بے حیائی کا عالمی دن

رحمت اللہ شیخ نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 10, 2019

  1. رحمت اللہ شیخ

    رحمت اللہ شیخ محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بے حیائی کا عالمی دن
    تحریر: رحمت اللہ شیخ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک طویل عرصے سے غیر مسلم قوتیں اسلامی ممالک میں مغربی رسم و رواج کو عام کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اسی مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مختلف ڈیز کا آغاز کیا گیا جن میں ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہے۔ پوری دنیا میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنے کے لیے اس دن کا سہارا لیاجاتا ہے۔ محبت اور پیار کا نام دے کر الحاد و بے دینی، اخلاق باختگی، فحش کاری اور فسق و فجور کی ترویج کی جاتی ہے۔ محبت کی آڑ میں بے حیائی کا دن منایا جاتا ہے۔ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ اس دن کو منانے والوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملک و ملت کے مستقبل کو تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فاتح القدس سلطان صلاح الدین ایوبی کا مشہور قول ہے کہ “جس قوم کو تباہ و برباد کرنا ہو اس قوم کے جوانوں میں فحاشی و عریانی پھیلادو۔” کیونکہ کسی بھی ملک یا قوم کی بنیاد اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ کسی ملک کی بنیاد کو کھوکھلا کرنے یا اس کی تہذیب و تمدن کو مٹانے کے لیے نوجوانوں کی سوچ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ آج اگر ہم ایک نظر اپنے ملک کو دیکھیں تو دشمنانِ اسلام مختلف طریقوں سے نوجوانانِ ملت کو گمراہ کرنے میں مصروف نظر آئیں گے۔ انٹرنیٹ، میڈیا، جدید تعلیم و دیگر ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے نوجوانوں کا برین واش کیا جارہا ہے۔ مذہبی ہم آہنگی، روشن خیالی اور انسانیت کے نام پر نئی نسل کے ذہن میں اسلام کے خلاف نفرت بھری جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد بے راہ روی کا شکار ہے۔

    ایک مسلمان کو اپنی کامیابی شرعی اصول میں ہی سمجھنی چاہیے۔ بصورتِ دیگر دنیا وآخرت میں کامیابی ممکن نہیں۔ ویلنٹائن ڈے پر ہونے والے خرافات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ تمام چیزیں اسلامی اصول و قواعد کے مخالف نظر آئیں گی۔ کیونکہ اسلام کسی بھی صورت میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو حیا اور پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔ حیا کی تعریف اور بے حیائی کی مذمت بیان کرتے ہوئے نبی کریم صہ نے ارشاد فرمایا کہ “حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا سب ہے۔ اور بےحیائی جفا (زیادتی) ہے اور جفا دوزخ میں جانے کاسبب ہے۔ ” دراصل حیا ایک ایسی خصلت ہے جو انسان کو بھلائی کرنے اور قبیح صفات، اقوال و افعال کو چھوڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔ حیا کو ترک کرنے کے بعد انسان کو بے حیائی کی حدود پار کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ “جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو۔” محدثینِ کرام نے اس حدیث کی تشریح بیان کی ہے کہ یہاں امر بمعنیٰ خبر کے ہے۔ یعنی جب تم حیا نہیں کرو گے تو تمہیں کوئی بھی برائی کرنے میں دقت محسوس نہیں ہوگی۔ اور جب گناہ، گناہ نہ لگے یعنی اس کا احساس ختم ہوجائے تو اس سے زیادہ خطرناک بات اور کیا ہوسکتی ہے……!؟

    حضرت عمر رضہ کا قول ہے کہ “اللہ کے دشمنوں سے ان کے تہوار میں اجتناب کرو۔” لیکن افسوس کہ آج ہم کندھے سے کندھا ملا کر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انسانیت اور اخلاقیات کے ڈھونگ سے مانوس ہوکر ہم دین کو ہی بھلارہے ہیں۔ ان کے مذہبی و رسمی تہوار پر ہم نہ صرف انہیں مبارکباد دیتے ہیں بلکہ بے خوف ان کی تقریبات میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ آج کفریہ طاقتیں مختلف طریقوں سے ہمیں اپنے ہی خلاف استعمال کررہی ہیں اور ہم بآسانی ان کے جال میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ بظاہر تو ہم بےحیائی اور فحاشی کی مخالفت کرتے ہیں لیکن ویلنٹائن ڈے جیسے دن منا کر ہم بےحیائی اور فحاشی کی ترویج کررہے ہوتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ ان تمام کمزوریوں کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔

    زندگی کے ہر ایک شعبے میں اسلام نے ہماری رہنمائی کی ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے یہ قطعًا لائق نہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات سے اعراض کرکے غیروں کی تہذیب کو اپنا شعار بنالے۔ جو کام اسلامی قوانین کے مخالف ہیں ان سے اجتناب ہی ایک مسلمان کے حق میں بہتر ہے۔ آئیے! بے حیائی اور فحاشی کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک قدم اٹھائیں۔ 14 فروری کو حیا کا دن منائیں۔ ؎

    تحفیظ حیا میں ہے،

    مرجھائے ہوئے پھولو!

    تقدیس حیا میں ہے۔

    دھوکا ہے ویلنٹائن،

    اے قوم کے فرزندو،

    تم طفل ہو، یہ ڈائن۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    یہ کچھ زیادہ ہی نہیں ہوگیا؟ کونسی غیرمسلم قوتوں نے مسلمانوں کو اپنی جدید ٹیکنالوجیز جیسے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی وغیرہ استعمال کرنے کیلئے مجبور کیاہے؟ دنیا بھر کے مسلمان اپنی مرضی سے جدید ترین مغربی مصنوعات کے حصول کیلئے مرے جا رہے ہیں۔ ان مصنوعات کے ساتھ مغربی کلچر ورثہ میں ملتا ہے۔
    اب یا تو مسلمان غیرمسلم قوتوں کی جدید ٹیکنالوجیز ترک کر کےپتھر کے زمانہ میں واپس چلے جائیں۔ یا ان کو استعمال کرکے غیراسلامی رسم و رواج کا اثر قبول کر لیں۔ فیصلہ آپ پر ہے۔
     
  3. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    انتہائی بیوقوفانہ استدلال ہے
     
  4. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    واقعی؟
     
  5. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,604
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    یونیورسٹی نے سسٹر ڈے کا نام دے دیا ہے کیا یہ ٹھیک ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    تو کیا کریں؟ معشوقہ ڈے کا نام دے کر یونیورسٹی کو آگ لگوا دیں؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,515
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مسئلہ کچھ اور ہے اور حل کچھ اور
    میرے خیال میں اس موضوع پر ایک سنجیدہ مکالمہ کی ضرورت ہے ۔ تنقید برائے تنقید سے کچھ حاصل نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  8. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,932
    نوجوانوں کے پاس کرنے کو بہت کچھ نہیں ہے تو بس یہی کچھ ہی کریں گے؛ درست ہے یا غلط، یہ معاملہ تو بعد کا ہے۔ ہماری نظر میں کچھ تو اوور ہی کام چل رہا ہوتا ہے تاہم ہمارے ملک کے تناظر میں یہ نان ایشو ہی ہے۔ بہتر ہو گا کہ ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ کھیلوں کے میدان بنائے جائیں۔ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو رواج دیا جائے وغیرہ وغیرہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    لگتا ہے پاکستان میں بہت بے حیائی ہے۔ یہاں تو ویلنٹائن ڈے کبھی برا محسوس نہیں ہوا
     
  10. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,604
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    آپ بہتر جانتے ہیں کیونکہ ایک ملک کو دوسرے ملک کے باشندے الگ نظریہ و سوچ رکھ کر دیکھتے ہیں جو اس ملک کی عکاسی نہیں کرتے صرف منفی پہلو ہوتے ہیں
     
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,210
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ہمارے ہاں یعنی پاکستان میں تو غیرت مند بھائی اپنی بہنوں اور انکی عزت کے لیے اپنی جان ایک بار نہیں بلکہ سو سو بار قربان کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔
    بشرطیکہ بہن اپنی سگی بہن ہو، دوسروں کی بہن کے لیے تو وہ خود کو بڑے شوق سے "بہن۔۔۔۔" کہلواتے ہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    1,064
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    کسی بھی علاقے کی تہذیب کے مطابق مختلف روایات اور انسانی رویے مختلف اثرات رکھتے ہیں اور وہاں کے رہنے والے اس کو اپنے انداز سے دیکھتے، سمجھتے اور پرکھتے ہیں۔ جنگل میں جانور لباس نہیں پہنتے لیکن وہ ایک دوسرے کو بے حیا نہیں کہتے۔ لیکن اگر یہی قانون انسانی معاشرے میں لانے کی کوشش کی جائے تو کوئی بھی شخص (جس کی عقل سلامت ہو) اس کی حمایت نہیں کرے گا۔

    ہمارے (پاکستان) معاشرے میں اگرچہ کچھ رویوں میں شدت اور قدامت پسندی ہے لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ خاندانی نظام ابھی تک مجموعی طور پر مغرب سے بہت بہتر ہے۔ خامیاں مشرقی معاشرے میں بھی ہیں اور مغرب میں بھی، فقط تعصب کی بنیاد پر کسی بھی چیز کا رد مناسب نہیں۔ البتہ مسلمان کو اپنی شناخت برقرار رکھنی چاہیے اس کے لیے غیر ضروری تہوار جیسے ویلنٹائن ڈے وغیرہ سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ ظاہری بات ہے کہ یہ کوئی ایسا تہوار نہیں جس کے بغیر آپ زندہ نہیں رہ سکتے لیکن "من تشبه بقوم فهو منهم" کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بضد ہے تو اس کے سامنے نرمی سے اپنا نقطہ نظر رکھیے،متشدد رویوں، طنز یا طعن تشنیع سے عام طور پر اپنے ہم خیال بھی متنفر ہوجاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  13. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    8,365
    جھنڈا:
    Pakistan
    :surprise::surprise::surprise:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  14. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    1,064
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سید صاحب آپ کے ری ایکشن کے بعد سرگوشی دوبارہ بلکہ سہ بارہ پڑھی ہے اور سوچ رہا ہوں کے پسندیدگی کی ریٹنگ ہٹا دوں یا نہیں۔ کہیں محترم محمد وارث صاحب ناراض نہ ہو جائیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    6,323
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اوربعض تو اتنے زیادہ ہیں کہ خود کی تو کیا ، بہنوں کی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 2
  16. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    6,323
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اگر نظیر اکبر آبادی کے زمانے میں یہ دن منایا جاتا تو آدمی نام میں ایک اور بند ہوتا ۔
    بے شرم و بے حیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  17. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    1,064
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    عاطف بھائی یہ تشدد آمیز رویہ زندگی کے سبھی شعبوں میں نظر آتا ہے لیکن یہ پاکستان کی حد تک تو محدود نہیں۔ لندن میں ڈاکٹر توفیق والے واقعے سے سارے انگریز یا معاشرہ متشدد قرار نہیں پایا، ہاں یہ خاصیت بھی ہمارے ہاں ہے کہ جز (جو حقیقی بھی نہیں ہوتا) کو دیکھتے ہوئے کل پر لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  18. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    8,365
    جھنڈا:
    Pakistan
    سرگوشی یک بارہ میں سمجھ میں نہیں آئی تھی کیا جو دوبارہ و سہ بارہ پڑھنی پڑی؟؟؟
    ویسے ہماری بھی نہیں آئی تھی!!!
    ;););)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  19. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    1,064
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    اصل میں سرگوشیاں کرنے اور سمجھنے کی عمر گزر چکی ہے۔ کیوں محمد عدنان اکبری نقیبی بھائی۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  20. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,210
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ برادران کا شکریہ۔ میں نے سوچ سمجھ کر یہ سرگوشی لکھی تھی، کافی دیر سوچتا رہا کہ لکھوں یا نہ لکھوں لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہمارے رویوں کی وضاحت کے لیے اس سے زیادہ "مناسب" الفاظ مجھے ملے نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر