نیرنگ خیال

لائبریرین
چند دن پہلے کی بات ہے شہر سے باہر جاتی سڑک پر ایک کار سے کتا ٹکر گیا۔کار والا بغیررکے نکلتا چلا گیا۔ کتا شدید زخمی حالت میں سڑک پر کراہ رہا تھا۔ ہم جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر تھے۔ قبل اس کے ہم کتے تک پہنچتے۔ دو لڑکے موٹر سائیکل پر اس کے پاس رکے۔ جیب سے موبائل نکالا اور مرتے کتے کی ویڈیو بنانے لگے۔ ایک آدھے منٹ کی ویڈیو بنانے کے بعد وہ دونوں موٹر سائیکل پر بیٹھے اور یہ جا وہ جا۔ ہم کتے کے پاس پہنچے تو وہ مر چکا تھا۔ میں نے اور میرے دو ست نے کتے کو گھسیٹ کر ایک طرف کیا۔ دو چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کی مدد سے ایک گڑھا کھودا۔ اس میں کتے کو دفنا کر ہم دونوں پاس کے کھال پر بیٹھ کر ہاتھ پاؤں دھونے لگے۔ بات کچھ ایسی خاص نہ تھی کہ ذہن سے چپک جاتی۔

اس واقعے کے ایک یا دو دن بعد ایک واقف کار سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں معاشرے میں بڑھتی بےحسی بھی زیرِ موضوع آگئی۔ ان کا فرمانا تھا کہ لوگ اب ظالم ہوگئے ہیں۔ ان کے اندر انسانیت نام کو نہیں رہی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جیب سے موبائل نکالا۔ اور واٹس ایپ پر مجھے ایک مرتے کتے کی ویڈیو دکھانے لگے۔ کتا تکلیف سے آوازیں نکال رہا تھا۔ اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ ہل سکتا۔ رفتہ رفتہ اس کی آوازیں مدہم ہوتی چلی گئیں۔ یہ ویڈیو ایک منٹ کی بھی نہ تھی۔

"دیکھا آپ نے جنااااب!" انہوں نے مجھے سوچ میں گم پا کر کہا۔" کیسے وہ ظالم کار والا اس کو ٹکر مار کر نکلتا بنا۔ اس نے رکنے کی بھی زحمت نہیں کی۔"

"آپ کو کس نے بتایا کہ اس کو کار نے ٹکر ماری ہے؟" اگرچہ میں اس سوال کا جواب جانتا تھا لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں میں نے پوچھ لیا۔

"میرے چھوٹے بھائی نے مجھے بتایا ہے۔ یہ ویڈیو اسی نے بنائی ہے۔" انہوں نے فخریہ انداز میں جواب دیا۔

"کار والے نے جان بوجھ کر ٹکر نہیں ماری تھی۔ کتے اکثر سڑک پر گاڑیوں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ میں نے اسلام آباد میں خنزیروں کو بھی گاڑیوں سے ٹکرا کر مرتے دیکھا ہے۔ لیکن میری نظر میں زیادہ بےحس وہ لڑکے تھے جو وہاں مرتے کتے کی ویڈیو بناتے رہے۔ اور مرنے کے بعد اس کی لاش کو سڑک کے ایک طرف بھی نہ کیا اور اپنی راہ لیتے بنے۔ " میں نے اپنی سوچ ان کے سامنے بیان کرنے کی حماقت کردی۔

اوہ جاؤ بھئی! انہوں نے انتہائی ترش لہجے میں کہا۔ لیکن اس کے آگے وہ کچھ بول نہیں پائے چند ثانیے بعد اٹھ کر چل دیے۔ مجھے خدا حافظ کہنے کی زحمت بھی نہیں کی۔

اکثر سوشل میڈیا چینلز جیسے فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر میں نے دیکھا ہے کہ لوگ "دیکھیں اصل چہرہ"، "یہ ہیں ہمارے معاشرے کے مکروہ چہرے "، "انسانیت کے نام پر دھبہ" یا ان سے ملتے جلتے عنوانات کے ساتھ ویڈیوز شئیر کرتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں عموماً بااثر افراد اپنے ملازمین یا دست نگر لوگوں پر ظلم و تشدد کرتے پائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ویڈیو بنانے والے میں اتنا دم تو ہے کہ وہ اس کو یوٹیوب، فیس بک و دیگر چینلز پر اپلوڈ کر سکتا ہے۔ لیکن ویڈیو بنانے کے دوران وہ کبھی بھی کسی معاملے میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ چاہے کتنے ہی ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں۔ مظلوم مرتا مر جائے۔ لیکن اس ویڈیو بنانے والے کے ہاتھ نہیں کانپتے۔ دوران ویڈیو کیمرہ کی ہلکی سی لرزش بھی نظر نہیں آتی۔ وہ کبھی مظلوم کی داد رسی کی کوشش نہیں کرتا۔ کوشش تو ایک طرف پوری ویڈیو میں اس کی طرف سے شاید ہی کوئی لفظ بھی اس کے خلاف نکلتا ہو۔ مزید مشاہدہ یہ بھی ہے کہ یہ ویڈیوز چھپ کر نہیں بنائی جاتیں۔ کیوں کہ زیادہ تر ایسی ویڈیوز میں کیمرے کا زاویہ ایک نہیں ہوتا۔ ہر زوایے سے گھوم پھر مظلوموں کی آہ و بکا ریکارڈ کی جاتی ہے۔ تاکہ وہ پتھر دل جو فیس بک، یوٹیوب یا ایسے دیگر چینلز پر اس ویڈیو کو دیکھیں۔ ان کے دل پگھل جائیں۔ اور وہ بھی عملی طور پر لعن طعن کرکے ایک صحت مندذہن رکھنے کا ثبوت دے سکیں۔ کیا "خود نمائی" اور "لائکس" کے چکر میں ہم انسانیت کی بنیادی اقدار بھی بھلا بیٹھے ہیں۔

بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر آگ کا درخت ہوتا تو شعلہ اس کا پھل ہوتا ۔ "ظلم کی توفیق ہے ہر ظالم کی وراثت" کے مصداق ہر ظالم ظلم میں تو مصروف ہے۔ لیکن یہ جو بالکل ایک نئی طرز کی نسل دریافت ہوئی ہے۔ یہ کن میں شمار ہوتی ہے۔ یہ جو ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کر کے درد سمیٹتے ہیں۔ یہ کس کے طرفدار ہیں۔ ظالم کے یا مظلوم کے؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ اب یہاں پر ایک تیسری درجہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔
 
بھائی، میڈیا کی اخلاقیات کا کمال ہے سارا۔ جغادری قسم کے اربابِ صحافت کا قول ہے کہ پیاس سے مرتے ہوئے شخص کی کیفیات کا احاطہ کرنا ایک صحافی کا اصل وظیفہ ہے نہ کہ اسے پانی پلانا۔
المیہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کے پاس کیمرہ ہے اس نئی اخلاقیات کا حامل ہو گیا ہے۔ یہ لوگ ظالم نہیں ہیں۔ ریاکار ہیں۔ یہ دکھ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شریک کرنا انسانیت کا حقیقی تقاضا سمجھتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے شیئرنگ بٹنز نے ہمدردی کے روایتی معیارات کو ہلا دیا ہے۔
عوام احمق ہوتی ہے، لالہ۔ یہ بیچارے تو اپنے تئیں عین نیکی بجا لا رہے ہیں۔ یہ کام تو اربابِ حل و عقد کا ہے کہ وہ عوام کالانعام کے رویوں کو جانچیں اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کو مناسب راہ دکھاتے رہیں۔ میڈیا بہت بڑا آلہ ہے ذہن سازی کا۔ لیکن ایک پنجابی محاورے کے مطابق کمہار کو لعل ملا تھا تو اس نے اپنے گدھے کے گلے میں باندھ دیا تھا۔ یہی کام وطنِ عزیز میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ہوا ہے۔ میڈیا ان لوگوں کے حوالے ہو گیا ہے جنھیں سنسنی خیزی کے علاوہ کسی قدر کا پتا ہی نہیں۔ عوام کیا سیکھ رہے ہیں، میڈیا کیا سکھا رہا ہے کسی کو ہوش نہیں۔
 

غدیر زھرا

لائبریرین
بالکل درست۔۔اور ایسے فیس بک صحافی کہ جن کو صحافت کی الف بے معلوم نہیں اس شعبے کو بدنام کئے دے رہے ہیں۔۔جب تک ہم ان کو داد دیتے رہیں گے ایسے میڈیا چینلز کو فالو کرتے رہیں گے یہی ہو گا۔۔ آپ کی سوچ سب کو اپنانی ہو گی۔۔
 
سوشل میڈیا کی اکثریتی پوسٹس ان 2 بٹنوں لائیکس اور شئیر کی زیادہ تعداد حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ جو شاید کسی نفسیاتی عارضے کا وقتی علاج ہیں۔۔۔ شاید
اور تو اور اب تو مسلمان ہونے کا پختہ ثبوت دینے کے لیے بهی ہم ان دو بٹنوں کے محتاج ہو گئے ہیں۔:p
۔۔۔۔
arifkarim
جناب اس مسئلے کے بارے میں جدید سائینس کیا فرماتی ہے۔
 

محمدظہیر

محفلین
سڑک پر ایک کار سے کتا ٹکر گیا۔کار والا بغیررکے نکلتا چلا گیا۔ کتا شدید زخمی حالت میں سڑک پر کراہ رہا تھا۔ ہم جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر تھے۔ قبل اس کے ہم کتے تک پہنچتے۔ دو لڑکے موٹر سائیکل پر اس کے پاس رکے۔ جیب سے موبائل نکالا اور مرتے کتے کی ویڈیو بنانے لگے
آپ کتوں کی بات کررہے ہیں، ہمارے شہر میں دو نوجوان بائک چلاتے ہوئے لاری کے نیچے آگئے ۔ ایک موقع پر فوت ہوگیا دوسرا تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ وہاں سے آتے جاتے لوگوں میں سے کسی نے بھی مدد نہیں کی ۔ لوگ کھڑے دیکھتے رہے اور بعض لوگوں نے ویڈیو بنائی۔ جس نے ویڈیو مجھے بتائی ان سے پوچھا کہ وہاں کھڑے ہوئے لوگوں نے لڑکوں کو ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا تو انہوں نے کہا حادثوں میں پولیس کیس کا ڈر رہتا ہے اس لیے کسی نے بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کی۔ ویڈیو دیکھ کر اور ان کی بات سن کر بہت افسوس ہوا۔
ان بے رحم لوگوں نے بیچاروں کی مدد نہیں کی کم از کم ویڈیو بنانے سے گریز کرتے ۔ وہ لوگ ویڈیو نہیں بناتے تو ہمیں اس بارے میں کیسے معلوم ہوتا کہ ہمارے علاقے میں ایسے ظالم لوگ بھی بستے ہیں جو کسی مرتے ہوئے انسان کو بچانے کی کوشش کرنے کے بجائے ویڈیو بناتے ہیں اور بعض تماشا سمجھ کر دیکھتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
آگہی کی جانب بلاتی اک صدائے دل درد مند
ہمارا سوشل میڈیا کیمرے سے صرف تخریب کی ترویج کرتا ہے ۔
چاہے اس کیمرے کے پیچھے اک نوجوان ہو یا پھر کوئی بوڑھا ۔
لائک اور شئرنگ کی دوڑ میں بنیادی انسانی اقدار بہت پیچھے رہ چکی ہیں ۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین
بہت دعائیں
 

arifkarim

معطل
arifkarim
جناب اس مسئلے کے بارے میں جدید سائینس کیا فرماتی ہے۔
سائنس انسانیت پرست ہے۔ تمام سائنسی ایجادات انسانی زندگی سہل بنانے کیلئے ہی بنائی گئیں۔ جیسے موٹر کار، موٹر سائیکل وغیرہ۔ اب ظالم انسان اسکا ٹھیک طریقہ سے استعمال نہیں کر پاتا تو اسمیں جدید سائنس کا کیا قصور؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ غاروں میں رہنے والے انسان کو لال ٹین تھما دیا جائے اور پورے غار کو جلا کر راکھ کر دینے کا الزام اس کی روشنی پر لگا دیا جائے۔ بھئی جب گاڑی و موٹر بائیک ٹھیک سے چلانا نہیں آتا تو لائسنس کیسے مل گیا؟
 

arifkarim

معطل
آپ کتوں کی بات کررہے ہیں، ہمارے شہر میں دو نوجوان بائک چلاتے ہوئے لاری کے نیچے آگئے ۔ ایک موقع پر فوت ہوگیا دوسرا تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ وہاں سے آتے جاتے لوگوں میں سے کسی نے بھی مدد نہیں کی ۔ لوگ کھڑے دیکھتے رہے اور بعض لوگوں نے ویڈیو بنائی۔ جس نے ویڈیو مجھے بتائی ان سے پوچھا کہ وہاں کھڑے ہوئے لوگوں نے لڑکوں کو ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا تو انہوں نے کہا حادثوں میں پولیس کیس کا ڈر رہتا ہے اس لیے کسی نے بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کی۔ ویڈیو دیکھ کر اور ان کی بات سن کر بہت افسوس ہوا۔
ان بے رحم لوگوں نے بیچاروں کی مدد نہیں کی کم از کم ویڈیو بنانے سے گریز کرتے ۔ وہ لوگ ویڈیو نہیں بناتے تو ہمیں اس بارے میں کیسے معلوم ہوتا کہ ہمارے علاقے میں ایسے ظالم لوگ بھی بستے ہیں جو کسی مرتے ہوئے انسان کو بچانے کی کوشش کرنے کے بجائے ویڈیو بناتے ہیں اور بعض تماشا سمجھ کر دیکھتے ہیں۔
آپ لاری کی بات کرتے ہیں۔ ابھی کچھ ہی سال قبل اسی طرح دو افراد کو سر عام ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا اور تماشائی مجمع سے کسی ایک نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
 
سائنس انسانیت پرست ہے۔ تمام سائنسی ایجادات انسانی زندگی سہل بنانے کیلئے ہی بنائی گئیں۔ جیسے موٹر کار، موٹر سائیکل وغیرہ۔ اب ظالم انسان اسکا ٹھیک طریقہ سے استعمال نہیں کر پاتا تو اسمیں جدید سائنس کا کیا قصور؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ غاروں میں رہنے والے انسان کو لال ٹین تھما دیا جائے اور پورے غار کو جلا کر راکھ کر دینے کا الزام اس کی روشنی پر لگا دیا جائے۔ بھئی جب گاڑی و موٹر بائیک ٹھیک سے چلانا نہیں آتا تو لائسنس کیسے مل گیا؟
میں لائیکس اور شئیرنگ کے نوٹیفیکیشنز اور ان سے حاصل ہوئی وقتی لذت کے بارے میں جدید سائنس کی رائے جاننا چاہ رہا تها.
براہ کرم اس پر بات کیجیے. کیونکہ یہ عارضہ کسی وبا کی طرح پهیل چکا ہے
 

جاسمن

مدیر
یہ بے حسی تو ہر طرف پھیل رہی ہے۔ٹی وی کے مختلف چینلز پہ نیوز ریڈرز مسکراتے ہوئے حادثات کی خبریں سنا رہے ہوتے ہیں۔ کسی پروگرام میں اوپر حادثوں کی کوریج چل رہی ہوتی ہے اور نیچے کی پٹی میں خوشی کی خبریں ہوتی ہیں۔یا پھر حادثوں کی کوریج یا خبروں کے ساتھ ساتھ ایک طرف چھوٹے چھوٹے خوشیوں بھرے اشتہار چل رہے ہوتے ہیں۔اینکرز ہنس رہے ہیں،مہمان تالیاں پیٹ رہے ہیں اور پٹی چل رہی ہے کہ غائب افراد کا پتہ نہیں چل رہا۔ لواحقین پریشان۔۔۔۔۔ہمارا کوئی قبلہ کعبہ نہیں۔ جس کا جدھر کو جی چاہ رہا ہے،چل رہا ہے۔
پچھلے سال "عافیت" کے مکینوں کے ساتھ ایک دن گذارا۔اُن کے لئے اچھا سا کھانا بنایا اور وین پہ انہیں لے کے پارک گئے۔ واپس آئے تو باہر لان میں ایک چیل زخمی حالت میں پڑی تھی۔ اُسے اُٹھایا، کئی جگہ گئے لیکن شاید چھٹی کی وجہ سے کلینک بند تھے۔ پھر ملازم کو اُس کے علاج کے لئے پیسے دے کر آئے۔ بچے بھی بہت افسردہ تھے۔کیمرہ پاس تھا لیکن کسی نے بھی اُس چیل کی تصویروں کے بارے میں نہیں سوچا۔
نیرنگ خیال بھیا!آپ کی بیان کردہ حقیقت دل دکھانے والی ہے۔۔۔لیکن ابھی کتے کو اُٹھا کر دفنانے والے بھی ہیں اور چیل کے علاج کے لئے مارے مارے پھرنے والے بھی ہیں۔۔۔۔۔۔ابھی انسانیت زندہ ہے۔۔۔آئیں صلۂ رحمی،ایثارو ہمدردی کے سبق پڑھیں اور پڑھائیں۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

عبدالحسیب

محفلین
عوامی رابطے کی سائٹس و اطلاقیے سے دوری کا ایک سبب یہ المیہ بھی رہا ہے۔ اکثراس طرح کی مناظر سامنے آتے رہتے ہیں اور عوام مکمل دیکھ بھی لیتی ہے اور صدقہ جاریہ کی طرح دس اور لوگوں کو 'مزید آگے بھیجیں'کی ہدایت کے ساتھ بھیج دیتے ہیں۔ کیا تیکنالوجی کا اس بھی بد ترین استعمال ممکن ہے؟
 

عبدالحسیب

محفلین
نین بھائی اللہ جزائے خیر دے کہ آپ نے اس مرض کی نشاندہی کی۔ ممکن ہے اس تحریر سے ہی چند ایک مریض ٹھیک ہو جائیں۔ آپ کی اجازت ہو تو یہ تحریر شئیر کرنا چاہوں گا۔
 

arifkarim

معطل
عوامی رابطے کی سائٹس و اطلاقیے سے دوری کا ایک سبب یہ المیہ بھی رہا ہے۔ اکثراس طرح کی مناظر سامنے آتے رہتے ہیں اور عوام مکمل دیکھ بھی لیتی ہے اور صدقہ جاریہ کی طرح دس اور لوگوں کو 'مزید آگے بھیجیں'کی ہدایت کے ساتھ بھیج دیتے ہیں۔ کیا تیکنالوجی کا اس بھی بد ترین استعمال ممکن ہے؟
سوشل میڈیا کا مقصد متبادل عوامی میڈیا فراہم کرنا تھا۔ بہت افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دیسیوں نے اسکی بھی واٹ لگادی!
 

arifkarim

معطل
میں لائیکس اور شئیرنگ کے نوٹیفیکیشنز اور ان سے حاصل ہوئی وقتی لذت کے بارے میں جدید سائنس کی رائے جاننا چاہ رہا تها.
براہ کرم اس پر بات کیجیے. کیونکہ یہ عارضہ کسی وبا کی طرح پهیل چکا ہے
یہ سائکولوجی کی فیلڈ ہے۔ سائنس تو اس حوالے سے یہی بتا تی ہے کہ سوشل میڈیا پر بے تحاشہ وقت گزارنا سیلفیز لینے کی طرح کا ہی ایک عارضہ ہے۔ درحقیقت جن لوگوں کی اپنی اندرونی ساخت کمزور ہوتی ہے، وہ سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے اپنے آپکو بہتر محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ ان لائکس اور نوٹی فکیشن وغیرہ انکی اصل زندگی پر رتی برابر بھی اثر نہیں پڑتا۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
بھائی، میڈیا کی اخلاقیات کا کمال ہے سارا۔ جغادری قسم کے اربابِ صحافت کا قول ہے کہ پیاس سے مرتے ہوئے شخص کی کیفیات کا احاطہ کرنا ایک صحافی کا اصل وظیفہ ہے نہ کہ اسے پانی پلانا۔
المیہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کے پاس کیمرہ ہے اس نئی اخلاقیات کا حامل ہو گیا ہے۔ یہ لوگ ظالم نہیں ہیں۔ ریاکار ہیں۔ یہ دکھ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شریک کرنا انسانیت کا حقیقی تقاضا سمجھتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے شیئرنگ بٹنز نے ہمدردی کے روایتی معیارات کو ہلا دیا ہے۔
عوام احمق ہوتی ہے، لالہ۔ یہ بیچارے تو اپنے تئیں عین نیکی بجا لا رہے ہیں۔ یہ کام تو اربابِ حل و عقد کا ہے کہ وہ عوام کالانعام کے رویوں کو جانچیں اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کو مناسب راہ دکھاتے رہیں۔ میڈیا بہت بڑا آلہ ہے ذہن سازی کا۔ لیکن ایک پنجابی محاورے کے مطابق کمہار کو لعل ملا تھا تو اس نے اپنے گدھے کے گلے میں باندھ دیا تھا۔ یہی کام وطنِ عزیز میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ہوا ہے۔ میڈیا ان لوگوں کے حوالے ہو گیا ہے جنھیں سنسنی خیزی کے علاوہ کسی قدر کا پتا ہی نہیں۔ عوام کیا سیکھ رہے ہیں، میڈیا کیا سکھا رہا ہے کسی کو ہوش نہیں۔
درست فرمایا راحیل بھائی۔۔۔

یہ عصرِ رواں کا ایک المیہ ہے۔ افسوس ناک۔
متفق سر

بالکل درست۔۔اور ایسے فیس بک صحافی کہ جن کو صحافت کی الف بے معلوم نہیں اس شعبے کو بدنام کئے دے رہے ہیں۔۔جب تک ہم ان کو داد دیتے رہیں گے ایسے میڈیا چینلز کو فالو کرتے رہیں گے یہی ہو گا۔۔ آپ کی سوچ سب کو اپنانی ہو گی۔۔
سچ کہا غدیر۔۔۔۔ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔

معاشرے کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت
اللہ ہمیں صلہ رحمی کی توفیق دے اور ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین
آمین

سوشل میڈیا کی اکثریتی پوسٹس ان 2 بٹنوں لائیکس اور شئیر کی زیادہ تعداد حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ جو شاید کسی نفسیاتی عارضے کا وقتی علاج ہیں۔۔۔ شاید
اور تو اور اب تو مسلمان ہونے کا پختہ ثبوت دینے کے لیے بهی ہم ان دو بٹنوں کے محتاج ہو گئے ہیں۔:p
۔۔۔۔
arifkarim
جناب اس مسئلے کے بارے میں جدید سائینس کیا فرماتی ہے۔
واقعی۔۔۔ بس اب لائک و ڈس لائک ہی رہ گیا ہے زندگی میں۔۔۔

آپ کتوں کی بات کررہے ہیں، ہمارے شہر میں دو نوجوان بائک چلاتے ہوئے لاری کے نیچے آگئے ۔ ایک موقع پر فوت ہوگیا دوسرا تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ وہاں سے آتے جاتے لوگوں میں سے کسی نے بھی مدد نہیں کی ۔ لوگ کھڑے دیکھتے رہے اور بعض لوگوں نے ویڈیو بنائی۔ جس نے ویڈیو مجھے بتائی ان سے پوچھا کہ وہاں کھڑے ہوئے لوگوں نے لڑکوں کو ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا تو انہوں نے کہا حادثوں میں پولیس کیس کا ڈر رہتا ہے اس لیے کسی نے بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کی۔ ویڈیو دیکھ کر اور ان کی بات سن کر بہت افسوس ہوا۔
ان بے رحم لوگوں نے بیچاروں کی مدد نہیں کی کم از کم ویڈیو بنانے سے گریز کرتے ۔ وہ لوگ ویڈیو نہیں بناتے تو ہمیں اس بارے میں کیسے معلوم ہوتا کہ ہمارے علاقے میں ایسے ظالم لوگ بھی بستے ہیں جو کسی مرتے ہوئے انسان کو بچانے کی کوشش کرنے کے بجائے ویڈیو بناتے ہیں اور بعض تماشا سمجھ کر دیکھتے ہیں۔
آپ بھی عمومی زندگی میں ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کیجیے۔


آگہی کی جانب بلاتی اک صدائے دل درد مند
ہمارا سوشل میڈیا کیمرے سے صرف تخریب کی ترویج کرتا ہے ۔
چاہے اس کیمرے کے پیچھے اک نوجوان ہو یا پھر کوئی بوڑھا ۔
لائک اور شئرنگ کی دوڑ میں بنیادی انسانی اقدار بہت پیچھے رہ چکی ہیں ۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین
بہت دعائیں
سچ کہا نایاب بھائی۔

یہ بے حسی تو ہر طرف پھیل رہی ہے۔ٹی وی کے مختلف چینلز پہ نیوز ریڈرز مسکراتے ہوئے حادثات کی خبریں سنا رہے ہوتے ہیں۔ کسی پروگرام میں اوپر حادثوں کی کوریج چل رہی ہوتی ہے اور نیچے کی پٹی میں خوشی کی خبریں ہوتی ہیں۔یا پھر حادثوں کی کوریج یا خبروں کے ساتھ ساتھ ایک طرف چھوٹے چھوٹے خوشیوں بھرے اشتہار چل رہے ہوتے ہیں۔اینکرز ہنس رہے ہیں،مہمان تالیاں پیٹ رہے ہیں اور پٹی چل رہی ہے کہ غائب افراد کا پتہ نہیں چل رہا۔ لواحقین پریشان۔۔۔۔۔ہمارا کوئی قبلہ کعبہ نہیں۔ جس کا جدھر کو جی چاہ رہا ہے،چل رہا ہے۔
پچھلے سال "عافیت" کے مکینوں کے ساتھ ایک دن گذارا۔اُن کے لئے اچھا سا کھانا بنایا اور وین پہ انہیں لے کے پارک گئے۔ واپس آئے تو باہر لان میں ایک چیل زخمی حالت میں پڑی تھی۔ اُسے اُٹھایا، کئی جگہ گئے لیکن شاید چھٹی کی وجہ سے کلینک بند تھے۔ پھر ملازم کو اُس کے علاج کے لئے پیسے دے کر آئے۔ بچے بھی بہت افسردہ تھے۔کیمرہ پاس تھا لیکن کسی نے بھی اُس چیل کی تصویروں کے بارے میں نہیں سوچا۔
نیرنگ خیال بھیا!آپ کی بیان کردہ حقیقت دل دکھانے والی ہے۔۔۔لیکن ابھی کتے کو اُٹھا کر دفنانے والے بھی ہیں اور چیل کے علاج کے لئے مارے مارے پھرنے والے بھی ہیں۔۔۔۔۔۔ابھی انسانیت زندہ ہے۔۔۔آئیں صلۂ رحمی،ایثارو ہمدردی کے سبق پڑھیں اور پڑھائیں۔۔۔۔
سچ کہا بیٹا۔۔۔ لیکن کم کم رہ گئے ہیں۔۔۔

