بدلتے الفاظ

پہلے کے وقتوں میں گھروالے پلیٹ کو رکابی کہتے تھے مگر وقت کے ساتھ رکابی پلیٹ کا نام اختیار کر گئی ۔
جان جائے خراب سے
ہاتھ نہ اٹھے رکابی سے
یہ مثال ہمارے دادا مرحوم دیا کرتے تھے جب گھر میں کوئی بیمار بد پرہیزی کرتے پایا جاتا تھا ۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
پہلے کے وقتوں میں گھروالے پلیٹ کو رقابی کہتے تھے مگر وقت کے ساتھ رقابی پلیٹ کا نام اختیار کر گئی ۔
جان جائے خراب سے
ہاتھ نہ اٹھے رقابی سے
یہ مثال ہمارے دادا مرحوم دیا کرتے تھے جب گھر میں کوئی بیمار بد پرہیزی کرتے پایا جاتا تھا ۔
یہ رکابی تو نہیں۔
 
ہم اسے کدال کہتے ہیں۔
اردو میں کدال اور پنجابی میں گینتی



53.jpg

53.jpg
Screenshot_2018_04_27_23_39_00.png
Screenshot_2018_04_27_23_39_56.png
tyu.jpg
 
ہم لوگ صحن کہا کرتے تھے اور اردو میں آنگن کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔ مجھے آنگن کا لفظ اچھا لگتا ہے گو کہ استعمال میں صحن ہی آتا ہے۔
اچھی بات کی۔ اسی اچھا لگنے کو، جب وہ آپ کی کسی تحریر میں جھلکے، اسلوب کہتے ہیں۔
 
بچپن سے لیکر اب تک پنجابی زبان کے کئی الفاظ جو ہم بولا اور سنا کرتے تھے اب تقریبا روز مرہ کے معمول سے غائب ہی ہوتے جا رہے ہیں لیکن وہ الفاظ اب اگر سننے کو مل جائیں تو کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔ جیسے بچپن میں غباروں کو "پکانا" کہتے تھے، دروازے کو "بوا" اور سیڑھی کو پوڑیاں۔
احباب سے گزارش ہے کہ ایسے الفاظ جو اب ان کے روز مرہ کے معمول سے غائب ہوتے جارہے ہیں یا غائب ہوچکے ہیں وہ شریک کریں اور اظہار خیال کریں ۔

اس کو لفظوں کا "بدلنا" نہ کہئے۔ بہت کچھ موجود ہوتا ہے مگر ہمارے علم میں نہیں ہوتا۔ ایک علاقائی لہجے کے لفظ دوسرے علاقے میں بھی پہنچ جاتے ہیں، اور پھر رواج بھی پا جاتے ہیں۔ میں اس کو تبدیلی کی بجائے زندہ زبان کا سفر قرار دیتا ہوں۔

سارے دوستوں سے خاص طور پر ایک عمومی گزارش ہے کہ پنجابی کی املاء کے قواعد بہت پہلے سے موجود ہیں؛ اپنی اپنی املاء وضع کرنے کی بجائے ان قواعد کی پیروی کریں۔ بہت آداب۔
 

فرقان احمد

محفلین
پہلے کے وقتوں میں گھروالے پلیٹ کو رکابی کہتے تھے مگر وقت کے ساتھ رکابی پلیٹ کا نام اختیار کر گئی ۔
جان جائے خراب سے
ہاتھ نہ اٹھے رقابی سے
یہ مثال ہمارے دادا مرحوم دیا کرتے تھے جب گھر میں کوئی بیمار بد پرہیزی کرتے پایا جاتا تھا ۔

جب رقابی، رکابی بن جائے تو مہربانی فرما کر "خراب" کو "خرابی" سے بدل دیجیے گا، شکریہ!
 
اس کو لفظوں کا "بدلنا" نہ کہئے۔ بہت کچھ موجود ہوتا ہے مگر ہمارے علم میں نہیں ہوتا۔
سر، میری مراد یہ تھی کہ ہمارے منہ سے مدعا بیان کرنے کے لئے پہلے جو الفاظ استعمال ہوتے تھے اب ان کی جگہ دوسرے آنے لگے یعنی ہمارے زیراستعمال الفاظ بدل گئے۔
 
سر، میری مراد یہ تھی کہ ہمارے منہ سے مدعا بیان کرنے کے لئے پہلے جو الفاظ استعمال ہوتے تھے اب ان کی جگہ دوسرے آنے لگے یعنی ہمارے زیراستعمال الفاظ بدل گئے۔

زبان کے بارے میں اس فقیر کا مؤقف جان لیجئے۔

زبان محض لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوا کرتی۔ یہ باضابطہ طور پر ایک زندہ معاشرتی مظہر ہے اور اس میں اشیاء انفس سب شامل ہیں۔ معاشرت بجائے خود ایک جیتی جاگتی قدر بلکہ ام الاقدار ہے۔
میں زبان کو معاشرت کا اعلیٰ ترین مظہر کہا کرتا ہوں۔ کہ یہ کسی بھی تہذیب اور معاشرت کا تعارف ہوتی ہے اور زمان و مکان کے حوالے سے بھی اس میں بڑی لچک ہوتی ہے۔ اسماء و مصادر میں تبدیلی پہلے آپ کا معاشرہ قبول کرتا ہے پھر زبان اس کی تشہیر کرتی ہے۔ کوئی زبان اس وقت تک نہیں مرتی جب تک تہذیب زندہ ہے، اور کوئی زبان باقی نہیں رہتی جب اس کی تہذیب مر جائے یا اس کاحلیہ ہی بدل جائے۔

میں یا آپ، اگر واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ہماری زبان میں وسیع بنیادوں پر استوار ہو اور اس کا خزانہ ترقی کرے تو ہمیں اپنی تہذیب و معاشرت کو قائم رکھتے ہوئے اس کے نفوذ کا سامان کرنا ہو گا۔ "بدلنا" سے عمومی تاثر یہ بنتا ہے کہ ایک لفظ (اسم فعل حرف؛ جو کچھ بھی وہ ہے) وہ یا تو ترک ہو گیا، یا بھلا دیا گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ رواج پا گیا۔ عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اسماء مصادر ایک دوسرے کے متوازی سفر کرتے ہیں اور جس میں زیادہ جان ہوتی ہے (یعنی اس کے پس منظر میں مضبوط تر ثقافتی اقدار اور ان کا رواج ہوتا ہے) وہ زندہ تر رہتی ہے۔ اس عمل میں نئے اور پرانے اسماء و مصادر اس وقت تک ساتھ ساتھ چلتے ہیں جب تک وہ ایک تہذیب کے لوگوں کے ہاں قبول کے درجے پر فائز رہتے ہیں۔ مزید یہ ہے کہ ایک کا دوسرے سے استبدال واقع ہونا لازمی نہیں ایک ہی مظہر کے لئے دو تین چار دس الفاظ متوازی بھی چل سکتے ہیں۔ اور یہ میرے آپ کے مطالعے اور مشاہدے پر منحصر ہے کہ ہم ایسے الفاظ کے بارے میں علم کتنا رکھتے ہیں۔

بات کر گیا ہوں، پتہ نہیں اس کا کوئی محل تھا بھی یا نہیں۔ بہت شکریہ۔
 
Top