تُرکی میں فعلِ مجہول بنانے کا طریقہ

حسان خان

لائبریرین
"در جمله‌ای با فعل معلوم، جمله دارای فاعل است اما اگر فعل آن مجهول باشد، فاعلی در جمله دیده نخواهد شد و فعل با مفعول در تعامل خواهد بود. اگر فعلی مجهول باشد، ناگزیر باید از نوع فعل متعدی باشد. با الحاق یکی از پیوندهای چهارگانه «ین» و «یل» به انتهای فعل متعدی ترکی می توان فعل مجهول ساخت. برای نمونه از روی افعال متعدی «یازماق (نوشتن)، یئمک (خوردن)، بوغماق (غرق کردن)، بیلمک (دانستن)، اوخوماق (خواندن)» به افعال مجهول «یازیلماق (نوشته شدن)، یئییلمک (خورده شدن)، بوغولماق (غرق شدن)، بیلینمک (کشف شدن)، اوخونماق (خوانده شدن)» می‌رسیم."

"جس جُملے میں فعلِ معلوم ہو، اُس جُملے میں فاعل بھی ہوتا ہے، لیکن اگر اُس کا فعل مجہول ہو تو جُملے میں کوئی فاعل نہیں ہوتا، بلکہ فعل کا سروکار مفعول کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو فعل مجہول ہو وہ لازماً مُتعدّی افعال کی نوع سے تعلق رکھتا ہے۔ تُرکی میں افعالِ مُتعدّی کے آخر میں چہارگانہ شکلوں والے 'ین/ېن/ون/ۆن' یا 'یل/ېل/ول/ۆل' پیوندوں کا الحاق کر کے فعلِ مجہول بنایا جا سکتا ہے۔ مثلاً: یازماق/yazmaq (لکھنا)، یئمک/yemək (کھانا)، بۏغماق/boğmaq (غرق کرنا)، بیلمک/bilmək (جاننا)، اۏخوماق/oxumaq (خوانْنا، پڑھنا) جیسے افعالِ مُتعدّی سے یازېلماق/yazılmaq (لکھا جانا)، یئییلمک/yeyilmək (کھایا جانا)، بۏغولماق/boğulmaq (غرق ہونا)، بیلینمک/bilinmək (جانا جانا، کشف ہونا)، اۏخونماق/oxunmaq (خوانا/پڑھا جانا) جیسے افعالِ مجہول مُشتَق ہوں گے۔"

مأخذ

کوئی سوال ہو تو پوچھیے گا۔
 
آخری تدوین:
اس میں تفریق کس بنیاد پر ہو گی کہ کس کے ساتھ ۔ین ۔ون ۔وغیرہ جوڑا جائے اور کس کے ساتھ یل یا ول وغیرہ ؟
نیت ترکی مصادر کی اردو فارسی کی طرح کوئی متعین شکل ہو تی ہے ؟
جیسے اردو میں نا اور فارسی میں دن یا تن وغیرہ کی علامتیں عموما مصادر کو ظاہر کرتی ہیں ؟
 

حسان خان

لائبریرین
اس میں تفریق کس بنیاد پر ہو گی کہ کس کے ساتھ ۔ین ۔ون ۔وغیرہ جوڑا جائے اور کس کے ساتھ یل یا ول وغیرہ ؟
نیت ترکی مصادر کی اردو فارسی کی طرح کوئی متعین شکل ہو تی ہے ؟
جیسے اردو میں نا اور فارسی میں دن یا تن وغیرہ کی علامتیں عموما مصادر کو ظاہر کرتی ہیں ؟
فعل کو مجہول بنانے کے لیے کہاں 'یل' آئے گا، اور کہاں 'ین'، اِس کا شاید کوئی قاعدہ نہیں ہے، بلکہ یہ سماعی ہے۔ ہاں، یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مجہول بنانے کے لیے 'یل' کا استعمال زیادہ ہے، جبکہ 'ین' کمتر افعال میں استعمال ہوتا ہے۔ تُرکی میں تقریباَ ہر پسوَند (لاحقہ) کی دو یا چار ممکنہ شکلیں ہوتی ہیں، اور کہاں کون سی شکل آئے گی اِس کی بستگی اِس چیز پر ہوتی ہے کہ پسوَند سے قبل بُن (جڑ) کا آخری مصوّت/صائت (ووول) کون سا ہے، اور اِسی کو تُرکی زبان میں مصوّتی ہم آہنگی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
تُرکی میں مصدر کی علامت 'مک/ماق' ہے۔ جہاں اِس پسوَند سے ماقبل کے مصوّت دہن کے اگلے حصے سے نکلتے ہوں (ə, e, i, ö, ü) وہاں 'مک' آتا ہے، اور جہاں بُنِ فعل کا آخری مصوّت دہن کے عقبی حصے سے نکلتا ہو (a, ı, o, u)، وہاں علامتِ مصدر 'ماق' کا استعمال ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ترکی میں دوسری شادی کے لیے پرپوزل کا بھی کوئی طریقہ ہے کیا؟
شاید یہ کہنے سے آپ کا کام بن جائے:
سنی سئوییۏروم. بنیم‌له ائوله‌نیر می‌سین؟
Seni seviyorum. Benimle evlenir misin?
(میں تم سے محبّت کرتا ہوں۔ کیا مجھ سے ازدواج کرو گی؟)
 

فہیم

لائبریرین
شاید یہ کہنے سے آپ کا کام بن جائے:
سنی سئوییۏروم. بنیم‌له ائوله‌نیر می‌سین؟
Seni seviyorum. Benimle evlenir misin?
(میں تم سے محبّت کرتا ہوں۔ کیا مجھ سے ازدواج کرو گی؟)
میرا تو صرف سوال تھا بھائی، کام کیوں بنوا رہے ہیں:)

اور اس کا جوابی رد عمل تو بتانا تھا:)
 
فعل کو مجہول بنانے کے لیے کہاں 'یل' آئے گا، اور کہاں 'ین'، اِس کا شاید کوئی قاعدہ نہیں ہے، بلکہ یہ سماعی ہے۔ ہاں، یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مجہول بنانے کے لیے 'یل' کا استعمال زیادہ ہے، جبکہ 'ین' کمتر افعال میں استعمال ہوتا ہے۔ تُرکی میں تقریباَ ہر پسوَند (لاحقہ) کی دو یا چار ممکنہ شکلیں ہوتی ہیں، اور کہان کون سی شکل آئے گی اِس کی بستگی اِس چیز پر ہوتی ہے کہ پسوَند سے قبل بُن (جڑ) کا آخری مصوّت/صائت (ووول) کون سا ہے، اور اِسی کو تُرکی زبان میں مصوّتی ہم آہنگی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
بہت خوب ،
تُرکی میں مصدر کی علامت 'مک/ماق' ہے۔ جہاں اِس پسوَند سے ماقبل کے مصوّت دہن کے اگلے حصے سے نکلتے ہوں (ə, e, i, ö, ü) وہاں 'مک' آتا ہے، اور جہاں بُنِ فعل کا آخری مصوّت دہن کے عقبی حصے سے نکلتا ہو (a, ı, o, u)، وہاں علامتِ مصدر 'ماق' کا استعمال ہوتا ہے۔
دلچسپ !۔۔۔ اگر مصادر کی واضح علامت ہے تو یہ بات سیکھنے میں مدد گار ہو سکتی ہے اورشاید اس سے حال ماضی اور مستقبل کے سادہ فقرے بننے کی بھی متعین صورتیں ہوں گی ۔
 

حسان خان

لائبریرین
بہت خوب ،

دلچسپ !۔۔۔ اگر مصادر کی واضح علامت ہے تو یہ بات سیکھنے میں مدد گار ہو سکتی ہے اورشاید اس سے حال ماضی اور مستقبل کے سادہ فقرے بننے کی بھی متعین صورتیں ہوں گی ۔
ماضی کی علامت 'دی/دې/دو/دۆ' ہے، جس کو بُنِ فعل سے مُلحَق کر کے ماضیِ مُطلق بنایا جاتا ہے۔ مثلاً:
یازماق = لکھنا؛ نوشتن
یاز = بُنِ فعل
یازدې = اُس نے لکھا؛ نوشت

چھ اشخاص کے لیے تصریف اِس طرح ہو گی:
یازدېم/yazdım = میں نے لکھا؛ نوشتم
یازدېق/yazdıq = ہم نے لکھا؛ نوشتیم
یازدېن/yazdın = تم نے لکھا؛ نوشتی
یازدېنېز/yazdınız = آپ نے لکھا، تم سب نے لکھا؛ نوشتید
یازدې/yazdı = اُس نے لکھا؛ نوشت
یازدېلار/yazdılar = اُنہوں نے لکھا؛ نوشتند
 

حسان خان

لائبریرین
ماضی کی علامت 'دی/دې/دو/دۆ' ہے، جس کو بُنِ فعل سے مُلحَق کر کے ماضیِ مُطلق بنایا جاتا ہے۔ مثلاً:
یازماق = لکھنا؛ نوشتن
یاز = بُنِ فعل
یازدې = اُس نے لکھا؛ نوشت

چھ اشخاص کے لیے تصریف اِس طرح ہو گی:
یازدېم/yazdım = میں نے لکھا؛ نوشتم
یازدېق/yazdıq = ہم نے لکھا؛ نوشتیم
یازدېن/yazdın = تم نے لکھا؛ نوشتی
یازدېنېز/yazdınız = آپ نے لکھا، تم سب نے لکھا؛ نوشتید
یازدې/yazdı = اُس نے لکھا؛ نوشت
یازدېلار/yazdılar = اُنہوں نے لکھا؛ نوشتند
اور چونکہ 'یازماق' کے مجہول کا مصدر 'یازېلماق' ہے، اِس لیے فعلِ مجہول کا ماضیِ مُطلق بھی آسانی سے بنایا جا سکتا ہے: یازېلدېم (میں لکھا گیا؛ نوشته شدم)، یازېلدې (وہ لکھا گیا؛ نوشته شد) وعلیٰ ہٰذا القیاس۔
 

حسان خان

لائبریرین
دلچسپ !۔۔۔ اگر مصادر کی واضح علامت ہے تو یہ بات سیکھنے میں مدد گار ہو سکتی ہے اورشاید اس سے حال ماضی اور مستقبل کے سادہ فقرے بننے کی بھی متعین صورتیں ہوں گی ۔
ماضی کی علامت 'دی/دې/دو/دۆ' ہے، جس کو بُنِ فعل سے مُلحَق کر کے ماضیِ مُطلق بنایا جاتا ہے۔ مثلاً:
یازماق = لکھنا؛ نوشتن
یاز = بُنِ فعل
یازدې = اُس نے لکھا؛ نوشت

چھ اشخاص کے لیے تصریف اِس طرح ہو گی:
یازدېم/yazdım = میں نے لکھا؛ نوشتم
یازدېق/yazdıq = ہم نے لکھا؛ نوشتیم
یازدېن/yazdın = تم نے لکھا؛ نوشتی
یازدېنېز/yazdınız = آپ نے لکھا، تم سب نے لکھا؛ نوشتید
یازدې/yazdı = اُس نے لکھا؛ نوشت
یازدېلار/yazdılar = اُنہوں نے لکھا؛ نوشتند
ماضیِ مُطلق کے لیے تصریفِ فعل، اور مُصوّتی ہم آہنگی کی ایک اور مثال:
فعلِ 'گؤرمک/görmək' (دیکھنا) میں چونکہ بُنِ فعل 'گؤر/gör' کا آخری مصوّت 'اؤ/ö' ہے، جو دہن کے اگلے حصے سے نکلتا ہے اور گول ہے، اِس لیے اِس کا ماضیِ مُطلق بنانے کے لیے 'دی/دې/دو/دۆ' میں سے 'دۆ/dü' کو استعمال کیا جائے گا۔
گؤرمک/görmək = دیکھنا؛ دیدن
گؤر/gör = بُنِ فعل
گؤردۆم/gördüm = میں نے دیکھا؛ دیدم
گؤردۆن/gördün = تم نے دیکھا؛ دیدی
گؤردۆ/gördü = اُس نے دیکھا؛ دید
گؤردۆک/gördük = ہم نے دیکھا؛ دیدیم
گؤردۆنۆز/gördünüz = آپ نے دیکھا؛ دیدید
گؤردۆلر/gördülər = اُنہوں نے دیکھا؛ دیدند

مجہول مصدر کی تصریف:
گؤرۆلمک/görülmək = دِکھنا، دیکھا جانا؛ دیده شدن
گؤرۆل/görül = بُنِ فعل
گؤرۆلدۆم/görüldüm = میں دِکھا/دیکھا گیا؛ دیده شدم
گؤرۆلدۆن/görüldün = تم دِکھے/دیکھے گئے؛ دیده شدی
گؤرۆلدۆ/görüldü = وہ دِکھا/دیکھا گیا؛ دیده شد
گؤرۆلدۆک/görüldük = ہم دِکھے/دیکھے گئے؛ دیده شدیم
گؤرۆلدۆنۆز/görüldünüz = آپ دِکھے/دیکھے گئے؛ دیده شدید
گؤرۆلدۆلر/görüldülər = وہ دِکھے/دیکھے گئے؛ دیده شدند
(گؤر/gör' کا آخری مصوّت آخری مصوّت 'اؤ/ö' چونکہ دہن کے اگلے حصے سے نکلتا ہے اور گول ہے، لہٰذا مجہول بنانے کے لیے 'ۆل/ül' کا استعمال ہو گا۔)
 

حسان خان

لائبریرین
اس میں تفریق کس بنیاد پر ہو گی کہ کس کے ساتھ ۔ین ۔ون ۔وغیرہ جوڑا جائے اور کس کے ساتھ یل یا ول وغیرہ ؟
فعل کو مجہول بنانے کے لیے کہاں 'یل' آئے گا، اور کہاں 'ین'، اِس کا شاید کوئی قاعدہ نہیں ہے، بلکہ یہ سماعی ہے۔
مُعاف کیجیے، میرا یہ جواب نادرست تھا۔ تُرکی میں اِس کے بھی قواعد موجود ہیں:

جو بُن ہائے فعلِ مُتعدّی مُصوّت پر ختم ہوتے ہوں، اُن میں مجہول بنانے کے لیے صرف 'ن' کا اضافہ ہوتا ہے:
بکله‌مک/bəkləmək = انتظار کرنا، منتظر ہونا
بکله‌نمک/bəklənmək = انتظار ہونا، انتظار کیا جانا، موردِ انتظار ہونا

جو بُن ہائے فعل 'لام' پر ختم ہوتے ہیں، اُن کے لیے ''ین/ېن/ون/ۆن' میں سے کوئی ایک شکل استعمال ہوتی ہے:
بولماق/bulmaq = پانا؛ یافتن
بولونماق/bulunmaq = پایا جانا، مِلنا؛ یافته شدن

سیلمک/silmək = مِٹانا، محو کرنا
سیلینمک/silinmək = مِٹنا، محو ہونا

جو بُن ہائے فعل 'لام' کے علاوہ کسی اور صامت پر ختم ہوتے ہیں، اُن کو مجہول بنانے کے لیے 'یل/ېل/ول/ۆل' کو استعمال کیا جاتا ہے:
آچماق/açmaq = کھولنا
آچېلماق/açılmaq = کُھلنا؛ کھولا جانا

اونوتماق/unutmaq = بھولنا
اونوتولماق/unutulmaq = بُھلایا جانا، فراموش ہونا

کسمک/kəsmək = کاٹنا
کسیلمک/kəsilmək = کٹنا، کاٹا جانا
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
یہاں səni sevirim نہیں آئے گا؟
تُرکیہ میں 'سنی سئوه‌ریم' معشوقوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا، بلکہ 'سنی سئوییۏروم' استعمال ہوتا ہے، یعنی میں [اِس وقت] تم سے محبّت کرتا ہوں، یا میں اِس وقت تمہارے ساتھ حالِ محبّت میں ہوں۔ 'سنی سئوه‌ریم' کا مفہوم 'میں تم کو پسند کرتا ہوں' ہے، چونکہ یہ ماضی، حال، یا مستقبل کے زمانوں سے وابستگی کے بغیر ایک وسیع زمانے میں پھیلے ہوئے عام حُبّ کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ 'سئوییۏروم' تکلُّم کے وقت میں مُرتکِز شدید محبّت کا نشان دہندہ ہے۔ 'سئوه‌ریم' آپ کسی ایسے شخص سے بھی پریشانی کے بغیر کہہ سکتے ہیں، جس سے آپ 'عشق' نہیں کرتے، بلکہ اُس کو اُس کی کسی خصلت کی وجہ سے پسند کرتے ہیں، مثلاً آپ کے محلّے کا بقّال۔
'سئوییۏروم' اور 'ائدییۏروم' وغیرہ حالِ استمراری کے ساتھ ساتھ حالِ سادہ کے معنی بھی دیتے ہیں۔

