بلوچستان جل رہا ہے

زرقا مفتی

محفلین
السلام علیکم
بلوچستان کے حالات پر ایک دھاگہ کھولنا چاہتی ہوں مگر اسے پچھلے دھاگے(آزاد بلوچستان) سے متصل نہیں کرنا چاہتی۔ اگر انتظامیہ متفق ہو تو سنجیدہ بحث کے لئے شروع کیا جائے ورنہ مقفل کر دیا جائے
والسلام
زرقا
 

زرقا مفتی

محفلین
چونکہ انتظامیہ نے دھاگہ مقفل نہیں کیا اس لئے میں اس کا باقاعدہ آغاز کرتی ہوں۔
تمہید میں یہ وضاحت کرتی چلوں کہ میں پاکستان کے وفاق کی حامی ہوں۔مگر کسی بھی مسلے کے ممکنہ حل تلاش کرتے وقت متاثرہ فریقین کے موقف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے میڈیا صرف حکومتی موقف سامنے لاتا ہے
۲۰۰۸ میں عطا الحق قاسمی نے اپنے کالم میں بلوچ دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ کے تحقیقی مقالے کا اقتباس پیش کیا تھا یہ اقتباس یا خلاصہ مسلے کے پس منظر کو اُجاگر کرنے میں مدد گار ہوگا۔ یہ خلاصہ پیش کرنے سے یہ مطلب اخذ نہ کیا جائے کہ میں اس کے مندرجات سے کلی طور پر متفق ہوں۔
آئیے مسئلے کے پس منظر کو پہلے کسی بلوچ دانشور کی نظر میں دیکھتے ہیں

col2.gif

col2a.gif

col2b.gif


http://jang.com.pk/jang/jul2008-daily/23-07-2008/col2.htm
 

زرقا مفتی

محفلین
بلوچستان کی صوبائی حکومت کی ویب سائٹ پر صوبے کی تاریخ

Balochistan has an eventful history dating back to the Stone Age. Recent research and archaeological excavations at Mehrgarh have revealed 9000 years old civilization. Human settlement pattern at Mehrgarh was unparalleled and unique, inaugurating the distinct shift from a hunting gathering to a settled life for the first time in human history. Domestication of animals, cultivation of plants, and perfume export were modern features of Mehrgarh civilization. Alexander the great passed through Balochistan in 325 B. C. After his death Balochistan came under the rule of Selecus Nicator whose descendents lost power to the Graeco-Bactrians. The province has also witnessed the march of a number of great conquerors and warriors such as Macedonians, Arabs, Ghaznavies, Mangols and Mughals in the past

The Muslim rule began in 712 A.D. The parts of Balochistan which were ruled by the Arabs were called by them Turan (Jhallawan area) having capital at Khuzdar and Nudha or Buddha (Kachhi). In the 11th century, Balochistan fell into the hands of Nasir-ud-din Subuktagin marking the beginning of Ghaznivid dynasty. Ghorids succeeded the Ghaznivids. In 1219, it was annexed to the dominion of Sultan Mohammad Khan of Khwarizm (Khiva). The year 1223 saw the danger of the Yellow Peril, the Mongols, in the south of Mekran. In the 1595 it became a part of the Mughal Empire and later Nadir Shah of Persia captured it . Ahmed Shah Durrani of Afghanistan was successful to establish his rule in 1747. The Khanate of Kalat emerged in 1758 when Nasir Khan-I revolted against the Afghans

The Muslim rule was followed by the British rule in 1839. Two Afghan wars between 1839 and 1879 helped the British to consolidate their power in Balochistan. Sir Robert Sandeman, who later became the Chief Commissioner of Balochistan, was the architect of British strategy in the region and he negotiated a number of treaties with the Khan of Kalat during 1854 to 1901. Through these treaties the British Government gained control over the leased territory of Chaghi, Bolan Pass, Quetta and other areas. The princely states of Mekran, Kharan, Lasbela and a little later Kalat state acceded to Pakistan after it came into being in 1947. In 1955, Balochistan was merged into one unit of West Pakistan. After the dissolution of one-Unit, Balochistan emerged as one of the four new

provinces of Pakistan

http://www.balochistan.gov.pk/menu-history.html
 

زرقا مفتی

محفلین
بلوچستان کے لوگ
PEOPLE
A number of tribes constitute to make people of Balochistan. Three major tribes are Baloch (Baloch & Brahvi) and Pashtoon. The Balochi speaking tribes include Rind, Lashar, Marri, Jamot, Ahmedzai, Bugti Domki, Magsi, Khosa, Rakhashani, Dashti, Umrani, Nosherwani, Gichki, Buledi, Sanjarani, Meerwani, Zahrozai, langove, kenazai and Khidai. Each tribe is further sub-divided into various branches. The tribal chief is called Sardar while head of sub-tribe is known as Malik, Takari or Mir. Sardars and Maliks are members of district and other local Jirgas according to their status. The Baloch, believed to have originally come from Arabia or Asia minor, can be divided in to two branches: the Sulemani and Mekrani as distinct from the Brahvis who mostly concentrate in central Balochistan. Among the eighteen major Baloch tribes, Bugtis and Marris are the principal ones who are settled in the buttresses of the Sulemania. The Talpur of Sind aIso claim their Baloch origin
Brahvi speaking tribe include Raisani, Shahwani, Sumulani, Sarparrah, Bangulzai, Mohammad Shahi, Lehri, Bezenjo, Mohammad Hasni, Zarakzai (Zehri) , Mengal and Lango, most of these tribes are bi-lingual and are quite fluent both in the Balochi and Brahvi Languages. The Pashtoon tribes include Kakar, Ghilzai Tareen, Mandokhel , Sherani, Luni, Kasi and Achakzai
 

شمشاد

لائبریرین
زرقا مفتی صاحبہ موضوع شروع کرنے کا شکریہ۔

اراکین محفل کو دعوت ہے کہ آئیں اور اس موضوع پر سنجیدگی سے رائے دیں۔
غیر ضروری گفتگو حذف کر دی جائے گی۔
 

عزیز آبادی

محفلین
السلام علیکم
بلوچستان کے حالات پر ایک دھاگہ کھولنا چاہتی ہوں مگر اسے پچھلے دھاگے(آزاد بلوچستان) سے متصل نہیں کرنا چاہتی۔ اگر انتظامیہ متفق ہو تو سنجیدہ بحث کے لئے شروع کیا جائے ورنہ مقفل کر دیا جائے
والسلام
زرقا
چار سُو ہے ہُو کا عالم شہر میں
فاختہ کا روز ماتم شہر میں
ساری مخلوقات سے افضل مگر
کررہا ہے قتل آدم شہر میں
 

زرقا مفتی

محفلین
ڈاکٹر عنایت اللہ کے مقالے میں کچھ حقائق کا ذکر نہیں جس کے لئے اُردو ڈائجسٹ کے ایک آرٹیکل سے اقتباس لیا ہے
مستقبل کے نازک مرحلے
الطاف حسن قریشی
قیامِ پاکستان سے پہلے بلوچستان دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک حصہ برٹش بلوچستان کہلاتا تھا جو برطانوی حکومت کے زیرِ نگیں تھا۔ اس میں پشتون ٗ کاکڑ قبیلے کے علاوہ مری اور بگتی قبائل کے علاقے بھی شامل تھے جن کے سیاسی امور کوئٹہ میونسپل کمیٹی اور پشتون اور بلوچ سرداروں کی نمائندہ تنظیم ’’شاہی جرگے‘‘ کی مشاورت سے چلائے جاتے تھے۔ دوسرا حصہ ۴؍ ریاستوں کی کنفیڈریشن پر مبنی تھا جس میں قلات ٗ لسبیلہ ٗ خاران اور مکران شامل تھے۔ تشکیلِ پاکستان کے وقت برٹش بلوچستان میں ۲۹؍جون ۱۹۴۷ء کو ہونے والے ریفرنڈم میں کامل اتفاقِ رائے سے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے میں نواب اکبر بگتی کے چچا نے بھی حصہ لیا تھا۔ پاکستان بن جانے کے بعد ان ریاستوں کا معاملہ سامنے آیا جن کے برطانوی حکومت کے ساتھ نیم داخلی خود مختاری کے معاہدے تھے۔ خان آف قلات کے قائد اعظمؒ سے اچھے مراسم تھے جسے انہوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ اُس نے سبّی دربار کے موقع پر فروری ۱۹۴۸ء میں پاکستان سے الحاق کے اعلان کا وعدہ کیا ٗ مگر وہ بیماری کا عذر کر کے غائب ہو گیا۔ لسبیلہ ٗ خاران اور مکران کے نوابین جو کنفیڈریشن میں شامل تھے ٗ وہ ریاست قلات کے وزیرِاعظم شمس الدین کی بدانتظامیوں اور دست درازیوں بے حد متنفر تھے اور اُن کے خلاف ’’شمس گردی‘‘ کے نام سے کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ یہ تینوں نواب بہت پہلے پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے اور قائداعظم سے ملاقات کے خواہش مند تھے۔ قائداعظم کی یہ خواہش تھی کہ الحاق کا اعلان خان آف قلات کے ساتھ کیا جائے، لیکن جب خان آف قلات نے وعدہ خلافی کی، تو قائداعظم نے تینوں ریاستوں کے نوابین کو کراچی میں ملاقات کا وقت دیا جس میں اُنہوں نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا تھا۔
بلوچستان کی ساحلی پٹی کے پاکستان سے الحاق کے بعد خان آف قلات کے لیے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ چنانچہ اُس نے ۲۷؍ مارچ ۱۹۴۸ء کو پاکستان سے الحاق کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ قلات ۱۸۷۶ء کے معاہدے کے تحت برطانوی زیرِ حفاظت ایک باجگزارریاست تھی اور ویسی ریاستوں کے بارے میں ۱۸؍ جولائی ۱۹۴۷ء کو برطانوی سیکرٹری فار اسٹیٹ نے پالیسی بیان دیا کہ انہیں آزاد ممالک کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا اور وہ اپنی جغرافیائی اور مذہبی وابستگی کے حوالے سے پاکستان یا بھارت سے الحاق کرسکتی ہیں۔ اس قطعی اعلان کے بعد خان آف قلات کے لیے اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنا اب ممکن نہیں رہا تھا اور پاکستان سے الحاق اس لیے ناگزیر ہوگیا تھا کہ ریاست کی ۹۸؍فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ الحاق کے دوسرے روز پرنس عبدالکریم ناراض ہو کر افغانستان چلا آیا جس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت پر اعتراض کیا تھا۔ دراصل یہ بھائیوں کی تخت نشینی کا قضیہ تھا۔ پرنس عبدالکریم افغانستان سے ایک چھوٹے سے لشکر کے ساتھ واپس آیا اور شورش بپا کرنے کی اپنی سی کوشش کی جسے ایک مختصر سے فوجی آپریشن سے ناکام بنا دیا گیا۔ دراصل ریاست قلات کے حکمران پٹھان تھے اور اُن کی قلمرو میں بلوچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اور بڑے بڑے بلوچ قبائل اس ریاست سے باہر آباد تھے جن میں بگتی، مری اور ڈومکی قابلِ ذکر ہیں۔ پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ خانِ قلات احمدیار خاں وزیرِاعظم بھٹو کے دور میں بلوچستان کے گورنر بھی رہے جو اس کا بیّن ثبوت تھا کہ ان کا وفاق کے ساتھ کوئی تنازع نہیں تھا اور وہ پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست کے الحاق پر پوری طرح مطمئن تھے۔ اُن کے بیٹے سلیمان دائود نے گزشتہ چند سال سے یہ تنازع کھڑا کر دیا کہ پاکستان نے ریاست قلات پر زبردستی قبضہ کیا تھا اور و ہ اس کی آزادی کا اعلان کرنے میں حق بجانب ہیں۔ وفاق نے انہیں ایک معقول راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی علانیہ اور درپردہ کوشش کی لیکن وہ سرکشی پر اُتر آئے اور ناراض ہو کر ملک سے باہر چلے گئے۔
بلاشبہ بلوچستان کی داستانِ الم بڑی دردناک اور بے حد اضطراب انگیز ہے مگر بحران کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے ہم ۱۹۷۰ء کے بعد کے چند اہم واقعات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں جب اسے پہلی بار صوبے کا درجہ حاصل ہوا۔ انتخابات ہوئے تو اے این پی برسرِ اقتدار آئی ٗ سردار عطاء اﷲ مینگل نے حکومت بنائی اور بلوچ قیادت نے ۱۹۷۳ء کے آئین کی منظوری میں قابلِ قدر حصہ لیا، صرف جناب خیر بخش مری نے آئین پر دستخط نہیں کیے تھے۔شروع شروع میں وزیر اعلیٰ عطاء اﷲ مینگل نے آباد کاروں کے ساتھ معاندانہ طرزِعمل اپنایا ٗ مگر اُنہیں جلد احساس ہو گیا کہ ان کارروائیوں سے صوبے کو نقصان پہنچ رہا ہے ٗ تو اُنہوں نے آباد کاروں کو بے دخل کرنے کی پالیسی ختم کر دی۔ بدقسمتی سے مسٹر بھٹو جن کی سیاسی تربیت فوجی آمر جنرل ایوب خاں کی آغوش میں ہوئی تھی ٗ وہ اختلافِ رائے برداشت نہ کر سکے اور اُنہوں نے سردار عطاء اﷲ مینگل کی وزارت برطرف کر ڈالی اور نواب اکبر خاں بگتی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کر دیا۔ اس اقدام کے ردعمل میں بلوچ مزاحمت کار پہاڑوں پر چلے گئے اور حکومت کو ان کے خلاف بہت بڑا فوجی آپریشن کرنا پڑاجس میں ۲؍ ڈویژن حصہ لے رہے تھے۔ عالمی میڈیا میں اس آپریشن کے بارے میں سنسنی خیز خبروں کا سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ انہی دنوں پاکستان میں عراقی سفارت خانے سے اسلحے کی پیٹیاں پکڑی گئیں اور حکومت نے الزام یہ لگایا کہ یہ اسلحہ روس کی طرف سے بلوچ باغیوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس پروپیگنڈے کے بعد بلوچ لیڈر شپ کی گرفتاریاں عمل میں آئیں اور اس کا حیدر آباد جیل میں ٹرائل شروع ہو گیا۔ اسی دوران ۱۹۷۴ء میں یہ المیہ بھی پیش آیا کہ عطاء اﷲ مینگل کے صاحبزادے اسدمینگل کراچی میں جناب سردار شیربازخان مزاری کے گھر سے گرفتار کیے گئے اور انہیں دلائی کیمپ میں بے حد تشدد سے موت کی نیند سلا دیاگیا۔ یہ تمام واقعات بلوچستان میں ایک تصادم کی فضا پیدا کر رہے تھے اور زخم گہرا ہوتا جا رہا تھا۔
