بلجیم، جرمنی اور فرانس کی سیر

عرفان سعید

محفلین
گرینڈ پلیس میں ایوررڈ نامی بلجیم کے ایک شہری کا مجسمہ آویزاں تھا۔ اس مجسمے کو 1902 میں یہاں نصب کیا گیا۔
ایوررڈ چودھویں صدی میں بلجیم کا یک شہری ہے جس نے ملک کے دفاع کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس مجسمے کا متعلق مشہور بات یہ ہے جو بھی اس مجسمے پر ہاتھ پھیرے، قسمت اس پر مہربان ہوتے ہوئے اس کے لیے دوبارہ برسلز آنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہر آنے والا سیاح اس مجسمے پر ہاتھ ضرور پھیرتا ہے۔ اس لیے مجسمہ پالش ہوتا رہتا ہے۔ جسے تصویر میں بآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ مجسمے کی رنگت باقی سٹرکچر کے مقابلے میں کافی صاف ہو چکی ہے۔



[url=https://flic.kr/p/KR8Ckv]
[/url]
 

عرفان سعید

محفلین
گرینڈ پلیس کی ہزار سالہ تاریخ کی کچھ جھلک دیکھنے کے بعد برسلز کی امتیازی پہچان، انتہائی منفرد اور جدید طرزِ تعمیر کے ایک اعلی شاہکار، برسلز اٹومیم کی جانب روانہ ہوئے۔
1958 میں برسلز میں ایک ہونے والے سائنس ورلڈ فئیر کی تیاریوں کے لیے عارضی طور پر تعمیر کی جانے والی عمارت دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی کا محور بن گئی۔ ابتدائی طور پر خیال تھا کہ ورلڈ فئیر کے ایک سال بعد عمارت کو منہدم کر دیا جائے گا۔ لیکن عمارت کو اس قدر پذیرائی ملی کہ آج ساٹھ سال بعد بھی یہ عمارت قائم ہے اور برسلز کے آئیکون کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔ ہر سال تقریبا چھ لاکھ لوگ اس عمارت کی سیاحت کے لیے آتے ہیں۔

 
آخری تدوین:

عرفان سعید

محفلین
اٹومیم کی جانب جاتے ہوئے۔

اٹومیم کو آئرن ایٹم کے کرسٹل کے ایک یونٹ سیل کی شکل پر بنایا گیا ہے۔ لوہے کے ایٹم کے یونٹ سیل کرسٹل کو اگر 165 کھرب گنا بڑا کیا جائے تو اٹومیم کی عمارت بنتی ہے۔ لوہے اور سٹیل کے بنے ہوئے 60 فٹ قطر کے نو کُرّے یونٹ سیل کے نو لوہے کے ایٹموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان نو کُرّوں کو 10 فٹ قطر کی لوہے کی بنی ہوئی پائپوں سے جوڑا گیا ہے۔ اٹومیم کی بلندی 105 میٹر ہے۔

 
Top