بیٹی کی ہڈیاں تک نہ مل سکیں!

عرفان سعید نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 6, 2019

  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,796
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    مضمون پڑھنا بھی آسان نہیں ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم جانیں اور سمجھیں
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    عجیب و غریب تجزیہ ہے!
    شکست دینے کے لیے دشمن کی فوج کے ایک ایک سپاہی کو ختم کرنا ضروری ہے؟ ایسی جنگ کی مثال تو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔
    کیا واقعی؟
    بے ضرر نہتے انسانوں کو جو مقابلے پر بھی میدان میں نہیں اترے، آنِ واحد میں لاکھوں ایسے انسانوں کو ختم کر دینا، اور برس ہا برس ان کی آنے والی نسلوں تک میں تابکاری کے مہلک اور تباہ کن اثرات منتقل کر دینا "بہتر فیصلہ" تھا! میں صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ فیصلہ کچھ بدتر ہوجاتا تو انسانیت آج کہاں کھڑی ہوتی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    "محبت اور جنگ میں سب جائز ہے"، یہ زبان زدِ عام بات تو ہو سکتی ہے، لیکن عملی دنیا میں اس کا اطلاق اخلاقیات سے مشروط ہوتا ہے۔ ورنہ انسانوں اور جانوروں میں تمیز کرنا مشکل ہے۔
    پرل ہاربر کے بارے میں صرف مووی دیکھ کر رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ جاپانی بیانیہ تصویر کا بالکل دوسرا رُخ پیش کرتا ہے۔ بالفرض جاپان پرل ہاربر کی غلطی کر بھی بیٹھا تھا تو اس سے ایٹم بم برسانے کا جواز تلاش نہیں کیا جاسکتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    درست!
     
    • متفق متفق × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    جاپانی افواج Kamikaze ( وطن کے لئے خود کش حملوں) پر یقین رکھتی تھی۔ امریکہ نے جس بری طرح اپنے فوجی مروا کر جاپان سے بحر اوقیانوس کے جزائر بازیاب کروائے اس کی تفصیل آپ تاریخ میں پڑھ سکتے ہیں۔
    امریکیوں کا خیال تھا کہ اگر جاپانی اپنے ملک سے باہر مقبوضہ جزائر پر اتنی شدید مزاحمت دکھا سکتے ہیں۔ تو اپنے آبائی ملک کے جزیرہ پر کیا کریں گے؟ اسی خوف کے پیش نظر جاپان پراتحادی فوجوں کی لنگر اندازی کی بجائے ایٹم بم کا استعمال کیا گیا۔
     
  6. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    اس تبصرے کو بھی میں پوسٹ وار پروپیگنڈے کے طور پر لوں گا!
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    تابکاری اثرات کا شاید اس وقت بھرپور علم نہیں تھا۔ شہروں پر بلاتفریق بمباری کا اصل مقصد سیاسی اور عسکری قیادت کا جذبہ و ہمت ختم کر کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا۔
    عوام کو ہیروشیما اور ناگاساکے ایٹم بم اچھی طرح یاد ہیں۔ اس سے کچھ ماہ قبل9 سے 10 مارچ کی درمیانی رات کو اتحادیوں کی فضائی بمباری سے ڈیڑھ لاکھ جاپانی ٹوکیو میں لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یوں لاکھوں بے گناہ اور معصوم جانوں کا نقصان ٹوکیو میں بھی ہوا تھا۔ البتہ چونکہ وہ تابکاری نہیں بلکہ عام بمباری تھی۔ اس لئے عام لوگ اسے وہ ایٹم بم والی حیثیت نہیں دیتے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    جنگ میں کیسی اخلاقیات؟ جرمنوں کا یہودیوں کی منظم نسل کشی کرنا (ہولوکوسٹ)، اتحادیوں کا جرمنی کے شہروں کو فضائی بمباری کرکے دوزخ بنا دینا، جاپان کا امریکی مغربی بحری بیڑہ تقریبا مکمل غرق کر دینا، روسیوں کا جرمنوں کا محاصرہ کر کے فاقوں کے ذریعہ قتل کرنا ، یہ سب کونسی انسانی اخلاقیات کا مظاہرہ تھا؟
     
  9. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    ان واقعات کو غیر اخلاقی رویوں کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
     
    • متفق متفق × 2
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    یہ تو وہی دلیل ہوئی کہ اگر اسامہ بن لادن نے امریکہ کی دو عمارات گرا نے کی غلطی کر ہی بیٹھا تھا تو امریکہ بہادر کو اس کے جواب میں دو ملک لٹانے کی کیا ضرورت تھی؟ :)
    ہر جنگ کا بنیادی اصول ایک ہی ہے: آپ کے پاس صرف جنگ شروع کرنے کا اختیار ہے۔ ایک بار آپ نے حملہ کر کے جنگ شروع کر دی تو اسے ختم کرنے کا اختیار آپ کھو بیٹھتے ہیں۔ اب یہ دشمن کی صوابدید ہے کہ وہ اسے کیسے ختم کرتا ہے۔ :)
     
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    زیادہ دور نہ جائیں۔ پاک-بھارت بٹوارے کے وقت تو کوئی فوج ملوث نہیں تھی۔ اس کے باوجود جو خون کی ہولی عام عوام نے کھیلی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
    دونوں اطراف جب مسافروں سے بھری ٹرینیں پہنچتی تو لوگ خون سے لت پت ہوتے تھے۔
    جنگ ایک جنون ہے۔ اور جنون میں اخلاقیات نہیں صرف انتقام اور بدلہ کی آگ ہوتی ہے۔
     
  12. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    اگر آپ اس پر مطمئن ہیں کہ امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم برسا کر درست اقدام کیا تھا تو اپنی رائے رکھنے میں آپ پوری طرح آزاد ہیں۔ میں اس کے بالکل برخلاف رائے رکھتا ہوں اور اسکی وجوہ بیان کر چکا ہوں۔ اس لڑی کو شروع کرنے کا مقصد دراصل اس تحریر کا قرض تھا جو مجھے لازمی ادا کرنا تھا۔
    اگر آپ کوئی تاریخی اور سیاسی مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں تو موزوں ہوگا کہ اس موضوع کو ایک الگ لڑی میں شروع کر لیا جائے۔ میں سرِ دست اب اس موضوع پر مزید بات کرنے کا متمنی نہیں ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    ٹھیک ہے اس پر مزید بحث نہیں کرتے۔ انسانی اخلاقیات کی رو سے ایٹم بم کیا کسی بھی قسم کے اسلحہ کا استعمال شدید تشدد پسندی کی علامت ہے۔ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ، یہ جنونیت ہی کی ایک قسم ہے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ جنگ تو جائز ہے، عام اسلحہ اور بمباری کا استعمال بھی جائز ہے، لیکن ایٹم بم جائز نہیں تو پھر یہ کوئی منطقی دلیل نہیں۔ باقی آپ اپنی رائے میں آزاد ہیں اور میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں :)
     
  14. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,682
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  15. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    میں نے ہار مانی!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    عبید انصاری عالمی قوتوں نے دوسری جنگ عظیم میں ہولناک انسانی تباہی کے بعد فیصلہ کیا کہ آئندہ سے جنگیں قوانین کے ساتھ لڑی جائیں گی۔ یعنی بجائے انسانی جنگوں کا مکمل خاتمہ کرنے کے ان کے قوانین بنا کر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لیگلائز کر دیا۔
    اس پالیسی کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانوں پر کوئی ایٹم بم نہیں چلا۔ لیکن اس کے علاوہ ہر قسم کا مہلک اور انسانیت سوز ہتھیار استعمال ہوا۔ جس سے اب تک کروڑوں بے گناہ لوگ ختم ہوچکے ہیں۔ اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ البتہ یہ سب کرنے والے دنیا میں "مہذب" ترین ہیں :)
     