جنرل ضیاء الحق برسرِ اقتدار آئے ٗ تو انہوں نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے سارے مقدمات واپس لے لیے اور حیدرآباد ٹربیونل ختم کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بلوچستان میں امن قائم ہو گیا اور زندگی معمول پر آ گئی۔ جنرل رحیم الدین خاں جو صوبے کے گورنر مقرر ہوئے ٗتو اُنہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا ایک جال بچھا دیا اور اُنہی کے زمانے میں پہلی بار کوئٹہ شہر کو گیس فراہم کی گئی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر بھرپور توجہ دی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کے ۱۱؍ برسوں میں بلوچستان قومی یک جہتی کے فروغ میں بہت مثالی کردار ادا کرتا رہا جس کے نتیجے میں قوم پرست عناصر قومی دھارے میں آ گئے۔ ایک مرحلے پر نواب اکبر بگتی نے صدارت کے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا۔ اس کے علاوہ ۱۹۹۰ء میں نواب خیربخش مزاری جو غالباً ۱۹۷۳ء میں کابل چلے گئے تھے اور سوویت یونین کی شکست کے بعد ان کے لیے وہاں قیام عذابِ جاں بن گیا تھا تو آئی ایس آئی نے انہیں طیارہ بھیج کر وطن واپس بلایا اور ان کی خاطرمدارات کا بہت خیال رکھا۔ مگر اُن کے ہوائی اڈے پر اُترتے ہی بی ایس او کے نوجوانوں نے پاکستان کا پرچم جلایا اور نواب نے اس رقم کی فوری ادائی کا مطالبہ کیا جو انہیں ’’معاش‘‘ کے نام پر بھارت سے فراہم کی جاتی تھی۔ ۱۹۹۷ء کے انتخابات میں سردار اختر مینگل مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے کامیاب ہوئے اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بنے۔ سیاسی عمل سے پنجاب اور بلوچستان میں اس قدر قربت پیدا ہوئی کہ جب ۱۹۹۷ء میں موٹر وے کا افتتاح ہوا اور وزیر اعظم میاں نواز شریف اُس کے راستے لاہور روانہ ہوئے ٗ تو اُن کی کار سردار اختر مینگل چلا رہے تھے۔ جمہوریت کے فروغ سے فاصلے سمٹتے اور دل قریب آتے گئے ٗ مگر جنرل پرویز مشرف کی فوجی مہم جوئی نے پورا منظر نامہ ہی بدل ڈالا، جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کے علاوہ قومی وحدت پر کاری ضرب لگائی اور پاکستان کا وقار اور خود مختاری امریکا کے ہاتھ فروخت کر ڈالی۔ امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دینے سے پاکستان میدانِ کارزار بن گیا اور خود کش حملوں میں ہزاروں سویلین اور فوجی شہید ہوئے۔ان کی حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی اور خودسری کا سب سے بڑا نقصان بلوچستان کو پہنچا جس کی تلافی اب شاید آسانی سے نہ کی جاسکے گی۔
جنرل پرویز مشرف ہر مسئلے کا فوجی حل چاہتے تھے۔ اُن کا زعم تھا کہ بندوق کی طاقت سے بلوچستان کے سرداروں کا قلع قمع کر کے عوام کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے اس خبط کا برملا اظہار بھی کرتے۔ غالباً ۲۰۰۴ء کا ذکر ہے کہ کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز نے اُنہیں لاہور میں ظہرانے کی دعوت دی جس میں قومی مسائل زیرِبحث آئے۔ ڈیرہ بگتی میں بدامنی کا ذکر چھڑا ٗ تو اُنہوں نے کسی تامل کے بغیر کہا کہ ہم ان سرداروں کو اس طرح ہٹ کریں گے کہ اُنہیں کچھ پتا ہی نہیں چلے گا کہ اُن کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا۔ غالب گمان یہ ہے کہ اُن کی سوچ کے عین مطابق بیاسی سالہ نحیف و نزار بلوچ سردار نواب اکبر بگتی غار کے اندر بم سے اُڑا دیے گئے جہاں وہ اپنے حریف قبیلے کے علاقے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ جنرل صاحب نے اسی رات اس ’عظیم‘ کارنامے پر فوجی افسروں کو مبارک باد پیش کی۔ ہم نے اس وقت لکھا تھا کہ بلوچ نوجوانوں کو آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے ایک بوڑھے سردار کی لاش میسر آ گئی ہے اور اس بار مزاحمت کا رنگ یکسر جدا ہو گا جو ملکی سا لمیت کے لیے ایک بڑے خطرے کی شکل اختیار کر جائے گا۔ اُنہی کے دور میں مزاحمت کار لاپتا ہونے لگے جن کی تعداد بعض تحقیقاتی اداروں کے مطابق سیکڑوں کی حد سے گزر کر ہزاروں تک جا پہنچی ہے۔ لوگوں نے دیکھا کہ خفیہ ایجنسیوں کے کارندے ’ناپسندیدہ‘ شہریوں کو گھروں ٗ دکانوں اور دفتروں سے اُٹھالے جاتے اور انہیں غائب کر دیتے ہیں۔ معروف قانون دان جناب علی احمد کرد لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور انصاف کی بھیک مانگتے رہے ٗ مگر ظلم کا بازار گرم ہی رہا۔ صوبے کو سیاسی تباہی سے دوچار کرنے کے لیے پرویز مشرف نے یہ کیا کہ ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں جعل سازی کے ذریعے بلوچستان اسمبلی میں ایسے افراد پہنچا دیے جو عوام کے حقیقی نمائندے نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جو اسمبلی وجود میں آئی اور جو حکومت قائم ہوئی ٗ اُس نے بلوچستان کے معاملات سدھارنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور اُن کی ساری توجہ لوٹ مار اور سالانہ ۲۵؍ کروڑ کی ترقیاتی گرانٹ پر لگی رہی۔ اس پر امن و امان تباہ و برباد ہوتا رہا ٗ قتل و غارت کا مکروہ کھیل جاری رہا ٗ ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہی اور یوں بلوچستان پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک بن گیا ہے۔
مکمل آرٹیکل درج ذیل ربط پر ملاحظہ کیجیے
 
