بے وقوفانہ بات جس پر آپ بچپن میں دل و جان سے یقین رکھتے تھے!

گاڑیوں کا علاقہ غیر پہنچنے کا مطلب ضروری نہیں کہ پختون چور ہی ہوں۔ ماضی میں ایسے کار چور گینگ بھی پکڑے گئے جو پنجابی افراد پر مشتمل تھے، اور کار علاقہ غیر پہنچا دیا کرتے تھے۔
ویسے تو پنڈی کا علاقہ سلطان دی کھو بھی چوری کی گاڑیاں لائے جانے کے لیے مشہور یے۔ :)
آپ کی وضاحت سو فیصد درست لیکن مراسلہ ریسسٹ کتھا کےلیے تھا۔
 

یاز

محفلین
میں اس کو ریسسٹ نہیں مانتا۔
سیٹلیڈ پاکستان سے کوئی گاڑی چوری ہو جائے، کوئی بندہ اغوا ہو جائے یا کسی بیگار کیمپ کا پتہ لگے، ڈانڈے سیدھا سابقہ علاقہ غیر میں جا کر ملتے تھے اور جب تواتر سے ایسا ہوتا رہے تو یہ بات غلط نا رہی اور نا ہی ریسسٹ۔ مسئلہ کچھ اور تھا۔
آپ کی وضاحت سو فیصد درست لیکن مراسلہ ریسسٹ کتھا کےلیے تھا۔

بصد احترام عرض ہے کہ کوئی بھی دلیل (یا حقیقت!) racism کو جسٹی فائی نہیں کر سکتی۔
 
بصد احترام عرض ہے کہ کوئی بھی دلیل (یا حقیقت!) racism کو جسٹی فائی نہیں کر سکتی۔
لیکن پائین، میں نے اسے سرے سے ریسزم مانا ہی نہیں۔ جسٹیفائی وغیرہ تو تب ہو جب میں تسلیم کروں۔ البتہ آپ کا مراسلہ عمومی پیرائے میں بالکل درست ہے۔
ایک ڈراوا یہ بھی بچپن میں بہت سنا کہ پٹھان بوری لے کے پھرتے ہیں اور کوئی بچہ اکیلا ملے تو اس کو بوری میں ڈال کے لے جاتے ہیں۔
جی جی۔ لیکن بہت ہی racistقسم کا بہانہ تھا۔
 

یاز

محفلین

عثمان

محفلین
لیکن پائین، میں نے اسے سرے سے ریسزم مانا ہی نہیں۔ جسٹیفائی وغیرہ تو تب ہو جب میں تسلیم کروں۔ البتہ آپ کا مراسلہ عمومی پیرائے میں بالکل درست ہے۔
نسل پرستی کو تسلیم نہ کرنا بھی اتنا ہی برا ہے۔
نیز اوپر آپ نے نسل پرستی کے خلاف جو علاقہ غیر والی مثال دی وہ دراصل نسل پرستی کی ایک کلاسک مثال ہے۔
 

ربیع م

محفلین
کبھی کبھی پتہ نہیں چلتا کہ کون سنجیدہ ہے اور کون مذاق کر رہا ہے۔

لیکن ہم سنجیدگی سے یہ بتا رہے ہیں کہ اگر سردی ٹھیک ٹھاک ہو تو ہمیں پرچ میں چائے پینے میں بڑا لطف آتا ہے۔ :)
اتنی ٹھنڈی چائے پینے سے بہتر نہیں کہ بندہ شربت ہی پی لے
 
نیز اوپر آپ نے نسل پرستی کے خلاف جو علاقہ غیر والی مثال دی وہ دراصل نسل پرستی کی ایک کلاسک مثال ہے۔
ایسی کوئی بھی بات، محاورے یا ضرب المثل کو بننے کے پیچھے انسانی فکر کو ایک عرصہ گزرتا ہے تو وہ زبان زد عام ہوتی ہے۔ سندھیوں، بلوچیوں، ایرانیوں، مدھیہ پردیش یا کشمیریوں کے بارے میں ایسا کیوں نہیں کہا جاتا رہا ؟ آپ سمجھا دیں کہ سالہا سال سے نسل در نسل یہ ڈراوا کیوں دیا جا رہا ہے ؟ لازماً نسل پرستی کے علاوہ بھی کوئی نا کوئی ٹھوس وجہ ضرور رہی ہونی ہے اور اسی گمشدہ کڑی کی وجہ سے میں اسے نسل پرستانہ نہیں مانتا۔
ایک ڈراوا یہ بھی بچپن میں بہت سنا کہ پٹھان بوری لے کے پھرتے ہیں اور کوئی بچہ اکیلا ملے تو اس کو بوری میں ڈال کے لے جاتے ہیں۔
 

عثمان

محفلین
ایسی کوئی بھی بات، محاورے یا ضرب المثل کو بننے کے پیچھے انسانی فکر کو ایک عرصہ گزرتا ہے تو وہ زبان زد عام ہوتی ہے۔ سندھیوں، بلوچیوں، ایرانیوں، مدھیہ پردیش یا کشمیریوں کے بارے میں ایسا کیوں نہیں کہا جاتا رہا ؟ آپ سمجھا دیں کہ سالہا سال سے نسل در نسل یہ ڈراوا کیوں دیا جا رہا ہے ؟ لازماً نسل پرستی کے علاوہ بھی کوئی نا کوئی ٹھوس وجہ ضرور رہی ہونی ہے اور اسی گمشدہ کڑی کی وجہ سے میں اسے نسل پرستانہ نہیں مانتا۔
دیگر جن اقوام میں سے جن جن سے جتنا واسطہ پڑتا ہے ان کے متعلق بھی سٹیریو ٹائپ جنم لیتے ہیں۔ ایسے تمام منفی سٹیریو ٹائپس کو نسل پرستانہ تعصبات کے ضمن میں رکھا جاتا ہے۔
 

زیک

مسافر
ایسی کوئی بھی بات، محاورے یا ضرب المثل کو بننے کے پیچھے انسانی فکر کو ایک عرصہ گزرتا ہے تو وہ زبان زد عام ہوتی ہے۔ سندھیوں، بلوچیوں، ایرانیوں، مدھیہ پردیش یا کشمیریوں کے بارے میں ایسا کیوں نہیں کہا جاتا رہا ؟ آپ سمجھا دیں کہ سالہا سال سے نسل در نسل یہ ڈراوا کیوں دیا جا رہا ہے ؟ لازماً نسل پرستی کے علاوہ بھی کوئی نا کوئی ٹھوس وجہ ضرور رہی ہونی ہے اور اسی گمشدہ کڑی کی وجہ سے میں اسے نسل پرستانہ نہیں مانتا۔
Stereotypes کے پیچھے اکثر کچھ سچی کچھ جھوٹی وجوہات ہوتی ہیں لیکن آتے یہ پھر بھی ریسزم میں ہیں
 
اور یہ بھی پوچھئیے گا کہ کانٹا کیسے دیتے ہیں؟ :)

ایسے;)

maxresdefault.jpg
 
Top