بچوں کا جلد سے جلد کتاب سے تعارف کروانا کیوں ضروری ہے؟

محمداحمد

لائبریرین
بچوں کا جلد سے جلد کتاب سے تعارف کروانا کیوں ضروری ہے؟
ندا ملجی

بچپن کے دنوں میں میرے کچھ ایسے بھی دوست تھے جو رات کو والدین سے چھپ کر بستر میں کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے، حالانکہ ان کتابوں کا مواد بھی ذرا بھی غیر مناسب نہیں تھا بلکہ یہ کتابیں اسکول کی لائبریری سے حاصل کی جاتیں تھیں جن کے موضوعات مرکزی دھارے کے ادب سے متعلق ہوتے۔ آج میں سوچتی ہوں کہ آخر والدین کیونکر بچوں کو مطالعے جیسے اچھے کام سے روکا کرتے تھے۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں جب زیادہ تر بچوں کو معمول کی مصروفیت سے وقفہ مل جاتا ہے اور اس دوران انہیں مطالعے کے لیے کافی فارغ وقت مل سکتا ہے، اس عادت کو پیدا کرنے کا یہی اچھا وقت ثابت ہوسکتا ہے۔

کئی گھرانوں میں مخصوص سماجی سوچ موجود ہوتی ہے جس کے باعث وہ اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم تو دلوانا چاہتے ہیں، اور بعدازاں وہ افراد بڑی خوشی کے ساتھ اپنے بچے کی اسکول میں شاندار کارکردگی کا تذکرہ بھی کرتے دکھائی دیں گے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی چاہیں گے کہ بچے کے ذہن اور تجسس کا دائرہ محدود ہی رہے۔

ایسا کیوں ہے کہ ہمارے بچے اسکول میں تو بہت ہی شاندار نتائج حاصل کرتے ہیں لیکن کسی قسم کے مباحثے میں تعمیری حیثیت میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوتے؟ ان میں سے کئی بچے اپنے اساتذہ، والدین، گھروالوں اور دوستوں کے آگے بولنے سے اتنا گھبراتے کیوں ہیں؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچے کو ہر قسم کا ادب پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہمیں ان کے مطالعے کے دائرے پر اپنا ضابطہ قائم رکھنا پسند ہے کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ایسی ویسی چیز نہ پڑھ لیں کہ جس سے آگے چل کر وہ سماجی رکاوٹوں کو عبور کرنے لگیں اور اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔

مطالعے کا اپنا ہی لطف ہے اور یہ ذہنی صحت کے لیے اسی طرح اہم ہے جس طرح جسم کے لیے خوراک اور غذائیت۔ ہماری زندگی میں شاید ہی ایسی کوئی چیز ہو جو بستر میں ایک اچھی کتاب کے مطالعے سے ملنے والے طمانیت کے احساس کا متبادل ہوسکے۔ ویسے آج کل لوگوں کی ایک بڑی تعداد ای-بکس کا مطالعہ تو کرتی ہے لیکن آج بھی ہمیں 'حقیقی' کتابوں کی اہمیت ہر جگہ واضح طور پر نظر آتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ 90 فیصد ای بک مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ای بکس کے مطالعے سے زیادہ پیپر بیک ہی پڑھتے ہیں۔ بریکلے کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جن بچوں کو جتنا جلدی کتابوں سے متعارف کروایا گیا، یا جنہیں ایک سے تین برس کی عمر میں والدین نے کتاب پڑھ کر سنائی، انہوں نے زندگی میں آگے چل کر ذہانت کے امتحانوں میں بہت زیادہ نمبر حاصل کیے۔

بچے ٹی وی دیکھنے سے زیادہ کتابوں سے نئے الفاظ سیکھتے ہیں۔ کتابوں میں چھپی تصاویر ان پر علمی دنیا کے دروازے کھولتی ہیں، تجسس کو جنم دیتی ہیں، ذہن کو مختلف زاویوں سے سوچنے پر مجبور کرتی ہیں اور بچوں سے کچھ اس انداز میں گفتگو کرتی ہیں کہ جو ان کے سوچنے کے عمل، شناخت، زندگی میں ان کے مقام اور کردار میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہوجاتی ہے۔

