ایک سچی آپ بیتی

خرد اعوان نے 'پاکستان میں زلزلہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 27, 2009

  1. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    السلام علیکم

    یہان‌ میں‌ کوئی سنی سنائی بات تحریر کرنے نہیں‌جا رہی بلکہ ایک سچی آپ بیتی شئیر کروں گی ۔ یہ آپ بیتی ہے مسز محمود کی جو چکار آذاد کشمیر سے تعلق رکھتیں ہیں اور زلزلے کے دو سال کے بعد جدہ میں‌مستقل سکونت اختیار کرنے کے لئے اپنے شوہر کے پاس آگئیں تھیں‌ ۔ ملاقات پر جب ان سے وہاں کے حالات جانے تو دل کیا کہ ان حالات کو بھی شئیر کرنا چاہیے ہے ۔ تو زلزلہ کی کہانی متاثرہ خاتون کی زبانی سنتے ہیں‌۔


    "چونکہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا اس لئے ہم لوگ سحری کرکے نماز وغیرہ پڑھنے لگے تھے ۔ میری بہن راولپنڈی سے آئی ہوئی تھی جس کی طبیعت کچھ ناساز تھی ۔ نماز پڑھ کر میرا بھائی بھی واپس آگیا ۔ بہن کی وجہ سے میں ، والدہ اور والد جاگ رہے تھے اور اس کے ساتھ ہی گھر کی تیسری منزل پر تھے جہاں ہمارا کچن بھی تھا ۔ ہم لوگ نماز کے بعد سوئے نہیں بلکہ باتیں کر رہے تھے ۔ وقت گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلا اور پھر اچانک ہمیں لگا کہ ہمارا گھر ہل رہا ہے ہم نے سیڑھیوں کی طرف جانے کی کوشش کی تو چھت کا کچھ حصہ ٹوٹ کر سیڑھیوں کو بلاک کر گیا ہم واپس پلٹ کر بھاگے تو باقی کی چھت لگا کہ ہمارے اوپر آکر گر جائے گی ۔ میں نے آیتہ کریمہ کا ورد لاشعوری طور پر کرنا شروع کر دیا اور پھر اچانک لگا کہ چھت کو کسی نے الٹ کر پیچھے والے نالے میں پھینک دیا ہو ۔ ہمارا گھر چونکہ کافی پرانا بنا ہوا تھا اس لیے ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ شاید یہ ہمارے گھر کے ساتھ ہی ہوا ہے ۔ تیسری منزل کی چھت چونکہ گر چکی تھی اس لئے ہم نے جب جھانک کر دیکھا تو کمرے کی اونچائی زمین کے برابر ہو چکی تھی ۔ ہم اپنے اوپر سے گرد جھاڑتے ہوئے باہر نکل آئے ۔ جب اردگرد نظر ڈالی تو معلوم ہواکہ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے کوئی گھر نہ بچا تھا ۔ میرا بھائی گھر کی نچلی منزل پر سو رہا تھا لیکن اس کی بھی کوئی خبر نہ تھی ۔ ہم لوگوں کے پاس سر ڈھانکنے کو کوئی چادر نہیں تھی ۔ گاؤں کے وہ لوگ جو بچ گئے تھے یا زخمی تھے انہوں نے گھروں کو کھود کر کپڑے نکالے اور ہمیں اوڑھنے کے لئے دئیے ۔ پورے گاؤں کی کچھ عجیب حالت تھی کوئی گھر سلامت نہ تھا ۔ ہم سب روزے سے تھے ۔ لیکن شام تک کوئی امداد نہ پہنچنے کیوجہ سے لوگوں نے جہاں جہاں دکانیں تھیں وہاں کی زمین کو کھودا اور پھر اشیاء خوردونوش کا انتظام کیا ۔ ہم لوگوں کا دھیان مسلسل اپنے بھائی کی طرف تھا جو نچلی منزل میں پھنسا ہوا تھا ۔ تین منزلہ گھر زمین میں ایسے دھنس گیا تھا جیسے کوئی سوئچ کسی ساکٹ میں بآسانی چلا جاتا ہے ۔ کبھی زندگی میں سوچا بھی نہ تھا کہ ایسے ناقابل یقین اور عبرت انگیز مناظر دیکھنے پڑیں گے ۔

    دن پر دن گزرے اور حکومت کی کوئی مدد ہم تک نہ پہنچی ۔ گاؤں کے لوگوں کی مدد سے کسی نہ کسی طرح ہم نے اپنے گھر کی دوسری منزل کی چھت جو کہ تیسری منزل کا فرش بھی تھا ہٹائی اور اسی طرح کرتے کرتے سات دن لگ گئے اور بمشکل ہم نچلی منزل تک پہنچے بارش ہو جانے کے باعث وہاں پانی موجود تھا اور میرا بھائی مردہ حالت میں پڑا ہوا تھا ۔ اس کے جسم پر ہلکی ہلکی سوجن آگئی تھی نامعلوم کب حالات سے لڑتے ہوئے اس نے جان دی تھی ۔ اس کا بستر اور کمبل اپنی جگہ تھا اور وہ کمرے سے باہر نچلی منزل کے دالان میں پڑا ہوا تھا ۔ ہمارے رشتہ دار راوالپنڈی سے کسی نہ کسی طرح چکار پہنچے ۔ تمام راستے مسدود تھے ۔ زلزلے کی وجہ سے جہاں پہاڑ تھے وہاں جھیلیں بن گئیں تھیں اور جہاں جھیلیں تھیں وہاں پہاڑ آگئے تھے ۔ راستوں کا بھی کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا ۔ حکومتی امداد مظفر آباد سے آگے کسی گاؤں تک نہ پہنچی تھی ۔ گھر ٹوٹ چکے تھے ۔ شدید سردی کے موسم میں ہمیں اﷲ کے سوا کسی کا آسرا نہ تھا ۔ پنڈی سے پہنچنے والے رشتے دار کسی نے کسی طرح کرکے ہمیں بھی پنڈی لے کر آگئے ۔ حالات کچھ نارمل ہوئے تو ہم واپس اپنے گاؤں گئے اور مکان کی تعمیر اپنی مدد آپ کے تحت کی ۔ حکومت نے صرف فی گھرانہ اسی ہزار کی مدد کا اعلان کیا تھا ۔ جو بعد میں ملے بھی ۔ گھر تو تعمیر ہو گیا لیکن کتنے ہی مہینے ہم سکون کی نیند نہ لے سکے ۔ آج بھی وہ مناظر نظروں میں گھومتے ہیں تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور چلی جاتی ہے ۔ اﷲ بہتر جانتا ہے کہ یہ اﷲ کا عذاب تھا یا ہماری آزمائش ۔ بہرحال وقت تو گزر گیا لیکن یہ خلش تاحیات باقی رہے گی کہ اگر حکومت وقت کی امداد بروقت ہم تک پہنچ جاتی اور گھروں کی کھدائی کا کام جلد شروع ہو جاتا تو شاید ہمارا بھائی بچ جاتا ۔ والدہ کہتی ہیں کہ صبر کرو اس کی زندگی ہی اتنی تھی لیکن حکومت وقت کی بے حسی کو نظر انداز کرنا کبھی کبھی بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
    • غمناک غمناک × 1
  2. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ خرد ، جیتی رہیے ، شاد و آباد رہیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت شکریہ خرد۔ یہ کہانی تو اس علاقے کے ہر گھر کی کہانی ہے۔ ہر ایک کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  4. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    جی مگر بہت سے گھر تو ایسے تھے جو یہ کہانی سنانے کے لئے زندہ بھی نہیں‌بچے تھے ۔ اپنے گھروں میں‌ محو خواب انہیں یہ معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ کتنی بڑی تباہی کا حصہ بن گئے ۔ انہیں خاتون کی خالہ جو دوسرے شہر گئیں‌ہوئیں تھیں اپنی بیٹی م داماد اور اسکے دو بچوں کو گھر پر چھوڑ کر واپسی پر انہیں‌ اپنے گھر کا سراغ بھی نہ ملا ۔ ان کی بیٹی کا ایک بچہ ان کے ساتھ تھا اور وہ اب بھی ہے لیکن اس کے والدین اور دو بہن بھائی اس ہولناک ترین حادثہ کا شکار ہو گئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  5. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    سچ کہا ، دراصل یہ تذکرہ ہے ہی اس لیے کہ ان کی مصیبتوں کو یاد رکھا جائے ، ایک بار پھر شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خرد جی وہاں کس کس کا حال سانئیں۔ وہاں تو ایسا بھی ہوا کہ مدد کے لیے جانے والے بعد میں کسی پرانے گھر کے گرنے سے ملبے تلے دب گئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    بس یہی یاد رکھنا ہے کہ قضا آتے دیر نہیں لگتی ۔ ساری اکڑ سارا غرور گرد تلے دب جاتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  8. محمد نعمان

    محمد نعمان محفلین

    مراسلے:
    1,100
    موت ایک خاموش ساتھی ہے جو نہ مغرور کو چھوڑتا ہے اور نہ عاجز کو اور نہ شاہ کو نہ گدا کو۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    نعمان بھائی حیرت تو یہ ہے کہ پھر بھی لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    عبرت پکڑیں تو کام بن جائے نا۔ یہی تو رونا ہے دوست
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. محمد نعمان

    محمد نعمان محفلین

    مراسلے:
    1,100
    شمشاد بھائی وہ کہتے ہیں نا کہ اللہ کو تو ہر کوئی (ہر مذہب ) مانتا ہے ، مگر اللہ کی کوئی نہیں مانتا۔۔۔
    یہاں بھی وہی چکر ہے کہ موت کو تو ہر کوئی مانتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. علی ذاکر

    علی ذاکر محفلین

    مراسلے:
    3,832
    زلزلہ سے ایک بات بہت کھل کے واضح ہو گئ تھی کہ پاکستان کی عوام اب بھی ایک ہے پاکستان کیا دنیا میں جہاں بھی پاکستانی آباد ہیں انہوں نے دل کھول کر امداد دی تھی پاکستانی تو پاکستانی دنیا میں جتنے مسلم برادری ہیں وہ بھی پیچے نہیں ہوئیں لیکن حکومت کا سبحان اللہ ہے جتنی امداد پاکستان کو ملی تھی اس سے پاکستان جیسے تین ملک آباد ہو سکتے تھے لیکن ھکومت ایسے ہڑپ ک گئ ہر چیز جیسے یہ کسی بہانہ کی تلاش مین تھے جیسے ہی بہانہ ملا نکل گئے ہر چیز !

    مع السلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  13. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    نہیں‌علی ذاکر ایسی بات نہیں‌ہے صرف حکومت ہی نہیں‌۔ جن خاتون کی یہ کہانی ہے ان کے شوہر یہیں کام کرتے ہیں‌عربوںنے بھی دل کھول کر ان کی مدد کی تھی لیکن انہوں نے اس پیسے سے اپنی شادی کی تیاری کی اور خوب زیور کپڑے فرنیچر خریدا ۔ ہم جیسے منہ پھٹ لوگوں نے جب کہا کہ یہ صحیح‌نہیں ہے تو بولے کیوں‌صحیح‌نہیں‌ہے بھائی ہم بھی زلزلہ زدگان میں‌سے ہی ہیں‌۔

    ہم لوگ تو اس وقت کراچی میں‌تھے اور ٹی وی تک پر دکھایا گیا تھا کہ لوگوں نے اپنے گھروں کا کچرا امداد میں دے کر تسکین حاصل کرلی ہے ۔ کچرے سے مراد وہ کپڑے جو کبھی شادیوں‌میں‌پہنے تھے اور اب آؤٹ آف فیشن ہیں‌ ۔ ٹی وی سے بھی شاید طلعت حسین نے درخواست کی تھی کہ وہاں‌سردی بہت شدید ہے اسلیے پلیز ایسے کپڑے نہ دیں‌بلکہ گرم کپڑے دیں‌۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ زلزلہ کشمیر میں‌آیا اور دماغ یہاں والوں‌کے ہل گئے ۔ خیر اس دوران ہم پاکستانی عوام کے جذبے کو تو خراج تحسین پیش کریں‌گے لیکن ہر جگہ کچھ عناصر ایسے بھی ہوتے ہیں‌جن کے بےوقوفانہ یا کسی حد تک خودغرضانہ عمل سے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. میر انیس

    میر انیس لائبریرین

    مراسلے:
    1,474
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    نعمان بھائی پر ایسی موت اللہ کسی کو نہ دے ۔ اور ایسا وقت ہمارے ملک پر کبھی نہیں آئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    بہت شکریہ
     
  16. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    376
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دستخط میں درود شریف پورا لکھ لیجئے۔ صلی اللہ علیہ وسلم
     

اس صفحے کی تشہیر