بلوچستان کے حالات تباہ کرنے میں ہمارے کن دوست ممالک کا ہاتھ ہے اور وہ کیا کارستانیاں کر رہے ہیں، آج کے پروگرام کھرا سچ میں بڑی وضاحت کے ساتھ ڈسکس کیا گیا ہے۔۔۔

سعودی عرب ، یو اے ای ، قطر اور ایران کیا کردار ادا کر رہے ہیں خاص طور پر گوادر بندرگاہ کے تناظر میں اور ایران سعودیہ پراکسی وار کے تناظر میں، پہلی مرتبہ مقدس گائیں یوں ٹی وی پر ڈسکس کی جارہی ہیں۔۔۔:)
 

زرقا مفتی

محفلین
الطاف حسن قریشی کی باتوں کی بالواسطہ تصدیق بی بی سی اُردو پر موجود ایک آرٹیکل سے ہوتی ہے

رپورٹ کے مطابق ستمبر انیس سو سینتالیس میں اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ لارڈ لسٹوویل نے برصغیر میں تاج برطانیہ کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر واضح کیا کہ اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے آزاد حیثیت میں ریاست قلات خطرناک ہو سکتی ہے۔
نتیجتاً پاکستان میں برطانوی سفیر کو کہا گیا کہ وہ پوری کوشش کریں کہ پاکستان ایسا کوئی معاہدہ نہ کرے جس کے تحت قلات ایک علیحدہ ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔

مکمل آرٹیکل ملاحظہ کیجیے
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/02/070222_baloch_report_rza.shtml
 
Top