الف عین
صابرہ امین
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
------------
بِن ترے یار کوئی بنایا نہیں
دل میں غیروں کو میں نے بسایا نہیں
----------
زندگی ہے مری سب ترے سامنے
-------یا
میرے دن رات سب ہیں ترے سامنے
راز کوئی بھی تجھ سے چھپایا نہیں
---------
ہر خوشی میں تری ہے مری بھی خوشی
تیرے دل کو کبھی بھی دکھایا نہیں
------
میرے دل پر تری ہی حکومت رہیں
---------یا
مجھ کو تیری ہمیشہ ضرورت رہی
مرتبہ میں نے تیرا گھٹایا نہیں
---------
دیپ تیری محبّت کا جلتا رہا
دل سے اپنے کبھی وہ بجھایا نہیں
---------
تیری یادیں رہیں میرے دل میں سدا
میں نے تجھ کو کبھی بھی بھلایا نہیں
-----------
تُو رقیبوں پہ میرے رہا مہر باں
پھر بھی نظروں سے تجھ کو گرایا نہیں
------------
جم کے بیٹھے رہے تیری محفل میں سب
کیوں رقیبوں کو تُو نے اٹھایا نہیں
----------
تیری الفت میں لکھیں تھیں غزلیں بہت
ان کو سننے کبھی تُو ہی آیا نہیں
---------
دل میں ارشد کے تُو ہی رہے گا سدا
اس نے بے درد تجھ کو بھلایا نہیں
--------
 

الف عین

لائبریرین
الف عین
صابرہ امین
سید عاطف علی
محمّد احسن سمیع :راحل:
------------
بِن ترے یار کوئی بنایا نہیں
دل میں غیروں کو میں نے بسایا نہیں
----------
تکنیکی طور پر تو اکثر آپ کے اشعار آج کل درست ہوتے ہیں، اب بس، فکر و خیالات صیقل کرنے کی ضرورت ہے۔ مطلع درست ہے لیکن کوئی خاص فکر نہیں
زندگی ہے مری سب ترے سامنے
-------یا
میرے دن رات سب ہیں ترے سامنے
راز کوئی بھی تجھ سے چھپایا نہیں
---------
دوسرا متبادل بہتر ہے
ہر خوشی میں تری ہے مری بھی خوشی
تیرے دل کو کبھی بھی دکھایا نہیں
------
پہلے مصرع کی کئی متبادل صورتیں ممکن ہیں، کچھ یقیناً اس سے بہتر ہون گی
میرے دل پر تری ہی حکومت رہیں
---------یا
مجھ کو تیری ہمیشہ ضرورت رہی
مرتبہ میں نے تیرا گھٹایا نہیں
---------
رہیں؟ پہلا متبادل "رہی" کے ساتھ بہتر ہے
دیپ تیری محبّت کا جلتا رہا
دل سے اپنے کبھی وہ بجھایا نہیں
---------
دل سے یا دل میں؟
تیری یادیں رہیں میرے دل میں سدا
میں نے تجھ کو کبھی بھی بھلایا نہیں
-----------
ٹھیک
تُو رقیبوں پہ میرے رہا مہر باں
پھر بھی نظروں سے تجھ کو گرایا نہیں
------------
کس نے؟
جم کے بیٹھے رہے تیری محفل میں سب
کیوں رقیبوں کو تُو نے اٹھایا نہیں
----------
ٹھیک
تیری الفت میں لکھیں تھیں غزلیں بہت
ان کو سننے کبھی تُو ہی آیا نہیں
---------
درست
دل میں ارشد کے تُو ہی رہے گا سدا
اس نے بے درد تجھ کو بھلایا نہیں
--------
ٹھیک
 

صابرہ امین

لائبریرین
اچھی غزل سے ارشد چوہدری بھائی،
استاد محترم کی اصلاح سے چند اشعار پر متبادل پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
ہر خوشی میں تری ہے مری بھی خوشی
تیرے دل کو کبھی بھی دکھایا نہیں
------
پہلے مصرع کی کئی متبادل صورتیں ممکن ہیں، کچھ یقیناً اس سے بہتر ہون گی

مجھ سے جو بن پڑا میں نے وہ سب کیا
تیرے دل کو کبھی بھی دکھایا نہیں

یا

تجھ کو دی ہر خوشی، میں نے ہرگز کبھی
تیرے دل کو ذرا بھی دکھایا نہیں

تُو رقیبوں پہ میرے رہا مہر باں
پھر بھی نظروں سے تجھ کو گرایا نہیں
------------
کس نے؟

تُو رقیبوں پہ میرے رہا مہر باں
میں نے نظروں سے تجھ کو گرایا نہیں

یا

تُو مہر باں رہا دوسروں پر مگر
میں نے نظروں سے تجھ کو گرایا نہیں
 

الف عین

لائبریرین

صابرہ امین

لائبریرین
Top