بات ساری اسی کے بارے کی: نئی غزل

کھوج میں ہوں میں اک ستارے کی
خوبصورت سے استعارے کی

اور بھایا نہ کوئی بھی موضوع
بات ساری اسی کے بارے کی

جب میسر ہے اس کی یاد تو پھر
کیا ضرورت کسی سہارے کی

چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
واہ کیا بات ہے نظارے کی

ہے تمنا کہ عرضِ حال کہوں
سن بھی لو التجا بچارے کی

خرمنِ ہوش کو جلا ڈالے
آرزو ہے اُسی شرارے کی

زندگی درد کے بھنور میں شکیل
منتظر ہے کسی کنارے کی

محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی خدمت میں
 

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم برادر مشفق !
آپ کے کلام میں دن بہ دن نکھار دیکھ رہا ہوں ماشاءاللہ۔
جس طرح طعام کی تاثیر ہوتی ہے گرم یا سرد۔یوں کلام کی تاثیر بھی ہوتی ہے بعض پر امید ،بعض مایوس کن اور بعض تباہ کن(حد تک مایوس کن )۔

یہ غزل آپ کی آپ کے سابقہ کلام کے مقابلے میں خاصی پرامید ہے اور یہ بات خوش آئند ہے۔بقول مولانا رومی :
سوئے تاریکی مرو خورشید ہاست
سوئے نو میدی مرو امید ہاست

تاریکی کی طرف مت جاو بہت سے سورج موجود ہیں۔مایوسی کی طرف مت جاو بہت امیدیں ہیں۔



کھوج میں ہوں میں اک ستارے کی
خوبصورت سے استعارے کی

خوب۔

اور بھایا نہ کوئی بھی موضوع
بات ساری اسی کے بارے کی

یہ بھی اچھا ہے۔ گو فصیح "کسی کے بارے میں" کہنا ہے مگر یوں بھی برا نہیں۔

جب میسر ہے اس کی یاد تو پھر
کیا ضرورت کسی سہارے کی

آہا۔

چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
واہ کیا بات ہے نظارے کی

واہ۔

"خزاں رسیدہ" کی فارسیت کے بعد پیڑ کے بجائے "شجر" زیادہ جچتا ہے۔پھر ذوق چاہے گا "چاند پورا" کی جگہ "ماہ_ کامل" ہو۔ ویسے یہ اصلاح نہیں یوں ہی اک خیال آیا۔آپ اسے وسوسہ سمجھیں ۔:)

"ہائے! کیا بات اس نظارے کی"

ہے تمنا کہ عرضِ حال کہوں
سن بھی لو التجا بچارے کی

واہ۔

خرمنِ ہوش کو جلا ڈالے
آرزو ہے اُسی شرارے کی

"اسی" سے پہلے کہیں "جو" ہونا چاہیے۔

زندگی درد کے بھنور میں شکیل
منتظر ہے کسی کنارے کی

یہ بھی اچھا ہے۔

یوں ہی لکھتے رہیے اور دکھتے رہیے ۔یاد آئیے اور یاد رکھیے دعاؤں میں۔
 

امین شارق

محفلین
کھوج میں ہوں میں اک ستارے کی
خوبصورت سے استعارے کی

اور بھایا نہ کوئی بھی موضوع
بات ساری اسی کے بارے کی

جب میسر ہے اس کی یاد تو پھر
کیا ضرورت کسی سہارے کی

چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
واہ کیا بات ہے نظارے کی

ہے تمنا کہ عرضِ حال کہوں
سن بھی لو التجا بچارے کی

خرمنِ ہوش کو جلا ڈالے
آرزو ہے اُسی شرارے کی

زندگی درد کے بھنور میں شکیل
منتظر ہے کسی کنارے کی

محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی خدمت میں
آپ پیاری غزل لکھتے ہوں جناب
داد کیجئے قبول پیارے کی
 
السلام علیکم برادر مشفق !
آپ کے کلام میں دن بہ دن نکھار دیکھ رہا ہوں ماشاءاللہ۔
جس طرح طعام کی تاثیر ہوتی ہے گرم یا سرد۔یوں کلام کی تاثیر بھی ہوتی ہے بعض پر امید ،بعض مایوس کن اور بعض تباہ کن(حد تک مایوس کن )۔

یہ غزل آپ کی آپ کے سابقہ کلام کے مقابلے میں خاصی پرامید ہے اور یہ بات خوش آئند ہے۔بقول مولانا رومی :
سوئے تاریکی مرو خورشید ہاست
سوئے نو میدی مرو امید ہاست

تاریکی کی طرف مت جاو بہت سے سورج موجود ہیں۔مایوسی کی طرف مت جاو بہت امیدیں ہیں۔



کھوج میں ہوں میں اک ستارے کی
خوبصورت سے استعارے کی

خوب۔

اور بھایا نہ کوئی بھی موضوع
بات ساری اسی کے بارے کی

یہ بھی اچھا ہے۔ گو فصیح "کسی کے بارے میں" کہنا ہے مگر یوں بھی برا نہیں۔

جب میسر ہے اس کی یاد تو پھر
کیا ضرورت کسی سہارے کی

آہا۔

چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
واہ کیا بات ہے نظارے کی

واہ۔

"خزاں رسیدہ" کی فارسیت کے بعد پیڑ کے بجائے "شجر" زیادہ جچتا ہے۔پھر ذوق چاہے گا "چاند پورا" کی جگہ "ماہ_ کامل" ہو۔ ویسے یہ اصلاح نہیں یوں ہی اک خیال آیا۔آپ اسے وسوسہ سمجھیں ۔:)

"ہائے! کیا بات اس نظارے کی"

ہے تمنا کہ عرضِ حال کہوں
سن بھی لو التجا بچارے کی

واہ۔

خرمنِ ہوش کو جلا ڈالے
آرزو ہے اُسی شرارے کی

"اسی" سے پہلے کہیں "جو" ہونا چاہیے۔

زندگی درد کے بھنور میں شکیل
منتظر ہے کسی کنارے کی

یہ بھی اچھا ہے۔

یوں ہی لکھتے رہیے اور دکھتے رہیے ۔یاد آئیے اور یاد رکھیے دعاؤں میں۔
حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا شکریہ

کیا ایسے بہتر ہوگا؟
خرمنِ ہوش جو جلا ڈالے
آرزو ہے اُسی شرارے کی
 

الف عین

لائبریرین
اسی لئے میں اکثر کہتا ہوں کہ ہر ممکنہ متبادل لکھ لیا جائے، پھر دو چار دن تک اس پر غور کیا جائے کہ واقعی کیا متبادل بہترین ہے۔
اس غزل میں مجھے صرف 'بارے کی' پسند نہیں آیا۔ عبد الرؤف کا مجوزہ مصرع بھی خوب ہے
 
اسی لئے میں اکثر کہتا ہوں کہ ہر ممکنہ متبادل لکھ لیا جائے، پھر دو چار دن تک اس پر غور کیا جائے کہ واقعی کیا متبادل بہترین ہے۔
اس غزل میں مجھے صرف 'بارے کی' پسند نہیں آیا۔ عبد الرؤف کا مجوزہ مصرع بھی خوب ہے
رہنمائی اور نصیحت کا شکریہ استادِ محترم!
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اچھی غزل کہی ، شکیل بھائی ! آپ کے فائدے کی دو تین باتیں لکھ دیتا ہوں ۔

اور بھایا نہ کوئی بھی موضوع
بات ساری اسی کے بارے کی

کسی کے بارے بات کرنا ٹھیک نہیں ۔ یہ بدعت ہے اسے رواج مت دیجئے ۔ بارے میں کہنا درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے تمنا کہ عرضِ حال کہوں
سن بھی لو التجا بچارے کی

عرض کہنا درست نہیں ۔ عرض کرنا درست ہے ۔ اس شعر میں شترگربہ بھی ہے ۔ یوں کرلیجئے:
ہے تمنا کہ عرضِ حال کروں
التجا سن لو مجھ بچارے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
واہ کیا بات ہے نظارے کی

اس شعر میں تھوڑا سا مضمون ڈال دیا جائے تو بہتر ہوگا ۔:) کوشش کیجئے کہ پہلے مصرع کو کسی طرح اپنی کیفیت یا حالت وغیرہ پر منطبق کیا جاسکے ۔ مثلاً
چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
بات میری ہے یا نظارے کی ۔ بات میری ہے سب نظارے کی ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
 
اچھی غزل کہی ، شکیل بھائی ! آپ کے فائدے کی دو تین باتیں لکھ دیتا ہوں ۔

اور بھایا نہ کوئی بھی موضوع
بات ساری اسی کے بارے کی

کسی کے بارے بات کرنا ٹھیک نہیں ۔ یہ بدعت ہے اسے رواج مت دیجئے ۔ بارے میں کہنا درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے تمنا کہ عرضِ حال کہوں
سن بھی لو التجا بچارے کی

عرض کہنا درست نہیں ۔ عرض کرنا درست ہے ۔ اس شعر میں شترگربہ بھی ہے ۔ یوں کرلیجئے:
ہے تمنا کہ عرضِ حال کروں
التجا سن لو مجھ بچارے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
واہ کیا بات ہے نظارے کی

اس شعر میں تھوڑا سا مضمون ڈال دیا جائے تو بہتر ہوگا ۔:) کوشش کیجئے کہ پہلے مصرع کو کسی طرح اپنی کیفیت یا حالت وغیرہ پر منطبق کیا جاسکے ۔ مثلاً
چاند پورا، خزاں رسیدہ پیڑ
بات میری ہے یا نظارے کی ۔ بات میری ہے سب نظارے کی ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
نشاندہی کا شکریہ محترم، مجھے احساس ہے بہت کچھ سیکھنا باقی ہے ابھی
 
Top