  17. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ہيروشيما / ناگاساکی – کچھ تاريخی حقائق اور امريکی موقف

    دوسری جنگ عظيم کے دوران امريکہ کی جانب سے جاپان پر کيے جانے والے حملے کی وجوہات کے ضمن ميں پيش کی جانے والی بعض عمومی آراء ميرے نزديک خاصی حيران کن ہيں۔ اس سے محض تاريخی واقعات کے حوالے سے کم علمی اور محدود سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

    يہ بات حقائق کے منافی ہے کہ امريکی ايٹمی ہتھياروں کو استعمال کر کے محض تجربہ کرنا چاہتا تھا يا اپنی فوجی دھاک بٹھانے کی خواہش رکھتا تھا۔

    بعض رائے دہندگان کے دلا‏ئل کے برعکس حقيقت يہ ہے کہ سال 1941 سے امريکہ جنگ عظيم دوئم ميں شموليت سے سخت گريزاں تھا۔ بلکہ امريکہ ميں بڑے پيمانے پر ايک سوچ کا غلبہ تھا جس کے ماننے والوں کو "آئ سوليشنسٹس" کہا جاتا تھا۔ ان کے نزديک جنگ عظيم اول ميں شرکت کی امريکہ نے بڑی بھاری قيمت ادا کی تھی اس ليے امريکہ کو معاشی استحکام پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور امريکی صدر روزويلٹ کے "نيو ڈيلز پروگرامز" کو نافذ کرنا چاہيے۔ آئ سوليشنسٹس امريکی ايک مزيد مہنگی اور طويل جنگ ميں شموليت کے سخت مخالف تھے۔ ان امريکی شہريوں کی تحريک اور لابنگ اتنی متحرک اور مقبول تھی کہ اس وقت کی امريکی خارجہ پاليسی ميں بھی اس کی واضح جھلک موجود تھی۔ يہاں تک کہ کانگريس نے "نيوٹريلی ايکٹ آف 1935" کے نام سے باقاعدہ ايک قانون کی منظوری بھی تھی جس کے تحت جنگ ميں شامل ممالک کو فنڈز اور مال واسباب کی ترسيل کے عمل کو غير قانونی قرار دے ديا گيا تھا۔

    اس حوالے سے مزيد تفصيل آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

    Milestones: 1937–1945 - Office of the Historian

    انيس سو تيس کی دہائ ميں امريکی کانگريس کی جانب سے جو "نيوٹريليٹی ايکٹس" منظور کيے گئے تھے وہ براہراست ايشيا اور يورپ ميں ان منفی عوامل کے ردعمل ميں تھے جو دوسری جنگ عظيم کا سبب بنے تھے۔ ان قوانين کی منظوری کا محرک پہلی جنگ عظيم ميں امريکی شرکت کے منفی معاشی اثرات اور اس کے نتيجے ميں امريکہ ميں بتدريج پروان چڑھتی ہوئ يہ سوچ تھی کہ امريکہ کو لاتعلق رہنا چاہيےاور کنارہ کشی کی روش اپنانی چاہيے تا کہ اس بات کو يقینی بنايا جائے کہ امريکہ بيرونی تنازعات ميں شامل نہ ہو۔

    مثال کے طور پر "نيوٹريليٹی ايکٹ" ميں يہ شق بھی شامل تھی کہ امريکی کسی ايسے بحری جہاز پر سوار نہيں ہوں گے جس پر ايسے ملک کا جھنڈا ہو گا جو يا تو خود جنگ ميں شامل ہو يا جنگ ميں ملوث ممالک کے ساتھ اسلحے کے لين دين ميں ملوث ہو۔

    يہ وہ عمومی صورت حال اور مقبول رائے عامہ تھی جو دوسری جنگ کے دوران امريکہ ميں پائ جاتی تھی۔ اس تناظر ميں يہ دعوی کرنا کہ امريکہ جان بوجھ کر اپنے جنگی عزائم کی تسکين يا اپنی جارح پسندی کی وجہ سے دوسری جنگ عظيم ميں شامل ہوا، سراسر لغو اور غلط بيانی ہے۔

    حقيقت يہ ہے کہ اس زمانے ميں امريکہ کی لاتعلق رہنے کی پاليسی اور بڑے بڑے عالمی تنازعات ميں مداخلت نہ کرنے کی روش کے سبب اکثر عالمی سطح پر ہميں شديد تنقيد کا نشانہ بنايا جاتا تھا۔ يہ حقيقت اس دور کے بے شمار کالمز، جرنلز اور لٹريچر سے عياں ہے۔ اس ضمن ميں ايک مثال

    [​IMG]

    دوسری جنگ عظيم کے دور کے اب بھی ايسے بے شمار افراد موجود ہيں جو اس حقيقت کی گواہی دے سکتے ہيں کہ امريکہ سال 1939 ميں شروع ہونے والی دوسری جنگ عظيم ميں اس وقت تک شامل نہيں ہوا تھا جب تک کہ دسمبر 7 1941 کو جاپان نے پرل ہاربر کے مقام پر امريکہ پر حملہ نہيں کر ديا تھا۔ اس کے چار روز کے بعد ہٹلر نے باقاعدہ امريکہ کے خلاف اعلان جنگ کر ديا تھا۔ امريکہ کی جانب سے ايٹم بم کے استعمال کا فيصلہ يقينی طور پر ايک انتہائ دشوار فيصلہ تھا اور اس کا بنيادی مقصد اس مت۔بادل صورت حال کو روکنا تھا جس ميں جاپان پر زمينی حملہ کيا جاتا اور جس کے نتيجے ميں دونوں جانب بے پناہ جانی نقصان ہوتا جو برسا برس جاری رہتا۔ يہ نقطہ بھی قابل توجہ ہے کہ جولائ 1945 ميں اتحادی افواج کی جانب سے جاپان کو ہتھيار ڈال کر شکست تسليم کرنے کا موقع فراہم کيا گيا تھا جسے جاپان کی حکومت نے مسترد کر ديا تھا۔

    سال 1945 ميں امريکہ کے سامنے صرف دو آپشنز تھے ، يا تو جاپان ميں ايک بڑی فوج اتار کر باقاعدہ ايک طويل جنگ کا آغاز کيا جائے يا ايٹمی ہتھيار کا استعمال کر کے جاپان کو فوری طور پر شکست پر مجبور کيا جائے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ ہيروشيما اور ناگاساکی ميں بے گناہ انسانوں کی ہلاکت ايک بہت بڑا سانحہ تھا ليکن يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ طويل المدت زمينی جنگ کی صورت ميں انسانی جانوں کا نقصان اس سے کہيں زيادہ ہوتا۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
    • زبردست زبردست × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,517
    زیک عرفان سعید ہن آرام اے؟ امریکی حکومت کا ترجمان بھی ہماری تائید کرنے پہنچ گیا :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  19. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,578
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ترجمان کی تو مجبوری ہے ترجمانی کرنا۔ آپ کی کیا مجبوری ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  20. سحرش سحر

    سحرش سحر محفلین

    مراسلے:
    243
    جھنڈا:
    Pakistan
    اس دن ان دو شہروں کے معصوم لوگوں پر جو گزری، اس کا تصور کر کے انسان کانپ جاتا ہے ۔
    اس ظلم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ....
    اس دور کی تباہ کن قسم کی ترقی کے شر سے اللہ سب کو بچائے ۔ امین
     
    • متفق متفق × 3

اس صفحے کی تشہیر