بڑھتے ہوئے بچوں کے معاملات و مسائل اور ان کا حل

جاسمن نے 'روز مرہ کے معمولات سے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 16, 2018

  1. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,619
    موڈ:
    Cheerful
    پروگرام کا نام کیا ہے؟
    کیا آئی بی وہاں مقبول ہے؟
     
  2. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    یہ جارجیا کا اپنا ہائی سکول ڈپلومہ ہے۔

    آئی بی کہیں کہیں ہے لیکن بیٹی کے سکول میں نہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  3. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    چند دن پہلے سولہ سترہ سال کے دو لڑکے گاڑی میں دیکھے۔ ان میں سے ایک گاڑی بھی چلا رہا تھا اور سگریٹ بھی پی رہا تھا۔
    میرے جیسا انسان ہر بار نئے سرے سے حیران ہوتا ہے۔
     
    • غمناک غمناک × 1
  4. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اب بچے جس عمر میں ہیں، ان کی باتیں بہت مختلف ہوتی جا رہی ہیں۔ اور واقعی وہی مسائل سامنے آ رہے ہیں جن سے مجھے ڈر لگتا تھا/ہے۔
    معلومات کا ملنا۔ ایسی معلومات جو اس عمر میں قطعا نہیں ملنی چاہیئں۔
    ہمارا اپنے بچوں کو ٹی وی اور نیٹ جیسی چیزوں سے مختلف انداز سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کا کیا فائدہ جب ان کے تعلیمی اداروں میں دوسرے بچے ان کی معلومات میں اضافہ کرنے پہ تُلے ہوئے ہیں۔ لڑکوں کو بھی بچانا چاہیے لیکن معصوم بچیاں جو ابھی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ جن کی فرمائشیں گڑیا کے برتن، فرنیچر اور گڑیا کے کپڑوں سے آگے نہیں بڑھتیں۔۔۔۔ان کی معلومات میں اضافہ!!
    استغفراللہ۔
    مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اُس لڑکی کی امی کو بتاؤں یا نہ بتاؤں جو میری بچی کی ہم جماعت ہے اور اپنی اکیڈمی سے غلط باتیں جان کر اپنی ہم جماعت ساتھیوں کو بتا رہی ہے۔
    آج بھی میں اس معاملہ کو سوچتی رہی۔
    پہلے وہ صرف لڑکوں کی باتیں کرتی تھی۔ یہاں تک پھر بھی قابلِ برداشت تھا۔ فلاں ایسے۔ فلاں ویسے۔ اسے دیکھو۔ اس کا نام یہ ہے۔ وہ فلاں جماعت میں ہے۔ فلاں اور فلاں کا چکر ہے۔ فلاں فلم وغیرہ۔
    لیکن اب بات حد سے بڑھ چکی ہے۔ مجھے بہت شدید غصہ ہے۔
    اور مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس کی امی سے بات کروں؟
    کروں رو کن الفاظ میں، کیسے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    14,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپی جی بہتر عمل تو یہی ہے کہ سب سے پہلے اس ادارے کے ذمےدار سے بات کی جائے اور اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے تمام تفصیل بتادی جائے تاکہ دیگر بچوں کو اس اخلاقی برائی سے بچایا جا سکے اور ساتھ کے ساتھ ادارے کے منتظم سے یہ بھی درخواست کی جائے کہ وہ اخلاقی برائیوں میں مبتلا بچوں کے والدین کو اسکول میں طلب کریں اور ان کے بچوں کے بارے میں والدین کو مطلع کریں اور ان کو وارننگ بھی دیں ۔
    اگر آپ باذات خود اس بچی کے والدین سے ملنا چاہ رہی ہیں تو شاید یہ مناسب نہیں ہوگا ۔ہو سکتا ہے کہ وہ ڈھٹائی کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بچی کو معصوم قرار دیتے ہوئے آپ کو الٹا ہی سنا ڈالیں۔آپ نے جو بچی کے بارے میں بتایا ہے تو اس سے ہمیں یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ والدین اولاد کے تربیت کے معاملے میں لاپرواہ قسم کے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    عدنان!
    یہ آپ نے اچھا مشورہ دیا ہے۔
    اس طرح کے واقعات میرے بھتیجے کے ساتھ پیش آرہے تھے۔ ایک لڑکا بیہودہ باتیں کرتا تھا۔ جماعت میں ہی شروع باتیں کرنے لگ جاتا۔ میرا بھتیجا بہت پریشان تھا۔ میں نے استانیوں اور سیکشن ہیڈ کو بھی بتایا۔ لیلن کچھ نہیں ہوا۔ جب کئی بار میں نے جا جا کے بات کی تو سیکشن ہیڈ چڑنے لگی۔ کہتیں تو کچھ نہیں تھیں لیکن ان کی شکل دیکھ کے خود میں ہی شرمندہ ہوگئی۔ پھر میں نے بھتیجے کو علیحدہ سمجھایا۔ اُس لڑکے کے بڑے بھائی کو سکول میں پکڑ کے سمجھایا۔ پھر اس لڑکے کو ڈھونڈا ایک دن اور اسے پیار اور دھمکی دونوں سےسمجھایا۔
    لیکن یہ کوئی ایک دن کا معاملہ نہیں ہے۔ اب تو یہ روزانہ کے معاملات ہیں۔
    میرے بیٹے کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ شاید چھٹی یا ساتویں میں ایک ہم جماعت اونچا بول بول کے سب کی معلومات میں اضافہ کرتا تھا۔ اس کی شکایت کی۔ اس نے ایک بار ہال میں ایک پروگرام کے دوران محمد کے ساتھ غلط حرکت کی کوشش کی تو محمد نے شور مچا دیا۔ جس کا میں نے انھیں بتایا ہوا تھا۔ اسے سکول سے نکالا گیا۔
    اب بھی میرا وہی بھتیجا کہتا ہے کہ اماں سکول کا ماحول بہت خراب ہے۔ لڑکے بہت گندی باتیں کرتے ہیں۔ اور آپس میں بھی غلط ہیں۔ نیز نشہ بھی کرتے ہیں۔ جبکہ یہ سکول بہترین سکول ہے اور یہاں بظاہر بہت اچھے خاندانوں کے بچے پڑھتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اماں ہم کب تک ایسی باتوں سے بچیں۔ ہر طرف ایسے لڑکے بکھرے ہیں۔
    سکول تبدیل کرنا مسئلہ کا حل نہیں۔ کہ ہر جگہ ایسے مسائل کا سامنا ہے۔ آخر کیا کریں۔
    بہرحال اس لڑکی کے سلسلہ میں تو سوموار کو جاتی ہوں سکول ان شاءاللہ تعالی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    14,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپی طلب علموں کو صاٖف ستھرا تعلیمی ماحول فراہم کرنا تعلیمی ادارے کی اولین ترجہی بنتی ہے مگر موجود دور میں یہ تعلیمی ادارے درحقیقت تجارتی مراکز بنتے جارہے ہیں ۔ جدید تعلیمی نظام کے نام پر اخلاقی برائیاں عام نظر آتی ہیں ۔جہاں آپ کا بھتیجا اور آپ کا صاحبزادے زیر تعلیم ہیں اور اس ادارے میں اس طرح کا معاملات ہیں اور منتظمین کوئی ایکشن لیتے نظر نہیں آرہے تو بہتر تو یہی ہے کہ ان دونوں صاحبزادوں کو کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں ایڈمیشن کرادیا جائے ۔ساتھ ساتھ دونوں کو اس بات کی تاکید کرتی رہیں کہ جہاں تک ممکن ہو ایسے لڑکوں سے خود کو محفوظ رکھیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    عدنان!
    ہمارے ہاں زیادہ تر سکولز کوٹھیوں میں بنے ہوئے ہیں۔ بہت کم سکولز واقعی اپنی عمارت اور کھیلنے کے میدان رکھتے ہیں اور میرے بچوں اور بھتیجوں کا سکول ایک بہت اچھے ادارے کا ایسا ہی سکول ہے۔ انتظامیہ میں کبھی کیسے لوگ آجاتے ہیں اور کبھی کیسے۔
    میرے بیٹے کے معاملہ میں تو اُس بچے کو سکول ہی سے نکال دیا گیا۔ اور یہ بہت اچھا ہوا۔
    بھتیجے کے معاملات ذرا پیچیدہ ہیں۔ سکول وہی ہے۔ بہرحال اللہ سے جب دعا کرتی ہوں تو بچوں کے اچھے دوستوں، اچھے ماحول، اچھے اساتذہ، اچھے ساتھی اور اچھے تعلیمی اداروں کی دعا بھی کرتی ہوں۔
    اللہ قبول فرمائے۔ آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    میں نے ایک بات اپنے شاگردوں کو اور بچوں کو ہمیشہ سکھائی ہے کہ برائی جتنی بھی طاقتور ہوجائے، اگر آپ اچھائی کے راستے پہ ہیں تو پھر اچھائی کو اُس برائی سے زیادہ طاقتور ہونا چاہیے۔ جب لوگ برائی نہیں چھوڑتے تو آپ ان کی برائی کے مقابلہ میں اپنی اچھائی کیوں چھوڑتے ہیں؟ آپ کو ان سے زیادہ مستقل مزاج ہونا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    سولہ سال کی عمر میں یہاں ڈرائیونگ لائسنس مل جاتا ہے۔ 15 سال کی عمر میں گاڑی چلانا سیکھ سکتے ہیں۔ میری بیٹی کچھ ماہ میں سیکھنا شروع کرے گی
     
