rollingonthefloor:
 

arifkarim

معطل
آپ مجھے صرف ناروے کی صورتحال بتائیں۔ امریکہ تو شاید اس سے بہت پیچھے ہو۔

ناروے میں بھی باقی مغرب کی دیکھا دیکھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ البتہ یہاں پر چھوٹے بچوں کی پریگننسی بہت کم ہے کیونکہ اسکول کے دنوں میں ہی اس حوالے سے کافی اویرنس سکھا دی جاتی ہے۔
 

محمدصابر

محفلین
ناروے، سویڈن ، ڈنمارک وغیرہ کے بارے میں کافی باتیں اس حوالے سے سنی اور پڑھی ہیں اس لئے پوچھا۔ مثلاً وہاں کسی بھی ماں سے اس کی اولاد کے باپ کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔ یا وہاں غیرشادی شدہ مائیں 60-70فیصد ہیں۔
 

ساجد

محفلین
حرام ذرائع آمدن سے اجتناب کریں مسئلہ بڑی حد تک قابو میں آ جائے گا۔ اور زیادہ لمبی بحث کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔
 

arifkarim

معطل
میں نے یہ کب کہا؟ ہر معاشرے میں حلال و حرام ذرائع کی تعریف مختلف ہوتی ہے ، آپ میری بات کو اسی تناظر میں دیکھیں۔

درست، مگر فحاشت زیادہ مشرقی ممالک میں ہے یا مغربی؟! میرا تو خیال ہے کہ آجکل کے دور میں کوئی بھی علاقہ اس سے محفوظ نہیں۔
 

فرخ

محفلین
درست، مگر فحاشت زیادہ مشرقی ممالک میں ہے یا مغربی؟! میرا تو خیال ہے کہ آجکل کے دور میں کوئی بھی علاقہ اس سے محفوظ نہیں۔
اگر یہ دیکھ رہے ہیں کہ زیادہ کہاں ہے، تو پھر اسکا تعلق مشرقی یا مغربی ممالک کے حساب سے مت دیکھیں، بلکہ یہ دیکھیں کہ کن ممالک میں‌اخلاقی اقدار موجود ہیں اور جہاں موجود ہیں وہاں فحاشی بہت کم ہوگی، جتنے اخلاقی اقدار کم کرتے جاؤ وہاں‌فحاشی بڑھتی چلی جائے گی،

اور دیکھا جائے تو سب سے زیادہ فحاشی انہی ممالک میں‌ہے جہاں‌لوگوں نے مذھب کو ترک کردیا ہے اور دنیا کا تقریبا ہر مذھب اخلاقی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔
اور جہاں‌جہاں‌مذھب کو اپنایا گیا ہے، وہاں‌وہاں فحاشی کم ہوتی ہے۔ مثلا وہ ممالک جہاں اسلامی اقدار موجود ہیں،اور اسلامی ممالک کے علاوہ اسرائیل اور ہندوستان کے وہ علاقے جہاں‌ہندو مذھب کو ٹھیک طریقے سے اپنایا گیا ہے، اور وہ ممالک جہاں‌عیسائیت کو ٹھیک طریقے سے اپنایا گیا ہے۔

ً
 

خرم

محفلین
فحاشی کے تدارک کے لئے اس حدیث مبارک سے بہتر کوئی نسخہ نہیں جس میں حکم ہے کہ نکاح کو آسان کرو اور زنا کو مشکل۔ میرے تئیں فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کی ترویج کرو اور اسے اتنا آسان کردو کہ کسی کو اپنی جائز خواہشات کے لئے زنا کا سہارا نہ لینا پڑے۔ آپ اپنے معاشرہ میں دیکھ لیں، اس حکم پر کتنا عمل ہے؟ جب کہ ایک لڑکا اور لڑکی سولہ اٹھارہ برس کی عمر میں بالغ ہو جاتے ہیں ان کی شادی تیس بتیس برس سے پہلے نہیں کی جاتی۔ اور پھر ایک ہی شادی پر اصرار ایک اور ناسور ہے۔ جس معاشرہ میں لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ہوں وہاں ایک ہی شادی کا اصول دعوت گناہ دیتا ہے۔ اور ہمارے معاشرہ میں تو ایک اور بُرائی ہے، اگر شادی شدہ مرد ویسے بدکردار ہو تو بیوی اور گھر والے کہتے ہیں کوئی بات نہیں ٹھیک ہو جائے گا لیکن اگر وہی شخص کسی عورت سے دوسری شادی کر لے تو تمام معاشرہ اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتا ہے اور ایسے برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے اس شخص نے اور جس سے اس نے شادی کی ہے اس نے انتہائی گُناہ کا کام کیا ہے۔ ایسے ماحول میں فحاشی نہ فروغ پائے تو اور کیا ہو؟
 

arifkarim

معطل
فحاشی کے تدارک کے لئے اس حدیث مبارک سے بہتر کوئی نسخہ نہیں جس میں حکم ہے کہ نکاح کو آسان کرو اور زنا کو مشکل۔ میرے تئیں فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کی ترویج کرو اور اسے اتنا آسان کردو کہ کسی کو اپنی جائز خواہشات کے لئے زنا کا سہارا نہ لینا پڑے۔ آپ اپنے معاشرہ میں دیکھ لیں، اس حکم پر کتنا عمل ہے؟ جب کہ ایک لڑکا اور لڑکی سولہ اٹھارہ برس کی عمر میں بالغ ہو جاتے ہیں ان کی شادی تیس بتیس برس سے پہلے نہیں کی جاتی۔ اور پھر ایک ہی شادی پر اصرار ایک اور ناسور ہے۔ جس معاشرہ میں لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ہوں وہاں ایک ہی شادی کا اصول دعوت گناہ دیتا ہے۔ اور ہمارے معاشرہ میں تو ایک اور بُرائی ہے، اگر شادی شدہ مرد ویسے بدکردار ہو تو بیوی اور گھر والے کہتے ہیں کوئی بات نہیں ٹھیک ہو جائے گا لیکن اگر وہی شخص کسی عورت سے دوسری شادی کر لے تو تمام معاشرہ اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتا ہے اور ایسے برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے اس شخص نے اور جس سے اس نے شادی کی ہے اس نے انتہائی گُناہ کا کام کیا ہے۔ ایسے ماحول میں فحاشی نہ فروغ پائے تو اور کیا ہو؟

اسی تناظر میں مُسلم معاشرہ میں ہونے والی ہم جنسی پر ایک‌ڈاکومنٹری لی ہے۔ کافی مشہور ہوئی تھی جب 2007 میں ریلیز ہوئی۔ ٹریلر:
جہادیوں سے درخواست ہے کہ جہاد کے اس رُخ کو بھی دیکھیں:)
 
Top