نظیر جب سرِ زلف تا کمر پہونچا ۔ نظیر اکبر آبادی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2010

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جب سرِ زلف تا کمر پہونچا
    اس کمر کو بہت ضرر پہونچا

    ہلکی پہونچی سے بھی لچکتا ہے
    نازک اس کا ہے اس قدر پہونچا

    اے نسیمِ سحر تو اس گل کو
    بے کلی کی مری خبر پہونچا

    کہیو اے جاں ، نظیر کو تیرے
    رنجِ ہجر اب تو بیشتر پہونچا

    یا بُلا لے اسے اِدھر اے جاں
    یا تو ہی آپ کو ادھر پہونچا

    قطعہ
    نامۂ یار جو سحر پہونچا
    خوش رقم خوب وقت پر پہونچا

    تھا لکھا یوں کہ اے نظیر اب تک
    کس سبب تو ادھر نہیں پہونچا

    میں نے اس کو کہا کہ اے محبوب
    اس لیے میں نہیں ادھر پہونچا

    یوں سنا تھا تم آپی آتے ہو
    اس میں نامہ یہ پُر گہر پہونچا

    مجھ کو پہونچا ہی جانو اپنے پاس
    آج، کل، شام یا سحر پہونچا

    (نظیر اکبر آبادی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوب جناب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر