تحریکِ انصاف حکومت: منشور اور وعدے

جاسم محمد

محفلین
تحریک انصاف حکومت نے پہلی بار عوام کو وزیر اعظم محل کی سیر کرا دی۔ دیکھیے سابقہ حکمران قومی خرچے پر کس عالی شان محل میں رہتے رہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
ویسے لازم ذاتی چیز کو بیچنا اور پھر اسی ضرورت کو کرائے کی چیز لے کر پورا کرنا اتنا اکنومیکل ہوتا تو لوگ کرائے کے گھروں سے بھاگ کر اپنا چاہے چھوٹا ہی سہی، گھر بنانے پر اتنا اصرار کیوں کرتے ہیں بھلا۔
ہمارے ایک رشتہ دار نے اپنی بھینس ایک دوسرے رشتہ دار کو ادھار پہ بیچ دی۔ یعنی قیمت کچھ ماہ بعد ادا کرنا ٹھہری۔
اب بھینس کا پرانا مالک نئے مالک سے قیمتا دودھ خریدنے لگا۔
میں نے اس بات پہ بہت شور مچایا کہ یہ کیا طریقہ ہے۔ اپنی بھینس بیچی اور وہ بھی مکمل ادھار پہ۔ اب دودھ اس سے خرید کے لا رہے ہو۔ عقل بند بندے!:D
 

فرحت کیانی

لائبریرین
اور یوں وی آئی پی کلچر کے تابوت میں آخری کیل 'ٹھوک' دیا گیا-

آپ کو نہیں معلوم کہ وزیر اعظم کو ہر وقت کام کرنا ہوتا ہے تو بجلی تو بلا تعطل چاہیے ہوتی ہے نا۔ ویسے بھی اگر بجلی کا مسئلہ ہو تو جنریٹر لگوانا پڑے گا اور اس کے فیول کا بھی خرچہ ہو گا۔ اب کیا ایک ملک کا وزیراعظم اتنا بھی حق نہیں رکھتا کہ اس کے گھر کے لیے صرف ایک بجلی کی لائن بچھائی جا سکے۔ حد ہے ویسے آپ لوگوں کے تعصب کی۔ دوسری بات یہ ہے کہ وزیر اعظم سرکاری رہائش گاہوں میں رہ کر خرچے بڑھانے کے قائل نہیں ہیں۔تو اب جہاں رہیں گے وہاں کچھ تو کرنا ہو گا۔ آپ کو علم نہیں کہ وزیر اعظم کی سیکیوریٹی کتنی اہم ہے۔ بجلی کا مسئلہ ہو جائے اور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کوئی چور گھر میں گھس کر ایک بسکٹ کا ڈبا ہی اٹھا کر لے جائے تو سوچیں ہمارے بین الاقوامی تعلقات پر کتنا بُرا اثر پڑے گا کیوں کہ وزیر اعظم تو کسی صورت سرکاری خزانے سے فالتو بسکٹ کا ڈبا نہیں منگوائیں گے۔
آپ چاہیں تو فواد چودھری سے اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ آخر انھوں نے ہیلی کاپٹر کے معاملے میں بھی عوام کو کیسے مطمئن کر دیا تھا۔
لہذا آپ بھی بات کو سمجھیں اور کوشش کریں کہ بے جا تنقید سے گریز کیا جائے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اور یوں وی آئی پی کلچر کے تابوت میں آخری کیل 'ٹھوک' دیا گیا-
گورنر ہاؤس سندھ شہریوں کیلئے کھل گیا
گورنرسندھ عمران اسماعیل کی ہدایت پر کراچی میں واقع گورنر ہاؤس سندھ کا مخصوص حصہ عوام کے لیے آج 7 ستمبر 2018ء کی صبح سے کھول دیا گیا ہے۔

گورنر ہاؤس کے مخصوص حصے میں واقع پارک میں شہریوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

شہریوں کی گورنر ہاؤس آمد کے موقع نو منتخب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے شہریوں سے ملاقات بھی کی۔

گزشتہ روز گورنر سندھ کی جانب سے گورنرہاؤس میں شہریوں کے داخلے کی ہدایات جاری کردی گئی تھیں۔

اس سلسلے میں جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق شہری گیٹ نمبر ایک سے شناخت کے بعد گورنر ہاؤس میں داخل ہوسکیں گے، گورنر ہاؤس میں گروپ کی صورت میں داخلے کے لیے پیشگی تحریری درخواست دے کر اجازت حاصل کرنی ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہری روزانہ صبح 6 بجے سے 10 بجے تک گورنر ہاؤس آ سکتے ہیں، جبکہ اتوار کے روز شام 4:30 سے 6:30 بجے تک ہوگا ۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ گورنرہاؤس قومی اثاثہ ہے اس لئے اس کی دیکھ بھال ہم سب کی ذمہ داری ہے، گورنرہاؤس کی املاک کو نقصان پہنچانا قانوناً جرم ہوگا ۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت میں جگہ خالی کرائی جا سکتی ہے، طلب کرنے پر مذکورہ فرد کو اپنی شناخت کروانا ہوگی جبکہ اس دوران نگہبان کیمرے بھی کام کررہے ہوں گے۔

اس سے قبل اس حوالے سے گورنر ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کی عمارت تاریخی ہے اور یہاں نایاب اشیاء موجود ہیں جبکہ شہری گورنر ہاؤس کے پارک میں بھی گھوم پھر سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ میں صرف گورنر ہاؤس کے 2 کمرے اور ایک گاڑی استعمال کر رہا ہوں جبکہ پہلے 40 گاڑیاں گورنر کے پروٹوکول میں ہوتی تھیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن سے قبل اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی حکومت بن گئی تو تمام گورنر ہاؤسز کو فلاحی کاموں کے لیے استعمال میں لائیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اور یوں وی آئی پی کلچر کے تابوت میں آخری کیل 'ٹھوک' دیا گیا-
DmpqCTRXgAEtvf6.jpg
 

جاسم محمد

محفلین
یہ کوئی ایسے سٹیپ نہیں کہ جن سے عوام کو فائدہ پہنچے۔ عوام کو گورنر ہاؤس کی سیر کرنے سے کیا ریلیف ملے گا؟
عمران خان نے الیکشن کمپین میں وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرا دی جائیں گی۔ عوام کے لئے یہ محل نما گھر کھول دئے جائیں گے۔ یہ سٹیپ ان وعدوں کی تکمیل ہے۔ امکان ہےکچھ سالوں تک ان گھروں کو تعلیمی ادارہ، کتب خانہ، عجائب گھر یا کچھ اور بنا دیا جائے۔ ابھی شروعات ہیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
تحریک انصاف کے زیادہ تر اقدامات نمائشی نوعیت کے ہیں۔ غالباََ مسٹر محمد خان جونیجو اور ایک زمانے میں نواز شریف صاحب بھی اس طرح کے نمائشی اقدامات میں مصروف رہے۔ اصل معاملات کی طرف زیادہ توجہ صرف نہیں کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کا معاشی پلان سامنے نہیں آ رہا ہے۔ اک تذبذب کا سا عالم ہے۔ ان کو وقت تو پورا ملنا چاہیے۔ تاہم، فی الوقت عوام کے سامنے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں رکھا جا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے زعماء کو اب تک اس بات کا یقین نہیں آ رہا ہے کہ وہ حکومتی بنچوں پر بیٹھ چکے ہیں۔
 

ابوعبید

محفلین
یہ کوئی ایسے سٹیپ نہیں کہ جن سے عوام کو فائدہ پہنچے۔ عوام کو گورنر ہاؤس کی سیر کرنے سے کیا ریلیف ملے گا؟
تحریک انصاف فی الحال ایسے کسی ریلیف کی حامی نہیں ہے ۔
تحریک انصاف کے زیادہ تر اقدامات نمائشی نوعیت کے ہیں۔ غالباََ مسٹر محمد خان جونیجو اور ایک زمانے میں نواز شریف صاحب بھی اس طرح کے نمائشی اقدامات میں مصروف رہے۔ اصل معاملات کی طرف زیادہ توجہ صرف نہیں کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کا معاشی پلان سامنے نہیں آ رہا ہے۔ اک تذبذب کا سا عالم ہے۔ ان کو وقت تو پورا ملنا چاہیے۔ تاہم، فی الوقت عوام کے سامنے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں رکھا جا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے زعماء کو اب تک اس بات کا یقین نہیں آ رہا ہے کہ وہ حکومتی بنچوں پر بیٹھ چکے ہیں۔
جلسے میں تقریر کرنے اور 22 کروڑ آبادی کے ایک ملک پہ حکومت کرنے اور اسے سیدھی راہ پہ لے کرآنے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ اللہ کرے کہ جلد ہی یہ حکومت اس مائنڈ سیٹ سے نکل آئے کہ عملی اقدامات کی طرف توجہ دیں بجائے اس کہ کہ حاضرین کو نعروں کی میٹھی گولیاں چوسنے کے لیے دے دی جائیں ۔
 

ابوعبید

محفلین
حضور ﷺ کے دور میں جب چندہ مانگنے کی نوبت آئی تو بعد میں بننے والےایک خلیفہ نے اپنے سارے گھر کا سامان حضورﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا اور دوسرے خلیفہ نے اپنے گھر کا آدھا سامان ۔
جب کہ یہاں معاملہ الٹ ہے ۔
 

جاسم محمد

محفلین
اللہ کرے کہ جلد ہی یہ حکومت اس مائنڈ سیٹ سے نکل آئے کہ عملی اقدامات کی طرف توجہ دیں
اصل معاملات کی طرف زیادہ توجہ صرف نہیں کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کا معاشی پلان سامنے نہیں آ رہا ہے۔
عملی اقدامات سے کیا مراد ہے؟ ہر دوسرے ہفتے کابینہ، معاشی رابطہ کمیٹی، سیکیورٹی امور وغیرہ پر اعلیٰ سطح کے اجلاسات ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کسی دوسرے ملک کا تاحال دورہ نہیں کیا۔ ملک کے مسائل کو بھرپور انداز میں حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
حکومت جو کٹھن فیصلہ کرتی ہے۔ عوام شور مچا کر فیصلہ واپس لے لیتی ہے۔
  • ملک کو قرضوں سے بچاؤ اور معیشت سیدھی راہ پر لانے کیلئے عالمی شہرت کے حامل ڈاکٹر عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کونسل میں شامل کیا۔ عوامی دباؤ پر فیصلہ واپس
  • قومی خزانے کا خسارہ کم کرنے کیلئے بجلی و گیس وغیرہ کے نرخ بڑھائے۔ عوامی دباؤ پر واپس
  • پانی کے بحران سے نبٹنے کیلئے ڈیم بنانے کا اعلان کیا۔ عوامی رد عمل شدید ہے۔ ہو سکتا ہے یہ اگلا یوٹرن ثابت ہو۔
فساد کی جڑ تحریک انصاف حکومت نہیں عوام ہے۔ عوام حکومت کا ساتھ دینا ہی نہیں چاہتی۔ لیکن توقع ہے کہ نئی حکومت ان کے تمام مسائل حل کرے۔
Govt mulls over ‘tough decisions’, public anger
 
آخری تدوین:
Top