سترھویں سالگرہ ا ب پ سے ترتیب وار اشعار کا سلسلہ

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
طوفاں بھی تھا آندھی بھی تھی باراں بھی تھا بجلی بھی تھی
آئی جو گھٹا تو سب کچھ تھا برسی جو گھٹا تو کچھ بھی نہیں

جمیل مظہری
 

سیما علی

لائبریرین
گواہ چاہ رہے تھے وہ بے گُناہی کا!
زباں سے کہہ نہ سکا کچُھ ، خُدا گواہ کے بعد
کرشن بہاری نُورؔ لکھنوی
 

شمشاد

لائبریرین
ہم نے مانا کہ تغافل تیری عادت ہے ضرور
تیری افتاد میں شوخی و شرارت ہے ضرور
تمیزالدین تمیز دہلوی
 

شمشاد

لائبریرین
اب وہ شالوں کا قفس ہو کہ لہو کی خوشبو
دل پہ لہراتی رہی برق ادا کیا کرتے
تنویر احمد علوی
 

علی وقار

محفلین
بعد مدت کے کتابوں سے نکل آئے ہو
سوکھے خوابیدہ گلابوں سے نکل آئے ہو
یونہی سامان پرانے پہ نظر جا ٹھہری
پھر سے تم بند لفافوں سے نکل آئے ہو

اتباک ابرف
 
Top