نیز، جس طرح تاجکستان میں 'دارم می‌کنم' استعمال نہیں ہوتا، اور ایران میں 'کرده ایستاد‌ه‌ام' ذرا مُستعمل نہیں ہے، اُسی طرح آذربائجانی لہجے میں 'سئوییۏروم' استعمال نہیں ہوتا (اگرچہ قفقازی آذربائجانیوں کی تحریروں میں ۱۹۲۰ء تک آپ کو یہ صیغہ نظر آئے گا کیونکہ اُس وقت تک وہ استانبولی تُرکی استعمال کرتے تھے)، بلکہ اِس کی بجائے وہ 'سئویرم' استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کسی آذربائجانی سے بھی 'سئوییۏروم' کہیں گے تو وہ بھی ایک لحظہ توقُّف کے بغیر سمجھ جائے گا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(اگرچہ قفقازی آذربائجانیوں کی تحریروں میں ۱۹۲۰ء تک آپ کو یہ صیغہ نظر آئے گا کیونکہ اُس وقت تک وہ استانبولی تُرکی استعمال کرتے تھے)
مثلاً: آذربائجانی ادیب و شاعر حُسین جاوید (وفات: ۱۹۴۱ء)، جن کی بیشتر تحریریں اپنے ہم عصر آذربائجانی اُدَباء کی مانند اِستانبولی محاورے میں ہیں، کے ایک نمائش نامے 'آفت' (۱۹۲۲ء) سے اِس کی مثال دیکھیے:
"خایېر، یالان سؤیله‌مییۏروم، آند اۏلسون اویقوسوز گئجه‌لره، آند اۏلسون آغلار گؤزلره، آند اۏلسون گؤزه‌للیڲه و محببته، بن یالنېز سنی سئوییۏروم، یالنېز سانا قاووشماق ایستییۏروم."
"نہیں، میں دروغ نہیں کہہ رہا، قسم بے خواب شبوں کی، قسم گِریاں چشموں کی، قسم زیبائی و محبّت کی، کہ میں صرف تم سے محبّت کرتا ہوں، اور صرف تم سے واصل ہونا چاہتا ہوں۔"
"Xayır, yalan söyləmiyorum, and olsun uyqusuz gecələrə, and olsun ağlar gözlərə, and olsun gözəlliyə və məhəbbətə, bən yalnız səni seviyorum, yalnız sana qavuşmaq istiyorum."

اگر قفقازی آذربائجان پر شُورَویوں کا نامبارک استیلاء و غلبہ نہ ہو جاتا تو وہاں بلاشُبہہ آج بھی استانبولی معیار ہی استعمال ہو رہا ہوتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
کیا آذربایجانی ترکی میں فعلِ حال فقط ir والا فعل ہے.
ہاں، کہہ سکتے ہیں، کیونکہ آذربائجانی لہجے میں 'سؤیله‌مییۏروم'، 'سئوییۏروم'، اور 'ایستییۏروم' کو بالترتیب 'سؤیله‌میرم'، 'سئویرم' اور 'ایستیرم' کہا جائے گا۔ اور سادہ حال کے لیے آذربائجانی تُرکی میں عموماً یہی زمانۂ فعل استعمال ہوتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
فعلِ مجہول کے جملے میں استعمال کی ایک مثال:

گؤنده‌رمک/göndərmək = بھیجنا، فرستادن

دۏستوم مکتوب گؤنده‌ردی./Dostum məktub göndərdi.
میرے دوست نے مکتوب بھیجا۔

گؤنده‌ریلمک/göndərilmək = بھیجا جانا، فرستاده شدن

مکتوب گؤنده‌ریلدی./Məktub göndərildi.
مکتوب بھیجا گیا۔

مکتوب دۏستوم طرفیندن گؤنده‌ریلدی./Məktub dostum tərəfindən göndərildi.
مکتوب میرے دوست کی طرف سے بھیجا گیا۔
 
آخری تدوین:

نبیل

تکنیکی معاون
بہت معلوماتی دھاگہ ہے۔ اس کا عنوان قدرے مس لیڈنگ لگ رہا ہے۔ یہاں ترکی کی بجائے ترکی زبان ہو تو زیادہ بہتر رہے گا۔
اس طرح تو یوں معلوم ہو رہا ہے کہ ملک ترکی میں مجہول بنانے کی کوئی رسم بھی پائی جاتی ہے۔ :)
 
Top