بچوں کی کہانیاں ---- ننّھا چوٗزہ

ڈاکٹر مشاہد رضوی نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 27, 2013

  1. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    ڈاکٹر مشاہد رضوی لائبریرین

    مراسلے:
    723
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cheerful
    ننّھا چوٗزہ

    محمد حسین مشاہد رضوی

    شبّو مرغی بڑے جتن سے اپنا ایک انڈہ بچا پائی تھی۔ کیوں کہ اُس کے سارے انڈے ناشتے میں کھا لیے گئے تھے۔ بے چاری شبّواُسے لے کر ایک کونے میں بیٹھ گئی ۔ بیٖس بائیس دن کی لمبی محنت کے بعد انڈے کا چھلکا توڑ کر چوزہ باہر آگیا۔ شبّوکی خوشی کاٹھکانا نہ رہا۔
    چوزہ تھا بڑا چنچل اور شریر … شبّودانہ چگنے جب با ہر جانے لگی تو اس نے چوزے کو نصیحت کی کہ یہاں سے ہٹنا نہیں ۔ ماں جب باہر چلی گئی تو چوزہ گھر کا معاینہ کرنے لگا۔ اُسے سامنے چوہے کی بِل دکھائی دی ۔ چو ہا ابھی ابھی گھوم پھِر کر واپس آیاتھا۔ اُس نے چوزے کو دیکھا تو للچا اُٹھا، اور دل ہی دل میںکہنے لگا:’’ ہاے ! اتنا پیارا چوزہ!‘‘ اس کے من میں کھوٹ آگیا وہ سوچنے لگا ، کاش! اس کے نرم و ملائم اور ریشمی پر مِل جائیں تو میں اپنا گدّا بنا کر سکون کی نیند سو سکوں۔
    وہ چوزے سے بول اُٹھا:’’ پیارے چوزے مجھ سے دوستی کروگے؟‘‘
    ’’ہاں ! ہاں !‘‘ چوزہ کہہ اُٹھااورحیرت سے پوچھا:’’کیا تم مجھے اپنا دوست بناؤگے؟‘‘
    ’’کیوں نہیں !‘‘چوہے نے جھٹ سے جواب دیااور کہا کہ :’’ میں تمہیں دُنیا کی سیرکراؤں گا، مالکن کے کچن روم میں لے جاکر اچھے اچھے کھانے کھلاؤں گا۔‘‘
    ’’سچ مچ!‘‘ چوزہ چہک اُٹھا۔ اور چوہے کی چکنی چپڑی باتوں میں آگیا۔ چوہا ترکیٖب سوچنے لگا کہ کس طرح اِس کے پرکترے جائیں۔ سو اُس نے کہا :’’دوست! میرے گھر نہیں آؤگے؟‘‘
    چوزے نے کہا:’’کیوں نہیں ؟ دوستی کی ہے تو اُس کو نبھا ؤں گا بھی۔‘‘اتنا کہہ کر چوزہ چوہے کی بِل میں گھسنے لگا ، لیکن وہ اُس باریک سوراخ میں کہاں جا پاتا؟اُس کی گردن اُس میں پھن￿س گئی ۔ چوہا فوراً اس کے نرم و ملائم اور ریشمی پر و ں کو کترنے لگا ۔ چوزہ بولا :’’میرے دوست! مجھے بہت درد ہورہا ہے اور مجھ کو گھٹن محسوس ہورہی ہے کہیں میرا دم نہ نکل جائے۔‘‘
    ’’میرے پیارے دوست! تھوڑا اور ٹھہرو میں بِل کا سوراخ بڑا کررہا ہوں ‘‘چوہے نے چالاکی سے کہا۔
    تب ہی شبّومرغی دانہ چُگ کر واپس آگئی ، اپنے پیارے بچے کی گردن چوہے کی بِل میں پھن￿سی دیکھ کر کراہ اُٹھی اور فوراًاس کو باہر کھینچ لیا۔ اسی جھٹکے میں چوزے کا پر کترنے میں مصروف چوہا بھی بِل سے باہر آگیا ۔ شبّواس کے کرتوت کو سمجھ کر غصہ سے بپھر گئی ۔ اس نے زور سے چوہے کو چون￿چ ماری کہ اس کی ہڈی پسلی ایک ہوگئی ۔
    چوزہ اپنی بگڑی ہو ئی حالت دیکھ کر زور زور سے رونے لگا۔ کیوں کہ اس کی گردن کے پاس کے سارے پر صاف ہوگئے تھے۔ شبّو نے بڑے لاڈ سے اس کو کہا:’’ کوئی بات نہیں میرے لعل یہ بچپن کے پر ہیں کچھ دنوں کے بعد تمہارے دوسرے پر اُگ آئیں گے ‘‘۔ اور پھر سمجھایا کہ ’’تمہیں میری نصیحت یاد رکھنی چاہیے تھی نا!‘‘ ……
    ’’ہاں! امّی جان!‘‘ چوزہ بہت شرمندہ ہوا۔
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    ڈاکٹر مشاہد رضوی لائبریرین

    مراسلے:
    723
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cheerful
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,858
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    ڈاکٹر مشاہد رضوی لائبریرین

    مراسلے:
    723
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cheerful
    کہانیاں کس جگہ پوسٹ کرنا مناسب ہوگی ؟؟
    کہانیاں کس جگہ پوسٹ کرنا مناسب ہوگا ؟؟
     
  5. عینی شاہ

    عینی شاہ محفلین

    مراسلے:
    9,698
    موڈ:
    Cheerful
    ویری نائس سٹوری انکل :thumbsup:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,858
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہاں واقعی لائبریری کے علاوہ جہانِ نثر میں بھی ایک زمرے کی ضرورت ہے، ادب اطفال کے نام سے۔ اس کی کمی کی وجہ سے عزیزی انیس الرحمن بھی ’مضامین کی ادارت‘ کے زمرے میں ’نونہال‘ کہانیاں پوسٹ کرتے رہے ہیں۔ محمد وارث، محمد خلیل الرحمٰن متوجہ ہوں۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر