1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

سراج اورنگ آبادی :::::: جس کو مزا لگا ہے تِرے لب کی بات کا :::::: Siraj Aurangabadi

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 30, 2016

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,616
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزل
    سِراؔج اورنگ آبادی

    جس کو مزا لگا ہے تِرے لب کی بات کا
    ہرگز نہیں ہے ذَوق اُسے پِھر نبات کا

    دیکھے سے اُن لبوں کے جسے عُمرِ خضر ہے
    پیاسا نہیں ہے چشمۂ آبِ حیات کا

    اے شوخ! بزمِ ہجر میں روشن ہے شمعِ آہ
    قصّہ نہ پُوچھ مجھ سے جُدائی کی رات کا

    یا رب! طلب ہے داغِ محبّت کی مُہر کی
    مُدّت سے کام بند ہے دِل کی برات کا

    جو ہے شہیدِیار، وہ ہے زندۂ مُدام
    ہر زخم رُوح بخش ہے ظالم کی ہات کا

    آبِ رَواں ہے حاصِلِ عُمرِ شتاب رَو
    لَوحِ فنا میں نقش نہیں ہے ثبات کا

    اے بُت پرست! دیدۂ بینا سے دیکھ تو!
    اِک ذات میں ظہوُر بہت سی صِفات کا

    میرے بغل میں خواہشِ دُنیا کا بُت نہیں
    کُچلا ہے میں نے لات سے سر اُس منات کا

    رُخسارِ یار حلقۂ کاکُل میں ہے عیاں
    یا چاند ہے سراؔج اَماوَس کی رات کا

    سِراؔج اورنگ آبادی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر