امیر مینائی ایک ہے میرے حضر اور سفر کی صورت ۔ امیر مینائی

فاتح

لائبریرین
ایک ہے میرے حضر اور سفر کی صورت
گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت

چشمِ عشاق سے پنہاں ہو نظر کی صورت
وصل سے جان چراتے ہو کمر کی صورت

ہوں وہ بلبل کہ جو صیاد نے کاٹے مرے پر
گر گئے پھول ہر اک شاخ سے پر کی صورت

تیرے چہرے کی ملاحت جو فلک نے دیکھی
پھٹ گیا مہر سے دل شیرِ سحر کی صورت

جھانک کر روزنِ دیوار سے وہ تو بھاگے
رہ گیا کھول کے آغوش میں در کی صورت

تیغ گردن پہ کہ ہے سنگ پر آہیں دمِ ذبح
خون کے قطرے نکلتے ہیں شرر کی صورت

کون کہتا ہے ملے خاک میں آنسو میرے
چھپ رہی گرد یتیمی میں گہر کی صورت

نہیں آتا ہے نظر، المدد اے خضر اجل
جادۂ راہِ عدم موئے کمر کی صورت

پڑ گئیں کچھ جو مرے گرم لہو کی چھینٹیں
اڑ گئی جوہرِ شمشیر شرر کی صورت

قبر ہی وادیِ غربت میں بنے گی اک دن
اور کوئی نظر آتی نہیں گھر کی صورت

خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت


آفت آغازِ جوانی ہی میں آئی مجھ پر
بجھ گیا شام سے دل شمعِ سحر کی صورت

جلوہ گر بام پہ وہ مہرِ لقا ہے شاید
آج خورشید سے ملتی ہے قمر کی کی صورت

دہنِ یار کی توصیف کڑی منزل ہے
چست مضمون کی بندش ہو کمر کی صورت

نو بہارِ چمنِ غم ہے عجب روز افزوں
بڑھتی جاتی ہے گرہ دل کی ثمر کی صورت

ہوں بگولے کی طرح سے میں سراپا گردش
رات دن پاؤں بھی چکر میں ہیں سر کی صورت
امیر مینائی
 

فاتح

لائبریرین
ایک ہے میرے حضَر اور سفَر کی صورت​
گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت​
چشمِ عشّاق سے پنہاں ہو نظر کی صورت​
وصل سے جان چراتے ہو کمر کی صورت​
ہوں وہ بلبل کہ جو صیاد نے کاٹے مرے پر​
گر گئے پھول ہر اک شاخ سے پر کی صورت​
تیرے چہرے کی ملاحت جو فلک نے دیکھی​
پھٹ گیا مہر سے دل شِیرِ سحَر کی صورت​
جھانک کر روزنِ دیوار سے وہ تو بھاگے​
رہ گیا کھول کے آغوش میں در کی صورت​
تیغ گردن پہ کہ ہے سنگ پر آہیں دمِ ذبح​
خون کے قطرے نکلتے ہیں شرر کی صورت​
کون کہتا ہے ملے خاک میں آنسو میرے​
چھپ رہی گرد یتیمی میں گہر کی صورت​
نہیں آتا ہے نظر، المدد اے خضر اجل​
جادۂ راہِ عدم موئے کمر کی صورت​
پڑ گئیں کچھ جو مرے گرم لہو کی چھینٹیں​
اڑ گئی جوہرِ شمشیر شرر کی صورت​
قبر ہی وادیِ غربت میں بنے گی اک دن​
اور کوئی نظر آتی نہیں گھر کی صورت​
خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت
آفت آغازِ جوانی ہی میں آئی مجھ پر​
بجھ گیا شام سے دل شمعِ سحَر کی صورت​
جلوہ گر بام پہ وہ مہرِ لقا ہے شاید​
آج خورشید سے ملتی ہے قمر کی کی صورت​
دہنِ یار کی توصیف کڑی منزل ہے​
چست مضمون کی بندش ہو کمر کی صورت​
نو بہارِ چمنِ غم ہے عجب روز افزوں​
بڑھتی جاتی ہے گرہ دل کی ثمر کی صورت​
ہوں بگولے کی طرح سے میں سراپا گردش​
رات دن پاؤں بھی چکر میں ہیں سر کی صورت​
بارشِ سنگِ حوادث نہ ہو کس طرح امیرؔ​
آہ ہے شکلِ شجر، اشک ثمر کی صورت​
امیر مینائی​
از دیوانِ امیر مینائی معروف بہ اسمِ تاریخی "مراۃ الغیب"​
 

سید زبیر

محفلین
قبر ہی وادیِ غربت میں بنے گی اک دن
اور کوئی نظر آتی نہیں گھر کی صورت
واہ ۔۔ فاتح صاحب بہت اعلیٰ
 

طارق شاہ

محفلین
جناب فاتح صاحب اچھے انتخاب پر ڈھیر ساری داد
غزل دیکھ لی تھی مگر نقوی صاحب اور بسمل صاحب سے منسوب کیا تھا آپ نے، اس لئے رائے یا داد دینے میں تاخیر ہوئی
تشکّر اس پیشکش پر
بہت خوش رہیں
 

فاتح

لائبریرین
جناب فاتح صاحب اچھے انتخاب پر ڈھیر ساری داد
غزل دیکھ لی تھی مگر نقوی صاحب اور بسمل صاحب سے منسوب کیا تھا آپ نے، اس لئے رائے یا داد دینے میں تاخیر ہوئی
تشکّر اس پیشکش پر
بہت خوش رہیں
محترم بہت ممنون ہوں۔ ان دو برادران کو متوجہ کرنے کی وجہ یہ بنی کہ ایک دھاگے میں کسی گفتگو کے دوران اس غزل کے ایک مصرع پر مہدی صاحب کا خیال تھا کہ مصرع یوں نہیں جیسا مزمل صاحب نے لکھا ورنہ آپ تمام احباب کی بصارتوں کی نذر ہے۔
 
Top