بحرِ رمل

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
السلام علیکم لگتا ہے اساتذہ اکرام بہت ہی زیادہ مصروف ہیں کچھ دنوں سے تو یہاں نظر ہی نہیں آ رہے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی مشکلات دور کرے پہلی غزل اسی طرح ہیں اور میں نے ایک اور غزل لکھ لی ہے کچھ کرے وارث صاحب اور اختر صاحب

لوگ کہتے ہیں بہت غم خار رہتے تھے یہاں
میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں

چاند سورج شام دن بارش زمیں بادل فلک
اس سے بڑ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں

اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں
اس سے پہلے عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں

کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہیں
کچھ مرے جیسے بہت بے کار رہتے تھے یہاں

اور اب بھی ان کی آنکھوں میں ستارے ہیں بہت
جو کبھی میرے لیے ستّار رہتے تھے یہاں

اب نجانے کس نگر جلوہ نما ہے آج کل
میں کہاں تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں

آخری خرم صدا دے کر نکلتے ہیں مگر
اس غزل کے کچھ ابھی اشعار رہتے تھے یہاں
 

الف عین

لائبریرین
لو ایک ساتھ دو غزلیں یہاں آ ئیں۔ میں تو صبح شام یہاں آتا ہی رہتا ہوں۔ اب کیوں کہ کام زیادہ ہے، اس لئے بعد میں ان پر آراء اور مشورے۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
لو ایک ساتھ دو غزلیں یہاں آ ئیں۔ میں تو صبح شام یہاں آتا ہی رہتا ہوں۔ اب کیوں کہ کام زیادہ ہے، اس لئے بعد میں ان پر آراء اور مشورے۔

ہمیں آپ کی قیمتی آراء اور مشوروں کا انتظار رہتا ہے اور وہ بھی بہت بے صبری سے
 

الف عین

لائبریرین
حاضر ہوں مشوروں کے ساتھ
لے لیا ہے گھر تھا جیسا گھر مجھے لینا پڑا
تیری خاطر اس طرف بھی در مجھے لینا پڑا
مطلب تو واضح نہیں ہے، اصلاح کیا کروں۔ گھر تو لیا جاتا ہے، در کس طرح لے سکتا ہے کوئ؟ پہلا مصرع زیادہ سے زیادہ یوں بہتر ہو سکتا ہے:
جس طرح کا مل سکا مجھ کو، وہ گھر لینا پرا

نام اس کا تھا بہت ہی نامور تھا اس لیے
اب کے پھر الزام اپنے سر مجھے لینا پڑا
نام اور نامور؟ چہ خوب!
نام تھا اس کا بہت مشہور ، میں کرتا بھی کیا
بہتر ہوگا، دوسرا مصرع ٹھیک ہے۔


کب نظر اس کی تھی مجھ پر بے خودی میں تھا تو تب
چھین کر ساقی سے کل ساغر مجھے لینا پڑا

"تو تب" اچھا نہیں لگ رہا۔
بے خودی میں تھا ،مرا دستِ تہی دیکھا نہیں
کیسا رہے گا۔ دستِ تہی سے مطلب ذرا واضح ہو جاتا ہے۔

سوچ کر آیا تھا جو وہ کچھ نا تھا خرم مگر
کچھ نا کچھ اس کے چمن جا کر مجھے لینا پڑا

مطلب واضح نہیں اس کا بھی۔

لوگ کہتے ہیں بہت غم خار رہتے تھے یہاں
میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں

غم خار یا غم خوار۔ میرے خیال میں یہاں ٹائپو ہے۔
شعر وزن میں ہے

چاند سورج شام دن بارش زمیں بادل فلک
اس سے بڑ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں
بڑ کر یا بڑھ کر؟ بڑھ کر کا محل ہے یہاں۔ لیکن مطلب؟؟ اگر مراد "اُس‘ بمعنی محبوب ہے، تو اعراب ضروری ہیں۔ اگر ’اِس‘ کہا جا رہا ہے، تو کیوں کہ کردار بہت سے ہیں، اس لئے ’اِن‘ ہونا چاہئے۔

اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں
اس سے پہلے عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں
وزن درست ہے۔ لیکن معنی صاف نہیں۔ عشق کے بیمار اب کہاں چلے گئے جو ان کی جگہ اب مے خانے بن گئے؟ مطلب شاید یہ ہونا چاہئے کہ عشق کے بیماروں کی بستی کی وجہ سے ان کی بستی میں مے خانے کھل گئے کہ یہ بیمارانِ عشق اپنے غم غلط کر سکیں تو بات دلچسپ ہے۔ لیکن شعر سے یہ مفہوم برامد نہیں ہوتا۔ ’اس سے پہلے‘ کو دور کیا جائے تو شاید بات بنے۔
شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔
اس سے مطلب واضح ہوتا ہے کیا؟

کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہیں
کچھ مرے جیسے بہت بے کار رہتے تھے یہاں

کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہ تھی
کر دیں تو دوسرے مصرعے کے ماضی بعید سے مطابقت ہو جائے۔ فی الحال پہلا مصرعہ زمانۂ حال کا ہے۔

اور اب بھی ان کی آنکھوں میں ستارے ہیں بہت
جو کبھی میرے لیے ستّار رہتے تھے یہاں
ستّار؟؟؟ یہ تو اللہ کا نام ہے۔ عربی لغت میں بھی دیکھا لیکن اس کے معنی کچھ ایسے تو نہیں ملے۔ یہاں کیا مراد ہے؟

اب نجانے کس نگر جلوہ نما ہے آج کل
میں کہاں تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں
جلوہ نما ’ہیں‘ بہتر ہے کہ اشارہ ’میرے سرکار‘ کی طرف ہے جس میں تکریمی لہجہ ہے۔

آخری خرم صدا دے کر نکلتے ہیں مگر
اس غزل کے کچھ ابھی اشعار رہتے تھے یہاں
وزن تو درست ہے، لیکن معنی واضح نہیں۔ تخلص آخری صدا‘ کے درمیان گھس جانا اور گڑبڑ کر رہا ہے۔ غزل کے اشعار ’یہاں‘ رہنے سے مطلب؟ یہ مقطع بدل دیں۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
حاضر ہوں مشوروں کے ساتھ
لے لیا ہے گھر تھا جیسا گھر مجھے لینا پڑا
تیری خاطر اس طرف بھی در مجھے لینا پڑا
مطلب تو واضح نہیں ہے، اصلاح کیا کروں۔ گھر تو لیا جاتا ہے، در کس طرح لے سکتا ہے کوئ؟ پہلا مصرع زیادہ سے زیادہ یوں بہتر ہو سکتا ہے:
جس طرح کا مل سکا مجھ کو، وہ گھر لینا پرا

نام اس کا تھا بہت ہی نامور تھا اس لیے
اب کے پھر الزام اپنے سر مجھے لینا پڑا
نام اور نامور؟ چہ خوب!
نام تھا اس کا بہت مشہور ، میں کرتا بھی کیا
بہتر ہوگا، دوسرا مصرع ٹھیک ہے۔


کب نظر اس کی تھی مجھ پر بے خودی میں تھا تو تب
چھین کر ساقی سے کل ساغر مجھے لینا پڑا

"تو تب" اچھا نہیں لگ رہا۔
بے خودی میں تھا ،مرا دستِ تہی دیکھا نہیں
کیسا رہے گا۔ دستِ تہی سے مطلب ذرا واضح ہو جاتا ہے۔

سوچ کر آیا تھا جو وہ کچھ نا تھا خرم مگر
کچھ نا کچھ اس کے چمن جا کر مجھے لینا پڑا

مطلب واضح نہیں اس کا بھی۔

السلام علیکم بہت معافی چاہتا ہوں کچھ دین بہت مصرف رہا جس کی وجہ سے یہاں نہیں آ سکا آج فارغ ہوا ہوں پہلے تو میں استاد محترم کا مشکور ہوں سر اس کو میں ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہوں
لوگ کہتے ہیں بہت غم خار رہتے تھے یہاں
میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں

غم خار یا غم خوار۔ میرے خیال میں یہاں ٹائپو ہے۔
شعر وزن میں ہے

سر تقطیع کرتے کرتے میں نے اسی طرح لکھ دیا تھا :grin:
چاند سورج شام دن بارش زمیں بادل فلک
اس سے بڑ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں
بڑ کر یا بڑھ کر؟ بڑھ کر کا محل ہے یہاں۔ لیکن مطلب؟؟ اگر مراد "اُس‘ بمعنی محبوب ہے، تو اعراب ضروری ہیں۔ اگر ’اِس‘ کہا جا رہا ہے، تو کیوں کہ کردار بہت سے ہیں، اس لئے ’اِن‘ ہونا چاہئے۔
بہت خوب اِن ہی بہتر رہی گا
اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں

اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں
اس سے پہلے عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں
وزن درست ہے۔ لیکن معنی صاف نہیں۔ عشق کے بیمار اب کہاں چلے گئے جو ان کی جگہ اب مے خانے بن گئے؟ مطلب شاید یہ ہونا چاہئے کہ عشق کے بیماروں کی بستی کی وجہ سے ان کی بستی میں مے خانے کھل گئے کہ یہ بیمارانِ عشق اپنے غم غلط کر سکیں تو بات دلچسپ ہے۔ لیکن شعر سے یہ مفہوم برامد نہیں ہوتا۔ ’اس سے پہلے‘ کو دور کیا جائے تو شاید بات بنے۔
شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔
اس سے مطلب واضح ہوتا ہے کیا؟

جی یہ بھی ٹھیک ہے ویسے اگر اس کو کچھ اس طرح کر دیا جائے کے شہر میں سب عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں تو کیسا رہے گا
کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہیں
کچھ مرے جیسے بہت بے کار رہتے تھے یہاں

کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہ تھی
کر دیں تو دوسرے مصرعے کے ماضی بعید سے مطابقت ہو جائے۔ فی الحال پہلا مصرعہ زمانۂ حال کا ہے۔
اس کے لیے بھی شکریہ سر جی بہت اچھے مجھے اچھا لگا

اور اب بھی ان کی آنکھوں میں ستارے ہیں بہت
جو کبھی میرے لیے ستّار رہتے تھے یہاں
ستّار؟؟؟ یہ تو اللہ کا نام ہے۔ عربی لغت میں بھی دیکھا لیکن اس کے معنی کچھ ایسے تو نہیں ملے۔ یہاں کیا مراد ہے؟
سر میں نے ست۔ّار کا مطلب چھُپا ہو پڑھا تھا اور اس شعر میں بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں اس وقت بھی ان کی آنکھوں میں آنسوں ہیں جو کبھی میری وجہ سے چھپ جاتے تھے :eek:

اب نجانے کس نگر جلوہ نما ہے آج کل
میں کہاں تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں
جلوہ نما ’ہیں‘ بہتر ہے کہ اشارہ ’میرے سرکار‘ کی طرف ہے جس میں تکریمی لہجہ ہے۔

اب نجانے کس نگر جلوہ نما ہیں آج کل
میں کہان تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں

آخری خرم صدا دے کر نکلتے ہیں مگر
اس غزل کے کچھ ابھی اشعار رہتے تھے یہاں
وزن تو درست ہے، لیکن معنی واضح نہیں۔ تخلص آخری صدا‘ کے درمیان گھس جانا اور گڑبڑ کر رہا ہے۔ غزل کے اشعار ’یہاں‘ رہنے سے مطلب؟ یہ مقطع بدل دیں۔

اس کو پھر ختم کر دوں کیا اس کے بدلے میں کچھ اور نہیں ہو سکتا ویسے میں اس شعر میں کہنا چاہتا تھا اس غزل کا آخری شعر لکھنا چاہتا ہوں لیکن میرا دل نہیں چاہ رہا کہ میں یہ غزل ختم کروں اس کے کچھ شعر اور لکھنے چاہے مجھے
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں
میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں

چاند سورج شام دن بارش زمیں بادل فلک
اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں

اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں
شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔


کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہ تھی
کچھ مرے جیسے بہت بے کار رہتے تھے یہاں


اب نجانے کس نگر جلوہ نما ہیں آج کل
میں کہاں تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں

آپ کیا کہتے ہیں سر جی کیا یہ شعر ٹھیک ہیں
 

محمد وارث

لائبریرین
ایک بڑا
ص
بنا دیتا ہوں



خرم صاحب آپ شاید سمجھے نہیں، 'ص' ملنا تو بہت اچھی بات ہے اساتذہ سے۔

دراصل اساتذہ کے پاس جب کوئی غزل اصلاح کیلیئے آتی ہے تو جو شعر صحیح ہوتے ہیں یا ان کو پسند آتے ہیں تو ان کے اوپر 'ص' بنا دیتے ہیں کہ یہ شعر 'صحیح' ہے اور جس شعر میں ترمیم وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ کر دیتے ہیں۔

داغ دہلوی مرحوم، کہ جن کی تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں تھی اور لوگ دور دور سے خطوط کے ذریعے غزلیں اصلاح کیلیئے بھیجا کرتے تھے اور ان میں علامہ اقبال بھی شامل رہے ہیں، کی عادت تھی کہ ان کو جو شعر بہت پسند آتا تھا اسکے اوپر دو دفع 'ص ص' بنا کر داد دیا کرتے تھے۔ :)
 

الف عین

لائبریرین
صاد کرنا تو اسی وجہ سے محاورہ بھی بن گیا ہے۔ خود میری طویل نظم کا عنوان ’صاد‘ ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
صاد کو یہاں بھی شروع تو کیا تھا لیکن مکمل پوسٹ نہیں کیا۔
دیباچہ:


http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=236&highlight=صاد
پھر
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=172&highlight=صاد
لیکن
میرے مرحوم گوگل گروپ میں یہ یہاں ہے:
اول:
http://groups.google.com.pk/group/Sher-o-Adab/browse_thread/thread/954eceabf4f896f9#
اور آخری حصہ:
http://groups.google.com.pk/group/Sher-o-Adab/browse_thread/thread/eceead7c993ef113#
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
بہت شکریہ وارث صاحب اور اعجاز صاحب میں چھٹی پر تھا میری بہین کی مگنی تھی اس وجہ سے نہیں‌آ سکا اب آ گیا ہوں تو پھر آپنا کام شروع کر دوں گا آپ کا بہت شکریہ
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
السلام علیکم بہت دنوں کے بعد کچھ لکھا ہے اس پر نظر ثانی فرما دے شکریہ

اس لیے پنچھی اڑا کے دل میں ہے اب بھی سکوں
وہ بے چارے ہر گھڑی بے زار رہتے تھے یہاں
کاغزی کشتی سمندر کے کنارے دیکھ کر
یوں لگا خرم کہ میرے یار رہتے تھے یہاں
 

الف عین

لائبریرین
مقطع تو بہت خوب ہے خرم۔ لیکن پہلا شعر ذرا توجہ کا طالب ہے۔
اس لیے پنچھی اڑا کے دل میں ہے اب بھی سکوں
وہ بے چارے ہر گھڑی بے زار رہتے تھے یہاں

کس لئے؟
اگر اڑا دیا تو ’اب بھی سکوں‘ کیوں ہے۔ پہلے کیوں تھا اور اب بھی کیوں ہے؟؟
اور ’بے چارے’‘ مکمل بحر میں نہیں آتا، محض ’بچارے‘ اتا ہے۔ وہ بھی درست تو ہے۔
اور ہندی لفظ ’پنچھی‘ بھی کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ میرا زاتی خیال یہ ہے کہ اگر کسی غزل میں مکمل ماحول ہندی ہو، تو ضرور زیادہ سے زیادہ ہندی الفاظ استعمال کئے جائیں۔ لیکن اچانک ایک مصرع میں ہندی کا لفظ کچھ اجنبی سا محسوس ہوتا ہے۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
مقطع تو بہت خوب ہے خرم۔ لیکن پہلا شعر ذرا توجہ کا طالب ہے۔
اس لیے پنچھی اڑا کے دل میں ہے اب بھی سکوں
وہ بے چارے ہر گھڑی بے زار رہتے تھے یہاں

کس لئے؟
اگر اڑا دیا تو ’اب بھی سکوں‘ کیوں ہے۔ پہلے کیوں تھا اور اب بھی کیوں ہے؟؟
اور ’بے چارے’‘ مکمل بحر میں نہیں آتا، محض ’بچارے‘ اتا ہے۔ وہ بھی درست تو ہے۔
اور ہندی لفظ ’پنچھی‘ بھی کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ میرا زاتی خیال یہ ہے کہ اگر کسی غزل میں مکمل ماحول ہندی ہو، تو ضرور زیادہ سے زیادہ ہندی الفاظ استعمال کئے جائیں۔ لیکن اچانک ایک مصرع میں ہندی کا لفظ کچھ اجنبی سا محسوس ہوتا ہے۔
بہت شکریہ سر جی
اچھا سر جی پھر دوسرے شعر کے لیے کچھ مصرے بھی بتا دے
وہ بچارے ہر گھڑی بے زار رہتے تھے یہاں

یہ مصرا ٹھیک ہے کیا
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
سر اس پر نظر ثانی فرمائیں پلیز


لب پہ اس کے ہر گھڑی انکار تھا
جو مرا محبوب تھا دلدار تھا

آج اس کی سب قدر کرنے لگے
جو کبھی تیرے لیے بے کار تھا

میں اکیلا اور کوئی تھا نہیں
ایک دشمن بس پسِ دیوار تھا

راستے میں جس کے آئی مفلسی
وہ حقیقی جاگتا کردار تھا

شام کو سورج نے جاتے دم کہا
یہ جو میرا زوم تھا بے کار تھا

رات اپنے آپ سے کچھ تو کہے
رات پر تو کچھ نا کچھ آشکار تھا

شہر کی گلیوں سے وہ گزرا تھا کل
راستہ پُر نور تھا انوار تھا

چاپ سن کر بھی رہے سب بے خبر
حادثہ کوئی پسِ دیوار تھا
 
Top