صد۔۔۔

عوامی رابطے کی سائٹس و اطلاقیے سے دوری کا ایک سبب یہ المیہ بھی رہا ہے۔ اکثراس طرح کی مناظر سامنے آتے رہتے ہیں اور عوام مکمل دیکھ بھی لیتی ہے اور صدقہ جاریہ کی طرح دس اور لوگوں کو 'مزید آگے بھیجیں'کی ہدایت کے ساتھ بھیج دیتے ہیں۔ کیا تیکنالوجی کا اس بھی بد ترین استعمال ممکن ہے؟
ممکن ہے۔۔۔۔ انسان کو "انڈر ایسٹیمیٹ" نہ کریں۔۔۔

نین بھائی اللہ جزائے خیر دے کہ آپ نے اس مرض کی نشاندہی کی۔ ممکن ہے اس تحریر سے ہی چند ایک مریض ٹھیک ہو جائیں۔ آپ کی اجازت ہو تو یہ تحریر شئیر کرنا چاہوں گا۔
یہ میری عزت افزائی ہوگی۔ آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں :)

سوشل میڈیا کا مقصد متبادل عوامی میڈیا فراہم کرنا تھا۔ بہت افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دیسیوں نے اسکی بھی واٹ لگادی!
کیا اس سلسلے میں دیسی و بدیسی کا فرق قائم ہے؟ میں کافی یورپین کمیونٹیز کا بھی ممبر ہوں۔ اور مجھے پتا ہے کہ ان کے ہاں کیا حالات ہیں۔ صرف دیسیوں کو مورد الزام ٹھہرانا سوچ کی ناپختگی کے علاوہ کچھ نہیں۔
 

arifkarim

معطل
کیا اس سلسلے میں دیسی و بدیسی کا فرق قائم ہے؟ میں کافی یورپین کمیونٹیز کا بھی ممبر ہوں۔ اور مجھے پتا ہے کہ ان کے ہاں کیا حالات ہیں۔ صرف دیسیوں کو مورد الزام ٹھہرانا سوچ کی ناپختگی کے علاوہ کچھ نہیں۔
یہاں زیادہ تر سوشل میڈیا گروپس میں بےہودہ گفتگو نہیں کی جاتی۔ عموماً پوسٹس اسی بارہ میں ہوتی ہیں جسکے لئے گروپ بنایا گیا ہو۔ لیکن ظاہر ہے، ٹھرکی قسم کے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ یورپ و امریکہ میں انکی قلت نہیں۔
 
یہاں زیادہ تر سوشل میڈیا گروپس میں بےہودہ گفتگو نہیں کی جاتی۔ عموماً پوسٹس اسی بارہ میں ہوتی ہیں جسکے لئے گروپ بنایا گیا ہو۔ لیکن ظاہر ہے، ٹھرکی قسم کے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ یورپ و امریکہ میں انکی قلت نہیں۔
دیسی ولایتی کا کوئی چکر نہیں، ان کا انداز ہمارے واٹ لگانے سے جداگانہ ہے اور یہ کوئی انوکهی بات نہیں۔ مشرق اور مغرب کی معاشرت میں بہت سے فرق ہیں اسے بهی انهی میں شمار کر لینا چاہیے۔
 
Top