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    بچوں کو غلط سلط معلومات دوستوں سے ملنے سے بہتر ہے کہ والدین اسی موضوع پر صحیح معلومات فراہم کریں
     
    • متفق متفق × 3
  12. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    لیکن اکثر پاکستانیوں میں یہ دیکھا ہے کہ وہ معلومات روکنے ہی کی کوشش کرتے ہیں دینے کی نہیں۔
     
  13. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,515
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جاسمن
    پاکستان کا ماحول گذشتہ کچھ ہی سالوں میں بہت تیزی سے بدلا ہے بلکہ پاکستان کا ہی نہیں ساری دنیا میں بدلاؤ آیا ہے جس سے معاشرتی اقدار خطرے میں پڑ گئ ہیں ۔ پہلے جن موضوعات پر بچوں سے بات کرتے سخت شرم محسوس ہوتی تھی ، ڈھکے چھپے انداز میں بات سمجھا دی جاتی تھی اور بچے سمجھ بھی جاتے تھے اب بالکل واضح طور پر بات کرنی پڑتی ہے ۔ یہ ضروری بھی ہے بچے کو جو مسئلہ درپیش ہو اس کے بارے میں اس کو مکمل معلومات دینا ، اس کی اچھائی برائی سے پوری طرح آگاہ کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اس معاملے میں بالکل شرم کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بچوں کو ناصرف یہ کہ ہر طرح کی معلومات دیں بلکہ انہیں ان سے اعتماد سے نبٹنا بھی سکھائیں ۔ ان میں ہمت ہونی چاہیے کہ غلط بات کو برداشت نہ کریں اور فورا رد کردیں
     
    • متفق متفق × 1
  14. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,515
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جو والدین اپنی اولاد کی صحیح تربیت پر توجہ کرتے ہیں وہ انہیں ہر طرح کی معلومات دیتے ہیں ۔ بس افسوس تو اس بات پر ہے کہ والدین کی اکثریت اپنے فرائض سے لاپرواہ ہو چکی ہے
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر