کلیم عاجز تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ۔ ڈاکٹر کلیم عاجز

راشد اشرف

محفلین
jahan-kushbu-hi-kushbu-thee-kaleem-aajiz-arshi-pub-dehli-1981.jpg
 

راشد اشرف

محفلین
مذکورہ بالا دونوں خودنوشتیں کلیم عاجز کی تحریر کردہ ہیں

جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی
سن اشاعت: 1981

ابھی سن لو مجھ سے
سن اشاعت: 1992
 

باباجی

محفلین
واہ واہ بہت ہی خوب
مزہ آگیا مکمل پڑھ کر


یوں تو ہمیں منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو​
 

سید عمران

محفلین
گو پانچ سال بعد اس لڑی نے انگڑائی لی لیکن بہت خوب۔۔۔
اگرچہ یہ شعر تو بہت مشہور ہے ؎
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
لیکن ہم نے یہ شعر بھی سن رکھا تھا ؎
ہم خاک نشیں، تم سخن آرائے سرِ بام
پاس آ کے ملو، دُور سے کیا بات کرو ہو​

البتہ حیرت ہے کہ یہ شعر بھی مشہور کیوں نہ ہوا حالاں کہ موجودہ حالات کے مطابق ہے ؎
یوں تو ہمیں منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو​
 
Top