تو پھر ہم کیوں اپنے بچوں کو کتاب پڑھ کر سنانے کی عادت اتنی دیر سے اختیار کرتے ہیں؟ بطور ایک استاد میں ایسے سیکڑوں والدین سے مل چکی ہوں جو اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے کو مطالعے کا شوق نہیں ہے اور وہ ایک کتاب بھی ختم نہیں کرپاتا۔ یہ سن کر میں ان سے پوچھتی ہوں کہ انہوں نے اپنے بچے کا پہلی بار کتاب سے تعارف کب کروایا؟ اس پر اکثر یہ جواب ملتا ہے کہ جب بچے نے اسکول جانا شروع کیا۔

یہی وجہ ہے کہ بچوں کی کتاب سے وابستگی کی وجہ بالکل ہی مختلف ہوجاتی ہے، دراصل ایسے بچے کتاب کو اسکول کے تعلیمی دباؤ اور سخت محنت سے وابستہ کردیتے ہیں، جبکہ وہ بچے جن کے والدین ان کی پیدائش کے بعد سے کہانیاں پڑھ کر سناتے ہیں، وہ کتابوں کو والدین کے ساتھ گہرے رشتے، گھروالوں کے ساتھ گزرے وقت کی یادوں اور تجربات کے تبادلے سے منسلک کرتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو مطالعے سے خالص خوشی حاصل کرتے ہیں اور یہ خوشی ان کے اندر گہرائی تک بسی ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جن بچوں کو وقت گزاری کے لیے مطالعہ کرنے کی عادت ہوتی ہے، ان میں اکیلے پن اور ڈپریشن لاحق ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہوتے ہیں، خاص طور پر ان بچوں کے مقابلے میں تو بہت ہی کم جنہوں نے اپنے اندر مطالعے کی عادت پیدا نہیں کی ہوتی ہے۔

مطالعہ جواں سال افراد کو پُرسکون رکھنے میں مدد کرتا ہے، انہیں اپنی قدر جاننے کا احساس پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے، دیگر لوگوں کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے، ذہنی صلاحیتوں میں تقویت پہنچاتا ہے، زندگی میں آگے چل کر الزائمر جیسی بیماریوں کے امکانات کو کم کرتا ہے، ہمدردی اور سخاوت سکھاتا ہے، زندگی کو دیکھنے کے لیے ایک سے زائد زوایے فراہم کرتا ہے۔ مطالعے کے فوائد بے تحاشا ہیں، شاید آم کھانے کے فوائد سے بھی زیادہ۔

آخر کیوں والدین بچے کے ابتدائی برسوں کے دوران تربیت و پرورش کے اس اہم پہلو پر زیادہ دھیان نہیں دیتے؟ حالانکہ مطالعہ بچے اور والدین کے درمیان رشتے کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود چند والدین سمجھتے ہیں کہ بچوں کو مطالعہ کی طرف راغب کرنا صرف اور صرف اساتذہ کا کام ہے۔

اسکولیسٹک ایجوکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن (Scholastic Education Research Foundation) کی جانب سے بچوں پر کی جانے والی تحقیق میں یہ پایا گیا کہ 4 سے 10 برس کے 80 فیصد بچوں کو گھروں میں باآواز بلند مطالعے کا رجحان پسند ہے اور پورے دن میں یہی ان کا پسندیدہ وقت ہوتا ہے کیونکہ اس دوران وہ اپنے والدین کے ساتھ خصوصی وقت گزارتے ہیں۔

کئی بچوں کے لیے ایک ایسا شخص مطالعے کے لیے ترغیب کا باعث بنتا ہے جو کہانیوں پر ہونے والی گفتگو میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔ بچوں کو صرف مطالعہ ہی پسند نہیں ہوتا بلکہ انہیں کہانی دہرانے کا بھی کافی شوق ہوتا ہے۔

مطالعے سے شغف کو ایک تنہائی پسند سرگرمی سمجھنا بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ کسی کہانی کے بارے میں اگر ایک بچہ جو کچھ سوچتا ہے اس پر والدین اگر دلچسپی ظاہر کریں اور کہانی کے حوالے سے اس کے نکتہ نظر کو سنیں تو اس طرح بچے میں تجزیاتی صلاحیت پیدا ہوگی اور اپنی رائے دیگر لوگوں تک پہنچانے کے لیے اعتماد حاصل ہوگا۔

یہ مضمون 11 جولائی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔
 
چھوٹے بچوں کے نصابی کتب سے بھرے بیگ دیکھ کر ہی خوف آتا ہے ، بھلا نصابی کتب کے انبار کی موجودگی میں ان کو غیر نصابی مطالعہ کی راغب کرنا آسان نہیں
 
مسز نے اور میں نے سلسلہ شروع کیا ہے کہ جہاں اچھی سٹوری بکس نظر آئیں، چاہے اردو ہوں یا انگریزی، خرید کر حفصہ کی لائبریری میں ایڈ کر دیتے ہیں۔
ابھی خود نہیں پڑھ سکتی، اس لیے مسز رات کو کسی ایک سٹوری بک سے کہانی سنا دیتی ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ کتاب سے رابطہ بنے اور شوق پیدا ہو۔
حذیفہ بھی ساتھ ساتھ ہی دلچسپی لے رہا ہے۔ :)
 

جاسمن

مدیر
الحمداللہ بچوں کو بہت چھوٹی عمر سے کہانیاں سنانی شروع کیں۔ خود سے بھی اور کتابوں سے بھی۔
بیٹا تو بہت پڑھتا ہے ماشاءاللہ۔ اردو انگریزی دونوں زبانوں میں۔
سکول کی لائبریری کی ساری کتب پڑھنے والا پوری تاریخ میں پہلا بچہ۔ سکول کے سب اساتذہ اسے اس حوالہ سے بھی جانتے ہیں۔ اب بھی اپنے ہم جماعت اور اساتذہ سب میں کتابیں بانٹتا نظر آتا ہے۔ شیلف میں کتابیں کم نظر آتی ہیں تو اماں ناراض ہوتی ہیں کہ ضرور دیا کرو۔ بہت اچھی بات ہے لیکن واپس بھی لیا کرو۔
سنٹرل لائبریری میں ممبر شپ بھی ہے دونوں کی۔ جب یہ لوگ ابھی فرمائشیں کرنا نہیں شروع ہوئے تھے، تب بھی میں بہت کتابیں لایا کرتی تھی۔ جہاں نظر آگئیں، اور جتنی نظر آگئیں۔کتابوں کے سلسلہ میں نے کبھی پیسوں کا حساب نہیں کیا۔ ڈاک سے منگوا رہی ہوں۔ پرانی کتابیں، نئی کتابیں۔
پہلے خود پڑھ کے دیتی تھی لیکن پھر یہ بہت مشکل لگنے لگا۔ اب خود پڑھتا ہے۔ کئی اساتذہ متاثرین میں شامل ہیں۔ انگریزی والے کہتے ہیں کہ انھوں نے اتنا پڑھنے والا بچہ نہیں دیکھا۔ اور یہ کہ ایم فل کے کئی طلباء سے زیادہ پڑھا ہے اس بچہ نے۔ تاریخ، اسلامیات، اردو اور انگریزی کے ساتھ اس مرتبہ فزکس کے استاد بھی متاثر نظر آئے۔
محمد، ایمی اور میری تینوں کی الگ الگ شیلفیں ہیں۔ ایمی کی تھوڑی بچوں والی ہیں۔ وہ نسبتاً کم پڑھتی ہے۔
لکھتا بھی ہے۔ اردو میں ایک بہت بڑی کہانی لکھی تھی۔ اب انگریزی میں ایک ناویلا لکھا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
چھوٹے بچوں کے نصابی کتب سے بھرے بیگ دیکھ کر ہی خوف آتا ہے ، بھلا نصابی کتب کے انبار کی موجودگی میں ان کو غیر نصابی مطالعہ کی راغب کرنا آسان نہیں

اسی لئے مضمون نگار کا کہنا ہے کہ بچوں کو اسکول اور بستے سے شناسائی سے پہلے کتابوں سے تعارف کروایا جائے تاکہ کتابیں اُن کے لئے ایک مثبت اور دلچسپ شے بن سکیں۔

تو پھر ہم کیوں اپنے بچوں کو کتاب پڑھ کر سنانے کی عادت اتنی دیر سے اختیار کرتے ہیں؟ بطور ایک استاد میں ایسے سیکڑوں والدین سے مل چکی ہوں جو اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے کو مطالعے کا شوق نہیں ہے اور وہ ایک کتاب بھی ختم نہیں کرپاتا۔ یہ سن کر میں ان سے پوچھتی ہوں کہ انہوں نے اپنے بچے کا پہلی بار کتاب سے تعارف کب کروایا؟ اس پر اکثر یہ جواب ملتا ہے کہ جب بچے نے اسکول جانا شروع کیا۔

یہی وجہ ہے کہ بچوں کی کتاب سے وابستگی کی وجہ بالکل ہی مختلف ہوجاتی ہے، دراصل ایسے بچے کتاب کو اسکول کے تعلیمی دباؤ اور سخت محنت سے وابستہ کردیتے ہیں، جبکہ وہ بچے جن کے والدین ان کی پیدائش کے بعد سے کہانیاں پڑھ کر سناتے ہیں، وہ کتابوں کو والدین کے ساتھ گہرے رشتے، گھروالوں کے ساتھ گزرے وقت کی یادوں اور تجربات کے تبادلے سے منسلک کرتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو مطالعے سے خالص خوشی حاصل کرتے ہیں اور یہ خوشی ان کے اندر گہرائی تک بسی ہوتی ہے۔
 

یاقوت

محفلین
یقین کریں اگر بچپن میں کتاب کا نشہ دماغ کی رگوں میں صحیح طور پر اتر گیا تو ہمسفر زندگی کیلئے کتاب "سوتن" کی صورت اختیار کر جائے گی۔
 

محمداحمد

لائبریرین
مسز نے اور میں نے سلسلہ شروع کیا ہے کہ جہاں اچھی سٹوری بکس نظر آئیں، چاہے اردو ہوں یا انگریزی، خرید کر حفصہ کی لائبریری میں ایڈ کر دیتے ہیں۔
ابھی خود نہیں پڑھ سکتی، اس لیے مسز رات کو کسی ایک سٹوری بک سے کہانی سنا دیتی ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ کتاب سے رابطہ بنے اور شوق پیدا ہو۔
حذیفہ بھی ساتھ ساتھ ہی دلچسپی لے رہا ہے۔ :)
بہت خوب!

کون سی کلاس میں ہیں حفصہ؟
 

یاقوت

محفلین

محمداحمد

لائبریرین
الحمداللہ بچوں کو بہت چھوٹی عمر سے کہانیاں سنانی شروع کیں۔ خود سے بھی اور کتابوں سے بھی۔
بیٹا تو بہت پڑھتا ہے ماشاءاللہ۔ اردو انگریزی دونوں زبانوں میں۔
سکول کی لائبریری کی ساری کتب پڑھنے والا پوری تاریخ میں پہلا بچہ۔ سکول کے سب اساتذہ اسے اس حوالہ سے بھی جانتے ہیں۔ اب بھی اپنے ہم جماعت اور اساتذہ سب میں کتابیں بانٹتا نظر آتا ہے۔ شیلف میں کتابیں کم نظر آتی ہیں تو اماں ناراض ہوتی ہیں کہ ضرور دیا کرو۔ بہت اچھی بات ہے لیکن واپس بھی لیا کرو۔
سنٹرل لائبریری میں ممبر شپ بھی ہے دونوں کی۔ جب یہ لوگ ابھی فرمائشیں کرنا نہیں شروع ہوئے تھے، تب بھی میں بہت کتابیں لایا کرتی تھی۔ جہاں نظر آگئیں، اور جتنی نظر آگئیں۔کتابوں کے سلسلہ میں نے کبھی پیسوں کا حساب نہیں کیا۔ ڈاک سے منگوا رہی ہوں۔ پرانی کتابیں، نئی کتابیں۔
پہلے خود پڑھ کے دیتی تھی لیکن پھر یہ بہت مشکل لگنے لگا۔ اب خود پڑھتا ہے۔ کئی اساتذہ متاثرین میں شامل ہیں۔ انگریزی والے کہتے ہیں کہ انھوں نے اتنا پڑھنے والا بچہ نہیں دیکھا۔ اور یہ کہ ایم فل کے کئی طلباء سے زیادہ پڑھا ہے اس بچہ نے۔ تاریخ، اسلامیات، اردو اور انگریزی کے ساتھ اس مرتبہ فزکس کے استاد بھی متاثر نظر آئے۔
محمد، ایمی اور میری تینوں کی الگ الگ شیلفیں ہیں۔ ایمی کی تھوڑی بچوں والی ہیں۔ وہ نسبتاً کم پڑھتی ہے۔
لکھتا بھی ہے۔ اردو میں ایک بہت بڑی کہانی لکھی تھی۔ اب انگریزی میں ایک ناویلا لکھا ہے۔

ماشاءاللہ !

زبردست!
 

یاقوت

محفلین
میں اس وقت پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا ہماری کلاس کے دو دروازے تھے میں دوسرے دروازے کے ساتھ بیٹھا ہواتھا۔استاد صاحب جماعت کو انگلش کا سبق دی بیلون پڑھا رہے تھے اور ہم کتاب کھولے شان بے نیازی سے کتاب میں ہی ایک کہانی رکھے اسمیں غرق تھے ناگاہ پرنسپل صاحب کا وہاں سے گزر ہوا ہمیں تو تب پتا چلا جب قیامت ہماری پشت پر گر چکی تھی۔اس دن ہماری کیا درگت بنی اس سے اندازہ لگائیں کہ کئی دن تک ہم سیدھے ہو کر بیٹھ نہ پائے اور جو گھر سے عزت افزائی ہوئی سو الگ۔:p:p:p:p:p:p
لیکن اس سب کے باوجود غیر نصابی مطالعہ ہم سے نہ چھوٹ سکا استاد مار مار کر تھک گئے گھر والے سمجھا سمجھا کر لیکن ہم نہ تھکے۔
 
آخری تدوین:

زیک

تکنیکی معاون
بریکلے کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جن بچوں کو جتنا جلدی کتابوں سے متعارف کروایا گیا، یا جنہیں ایک سے تین برس کی عمر میں والدین نے کتاب پڑھ کر سنائی، انہوں نے زندگی میں آگے چل کر ذہانت کے امتحانوں میں بہت زیادہ نمبر حاصل کیے۔
کتابیں پڑھنے کے بہت فوائد ہیں اور بچوں کو کم عمر سے کہانیاں پڑھنے کی طرف راغب کرنا چاہیئے۔ لیکن یہ تحقیق کچھ صحیح نہیں لگتی کہ اس میں دوسرے ویریبل بھی آ جاتے ہیں۔ مثلاً ایک تحقیق ہے کہ جن بچوں کے گھر زیادہ کتب ہوں چاہے وہ انہوں نے پڑھی ہوں یا نہیں وہ زیادہ ذہین نکلتے ہیں۔ یہاں والدین اور ماحول کا رول پڑھنے سے زیادہ لگ رہا ہے
 

زیک

تکنیکی معاون
ناویلا کے بارے میں مجھے پہلے بالکل پتہ نہیں تھا۔ محمد سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ ناول کا بچہ ہوتا ہے:D
ناول سے چھوٹا اور چھوٹی کہانی سے بڑا ۔:)
نوویلا بولتے ہیں انگریزی میں۔ اردو میں ناولٹ رائج ہے۔

کبھی ٹیلی نوویلا دیکھا؟
 

میم الف

محفلین
بچوں کا جلد سے جلد کتاب سے تعارف مت کروائیں۔
کیونکہ اگر بچے شرارتی ہوئے تو کاغذ پھاڑ کر بال بنا لیں گے،
اور کتاب کی جِلد موٹی ہوئی تو اس کا بیٹ بنا کر چھکے چوکے ماریں گے۔
جب ہم چھوٹے تھے تو یہ ہمارا فیورٹ گیم تھا (لنچ بریک میں)
 

محمداحمد

لائبریرین
بچوں کا جلد سے جلد کتاب سے تعارف مت کروائیں۔
کیونکہ اگر بچے شرارتی ہوئے تو کاغذ پھاڑ کر بال بنا لیں گے،
اور کتاب کی جِلد موٹی ہوئی تو اس کا بیٹ بنا کر چھکے چوکے ماریں گے۔
جب ہم چھوٹے تھے تو یہ ہمارا فیورٹ گیم تھا (لنچ بریک میں)

چلیے مانوس تو ہو گئے نا کتاب سے۔ :)
 
Top