برائے اصلاح

Muhammad Ishfaq نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 15, 2020

  1. Muhammad Ishfaq

    Muhammad Ishfaq محفلین

    مراسلے:
    116
    حمد باری تعالی
    ہر سو ہے تو اور یکتا ہے تو
    اور خالق ارض و سما ہے تو
    اور شان ہے بے پایاں تیری
    جو لائقِ حمد و ثنا ہے تو
    ظاہر میں تو ہے باطن میں تو
    ہر شے میں جلوہ نما ہے تو
    پایا ہے جس سے آنکھوں نے نور
    جس نے دی دل کو ضیا ہے تو
    چارہ گروں میں سب سے برتر
    اور سب مرضوں کی دوا ہے تو
    اندھیرے میں تو سویرے میں تو
    دکھ سکھ میں میرا سہارا ہے تو
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,974
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس کی بھی بحر درست نہیں۔ پہلے مصرع میں 'اک' کا اضافہ کرنے سے فعولن فعولن فعولن فعولن وزن میں آ جاتا ہے
    ہر اک سو ہے تو اور تنہا ہے تو
    باقی بھی اسی وزن میں کہنے کی کوشش کریں
     
  3. Muhammad Ishfaq

    Muhammad Ishfaq محفلین

    مراسلے:
    116
    ہر سو ہے تو اور یکتا ہے تو

    بحرِ زمزمہ/ متدارک مربع مضاعف
    فعْلن فَعِلن فعْلن فعْلن
    ہر =
    سو =
    ہے -
    تو -
    اور =
    یکتا ==
    ہے =
    تو =
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,974
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شاید 'ہے تو اور' کو فعلن سے تقطیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنہ ہِ تُ اُر، یہ غیر ضروری اسقاط کے ذیل میں آئے گا
    'اور' کو ہمیشہ مکمل باندھنے کی کوشش کریں اور اسی طرح ضمیر والا تُو بھی مکمل ہو۔
     
  5. Muhammad Ishfaq

    Muhammad Ishfaq محفلین

    مراسلے:
    116
    شکریہ سر کوشش کرتا ہوں
     

اس صفحے کی تشہیر